31/08/2026
سکھر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھیجے جانے کی شدید مذمت
صحافیوں کی آواز کو نوٹسز کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا، آزادی صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جاوید جتوئی صدر سکھر یونین آف جرنلسٹس
سکھر: سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی، جنرل سیکرٹری کامران شیخ، خازن شہزاد تابانی اور مجلس عاملہ کے تمام عہدیداران نے جنگ جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کی جانب سے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھجوائے جانے کی پرزور اور شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
سکھر یونین آف جرنلسٹس کے رہنماؤں نے اپنے جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ فاضل جمیلی کو قانونی نوٹس بھیجنا دراصل میڈیا ورکرز کے حقوق کی آواز کو دبانے، آزادی صحافت کو پابندِ سلاسل کرنے اور ایک خود مختار ادارے کو دباؤ میں لانے کی ایک مذموم سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں اور قانونی شکنجے کے خوف سے میڈیا ورکرز اور صحافتی قیادت کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
بیان میں اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جو ادارہ خود اپنے مفادات اور بقا کے لیے ماضی میں کراچی پریس کلب کی ڈھال اور تعاون کا محتاج رہا ہو، آج وہی مالکانہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حق و سچ کی آواز اٹھانے والی منتخب قیادت کو نوٹس بھجوا رہا ہے۔ سکھر یونین آف جرنلسٹس نے اس اقدام کو منافقانہ اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی پریس کلب ہمیشہ سے ملک بھر کے صحافیوں کا قلعہ اور ہر فورم پر ان کی آواز رہا ہے۔
سکھر یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداران نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی اور کراچی پریس کلب کی پوری مجلس عاملہ کے ساتھ چٹان کی طرح شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر یہ نام نہاد قانونی نوٹس واپس نہ لیا گیا تو سکھر کے صحافی ملک بھر کی دیگر صحافی تنظیموں، سول سوسائٹی، بار کونسلز اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے ساتھ مل کر احتجاجی لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس ناانصافی کا بھرپور قانونی و جمہوری مقابلہ کیا جائے گا۔
جاری کردہ
کامران شیخ
جنرل سیکریٹری
سکھر یونین آف جرنلسٹس
Karachi Union of Journalists - KUJ