Mehran Ali Shah

Mehran Ali Shah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mehran Ali Shah, Non-Governmental Organization (NGO), Goth Ibrahim Haidari, Sindh.

13/04/2026

Welcome to Discover with Mehran Shah.In this comprehensive and thought-provoking video, we explore one of the most debated and misunderstood questions in mod...

30/03/2025

عبدالرزاق سُجرا (رہنما PMLN) اور مھران علی شاہ (چیئرمین پاکستان فشر فوک فورم) کی جانب سے رمضان المبارک کے موقع پر ابراہیم حیدری کے مستحق افراد میں راشن اور کپڑوں کی تقسیم۔ 🌙✨

19/03/2025

"PPF Chairman shares Maheegir history & their struggle for rights."

سندھ ماہی گیر خواتین دریائے سندھ میں پانی کے بلا تعطل بہاؤ کا مطالبہ کر رہی ہیںکراچی (08 مارچ 2025): شہر کے مختلف علاقوں...
08/03/2025

سندھ ماہی گیر خواتین دریائے سندھ میں پانی کے بلا تعطل بہاؤ کا مطالبہ کر رہی ہیں

کراچی (08 مارچ 2025): شہر کے مختلف علاقوں سے سیکڑوں خواتین ابراہیم حیدری میں جمع ہوئیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دریائے سندھ پر چھ نہروں کی تعمیر کے منصوبے کو منسوخ کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ صرف زرعی زمینوں کی کاشت کا مسئلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔

عالمی یومِ خواتین کے موقع پر پاکستان فشر فوک فورم (PFF) نے سمندر کے قریب خواتین کے حقوق اور خود مختاری کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک سائیکل ریلی کا انعقاد کیا۔ درجنوں نوجوان لڑکیوں نے اس میں شرکت کی، ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے، اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں جاری پانی کی قلت کے خلاف نعرے لگائے۔ خواتین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے دریائے سندھ پر نئی نہریں بنانے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو صورتحال مزید سنگین ہو جائے گی۔

مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے کہا، "پانی کو قدرتی طور پر بہنے دو!" ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قوم اسی وقت ترقی کر سکتی ہے جب اس کی خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فشر فوک فورم کے چیئرمین مہران علی شاہ نے کہا، "پانی ہی ہماری زندگی ہے، دریائے سندھ ہی ہماری زندگی ہے۔ ماہی گیر پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔" انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سندھ کو 1991 کے واٹر ایکارڈ کے مطابق اس کے حصے کا پانی دیا جائے۔

انہوں نے سندھ، خصوصاً ساحلی علاقوں میں پانی کی شدید قلت کی سنگین صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہزاروں لوگ اپنے آبائی گاؤں چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ "ہمارے لوگ خطرے میں ہیں، ہماری ثقافت خطرے میں ہے،" انہوں نے خبردار کیا۔ مہران علی شاہ نے مزید کہا کہ ماضی میں بنائے گئے ڈیموں نے پہلے ہی سندھ کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے، اور اب نہروں کا نیا منصوبہ بحران کو مزید شدید کر دے گا۔

08 مارچ عالمی یوم خواتین" خواتین کی طاقت کی آواز میں سندھو کی لہریں بنیں ، جو کبھی نہ رک پائیں                          ...
07/03/2025

08 مارچ عالمی یوم خواتین

" خواتین کی طاقت کی آواز میں سندھو کی لہریں بنیں ، جو کبھی نہ رک پائیں

دعوت نامه

اسلام علیکم

دنیا بھر میں 8 مارچ عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے، تا کہ سماج میں موجود صنفی فرق کو ختم کیا جاسکے ۔ ایک ہی دن عالمی یوم خواتین منانے کا خیال 1910ء میں جرمنی سے تعلق رکھنے والی خاتون " کلار از یکن " نے دیا تھا۔ 1975 ء جو کہ عالمی یوم خواتین کا سال تھا، اسی سال یو نائیٹڈ نیشن کی طرف سے 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کے طور پر مناناشروع کیا گیا۔ یہ دن اس لیئے منایا جاتا ہے تا کہ جنسی مساوات کو قائم کیا جاسکے ، یعنی وہ حقوق جو مردوں کو با آسانی حاصل ہیں عورتوں کو بھی انہیں دلایا جاسکے۔

