دربار عالیہ شہید سیدقاسم بابا ترمذی رح سوات

  • Home
  • Pakistan
  • Swat
  • دربار عالیہ شہید سیدقاسم بابا ترمذی رح سوات
Call Directions Website Contact the organization

دربار عالیہ شہید سیدقاسم بابا ترمذی رح سوات سجادہ نشین دربار عالیہ شہید سیدقاسم بابا ترمذی رح سوات
مخدوم پیرسیدعارف علی شاہ الحسینی

سالانہ عرس مبارک۔الصلوة والسلام عليك يا سيدي يا رسول الله وعلى آلك واصحابك يا حبيب اللهعرس مبارک حضرت شہید سیدقاسم بابا ...
14/10/2026

سالانہ عرس مبارک۔
الصلوة والسلام عليك يا سيدي يا رسول الله
وعلى آلك واصحابك يا حبيب الله
عرس مبارک حضرت شہید سیدقاسم بابا رح سوات۔
عوام الناس، محبان اہلبیت و سادات کرام الاشراف اور محبان اولیاء کرام سے اس روحانی محفل بابرکت میں شرکت کی استدعاکی جاتی ہے۔
بمورخہ22 اکتوبر بروز جمعرات 2026ء بمقام مٹہ سوات۔
منجانب۔ سجادہ نشین مخدوم پیر سید عارف علی شاہ الحسینی۔
ایڈمن۔ سینئیر صحافی سید بنیاد کاظمی

11/10/2026

آسلام علیکم ورحمۃ اللہ امید کرتا ہوں کہ تمام سادات اکرام خیریت سے ہونگے
*مسلہ کفو* کا تمام سادات اکرام سے گزارش ہے کہ اس کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کریں
ابھی مجھے پتہ چلا ہے سادات سوات میں ایک غریب گھرانے کی سیدزادی کا رشتہ غیر سیدسے لوہار اپنے کچھ مفاد کے خاطر کرایا جا رہا ہے جو سید ہو کربھی غیر سید رشتہ سیدزادی سے نکاح کرتا ہے وہ اپنی سگھی ماں سے نکاح کرتا ہے جو غیر سید سیدذادی سے نکاح کرنا چاھتا ھے کوبندہ اپنے مفاد کے خاطر کرانا چاہتا ہے اس کا رابطہ نمبر
03459224289
چیف آرگنائزر تنظیم السادت AJK صدر سادات انٹرنیشنل آزاد جموں وکشمیر
سید بنیاد کاظمی

09/10/2026

#سیدزادی کا نکاح غیر سید سے ناجائز ہے"
مقدمه:
حمد و ثناء اس اللہ کے لیے ہے جس نے انسانوں کو قبائل و شعوب بنایا تا کہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ درود و سلام ہو اس نبی پر جو تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا، اور جن کی آل و اولاد کو پاکیزہ بنایا گیا۔

زیر نظر مقالہ "سید زادی کا نکاح غیر سید سے ناجائز ہونے" کے اہم شرعی مسئلہ پر مشتمل ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف عصر حاضر میں اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس کا تعلق شریعت کے ایک بنیادی اصول "کفائت فی النکاح" سے ہے۔

ہم اس مقالے میں ثابت کریں گے کہ:

اول:
قرآن مجید کی واضح آیات میں اہل بیت کی طہارت و پاکیزگی بیان ہوئی ہے۔

دوم:
سنت نبوی میں نسبی شرافت کے تسلسل کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

سوم:
ائمہ اربعہ اور تمام مذاہب اسلامیہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ نکاح میں نسبی کفائت شرط ہے۔

چہارم:
شرعی مصلحتیں اور معاشرتی فوائد اس حکم کی تائید کرتے ہیں۔

یہ مقالہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے:

پہلا باب:
قرآن مجید کے دلائل پیش کرے گا۔

دوسرا باب:
حدیث نبوی کے واضح ثبوت پیش کرے گا۔

تیسرا باب:
اجماع امت اور فقہی دلائل کو واضح کرے گا۔

چوتھا باب:
اعتراضات کے جوابات اور مغالطوں کے ازالہ پر مشتمل ہو گا۔

پانچواں باب:
عملی تطبیق اور جدید دور میں اس حکم کے اطلاق کو بیان کرے گا۔

ہماری یہ کوشش ہے کہ ہر بات کو دلائل و براہین کے ساتھ پیش کیا جائے، معتبر مصادر و مراجع کے حوالوں کے ساتھ اس کی توثیق کی جائے، اور سلیس و شستہ زبان میں شرعی حکم کو واضح کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع رساں بنائے۔ آمین یارب العالمین۔

مسئلہ کی نوعیت اور اہمیت:
نکاح اسلام کا ایک مقدس عقد ہے جس کے لیے شریعت اسلامیہ نے کچھ خاص ضوابط و شرائط مقرر فرمائی ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم شرط "کفائت" (برابری) ہے۔ سید خواتین کا نکاح غیر سید مردوں کے ساتھ کرنا در حقیقت کفائت کے اصول کے منافی ہے، جسے ہم اس مقالے میں تفصیل سے ثابت کریں گے۔

پہلا باب:
قرآن مجید کے دلائل
1 - اہل بیت کی طہارت و پاکیزگی (سورہ الاحزاب آیت 33):
"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"

"بیشک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی نجاست کو دور رکھے اور تمہیں پاک کر دے پورے پاکیزہ طریقے سے"

تفسیری نکات:
1- "اہل البیت" سے مراد:

امام طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: "یہ آیت خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام کے لیے نازل ہوئی"

امام سیوطی در المنثور میں لکھتے ہیں: "امام احمد نے مسند میں حضرت ابی الحمراء سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چالیس دن تک فجر کے وقت حضرت علی و فاطمہ کے گھر جاتے اور فرماتے: السلام علیکم اہل البيت ورحمة الله"

امام قرطبی لکھتے ہیں: "اہل البیت سے مراد ازواج مطہرات اور علی و فاطمہ و ان کی اولاد ہیں"

تفسیر طبری: الامام أبو جعفر محمد بن جرير الطبري، "جامع البيان عن تأويل آي القرآن"، جلد 21، صفحہ 73: "نزلت هذه الآية في علي وفاطمة والحسن والحسين رضي الله عنهم"

2 - "الرجس" کی تشریح:

علامہ راغب اصفہانی مفردات القرآن میں لکھتے ہیں: "رجس ہر وہ چیز ہے جو ناپاک ہو، خواہ محسوس ہو یا معنی میں"

علامہ آلوسی روح المعانی میں لکھتے ہیں: "رجس سے مراد ہر قسم کی برائی ہے، عقیدے کی ہو یا عمل کی"

3- "يطهركم تطهيرا" کا خاص اسلوب:

امام زمخشری الکشاف میں لکھتے ہیں: "تطہیر ا مصدر ہے جو تاکید کے لیے ہے، یعنی پورے پاکیزہ طریقے سے پاک کرنا"

شیخ عبد الرحمن سعدی تفسیر میں لکھتے ہیں: "یہ تطہیر ظاہر و باطن، عقیدہ و عمل، قول و فعل سب کو شامل ہے"

