Imam Bargah Babul Hawaij a.s Old Sukkur

Imam Bargah Babul Hawaij a.s Old Sukkur Masjid And Imam Bargah

مسجد و امام بارگاه موسٰي بن جعفر عليهما السلام

مذڪور مسجد دراصل وڏي مسجد سڏبي هئي، ميرڪي سادات هن مسجد ۾ اوائل کان پنج وقتي نماز کان علاوه عيد جي نماز به پڙهندا هئا ۽ پڙهندا آهن. ڪنهن وقت ۾ هن مسجد ۾ ديني علمن ۽ عربي ۽ فارسي، سنڌي جو مدرسو پڻ قائم هو جنهن جو مدرس آخوند عبدالرحمان هو. کائنس پوءِ سندس فرزند آخوند عبدالڪريم پڻ مذڪور سلسلي کي جاري رکيو، سيد غلام حيدر شاه موسوي ننڍي هوندي آخوند عبدالڪريم کي پير سني ۾ ڏٺو. هتي اهو تذڪرو ڪندا هلون ته ڪتاب تذڪره پوراني سادات ۾ مذڪور مسجد کي ميرڪ غوث بخش شاه جي مسجد ڄاڻآيو ويو آهي جيڪو دراصل غلط آهي مذڪور روايت بيبي شفاعت خاتون بنت سيد عنايت علي شاه شيرازي کان عبدالحسين ورتي هئي پر پوءِ ڪتاب ڇپجڻ کان پوءِ سيد غلام حيدر شاه بيبي صاحبه واري روايت کي رد ڪيو
معضرت سان ھي سڄي لکت سان ڏاڏا سائين سيد غوث بخش شاه موسوي فرزند سيد ڏتل شاھ موسوي جي محفوظ وصيت نامه مطابق بلڪل ابتڙ ۽ غير منصفاڻي انداز۾بيان ٿيل آهي ، مھرباني ڪري اسانجي خاندان ۽ ان سان لاڳاپيل تاريخ لکڻ کان پھرين اوھان اسانجي خاندان جي وڏڻ کان تاريخي حقائق ضروري حاصل ڪئي وڄي مھرباني

" وصیت آیت اللہ مرعشی نجفی "" میں وصیت کرتا ہوں واجب نمازوں کے قنوت میں اس عظیم دعا کو پڑھنے کی جسے میں نے اپنے پدر بزرگ...
29/09/2026

" وصیت آیت اللہ مرعشی نجفی "
" میں وصیت کرتا ہوں واجب نمازوں کے قنوت میں اس عظیم دعا کو پڑھنے کی جسے میں نے اپنے پدر بزرگوار اور جمال السالکین شیخ محمد حُسین شیرازی سے اور ان دونوں بزرگوار نے اپنے استاد مصباح السالکین مرحوم سید مرتضیٰ رضوی کشمیری اور انہوں نے اپنے طریقے سے کتاب ( الاقبال ) کے مولف ، اختر تابناک ، سید رضی الدین علی بن طاوٴس حسنی سے روایت کی جو ہمارے معصوم پیشواؤں سے متصل رہے ہیں اور جن کا سلسلہ ہمارے پیشواؤں سے ملتا ہے اور وہ دعا یہ ہے "
" اَللَّهُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ بِحَقِّ فاطِمَةَ وَ اَبیهَا وَ بَعلِهَا وَ بَنیهَا وَ سِرِّالمُستَودَعِ فِیهَا، اَن تُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ اَن تَفعَل بِی مَا أنتَ أهلُه وَ لَاتَفعَل بِی مَا أنَا أهلُه"
" ترجمہ "
" پروردگار میں تجھے جنابِ سیدہؑ اور ان کے پدر گرامی ، ان کے شوہر ، ان کے فرزندوں ، اور اس راز کے قسم دے کر کہتا ہوں جسے تو نے ان میں امانت رکھی ہے کہ محمدؐ و آلِ محمدؐ پر درود بھیج اور میرے ساتھ وہ برتاؤ کر جس کا تو اہل ہے اور وہ سلوک نہ کر جس کا میں اہل ہوں "
" حوالہ " وصیت نامہ آیت اللہ مرعشی نجفی "

2- اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا دَاعِيَ اللَّهِ وَرَبَّانِيَّ آيَاتِهِ۔🌺آپؑ پر سلام ہو! اے خدا کی طرف دعوت دینے والے اور اس ...
24/09/2026

2- اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا دَاعِيَ اللَّهِ وَرَبَّانِيَّ آيَاتِهِ۔🌺

آپؑ پر سلام ہو! اے خدا کی طرف دعوت دینے والے اور اس کے کلام کے نگہبان۔

زیارت آل یٰس

سَلَامٌ عَلٰی اٰلِ یٰسٓ🌸سلام ہو! اولاد پیغمبرﷺ پر🌸🌷 امام صادق علیہ السّلام، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السّلام سے نقل فر...
23/09/2026

سَلَامٌ عَلٰی اٰلِ یٰسٓ🌸
سلام ہو! اولاد پیغمبرﷺ پر🌸

🌷 امام صادق علیہ السّلام، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السّلام سے نقل فرماتے ہیں:
«سَلَامٌ عَلَىٰ آلِ يَاسِينَ»
یعنی یٰسٓ سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ہیں اور ہم آلِ یٰسٓ ہیں۔
📚 معانی الأخبار، باب 57، حدیث 2، ص 122

🌷امام رضا علیہ السلام نے مأمون کے دربار میں علماء کے سامنے آلِ محمدؑ کے فضائل کے ضمن میں اس آیت سے استدلال فرمایا۔
امام رضاؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ اور آلِ محمدؑ کو ایسی فضیلت عطا فرمائی کہ:
اللہ نے انبیاء کے علاوہ کسی پر اس انداز سے سلام نہیں بھیجا۔
پھر فرمایا:
«وَقالَ: سَلامٌ عَلَى آلِ يَاسِينَ، يَعْنِي آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ»
یعنی:«سلامٌ علیٰ آلِ یٰسٓ» فرمایا، یعنی آلِ محمد علیھم السّلام۔
📚 الصدوق، الأمالي میں امام رضاؑ کے مناظرے کے ضمن میں،

🌷شیخ جلیل احمد بن ابو طالب طبرسیؒ نے اپنی گراں قدر کتاب الاحتجاج میں نقل کیا ہے کہ حضرت امام عصر، حجّتِ خدا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی جانب سے محمد بن عبداللہ حمیری کے نام ایک توقیع صادر ہوئی، جس میں مختلف سوالات کے جوابات عطا فرمائے گئے۔
اس توقیع میں امام زمانہؑ نے ارشاد فرمایا:
«فَإِذَا أَرَدْتَ التَّوَجُّهَ بِنَا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَيْنَا فَقُلْ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:
﴿سَلَامٌ عَلَىٰ آلِ يَاسِينَ﴾»
یعنی:
’’جب بھی تم ہمارے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف یا ہماری جانب توجہ کرنا چاہو، تو اسی طرح کہو جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿سَلَامٌ عَلَىٰ آلِ يَاسِينَ﴾
سلام ہو آلِ یٰسٓ پر۔‘‘
📚 الاحتجاج، احمد بن علی الطبرسی، ج 2، ص 316

🌹 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ 🌹

ولادت باسعادت امام حسن العسکری سلام اللہ علیہ کے موقع پر ہم اراکین باب الحوائج موسوی امام بارگاہ پرانا سکھر امام زمانہ ع...
22/09/2026

ولادت باسعادت امام حسن العسکری سلام اللہ علیہ کے موقع پر ہم اراکین باب الحوائج موسوی امام بارگاہ پرانا سکھر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ اور تمام مومنین و مومنات کی خدمت میں تہنیت و تبریک پیش کرتے ہیں۔