پاکستان فشر فوک فورم نے اپنے روز بنیاد سے 08 مارچ عالمی یوم خواتین منانے کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہے۔ اس سال 08 مارچ عالمی یوم خواتین " خواتین کی طاقت کی آواز میں سندھو کی لہریں ہیں ، جو کبھی نہ رک پائیں " کے زیر عنوان منا یا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان فشر فوک فورم کی طرف سے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ایک پروگرام مارچ 08 ، 2025، صبح 11 بجے سے دوپہر 12 بجے تک ترتیب دیا جا جارہا رہا ہے، جس میں صبح 11 بجے خواتین سائیکل ریلی ہوگی، دریاء میں پھول ڈالے جائیں گے ، خواتین کے حقوق پر بات چیت ، وغیرہ شامل ہیں۔

اس سلسلے میں آپ سے ساتھیوں سمیت اس پروگرام میں بھر پور شرکت کی گزارش کی جاتی ہے۔

شکریہ
مهران علی شاہ
چیئر مین - پاکستان فشر فوک فورم

14/02/2025

سندھ حکومت کی غفلت سے مینگروو جنگلات کی تباہی: سندھ سرکار اہم ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں ناکام

مھران علی شاہ

پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی جانب سے کی گئی ایک سخت ماحولیاتی آڈٹ رپورٹ میں سندھ کی پیپلز پارٹی (PPP) کی زیرقیادت حکومت پر صوبے کے مینگروو جنگلات کے تحفظ اور بحالی میں شدید غفلت کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ رپورٹ، جو 2011-12 سے 2016-17 تک کے دور کا احاطہ کرتی ہے، ان اہم منصوبوں کے ناکام نفاذ کو بے نقاب کرتی ہے جو ساحلی کمیونٹیز کی حفاظت، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے، اور سمندری حیاتیات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والے ان مینگروو جنگلات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے۔ مینگروو محض درخت نہیں؛ یہ ساحلی ماحولیاتی نظام کی جان ہیں۔ یہ جنگلات سونامی، سمندری طوفانوں، اور سمندر کے بڑھتے پانی کے خلاف قدرتی رکاوٹ کا کام کرتے ہیں، جبکہ سمندری حیات کے لیے پناہ گاہ اور ہزاروں ساحلی باشندوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہیں۔ ان کی ماحولیاتی اور معاشی اہمیت کے باوجود، سندھ کے مینگروو جنگلات (خاص طور پر انڈس ڈیلٹا میں) بدانتظامی، نگرانی کی کمی، اور حکومتی ترجیحات میں ان کے تحفظ کو نظرانداز کیے جانے کے باعث تباہی کے دہانے پر ہیں۔ ماحولیاتی آڈٹ رپورٹ میں کئی تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں جو مینگروو کے تحفظ کے تئیں سندھ حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دو بڑے منصوبے، "انڈس ڈیلٹا میں سمندری مداخلت کو روکنے کے لیے مینگروو جنگلات کی بحالی، ترقی اور انتظام" اور "انڈس ڈیلٹا میں سمندری مداخلت کو کم کرنے میں مینگروو کا ممکنہ کردار"، جن کا کل بجٹ 1.3 ارب روپے سے زیادہ تھا، اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان منصوبوں میں تاخیر، بدانتظامی، اور مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ واضح ہدایات اور ٹائم لائن کے باوجود، سندھ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ مینگروو کی شجرکاری اور حیاتیاتی بحالی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ مثال کے طور پر، 11,905 ہیکٹرز پر شجرکاری کا ہدف 2016-17 تک صرف 8,705 ہیکٹرز تک پہنچ پایا۔ آڈٹ میں بے جا اخراجات اور بغیر جواز ادائیگیوں کا انکشاف ہوا۔ ایک واقعے میں 48.452 ملین روپے ایسے کاموں پر خرچ کیے گئے جو منصوبے کے اہداف میں شامل ہی نہیں تھے۔ نگرانی کا فقدان منصوبوں میں مؤثر مانیٹرنگ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے مینگروو کی بحالی کے اثرات کا جائزہ لینے والا کوئی تیسرا فریق موجود نہیں تھا۔ اہلکاروں کی کمی فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے ضروری عملہ (جیسے GIS ماہرین، فاریسٹ آفیسرز) کی تعیناتی نہیں کی، جس سے منصوبوں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ تحقیق کو نظرانداز کرنا مینگروو کے ماحول کو سمجھنے کے لیے مختص ریسرچ فنڈز استعمال نہیں کیے گئے، جس سے مسائل کے حل کی سائنسی حکمت عملی نہ بن سکی۔ آڈٹ رپورٹ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے ماحولیاتی تحفظ کے وعدوں پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود، حکومت نے مینگروو کے تحفظ کو ترجیح نہیں دی، جبکہ یہ جنگلات صوبے کی معیشت اور ماحول کے لیے اہم ہیں۔ سیاسی کمزوری اور بیوروکریٹک نااہلی نے ان جنگلات کی تباہی کو تیز کیا ہے۔ رپورٹ میں سندھ حکومت کو فوری اقدامات کی تجاویز دی گئی ہیں، جن میں مستقل نگرانی کا نظام، اہلکاروں کی بھرتی، اور مینگروو پر انحصار کرنے والوں کے لیے متبادل روزگار شامل ہیں۔ تاہم، یہ سفارشات اس وقت تک بے اثر ہیں جب تک حکومت سنجیدگی سے کام نہیں کرتی۔ سندھ کے مینگروو جنگلات کی تباہی صرف ماحولیاتی المیہ نہیں، بلکہ حکومتی کوتاہیوں کا آئینہ دار ہے۔ سندھ سرکارکو چاہیے کہ فوری طور پر ان جنگلات کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ اگر یہ تباہی جاری رہی، تو نہ صرف ماحول بلکہ سندھ کے لاکھوں ساحلی باشندوں کی بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ وقت excuses کا نہیں، عمل کا ہے!