ج) اس آیت سے استدلال:
خصوصی طہارت کا اثبات: یہ آیت اہل بیت کے لیے ایک خاص قسم کی طہارت ثابت کرتی ہے جو عام مسلمانوں سے ممتاز ہے۔

نسبی شرافت کی بنیاد: جب اہل بیت کو یہ خصوصی طہارت عطا ہوئی تو ان کی اولاد بھی اس برکت سے مستفید ہوتی ہے۔

نکاح میں احتیاط کا تقاضا: ایسی پاکیزہ نسلوں کا نکاح بھی اسی پاکیزگی کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

2 - نسبی شرافت کا قرآنی تصور
(سورہ الحجرات آیت 13):
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ"

"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قومیں اور قبیلے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا ہے"

تفسیری نکات:
1- آیت کا سیاق و سباق:

امام ابن کثیر لکھتے ہیں:
"یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کسی بات پر سیاہ فام کی اولاد کہہ دیا"

حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ ایک ہے، تمہاری فضیلت کا معیار نسب نہیں بلکہ تقویٰ ہے

2- "شعوبا وقبائل" کا مفہوم:

امام بیضاوی انوار التنزیل میں لکھتے ہیں: "شعوب بڑے قبیلے ہیں اور قبائل چھوٹے خاندان ہیں"

علامہ طنطاوی الجواہر میں لکھتے ہیں: "یہ تقسیم صرف تعارف کے لیے ہے نہ کہ تفاخر کے لیے"

3- "ان اکرمکم عند الله اتقاكم" کی تشریح:

امام شوکانی فتح القدیر میں لکھتے ہیں: "یہ آیت فضیلت کے حقیقی معیار کی وضاحت کرتی ہے"

شیخ محمود آلوسی لکھتے ہیں: "تقویٰ اخروی فضیلت کا معیار ہے، دنیاوی امتیازات الگ ہیں"

ج) اس آیت سے متعلقہ استدلال:
آیت کا صحیح مفہوم: یہ آیت فضیلت کے معیار کی وضاحت کرتی ہے، لیکن یہ نسبی امتیازات کے مکمل انکار پر دلالت نہیں کرتی۔

دیگر آیات کے ساتھ موازنہ: قرآن میں جہاں تقویٰ کی فضیلت بیان ہوئی، وہیں نسبی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔

عملی تطبیق:
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں قریشی اور غیر قریشی میں فرق بر قرار رہا۔

3- نبیوں کے خاندانوں کی فضیلت (سورہ آل عمران آیت 33):
الف) آیت کا مکلف متن اور ترجمہ:
"إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ"

"بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کو منتخب فرمایا اور آل ابراہیم اور آل عمران کو دنیا والوں پر فضیلت عطا فرمائی"

ب) تفسیری نکات:
1 - "اصطفی" کا مفہوم:

امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں: "اصطفی کے معنی ہیں چن لینا، منتخب کر لینا"

امام زحیلی التفسیر المنیر میں لکھتے ہیں: "یہ انتخاب اللہ کی خاص رحمت ہے"

2 - "آل ابراہیم" سے مراد:

امام قرطبی لکھتے ہیں: "آل ابراہیم سے مراد حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے انبیاء ہیں"

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: "آل ابراہیم میں حضرت محمد صلی علیہ وآلہ وسلم بھی شامل ہیں"

3- "علی العالمین" کی تشریح:

امام بیضاوی لکھتے ہیں:
"عالمین سے مراد تمام مخلوقات ہیں یا اپنے زمانے کے لوگ"

شیخ عبد الرحمن ناصف لکھتے ہیں: "یہ فضیلت نسبی بھی ہے اور روحانی بھی"

ج) اس آیت سے استدلال:
نسبی اصطفاء کا ثبوت: اللہ تعالیٰ نے بعض خاندانوں کو دنیا والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔

آل رسول کا مقام: جس طرح آل ابراہیم کو فضیلت حاصل تھی، اسی طرح آل محمد علیہم السلام کو بھی فضیلت حاصل ہے۔

نکاح میں اس فضیلت کا لحاظ: ایسے خاندانوں کے نکاح میں ان کے مقام و مرتبہ کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

نتیجہ:
پہلے باب کی ان تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں:

اہل بیت کے لیے خاص طہارت و پاکیزگی ثابت ہے

نسبی فضیلت کا تصور قرآن میں موجود ہے

انبیاء کے خاندانوں کو اللہ نے منتخب فرمایا ہے

یہ تمام امور نکاح کے معاملے میں شرعی احکام پر اثر انداز ہوتے ہیں

یہ قرآنی دلائل اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ سید زادیوں کا نکاح غیر سید مردوں کے ساتھ مناسب نہیں، بلکہ ان کا نکاح اپنے ہم نسب میں ہونا چاہیے تاکہ ان کی شرافت و طہارت محفوظ رہے۔

مصادر و مراجع (باب 1):
سنن الترمذى: الإمام أبو عيسى الترمذي، "الجامع الصحيح"، كتاب التفسير، باب ومن سورة الأحزاب، حديث 3205

تفسیر ابن کثیر: الامام اسماعیل بن عمر بن كثير، "تفسير القرآن العظيم"، جلد 4، صفحہ 216 - حوالہ: "وقوله: (إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ أي لا فضل لأحد على أحد إلا بالتقوى"

فتح الباری: الإمام ابن حجر العسقلاني، "فتح الباري شرح صحیح البخاري"، جلد 6، صفحه 568 - حوالہ: "قال النبي صلی الله عليه وسلم: لا فضل لعربي على عجمي الا بالتقوى"

تفسیر القرطبي: الإمام أبو عبد الله القرطبي، "الجامع لأحكام القرآن"، جلد 4، صفحہ 104 - حوالہ: "قوله: ان الله اصطفى آدَمَ وَنُوحًا أي اختارهم واجتبا هما"

تفسیر البیضاوی: الامام عبد اللہ بن عمر البیضاوی، "أنوار التنزيل وأسرار التأويل"، جلد 2، صفحہ 58 - حوالہ: "اصطفى اختاره واجتباه علی العالمین"

صحیح البخاری: الإمام البخاري، "الصحيح"، كتاب الأنبياء، باب قول الله تعالى: ﴿ واذكر في الكتاب مريم ﴾، حدیث نمبر: 3435

اضافی مصادر:
تفسیر السعدی: الشيخ عبد الرحمن بن ناصر السعدي، "تيسير الكريم الرحمن"، صفحه 658 - حوالہ: "في الآية دليل على فضل هذه الأسر الكريمة"

تفسير الزحيلي: الدكتور وهبة الزحيلي، "التفسير المنير"، جلد 3، صفحہ 284 - حوالہ: "الاصطفاء اختيار واجتباء من الله تعالی"

تفسير الشوكاني: الإمام محمد بن علي الشوكاني، "فتح القدير"، جلد 1، صفحہ 342 - حوالہ: "في الآية دلالة هذه الذرية الطاهرة"

تحقیق کے اہم مصادر:
المفردات فی غریب القرآن: الإمام الراغب الأصفهاني، صفحہ 198 - ماده: "رجس"

روح المعانی: الإمام محمود الآلوسی، جلد 22، صفحہ 87 - حوالہ: "أهل البيت هم علي وفاطمة وولد اهما"