تین چیزیں خوشنودی خدا کا سبب ہیں امام محمد تقی علیہ السلام فرماتے ہیں:1️⃣ کثرت سے استغفار کرنا2️⃣ اچھی صحبت3️⃣ کثرت سے ص...
17/09/2026

تین چیزیں خوشنودی خدا کا سبب ہیں
امام محمد تقی علیہ السلام فرماتے ہیں:
1️⃣ کثرت سے استغفار کرنا
2️⃣ اچھی صحبت
3️⃣ کثرت سے صدقہ دینا۔💙🥀
فصول المهمه، ص 274

حضرت ابوطالب علیہ السلام میلاد النبیؐ سے 35 برس قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ کے والد ماجد سید البطحاء ، ساقی الحجیج...
08/09/2026

حضرت ابوطالب علیہ السلام میلاد النبیؐ سے 35 برس قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ کے والد ماجد سید البطحاء ، ساقی الحجیج، حافر زمزم جناب عبدالمطلب علیہ السلام تھے اور والدہ ماجدہ جناب فاطمہ بنت عمرو بن عائد مخزومی تھیں۔ کتب تاریخ میں آپؑ کے دو نام ‘‘ عبد مناف’’ اور ‘‘عمران’’ بیان ہوئے ہیں ۔ آپ ؑ کے بڑے فرزند کا نام طالب تھا اس لئے کنیت ابوطالب قرار پائی اور آپؑ نام سے زیادہ اپنی کنیت سے مشہور ہوئے۔روزِ رحلتِ سرکارِ عمران حضرت ابو طالب علیہ السلام پر امام زمان عجل اللہ فرجہُ اور تمام عالم اسلام کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں ۔

مرجع اعلی آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی(دام ـ ظله) کی نصیحت سے اقتباسانسان کو چاہیے کہ تین کتابوں سے خاص اُنس پیدا کرے...
07/09/2026

مرجع اعلی آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی(دام ـ ظله) کی نصیحت سے اقتباس

انسان کو چاہیے کہ تین کتابوں سے خاص اُنس پیدا کرے اور ان کے ذریعے غور و فکر اور معرفت کا زادِ راہ حاصل کرے۔
📖 `قرآنِ کریم`

📖 `نہج البلاغہ`

📖 `صحیفہ سجادیہ`

وہ ذکر جس کی مرحوم آیت اللہ قاضی رضوان اللہ علیہ اپنے شاگردوں کو سفارش فرمایا کرتے تھے:یہ استغفار محض بخشش طلب کرنے کا ن...
02/09/2026

وہ ذکر جس کی مرحوم آیت اللہ قاضی رضوان اللہ علیہ اپنے شاگردوں کو سفارش فرمایا کرتے تھے:

یہ استغفار محض بخشش طلب کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس ظلم کا اعتراف بھی ہے جو انسان غفلت، گناہ اور اسراف کے ذریعے اپنی ذات پر روا رکھتا ہے۔

«أستغفر الله الذي لا إله إلا هو، من جميع ظلمي وجرمي وإسرافي على نفسي، وأتوب إليه»

ترجمہ:
اے پروردگار! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے تمام ظلم و گناہوں، اپنی غفلتوں اور اپنی جان پر کی جانے والی تمام زیادتیوں سے تیری بارگاہ میں مغفرت کا طلب گار ہوں، اور تیری ہی جانب رجوع کرتا ہوں۔

📖 وسائل الشیعہ، ج ۷، ص ۲۲۵

جس قدر انسان کی معرفت میں اضافہ ہوتا جائے گا، اسی قدر اس کا استغفار بھی گہرا اور حقیقی ہوتا جائے گا۔

🌙 وہ رات عام راتوں جیسی نہ تھی...سیدہ آمنہؑ سے روایت ہے کہ جب رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا وقت قری...
31/08/2026

🌙 وہ رات عام راتوں جیسی نہ تھی...