13/02/2025

مچھیرے: سرحدوں کے قیدی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی

مھران علی شاہ

کڑکتی دوپہر میں جب سمندر کی لہریں اپنی آواز بلند کرتی ہیں، تو پاکستان اور بھارت کے مچھیرے اپنی بقا کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے ایک پاکستانی کشتی پر دھاوا بول کر مچھیروں کو گرفتار کر لیا۔ ان مچھیروں پر الزام ہے کہ وہ بھارت کی سمندری حدود میں غیرقانونی طور پر داخل ہوئے، جبکہ مچھیروں کا اصرار ہے کہ رات کے اندھیرے اور سمندر کی بےرحم لہروں میں سرحدوں کا تعین ناممکن تھا۔
شام ڈھلتے ہی بھارتی بارڈر فورسز نے ہوائی فائرنگ کے ذریعے مچھیروں کی کشتیوں کو گھیر لیا۔ گرفتاری کے دوران ایک مچھیرے نے کہا، سمندر کے پانی میں نہ لکیریں ہیں نہ دیواریں۔ ہمارے آباؤ اجداد نے اسی سمندر کو وطن جانا ہے۔ تاہم، بھارتی میجر کے مطابق، یہ جاسوس ہیں اور سازش کر رہے تھے۔ مچھیروں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر جیل میں ڈال دیا گیا، جہاں وہ "قومی سلامتی" کے نام پر سالوں تک قید رہ سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کی جیلوں میں اس وقت سیکڑوں مچھیرے بغیر کسی جرم کے قید ہیں۔ 1999 کے سائکلون کے دوران بھٹک کر بھارت پہنچنے والے چار پاکستانی مچھیروں کو جعلی اسلحہ کیس میں عمر قید دی گئی، جبکہ ایک کی موت کے بعد بھی تین کو رہا نہیں کیا گیا۔ یہ سلوک اقوام متحدہ کے کنونشن آن دی لاء آف دی سی(UNCLOS) کے آرٹیکل 73 کے برعکس ہے، جس کے تحت ماہی گیری کے دوران سرحد پار کرنے والوں کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک نے یہ کنونشن تو منظور کیا، لیکن عملاً اس کی خلاف ورزی جاری ہے۔
1947 سے پہلے یہ خطہ ایک تھا، مگر تقسیم کے بعد سرحدوں نے نہ صرف زمین بلکہ سمندر کو بھی بانٹ دیا۔ مچھیرے، جو کبھی مشترکہ ثقافت کا حصہ تھے، اب "قومی دشمن" بن گئے ہیں۔ دونوں طرف کے حکام کا کہنا ہے کہ سمندری حدود کا تحفظ ضروری ہے، مگر اس کے نام پر مچھیروں کو تشدد، جبری مشقت اور قید کی صعوبتیں جھیلنی پڑتی ہیں۔ جیلوں میں قید مچھیرے نہ صرف اپنی آزادی بلکہ اپنی شناخت تک کھو دیتے ہیں۔ پاکستانی جیلوں میں 217 بھارتی، جبکہ بھارتی جیلوں میں 81 پاکستانی مچھیرے قید ہیں۔ ان میں معصوم بچے بھی شامل ہیں، جو کسی عدالتی کارروائی کے بغیر سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
انسانیت کے دامن پر لگے اس داغ کو مٹانے کے لیے بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ وہ UNCLOS کے آرٹیکل 73 کو نافذ کرنے پر زور دیں۔ مچھیروں کی بےگناہی اور سمندر کی بےقصور لہروں کو سیاست کے ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔ آخرکار، جس سمندر میں مچھلیوں کے لیے کوئی سرحد نہیں، وہاں انسانیت کی سرحدیں کیوں؟