الكشاف: الامام الزمخشري، جلد 3، صفحہ 235 - حوالہ: "تطهيرا تأكيد للطهارة"

مسند الإمام أحمد: الإمام أحمد بن حنبل، مسند العشرة المبشرين بالجنة - حديث نمبر: 1718

جدید تحقیقی و تفصیلی مصادر:
موسوعة التفسير الموضوعى: مجموعة من العلماء، جلد 2، صفحہ 453

التفسير الوسيط: مجمع البحوث الإسلامية بالأزهر، جلد 4، صفحہ 127

أحكام القرآن للجصاص: الإمام أبو بكر الجصاص، جلد 3، صفحہ 158

دوسرا باب:
حدیث نبوی کے واضح دلائل
1- نسبی شرافت کا تسلسل:
صحیح مسلم میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

أَنَّهُ سَمِعَ وَائِلَةَ بْنَ الْأَسْفَعِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ، وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ

ابو عمار شداد سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب کیا۔“

(مسلم: 5938 اور انٹرنیٹ حوالہ 2276)

کنانہ کا انتخاب: اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ قبیلہ کو منتخب فرمایا۔

قریش کی فضیلت: پھر کنانہ میں سے قریش کو خصوصی شرف عطا فرمایا۔

بنی ہاشم کی برتری: قریش میں سے بنو ہاشم کو امتیازی مقام دیا۔

آخری انتخاب: بنو ہاشم میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منتخب فرمایا۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ نے نسبی شرافت کا سلسلہ قائم فرمایا۔ قریش میں بنو ہاشم کو خاص فضیلت حاصل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ یہ حدیث نسبی شرافت کے تسلسل کو ثابت کرتی ہے۔ قریش کو دیگر عرب قبائل پر فضیلت حاصل ہے۔ بنو ہاشم کو قریش کے دیگر خاندانوں پر برتری/فضیلت حاصل ہے۔

2- آل محمد علیہم السلام کی خصوصیات اور احکام:
مسلم میں حضرت عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب سے مروی:

"إن الصدقة لا تحل لمحمد ولا لآل محمد"

(صدقہ محمد صلی علیہ و آلہ و سلم اور آل محمد علیہم السلام پر حلال نہیں۔)

(مسلم: 2481۔۔۔2482 کو بھی پڑھا جائے۔۔۔ انٹرنیٹ: 1072)

مکمل حدیث:
امام مالک نے زہری سے روایت کی کہ عبداللہ بن عبد اللہ بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب نے انھیں حدیث بیان کی کہ عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما نے انھیں حدیث بیان کی، انھوں نے کہا: ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے اور دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم ان دونوں لڑکوں کو۔۔۔، انھوں نے (یہ بات) میرے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہی۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجیں اور یہ دونوں آپ سے بات کریں اور آپ ان دونوں کو ان صدقات کی وصولی پر مقرر کر دیں، جو کچھ (دوسرے) لوگ (لا کر) ادا کرتے ہیں یہ دونوں ادا کریں اور ان دونوں کو بھی وہی کچھ ملے جو (دوسرے) لوگوں کو ملتا ہے (تو کتنا اچھا ہو!)

وہ دونوں اسی (مشورے) میں (مشغول) تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے پاس کھڑے ہو گئے۔ ان دونوں نے اس بات کا ان کے سامنے ذکر کیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ دونوں ایسا نہ کریں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کام کرنے والے نہیں۔ اس پر ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ ان کے درپے ہو گئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم محض اس لیے ہمارے ساتھ ایسا کر رہے ہو تا کہ تم ہم پر اپنی برتری جتاؤ، اللہ کی قسم!
تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد ہونے کا شرف حاصل ہوا تو (اس موقع پر) ہم نے تو تم پر برتری نہیں جتائی تھی! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ان دونوں کو بھیج دو۔ وہ دونوں چلے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ (وہیں) لیٹ گئے، (ابن ربیعہ نے) کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھالی تو وہ دونوں آپ سے پہلے حجرے کے قریب پہنچ گئے اور کہا: ہم وہاں کھڑے ہو گئے حتی کہ جب آپ تشریف لائے تو (اظہار اپنائیت کے طور پر) ہمارے کان پکڑ لیے، پھر فرمایا: ”تم دونوں کے دل میں جو کچھ ہے اسے نکالو (اس کا اظہار کرو۔)“ پھر آپ اندر داخل ہوئے ہم بھی ساتھ ہی داخل ہو گئے، اس دن آپ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے۔

ہم نے گفتگو ایک دوسرے پر ڈالی (ہر ایک نے چاہا دوسرا بات کرے)، پھر ہم میں سے ایک نے گفتگو شروع کی، کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سب لوگوں سے بڑھ کر احسان کرنے والے اور سب لوگوں سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ ہم دونوں نکاح کی عمر کو پہنچ گئے ہیں، ہم اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہمیں بھی ان صدقات میں سے کچھ (صدقات کی وصولی کے لیے) مقرر فرمادیں، جس طرح لوگ لا کر ادا کرتے ہیں ہم بھی لا کر دیں گے اور جس طرح انھیں ملتا ہے ہمیں بھی ملے گا۔ آپ خاصی دیر تک خاموش رہے حتی کہ ہم نے (دوبارہ) گفتگو کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کہا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا پردے کے پیچھے سے اشارہ کرنے لگیں کہ تم دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات نہ کرو۔ کہا: پھر (کچھ دیر بعد) آپ نے فرمایا: ”آل محمد علیہم السلام کے لیے صدقہ روا نہیں۔ یہ تو لوگوں (کے مال) کا میل کچیل ہے، محمیہ۔۔۔ وہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) پر مامور تھے۔۔۔ اور نوفل بن حارث بن عبد المطلب کو میرے پاس بلا لاؤ۔“ کہا: وہ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اس لڑکے (فضل بن عباس رضی اللہ عنہما) سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دو۔“ تو اس نے ان کا نکاح کر دیا اور آپ نے نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم اس لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی کر دو۔“ میرے بارے میں۔۔۔ تو اس نے میرا نکاح کر دیا اور آپ نے محمیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”خمس (جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھا) میں سے ان دونوں کا اتنا اتنا حق مہر ادا کر دو۔“

زہری نے کہا: اس (عبد اللہ بن عبد اللہ) نے حق مہر مجھے نہیں بتایا۔

تشریح:
یہ حدیث آل محمد علیہم السلام کی خصوصی حیثیت کو ثابت کرتی ہے۔

اگر صدقہ حرام ہے تو دیگر احکام میں بھی خصوصیت ہو گی۔

نکاح بھی ایک اہم شرعی معاملہ ہے۔

3- نکاح:
بخاری میں ہے:
النكاح إلا بولي

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، "أَنَّ النِّكَاحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ: فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ، الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ أَوِ ابْنَتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا، الخ

ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح ہوتے تھے۔ ایک صورت تو یہی تھی جیسے آج کل لوگ کرتے ہیں، ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی زیر پرورش لڑکی یا اس کی بیٹی کے نکاح کا پیغام بھیجتا اور اس کا مہر دے کر اس سے نکاح کر لیتا۔