سیدہ آمنہؑ سے روایت ہے کہ جب رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا وقت قریب آیا تو میں نے ایک سفید پرندے کا پَر دیکھا جو میرے دل پر پھرا، جس سے میرا خوف اور گھبراہٹ دور ہوگئی۔

پھر میرے پاس ایک سفید مشروب لایا گیا۔ مجھے پیاس لگی ہوئی تھی، چنانچہ میں نے اسے نوش کیا تو میرے وجود میں ایک بلند و روشن نور پیدا ہوگیا۔

اس کے بعد میں نے کھجور کے بلند درختوں جیسی قد آور عورتوں کو دیکھا جو مجھ سے گفتگو کر رہی تھیں۔ میں نے ایسی آوازیں اور کلمات سنے جو عام انسانوں کی گفتگو جیسے نہ تھے۔ یہاں تک کہ مجھے سفید ریشم جیسی ایک چیز دکھائی دی جو آسمان و زمین کے درمیان پھیل گئی تھی، اور ایک آواز آئی:

"اسے سب سے معزز لوگوں میں سے لے لو۔"

میں نے ایسے مردوں کو بھی دیکھا جو فضا میں کھڑے تھے اور ان کے ہاتھوں میں آبخورے تھے۔

پھر میں نے مشرق و مغربِ عالم کو دیکھا۔ میں نے ریشم کا ایک پرچم دیکھا جو یاقوت کی ایک چھڑی پر نصب تھا اور خانۂ کعبہ کی پشت کی جانب آسمان و زمین کے درمیان بلند کیا گیا تھا۔

پھر رسولِ خدا ﷺ دنیا میں تشریف لائے، اس حال میں کہ آپؐ اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے۔

میں نے ایک سفید بادل دیکھا جو آسمان سے اتر کر آپؐ کو اپنی لپیٹ میں لے گیا۔ پھر میں نے ایک ندا سنی:

"محمد ﷺ کو مشرق و مغربِ زمین اور تمام سمندروں میں لے جاؤ، تاکہ اہلِ عالم انہیں ان کے نام، اوصاف اور صورت سے پہچان لیں۔"

پھر وہ بادل چھٹ گیا تو میں نے دیکھا کہ رسولِ اکرم ﷺ دودھ کی مانند سفید لباس میں ملبوس ہیں اور اس کے نیچے سبز ریشم ہے۔ آپؐ نے تازہ موتیوں سے بنی ہوئی تین کنجیاں اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی تھیں، اور ایک آواز آئی:

"محمد ﷺ نے نصرت، ہوا اور نبوت کی کنجیاں اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔"

پھر ایک اور بادل آیا اور پہلی مرتبہ سے زیادہ دیر تک آپؐ کو میری نگاہوں سے اوجھل کیے رکھا۔ میں نے آواز سنی:

"محمد ﷺ کو مشرق و مغرب میں لے جاؤ اور انہیں جن و انس، پرندوں اور درندوں کی روحانی مخلوقات کے سامنے پیش کرو۔"

اور انہیں آدمؑ کی پاکیزگی، نوحؑ کی نرمی، ابراہیمؑ کی دوستی، اسماعیلؑ کی فصاحتِ کلام، یوسفؑ کا کمال، یعقوبؑ کی بشارت، داؤدؑ کی خوبصورت آواز، یحییٰؑ کا زہد اور عیسیٰؑ کی سخاوت عطا کرو۔

پھر جب وہ بادل ہٹا تو میں نے دیکھا کہ رسولِ اکرم ﷺ کے ہاتھ میں سفید ریشم کا ایک کپڑا تھا جو بہت مضبوطی سے لپٹا ہوا تھا۔ آپؐ نے اسے اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا اور ایک آواز آئی:

"محمد ﷺ نے پوری دنیا کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے؛ کوئی چیز باقی نہیں رہی مگر یہ کہ وہ آپؐ کی گرفت میں داخل ہوگئی۔"

پھر اچانک تین ایسے افراد ظاہر ہوئے جن کے چہروں سے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سورج طلوع ہو رہا ہو۔

ان میں سے ایک کے ہاتھ میں چاندی کا آبخورہ اور مشک کی خوشبو رکھنے والا برتن تھا۔ دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا ایک طشت تھا جس کے چاروں طرف سفید موتی لگے ہوئے تھے۔

ایک آواز آئی:

"یہ دنیا ہے، اے حبیبِ خدا! اسے اپنے قبضے میں لے لیجیے۔"

پس رسولِ اکرم ﷺ نے اس کے وسط کو اپنے قبضے میں لے لیا، اور ایک آواز آئی:

"آپؐ نے کعبہ کو قبضے میں لے لیا۔"

تیسرے شخص کے ہاتھ میں سفید ریشم کا ایک تہہ کیا ہوا کپڑا تھا۔ اس نے اسے کھولا اور اس میں سے ایک ایسی انگوٹھی نکالی جسے دیکھنے والوں کی آنکھیں حیران رہ جاتی تھیں۔

اس نے آبخورے کے پانی سے رسولِ اکرم ﷺ کو سات مرتبہ غسل دیا، پھر اس انگوٹھی کو آپؐ کے دونوں کندھوں کے درمیان لگایا اور آپؐ کے منہ میں اپنا لعاب ڈالا، جس سے آپؐ نے کلام فرمایا۔ میں آپؐ کے کلمات کو پوری طرح سمجھ نہ سکی، مگر اتنا سنا:

"اللہ کی امان، حفاظت اور نگہبانی میں رہو۔ میں نے تمہارے دل کو ایمان، علم، یقین، عقل اور شجاعت سے بھر دیا ہے۔ تم بہترین انسان ہو۔ خوش بخت ہے وہ جو تمہاری پیروی کرے، اور ہلاکت ہے اس کے لیے جو تم سے پیچھے رہ جائے۔"

پھر آپؐ کو ایک ساعت کے لیے ان فرشتوں کے پروں کے درمیان داخل کیا گیا، اور یہ عمل کرنے والے حضرت رضوانؑ تھے۔

پھر وہ چلے گئے اور رسولِ اکرم ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر کہتے جاتے تھے:

"دنیا و آخرت کی عزت و سربلندی کی بشارت ہو!"

میں نے دیکھا کہ آپؐ کے سرِ مبارک سے ایک ایسا نور بلند ہو رہا تھا جو آسمان تک پہنچ رہا تھا۔

اور میں نے شام کے محلات کو ایسے دیکھا جیسے وہ نور کی شعلہ نما روشنی سے جگمگا رہے ہوں۔

پھر میں نے اپنے گرد قطا نامی پرندوں کی ایک بہت بڑی تعداد دیکھی، جنہوں نے اپنے پَر پھیلا رکھے تھے۔ 💚🌙

📚 حوالہ جات:
📖 مناقب آل أبي طالب، ج ۱، ص ۲۸
📖 روضة الواعظين، ج ۱، ص ۶۸
📖 بحار الأنوار، ج ۱۵، ص ۲۷۲

جشنِ صادقین مبارک! 🌟بسم اللہ الرحمن الرحیماللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَہُمْنورِ حق...
30/08/2026

جشنِ صادقین مبارک! 🌟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَہُمْ
نورِ حق سے جلوہ گر، کائنات سجی ہے
جشنِ صادقین کا سماء، کیا بھلی لگی ہے

آمد سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ (ص) و امام جعفر الصادق (ع) کے پرمسرت موقع پر امام العصر قائم آل محمد ع اور آپ تمام مومنین و مسلمین کی خدمت میں دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

Address

Old Sukkur
Sukkur
65200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imam Bargah Babul Hawaij a.s Old Sukkur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share