12/02/2025

دریائے سندھ کے حقوق کا قانون ایک نامکمل خواب، ماحولیاتی تحفظ پر عملدرآمد کی جدوجہد

مہران علی شاہ

2019 میں، پاکستان فشر فوک فورم نے ماحولیاتی تحفظ کی طرف ایک بڑا قدم اٹھایا اور دریائے سندھ کے حقوق کا قانون"Indus River Rights Act"
تیار کیا تھا۔ یہ ایک انقلابی قانون تھا جس کا مقصد دریائے سندھ کو ایک زندہ وجودکے طور پر تسلیم کرنا تھا، جس کے بنیادی حقوق ہوں، جیسے آزادانہ بہاؤ، آلودگی سے پاک ماحول، اور بحالی کا حق۔ لیکن تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود، اس قانون پر عمل نہیں کیا گیا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت واقعی ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے؟ اور کیا پاکستان کے آبی وسائل کا مستقبل محفوظ ہے؟ یہ قانون اس لیے بنایا گیا تھا کیونکہ دریائے سندھ شدید ماحولیاتی مسائل کا شکار ہے۔ جنگلات کی کٹائی، صنعتی آلودگی، زہریلا زرعی پانی اور حد سے زیادہ پانی کے استعمال کی وجہ سے دریا کی صحت خراب ہو رہی ہے۔ یہ قانون دریائے سندھ کے حقوق کو قانونی حیثیت دے کر حکومت اور نجی اداروں کو اس کی حفاظت کا پابند بناتا۔ قانون کے مطابق دریا کے لیے ایک "قانونی سرپرست" مقرر کیا جانا تھا جو عدالتوں اور حکومتی اداروں میں دریا کے حقوق کی نمائندگی کرتا۔ اس کی مثال دنیا کے دیگر ممالک سے لی گئی، جیسے نیوزی لینڈ میں وانگانوی دریا کو قانونی شخصیت دی گئی اور ایکواڈور میں قدرتی وسائل کے حقوق کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔اس قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں پاکستان کو معاشی بحران، توانائی کے مسائل اور سیاسی عدم استحکام جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں ماحولیاتی مسائل اکثر پس پشت چلے جاتے ہیں۔ حکومت کے لیے یہ قانون شاید کم ترجیح رکھتا ہو۔ یہ قانون صنعتوں، زراعت اور پن بجلی منصوبوں پر سخت پابندیاں لگاتا ہے تاکہ وہ دریا کو آلودہ نہ کریں اور اس کا پانی کم استعمال کریں۔ لیکن چونکہ یہ شعبے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، وہ اس قانون کی مخالفت کر سکتے ہیں کیونکہ اس سے ان کا منافع کم ہو سکتا ہے۔ اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے نئی سرکاری تنظیمیں بنانی ہوں گی، جیسے دریائے سندھ کا قانونی سرپرست ادارہ۔ اس کے علاوہ، دریا کی صحت کی نگرانی کے لیے واضح اصول بھی بنانے ہوں گے۔ یہ سب کچھ وقت، رقم اور سیاسی ہم آہنگی کا تقاضا کرتا ہے، جو اس وقت مشکل نظر آتا ہے۔ اگرچہ ماحولیاتی کارکن اور کچھ مقامی کمیونٹیز اس قانون کے حق میں ہیں، لیکن عوام کی بڑی تعداد کو اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔ جب تک عام لوگ اس کی حمایت نہیں کریں گے، حکومت پر دباؤ نہیں پڑے گا۔ پاکستان کی توانائی کا بڑا حصہ ہائیڈرو پاور یعنی پانی سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں پر منحصر ہے۔ یہ قانون نئے ڈیم بنانے پر پابندی لگاتا ہے اور بعض غیر ضروری ڈیموں کو ختم کرنے کا کہتا ہے، جو حکومت کی توانائی پالیسی سے متصادم ہو سکتا ہے۔ اگر یہ قانون نافذ نہیں ہوتا، تو اس کے منفی نتائج پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ دریائے سندھ پاکستان کے لیے ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ زراعت کے لیے سب سے اہم ذریعہ ہے لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرتا ہے جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظام کے لیے اہم ہے ۔