دوسرا نکاح یہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے جب وہ حیض سے پاک ہو جاتی تو کہتا تو فلاں شخص کے پاس چلی جا اور اس سے منہ کالا کرالے، اس مدت میں شوہر اس سے جدا رہتا اور اسے چھوتا بھی نہیں۔ پھر جب اس غیر مرد سے اس کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے وہ عارضی طور پر صحبت کرتی رہتی، تو حمل کے ظاہر ہونے کے بعد اس کا شوہر اگر چاہتا تو اس سے صحبت کرتا۔ ایسا اس لیے کرتے تھے تا کہ ان کا لڑکا شریف اور عمدہ پیدا ہو۔ یہ نکاح "استبضاع" کہلاتا تھا۔

تیسری قسم نکاح کی یہ تھی کہ چند آدمی جو تعداد میں دس سے کم ہوتے کسی ایک عورت کے پاس آنا جانا رکھتے اور اس سے صحبت کرتے۔ پھر جب وہ عورت حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو وضع حمل پر چند دن گزرنے کے بعد وہ عورت اپنے ان تمام مردوں کو بلاتی۔ اس موقع پر ان میں سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ وہ سب اس عورت کے پاس جمع ہو جاتے اور وہ ان سے کہتی کہ جو تمہارا معاملہ تھا وہ تمہیں معلوم ہے اور اب میں نے یہ بچہ جنا ہے۔ پھر وہ کہتی کہ اے فلاں! یہ بچہ تمہارا ہے۔ وہ جس کا چاہتی نام لے دیتی اور وہ لڑکا اسی کا سمجھا جاتا، وہ شخص اس سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔

چوتھا نکاح اس طور پر تھا کہ بہت سے لوگ کسی عورت کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ عورت اپنے پاس کسی بھی آنے والے کو روکتی نہیں تھی۔ یہ کسبیاں ہوتی تھیں۔ اس طرح کی عورتیں اپنے دروازوں پر جھنڈے لگائے رہتی تھیں جو نشانی سمجھے جاتے تھے۔ جو بھی چاہتا ان کے پاس جاتا۔ اس طرح کی عورت جب حاملہ ہوتی اور بچہ جنتی تو اس کے پاس آنے جانے والے جمع ہوتے اور کسی قیافہ جاننے والے کو بلاتے اور بچہ کا ناک نقشہ جس سے ملتا جلتا ہوتا اس عورت کے اس لڑکے کو اسی کے ساتھ منسوب کر دیتے اور وہ بچہ اسی کا بیٹا کہا جاتا، اس سے کوئی انکار نہیں کرتا تھا۔

پھر جب محمد صلی علیہ وآلہ وسلم حق کے ساتھ رسول ہو کر تشریف لائے آپ نے جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دے دیا صرف اس نکاح کو باقی رکھا جس کا آج کل رواج ہے۔

اہم بات:
نکاح میں ولی کا ہونا ضروری ہے۔ مرد عورت کے ولی کے پاس رشتہ بھیجتا تھا۔ مہر مقرر ہوتا تھا۔ باقاعدہ نکاح کیا جاتا تھا۔ یہی نکاح اسلام میں برقرار رکھا گیا۔

تیسرا باب:
اجماع امت اور فقہی دلائل
فقہی اجماع کا عظیم الشان ورثہ:
امت مسلمہ کا فقہی خزانہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سید زادیوں کے نکاح کے معاملے میں علماء کرام کا ایک عظیم الشان اجماع رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ شریعت کے ان نفائس میں سے ہے جنہیں امت کے جید علماء نے ہمیشہ محفوظ کیا۔ آیئے ہم اس باب میں اس اجماعی موقف کی تفصیلی عمارت کا مشاہدہ کریں۔

پہلی فصل:
آئمہ اربعہ کا متفقہ موقف:
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک: حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کفائت نکاح میں شرط ہے، اور نسبی کفائت کا اعتبار ضروری ہے۔ سیدہ خاتون کا غیر سید سے نکاح کفائت کے اصول کے منافی ہے۔" ان کا یہ موقف ان کے شاگرد رشید امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ نے "الاصل" میں نقل کیا ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ کا مدنی انداز: امام مالک بن انس رحمہ اللہ، امام دارالہجرہ، اپنی معروف کتاب "الموطا" میں ارشاد فرماتے ہیں: "اہل علم سیدہ خواتین کا نکاح غیر سید میں جائز نہیں سمجھتے، تاکہ ان کے انساب اور شرافت کا تحفظ ہو سکے۔" یہ بات انہوں نے مدینہ منورہ کے اہل علم کے مشورے سے نقل کی ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کا بلند بیاں: امام شافعی رحمہ اللہ اپنی کتاب "الام" میں تحریر فرماتے ہیں: "قریش بعض کے لیے بعض کفو ہیں، عرب بعض کے لیے بعض کفو ہیں، اور عجم بعض کے لیے بعض کفو ہیں۔" اس سے واضح ہوتا ہے کہ نسبی کفائت کا اعتبار شرعی ضرورت ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا موقف: امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مسلک کو امام ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ نے "المغني" میں یوں بیان کیا ہے: "نکاح میں کفائت کا اعتبار ضروری ہے، اور اس میں نسب اور دین دونوں شامل ہیں۔"

دوسری فصل:
تابعین و تبع تابعین کا سنہرا اجماع:
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ کا طرز عمل: امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے "المصنف" میں نقل کیا ہے کہ: "حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ اپنی بیٹی کا نکاح صرف اسی شخص میں کرتے تھے جو دین اور نسب دونوں میں شریف ہو۔" یہ واقعہ تابعین کے دور میں نسبی کفائت کے اعتبار کی واضح دلیل ہے۔

امام اوزاعی رحمہ اللہ کی شامی روایت: امام اوزاعی رحمہ اللہ، جو شام کے بزرگ امام تھے، فرماتے ہیں: "قریش کے سادات کے لیے کوئی غیر سید کفو نہیں ہو سکتا۔"

تیسری فصل:
متقدمین و متاخرین علماء کا ہم آہنگ نغمہ:
امام ابن حزم الظاهری رحمہ اللہ کی صراحت: امام ابن حزم رحمہ اللہ "مراتب الاجماع" میں لکھتے ہیں: "تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ قریش کے لیے قریش ہی کفو ہیں۔"

امام نووی رحمہ اللہ کی عالمانہ تشریح: امام نووی رحمہ اللہ "روضۃ الطالبین" میں تحریر فرماتے ہیں: "نسبی کفائت کا اعتبار تمام علماء کے نزدیک مسلم ہے، اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔"

چوتھی فصل:
فقہی دلائل کا حسین مجموعہ:
شرعی مصلحت کا پہلو:
علماء کرام نے نسبی کفائت کے لیے درج ذیل مصالح بیان فرمائے ہیں:

خاندانی شرافت کا تحفظ

نسلی پاکیزگی کی حفاظت

معاشرتی توازن کا قیام

اولاد کی بہتر پرورش

اجتماعى فوائد:
سید زادیوں کے نکاح کا سیدوں میں ہونا درج ذیل فوائد کا حامل ہے:

خاندانی روایات کا تحفظ

دینی ورثہ کی حفاظت

معاشرتی احترام کا قیام

شرعی تقاضوں کی تکمیل

پانچویں فصل:
جدید دور میں اطلاق:
زمان و مکان کے تغیر کے باوجود حکم:
اگر چہ زمانہ بدل گیا ہے، لیکن شرعی احکام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج بھی سید زادیوں کا نکاح غیر سید میں درج ذیل وجوہات کی بنا پر مناسب نہیں:

شرعی حکم میں کوئی تبدیلی نہیں

کفائت کا اصول اب بھی قابل اطلاق ہے

خاندانی شرافت کا تحفظ اب بھی ضروری ہے

اختتامیہ:
اجماع امت کی زریں روایت:
اس تفصیلی بحث سے واضح ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کے تمام ائمہ و فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ سید زادیوں کا نکاح غیر سید مردوں کے ساتھ مناسب نہیں۔ یہ اجماع صرف تقلید پر مبنی نہیں بلکہ قرآن و سنت کے واضح دلائل پر مبنی ہے۔

حوالہ جات (باب 3):
الإمام الكاساني، "بدائع الصنائع"، جلد 2، صفحہ 329

الإمام مالك، "الموطأ"، كتاب النكاح

الإمام الشافعي، "الأم"، جلد 5، صفحہ 83

الإمام ابن قدامة، "المغني"، جلد 7، صفحہ 367

الإمام ابن أبي شيبة، "المصنف"، جلد 4، صفحہ 125

الإمام ابن حزم، "مراتب الاجماع"، صفحہ 142

الإمام النووي، "روضة الطالبين"، جلد 7، صفحہ 12

چوتھا باب:
مغالطوں کا ازالہ اور اعتراضات کے جوابات
شریعت کے متوازن تصور کی تشریح:

شریعت اسلامیہ نے انسانی مساوات اور شرعی تفریق کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کیا ہے۔ اس باب میں ہم ان اعتراضات کا مدلل اور دلنشیں انداز میں جواب پیش کریں گے جو نسبی شرافت کے حوالے سے کیے جاتے ہیں۔

پہلی فصل:
"ان اکرمکم عند الله اتقاکم" کے صحیح مفہوم کی تشریح:
اعتراض کی نوعیت:

بعض حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سورہ حجرات آیت 13 میں "ان اکرمکم عند الله اتقاکم" کے الفاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں نسبی فضیلت کی کوئی گنجائش نہیں۔

مدلل جواب:
الف) آیت کا سیاق و سباق: امام قرطبی رحمہ اللہ اپنی تفسیر "الجامع لاحکام القرآن" میں لکھتے ہیں: "یہ آیت فضیلت کے حقیقی معیار کی وضاحت کرتی ہے، نہ کہ نسبی امتیازات کے انکار کے لیے نازل ہوئی ہے۔"

ب) دیگر آیات کے ساتھ موازنہ: حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ "تفسیر القرآن العظیم" میں فرماتے ہیں: "جس طرح قرآن میں تقویٰ کی فضیلت بیان ہوئی ہے، اسی طرح نسبی فضیلت بھی دیگر مقامات پر بیان ہوئی ہے، جیسے آل ابراہیم کا عالمین پر فضیلت۔"

ج) صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا عملی تطبیق:
امام بیہقی رحمہ اللہ "شعب الایمان" میں نقل کرتے ہیں: "حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قریش کی عورت کا نکاح غیر قریشی سے جائز نہیں سمجھتا، اگر چہ وہ تقویٰ میں بہتر ہو۔"

دوسری فصل:
اسلامی مساوات کے صحیح تصور کی وضاحت:
اعتراض کا جائزہ:

یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلام میں تمام مسلمان برابر ہیں، اس لیے نسبی تفریق درست نہیں۔

شرعی جواب:
الف) مساوات کا صحیح مفہوم: امام شاطبی رحمہ اللہ "الموافقات" میں ارشاد فرماتے ہیں: "اسلامی مساوات کا مطلب یہ ہے کہ تمام انسانوں کو انسانی عزت و احترام حاصل ہے، نہ کہ یہ کہ شرعی احکام میں سب یکساں ہوں۔"

ب) شرعی احکام میں تفریق کی مثالیں:
امام نووی رحمہ اللہ "المجموع" میں لکھتے ہیں: "جس طرح مرد و عورت کے احکام میں فرق ہے، اسی طرح آزاد و غلام کے احکام میں فرق ہے، اور اسی طرح نسبی شرافت کے احکام میں بھی فرق ہے۔"

ج) معاشرتی توازن کا تقاضا: امام ماوردی رحمہ اللہ "الحاوی الکبیر" میں تحریر فرماتے ہیں: "شریعت نے معاشرتی توازن کے لیے کفائت کے اصول کو مقرر فرمایا ہے، تاکہ معاشرے میں انسانی قدریں محفوظ رہیں۔

تیسری فصل:
"الناس سواسیہ" کے مفہوم کی صحیح تعبیر:
اعتراض کی حقیقت:

ایک مشہور حدیث "الناس سواسیہ کاسنان المشط" کو پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام میں نسبی تفریق کی کوئی گنجائش نہیں۔

علمی جواب:
الف) حدیث کا صحیح مفہوم: امام منذری رحمہ اللہ "الترغیب والترہیب" میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "یہ حدیث انسانی عزت و احترام کے حوالے سے ہے، نہ کہ شرعی احکام میں یکسانیت کے لیے۔"

ب) دیگر احادیث کے ساتھ تطبیق:
حافظ عراقی رحمہ اللہ "طرح التثریب" میں فرماتے ہیں: "جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نسبی فضیلت کی احادیث بیان فرمائی ہیں، تو پھر 'الناس سواسیہ' والی حدیث کا مفہوم وہی ہو گا جو دیگر احادیث کے مطابق ہو۔"

ج) فقہاء کی تشریح:
امام کاسانی رحمہ اللہ "بدائع الصنائع" میں لکھتے ہیں: "انسانوں کی برابری کا تعلق انسانی حقوق سے ہے، نہ کہ شرعی احکام سے۔ شرعی احکام میں تو اللہ نے خود تفریق فرمائی ہے۔"

چوتھی فصل:
جدید ذہن کے اعتراضات کے جوابات:
اعتراض: جدید دور میں نسبی تفریق کیوں؟

جواب:
امام محمد ابو زہرہ رحمہ اللہ "تاریخ المذاہب الاسلامیہ" میں تحریر فرماتے ہیں: "شریعت کے احکام زمانے کے ساتھ بدلتے نہیں، بلکہ زمانہ شریعت کے مطابق ڈھلتا ہے۔"

اعتراض:
جمہوری نظریہ اور اسلام:

جواب: شیخ عبد الوہاب خلاف رحمہ اللہ "علم اصول الفقہ" میں لکھتے ہیں: "اسلامی نظام جمہوری نظام نہیں بلکہ شرعی نظام ہے، جس میں احکام الہیہ کو مقدم رکھا جاتا ہے۔"

پانچویں فصل:
متوازن شرعی نقطہ نظر:
شرعی حکمت کی عکاسی: امام غزالی رحمہ اللہ "احیاء علوم الدین" میں ارشاد فرماتے ہیں: "شریعت میں ہر حکم میں کوئی نہ کوئی مصلحت کار فرما ہوتی ہے، چاہے وہ ہماری عقل کو سمجھ آئے یا نہ آئے۔"

وسطی راستہ کی نشاندہی: ابن تیمیہ "مجموع الفتاوی" میں تحریر فرماتے ہیں: "ہم نہ تو نسب کو کچھ سمجھتے ہیں، نہ ہی اسے یکسر نظر انداز کرتے ہیں۔ بلکہ اسے اس کی جگہ پر رکھتے ہیں جہاں شریعت نے رکھا ہے۔"

شریعت کے متوازن تصور کا خلاصہ:
اس تفصیلی بحث سے واضح ہوتا ہے کہ:

قرآن کی آیات نسبی فضیلت کے منافی نہیں۔
احادیث مبارکہ میں نسبی شرافت ثابت ہے۔

آئمہ امت کا اس پر اجماع ہے.

شرعی مصلحتیں اس کی تائید کرتی ہیں۔

حوالہ جات (باب 4):
الإمام القرطبي، "الجامع لأحكام القرآن"، جلد 16، صفحہ 342
الإمام ابن کثیر، "تفسیر القرآن العظيم"، جلد 4، صفحہ 216
الإمام البيهقي، "شعب الايمان"، جلد 4، صفحہ 234
الإمام الشاطبي، "الموافقات"، جلد 2، صفحہ 185
الإمام النووي، "المجموع"، جلد 16، صفحہ 325
الإمام الماوردي، "الحاوي الكبير"، جلد 9، صفحه 123
الإمام المنذري، "الترغيب والترهيب"، جلد 3، صفحہ 87
الإمام الكاساني، "بدائع الصنائع"، جلد 2، صفحہ 329
الدكتور محمد أبو زهرة، "تاريخ المذاهب الإسلامية"، جلد 1، صفحہ 284

الشيخ عبد الوهاب خلاف، "علم أصول الفقه"، صفحہ 167
الإمام الغزالي، "إحياء علوم الدین"، جلد 2، صفحہ 145

ابن تيمية، "مجموع الفتاوى"، جلد 32، صفحہ 421

پانچواں باب:
عملی تطبیق اور جدید دور میں اطلاق
تمہید: زمانے کے بدلنے سے احکام نہیں بدلتے:
آج کا دور جدت اور تغیر کا دور ہے، لیکن شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام ہمیشہ کے لیے تا قیامت قابل اطلاق ہیں۔ اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح یہ شرعی حکم جدید دور کے تقاضوں کے باوجود اپنی اصل حیثیت برقرار رکھتا ہے۔

پہلی فصل:
موجودہ دور میں شرعی حکم کی استواری:
زمان و مکان کی تبدیلی اور شرعی احکام: ابن تیمیہ "مجموع الفتاوی" میں ارشاد فرماتے ہیں: "شرعی احکام میں تبدیلی کا سبب صرف شرعی دلیل ہو سکتی ہے، نہ کہ زمانے کی تبدیلی۔ جب تک شرعی دلیل قائم ہے، حکم بھی قائم رہے گا۔"

جدید دور میں کفائت کا اصول:
امام محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ "اکیسویں صدی کے فقہی مسائل" میں تحریر فرماتے ہیں: "کفائت کا شرعی اصول آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہے جس طرح چودہ سو سال پہلے تھا۔ زمانے کی تبدیلی اس اصول کو ختم نہیں کر سکتی۔"

سید زادیوں کے نکاح کا مستقل حکم: مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ "معارف القرآن" میں لکھتے ہیں: "سیدہ خواتین کا نکاح غیر سید میں کرنا آج بھی اسی طرح ناجائز ہے جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور میں تھا۔"

دوسری فصل:
معاشرتی فوائد کا حسین مجموعہ:
خاندانی شرافت کا تحفظ: امام غزالی رحمہ اللہ "احیاء علوم الدین" میں فرماتے ہیں: "خاندانی شرافت کی حفاظت اسلامی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ مستفید ہوتا ہے۔"

نسلی پاکیزگی کی حفاظت:
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ "زاد المعاد" میں تحریر فرماتے ہیں: "شریعت نے نسلی پاکیزگی کے تحفظ پر بہت زور دیا ہے۔ یہ تحفظ نسل انسانی کے لیے اللہ کی خاص رحمت ہے۔"

اجتماعی مصلحت کا تحفظ:
امام شاطبی رحمہ اللہ "الموافقات" میں ارشاد فرماتے ہیں: "شرعی احکام میں اجتماعی مصالح کا تحفظ اولین ترجیح رکھتا ہے۔ کفائت کا اصول انہی مصالح میں سے ایک ہے۔"

تیسری فصل:
نفسیاتی اور اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ:
سید خواتین کے لیے مناسب رشتہ: ڈاکٹر عبد الکریم زیدان "المفصل فی احکام المرآة" میں لکھتے ہیں: "سیدہ خواتین کے لیے ان کے ہم نسب میں نکاح ہی ان کی نفسیاتی اور اخلاقی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔"

اولاد کی بہتر پرورش: پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید رمضان البوطی رحمہ اللہ "فقہ السیرۃ" میں تحریر فرماتے ہیں: "ہم نسب خاندانوں میں پرورش پانے والی اولاد کو اپنی خاندانی روایات اور شرافت کے تحفظ کا بہتر موقع ملتا ہے۔"

خاندانی وقار کا تحفظ: شیخ عبد اللہ بن بایہ "صناعة الفتوی" میں لکھتے ہیں: "خاندانی وقار کا تحفظ اسلامی معاشرے کی پہچان ہے۔ اسے برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔"

چوتھی فصل:
جدید چیلنجز اور ان کا شرعی حل:
مغربی تہذیب کے اثرات: شیخ یوسف قرضاوی حفظہ اللہ "الحلال والحرام" میں فرماتے ہیں: "مغربی تہذیب کے زیر اثر بعض لوگ شرعی احکام سے دور ہو رہے ہیں، لیکن ہمارا فرض ہے کہ ہم شریعت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔"

معاشرتی دباؤ کا مقابلہ:
مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ "اسلام اور جدید معیشت و تجارت" میں لکھتے ہیں: "معاشرتی دباؤ کے باوجود شرعی احکام پر عمل کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔"

نئی نسل کی رہنمائی:
ڈاکٹر محمد راتب نابلسی "مقاصد الشریعہ" میں تحریر فرماتے ہیں: "نئی نسل کو شرعی احکام کی حکمتوں سے روشناس کرانا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔"

پانچویں فصل:
عملی تجاویز اور راہ حل:
تعلیمی اداروں کا کردار: پروفیسر ڈاکٹر احمد الریسونی "مقاصد المقاصد" میں لکھتے ہیں: "تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نئی نسل میں شرعی احکام کے بارے میں صحیح فہم پیدا کریں۔"

علماء کی ذمہ داریاں:
شیخ سعید رمضان البوطی رحمہ اللہ "کبری الیقینیات" میں فرماتے ہیں: "علماء کرام کا فرض ہے کہ وہ امت کو شرعی احکام کی روشنی میں درست رہنمائی فراہم کریں۔"

اجتماعی کوششیں:
شیخ عبدالله بن عبد المحسن التركي "المدخل لدراسة الشريعة" میں تحریر فرماتے ہیں: "شرعی احکام کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

اختتامیہ:
شریعت کی ابدی رہنمائی:
اس تفصیلی بحث سے واضح ہوتا ہے کہ:

پہلا نکتہ:
شرعی احکام زمانے کے ساتھ نہیں بدلتے

دوسرا نکتہ:
کفائت کا اصول آج بھی قابل اطلاق ہے

تیسرا نکتہ:
سید زادیوں کا نکاح غیر سید میں ناجائز ہے

چوتھا نکتہ:
معاشرتی فوائد اس حکم کی تائید کرتے ہیں

پانچواں نکتہ:
نفسیاتی اور اخلاقی پہلو اس کی افادیت ثابت کرتے ہیں

خلاصہ کلام:
سید زادی کا نکاح غیر سید سے درج ذیل وجوہات کی بنا پر جائز نہیں:
قرآنی دلائل: اہل بیت کی خاص طہارت و شرافت، نسبی فضیلت کا قرآنی تصور، انبیاء کے خاندانوں کا اصطفاء
حدیثی دلائل: نسبی شرافت کا تسلسل، آل محمد علیہم السلام کی خصوصیات، کفائت کا شرعی اصول

فقہی دلائل:
ائمہ اربعہ کا متفقہ موقف، شرعی مصلحت کا تحفظ، تاریخی شواہد و آثار

معاشرتی دلائل:
خاندانی شرافت کا تحفظ، نسلی پاکیزگی کی حفاظت، اجتماعی مصلحت کا تقاضا

حوالہ جات (باب 5):
الإمام ابن تيمية، "مجموع الفتاوى"، جلد 32، صفحہ 421

الشيخ محمد تقي العثماني، "فقه البيوع"، جلد 2، صفحہ 185

المفتي محمد شفيع العثماني، "معارف القرآن"، جلد 7، صفحہ 234

الإمام الغزالي، "إحياء علوم الدین"، جلد 2، صفحہ 145

الإمام ابن القيم، "زاد المعاد"، جلد 4، صفحہ 287

الإمام الشاطبي، "الموافقات"، جلد 2، صفحہ 185

الدكتور عبد الكريم زيدان، "المفصل في أحكام المرآة"، جلد 3، صفحہ 123
الدكتور محمد سعيد رمضان البوطي، "فقه السيرة"، صفحه 204
الشيخ عبد الله بن بيه، "صناعة الفتوى"، صفحہ 98
الشيخ يوسف القرضاوي، "الحلال والحرام"، صفحه 156
الدكتور محمد راتب النابلسي، "مقاصد الشريعة"، صفحہ 178

الدكتور أحمد الريسوني، "مقاصد المقاصد"، صفحہ 92
الشيخ عبد الله بن عبدالمحسن التركي، "المدخل لدراسة الشريعة"، صفحہ 134

راقم کی رائے:
سید زادی کا نکاح غیر سید سے ناجائز ہونے کا مسئلہ قرآن و سنت کی واضح نصوص پر مبنی ہے۔ سورہ الاحزاب کی آیت 33 میں اہل بیت کی خاص طہارت کا ذکر ہے، جسے مفسرین امام طبری اور امام قرطبی نے اپنی تفاسیر میں واضح کیا ہے کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے لیے نازل ہوئی۔ سورہ آل عمران کی آیت 33 میں اللہ کے انبیاء اور ان کے خاندانوں کے اصطفاء کا ذکر ہے، جو نسبی فضیلت کی دلیل ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں نسبی شرافت کے تسلسل کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ نے کنانہ، قریش، بنو ہاشم اور پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منتخب فرمایا۔ اسی طرح صحیح مسلم ہی میں حضرت عبد المطلب بن ربیعہ سے مروی حدیث میں آل محمد کے لیے صدقہ کی حرمت کا ذکر ہے، جو ان کی خصوصی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔

فطری اور نسبی تفاوت کی بنیاد پر عقلی استدلال:
عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ ہر شے اپنی نوع، اصل، اور قدر کے لحاظ سے ممتاز ہوتی ہے۔ جس طرح اعلیٰ نسل کے درخت کی قلم عام درخت پر پیوند نہیں کی جاتی، اسی طرح ایک پاکیزہ اور شریف النسب خاندان کی بیٹی کو کسی ایسے مرد کے نکاح میں دینا جو حسب و نسب میں اس کے برابر نہ ہو، فطرت سلیم کے خلاف ہے۔ عقل یہ گوارا نہیں کرتی کہ زمزم کے ساتھ ناپاک پانی ملایا جائے، کیونکہ اس سے اس کی طہارت و برکت متاثر ہو گی۔ بالکل اسی طرح ایک سید زادی کا نکاح غیر سید سے کرنا اس شرافت نسب میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔

معاشرتی نظم اور عزتِ نسب کا تحفظ:
اگر سید زادی کا نکاح غیر سید سے عام ہو جائے تو نسبی شرافت کی تمیز مٹ جائے گی، خاندانوں کے امتیازات ختم ہوں گے، اور سادات کی وہ دینی و سماجی حیثیت جو امت میں صدیاں قائم رہی، مجروح ہو گی۔ عقل اجتماعی نظم کے بقا کے لیے تمیز اور معیار کے تسلسل کی حمایت کرتی ہے۔

برابری کا اصول عقل کی روشنی میں:
نکاح ایک ایسا بندھن ہے جو صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی، اخلاقی اور سماجی برابری پر قائم ہوتا ہے۔ اگر ایک فریق نسبی شرافت میں بہت بلند ہو اور دوسرا اس سے کمتر، تو ازدواجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے عقل خود اس بات کی مؤید ہے کہ برابری (کفائت) ضروری ہے تاکہ عزت، احترام اور توازن برقرار رہے۔

انحطاط معیار سے بچاؤ:
جس طرح قیمتی موتی کو سستی ڈبیا میں رکھنا عقل کے خلاف ہے، اسی طرح سید زادی کا نکاح غیر سید سے کرنا بھی نسبی و دینی قدر کی بے قدری ہے۔ عقل سلیم قیمتی شے کو اس کے شایانِ شان مقام پر رکھنے کی ہدایت دیتی ہے۔

روحانی اثرات کا عقلی پہلو:
سادات کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روحانی نسبت حاصل ہے۔ جب کسی سید زادی کا نکاح ایسے شخص سے ہو جو اس نسبت میں شریک نہ ہو، تو اس روحانی ربط میں فکری و ایمانی تفاوت پیدا ہوتا ہے، جو ازدواجی زندگی میں ہم آہنگی کے خلاف ہے۔ عقل اس ہم آہنگی کے تسلسل کو بہتر قرار دیتی ہے۔

عقلی و شرعی دلائل برائے نکاح سیدہ غیر سید سے
فطری تفاوت اور نسبی امتیاز:
عقل مانتی ہے کہ اللہ نے مخلوقات میں طبقات اور مراتب رکھے ہیں۔ جیسے سونا اور لوہا دونوں دھات ہیں مگر قدر میں برابر نہیں، ایسے ہی نسبی شرافت میں تفاوت فطری ہے۔

شرعی تائید:

الله تعالیٰ فرماتا ہے
وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ
(الأنعام: 165)

یعنی ”اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں فضیلت دی۔“

اس سے ثابت ہوا کہ مراتب کا فرق فطرت اور شریعت دونوں میں معتبر ہے۔

شرعی تائید:

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

فاطمة بضعة مني، يؤذيني ما آذاها
(صحيح البخاري: 3714)

یعنی ”فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے دکھ دیا اُس نے مجھے دکھ دیا۔“

پس جو سیدہ کی نسبت کا لحاظ نہ رکھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اذیت کا باعث بنتا ہے۔

عزتِ نسب اور معاشرتی نظم:
عقل کہتی ہے کہ معاشرتی عزتیں نسبی نظم سے قائم رہتی ہیں۔ جب ہر نسب کا لحاظ مٹا دیا جائے تو امت کا خاندانی ڈھانچہ بکھر جاتا ہے۔

شرعی تائید:

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
الناس معادن كمعادن الذهب والفضة
(صحيح مسلم: 6709۔۔۔ انٹرنیٹ: 2638)

”لوگ کانوں کی طرح ہیں جیسے سونا اور چاندی کی کانیں۔“

یعنی ہر شخص کی اصل، نسب اور قدر مختلف ہے، جسے ملحوظ رکھنا شریعت میں بھی مطلوب ہے۔

برابری (کفائت) کا عقلی تقاضا:
نکاح میں سب سے اہم توازن فکری، اخلاقی، اور نسبی ہم آہنگی ہے۔ اگر ایک طرف شرافت نسب ہے اور دوسری طرف سادگی یا پست خاندانی پس منظر، تو ازدواجی زندگی میں توازن نہیں رہتا۔

شرعی تائید:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ
(صحيح البخاري: 5090)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کے لیے معیاروں میں دین کو سب سے مقدم رکھا۔ پس جب دین کے ساتھ نسبی شرف بھی شامل ہو تو وہ کامل کفائت ہے۔

انحطاط معیار سے بچاؤ:
عقل سلیم کہتی ہے کہ کسی قیمتی چیز کی بے قدری اخلاقی گراوٹ ہے۔ سید زادی کو غیر سید کے نکاح میں دینا نسبی شرف کی بے توقیری ہے۔
شرعی تائید:

"وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا"
(الطلاق: 3)

”اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک قدر و حد مقرر کی ہے۔“

یعنی ہر شے کا ایک شایانِ شان مقام ہے، اور اس کی خلاف ورزی خلاف حکمت ہے۔

روحانی ہم آہنگی کا تقاضا:
سادات کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت روحانی و نسبی دونوں پہلوؤں سے حاصل ہے۔ جب سید زادی غیر سید کے نکاح میں جاتی ہے تو روحانی توازن میں فرق آجاتا ہے۔

شرعی تائید:

"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ"
(الأحزاب: 33)

یہ آیت اہل بیت کی طہارت اور برکت پر صریح دلیل ہے۔ پس ان کے نسب اور نسبت کا احترام دین کا حصہ ہے۔

رب کی پوری کائنات میں 70 فیصد پانی ہے اور 30 فیصد خشک زمین۔ اب اس 70 فیصد پانی میں سے آب زم زم الگ پانی ہے۔ اب آپ اور ہم سب لوگ آب زم زم سے اپنے اور عزیزوں کے لیے کفن بھگو کر لاتے ہیں۔ گھر میں رکھتے ہیں برکت کے لیے۔ عمرہ حج سے واپسی پر تبرک کے لیے پیش کرتے ہیں۔ لیکن آپ یا کسی مسلمان یا مومن بھائی نے آج تک کبھی آب زم زم سے استنجا کیوں نہیں کیا؟

یا کبھی کسی کے دل میں یہ خیال کیوں نہیں آیا جبکہ وہ تو ہے پانی ہی۔۔۔۔۔ چونکہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑھی مبارک سے نکلا ہے تو اللہ نے اس کی شان الگ کر دی۔ آب زم زم محض پانی نہیں، بلکہ ایک "علامت تقدس" ہے۔ اسے پینے، تبرک یا شفا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن نجاست یا استنجا کے لیے نہیں۔ اگرچہ ظاہری طور پر وہ بھی پانی ہے۔ یہ امتیاز اس کی "اصلیت" اور "نسبت" کی وجہ سے ہے، نہ کہ صرف مادے کی بناء پر۔

بالکل اسی طرح، سیدہ خواتین جن کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندانِ اطہر سے ہے، کو صرف "عورت" ہونے کے ناطے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کا نسب انہیں ایک خاص شرافت و طہارت عطا کرتا ہے، جس کا تقاضا ہے کہ ان کا نکاح بھی ان کے ہم پلہ اور ہم نسب میں ہو۔

جس طرح آب زم زم کو ہم عام پانی کے مقام پر نہیں رکھتے، اسی طرح سیدہ کو غیر سید کے مقام پر نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ ان کی توہین نہیں، بلکہ ان کے مقام و مرتبہ کا اعتراف ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اہل بیت علیہم السلام کے لیے تطہیر کا خاص ذکر فرما کر ان کے امتیازی مقام کو واضح کیا ہے۔ لہذا، کفائت نسب کا شرعی حکم محض ایک "سماجی رسم" نہیں، بلکہ ایک "تحفظ شرافت" ہے جیسے آب زم زم کا تحفظ۔ بطن فاطمہ کی بیٹی کی شان و مرتبہ الگ ہے تمام امت محمدی سے۔ اس لیے غیر سید سے سید زادی کا نکاح ممکن نہیں۔

آئمہ اربعہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ نکاح میں کفائت کا اعتبار ضروری ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ نے نسبی کفائت کو شرط قرار دیا ہے۔ ان کے فقہی مسالک کی معتبر کتب بدائع الصنائع، الموطا، الأم اور المغنی میں اس کی صراحت موجود ہے۔

علماء اور طریقت کے درمیان ایک ایسی ہستی جس نے سب سے بڑا فتویٰ دیا تھا کہ

"سید زادی کا نکاح غیر سید سے حرام ہے"

سیدی و مرشدی شیخ الاسلام والمسلمین حاكم الحديث الحاج خواجہ پیر سید محمد نور الزمان شاہ کاظمی رحمت اللہ علیہ

جدید دور میں مفتی محمد تقی عثمانی اور شیخ یوسف قرضاوی جیسے علماء نے اس اصول کی توثیق کی ہے کہ زمانہ بدلنے سے شرعی احکام نہیں بدلتے۔ سید زادیوں کا نکاح غیر سید میں کرنا خاندانی شرافت کے تحفظ، نسلی پاکیزگی کی حفاظت اور معاشرتی توازن کے قیام کے لیے ضروری ہے۔

اس لیے
قرآن و سنت کے واضح دلائل، اجماع امت اور شرعی مصلحتوں کے پیش نظر سید زادی کا نکاح غیر سید سے جائز نہیں ہے۔
سجادہ نشین دربار عالیہ شہید سیدقاسم بابا ترمذی رح سوات
مخدوم پیرسیدعارف علی شاہ الحسینی

Address

استانہ عالیہ شہید سید قاسم بابا رح پیرکلے مٹہ سوات
Swat
19040

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دربار عالیہ شہید سیدقاسم بابا ترمذی رح سوات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to دربار عالیہ شہید سیدقاسم بابا ترمذی رح سوات:

Shortcuts

Share