سندھ کے ساحلی علاقوں میں سمندر کا بڑھتا ہوا دائرہ کار، دریائے سندھ کے پانی کی کمی، اور انسانی لاپرواہی نے انڈس ڈیلٹا کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، گزشتہ صدی میں نہری نظام اور ڈیموں کی تعمیر نے دریائے سندھ کی رگوں کو سوکھنے پر مجبور کر دیا، جس کے نتیجے میں سمندر نے 35 لاکھ ایکڑ زرعی زمین نگل لی اور ہزاروں گاؤں ویران ہو گئے۔ 1890 میں پنجاب میں نہری نظام کی تعمیر کے بعد سے ہی انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی شروع ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ پر بیراجوں اور ڈیموں کی تعمیر نے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ 1991 میں ڈاؤن سٹریم کوٹری میں 30 ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑنے کا فیصلہ ہوا، مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ نتیجتاً، ڈیلٹا کی زمینیں بنجر ہو گئیں اور سمندر نے آگے بڑھ کر کھارو چھان جیسے قصبے کو نگل لیا۔ 1979 اور 2015 کی سیٹلائیٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندر نے بڑے پیمانے پر زمین کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ دریائے سندھ کا پانی اور ریت نہ آنے کی وجہ سے سمندر کا کٹاؤ بڑھ گیا، جس سے کھاڑیاں 2 کلومیٹر سے 4 کلومیٹر تک پھیل گئی ہیں۔ ٹھٹہ اور بدین کے علاقوں میں ہزاروں ماہی گیر اپنا روزگار کھو چکے ہیں، جبکہ کاشت کاری کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ سجن واری گوٹھ میں پہلے یہاں میٹھے پانی کی ندی تھی، اب کھارا پانی ہر طرف پھیل گیا ہے۔ لوگوں کو پینے کے لیے ٹینکر منگوانا پڑتا ہے، جانور پالنے کے لیے پانی نہیں۔ مہمانوں کو خشک دودھ کی چائے پلانا پڑتی ہے۔" ماہی گیر کہتے ہیں، "گہرے سمندر میں بڑے ٹرالر مچھلیاں لے جاتے ہیں، ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا۔" پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ محروم محمد علی شاہ کا کہنا تھا، "1986 تک یہاں پھل اور گندم کے کھیت تھے، مگر اب سب کچھ ختم ہو چکا۔ سمندر کی پیش قدمی نے نہ صرف معیشت بلکہ اگر پانی کا بہاؤ برقرار نہ رکھا گیا تو 2050 تک ثقافت اور جنگلی حیات کو بھی تباہ کردیا۔ ارضیاتی ماہرین "geologist "کے مطابق کراچی بھی سمندر کی نذر ہو سکتا ہے اور دریا کی تباہی یونہی جاری رہی، تو یہ مستقبل میں پانی کے بحران، ماحولیاتی تباہی، اور صحت کے
کی ذمعداریاں بھی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ، پاکستان اپنی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان اپنی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف SDGs پوری نہیں کر پائے گا۔ یہ قانون پاکستان کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔ اس پر عملدرآمد ہونے سے نہ صرف دریائے سندھ کی بقا ممکن ہوگی، بلکہ یہ ایک عالمی مثال بھی قائم کرے گا کہ قدرتی وسائل کو قانونی حقوق کیسے دیے جا سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قانون کو فوری طور پر نافذ کرے اور اس کے لیے مناسب بجٹ اور ادارے قائم کرے۔ ماحولیاتی تنظیموں، سول سوسائٹی اور عوام کو اس قانون کے بارے میں آگاہی بڑھانی چاہیے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ میڈیا کو اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ عام لوگ بھی اس کے تحفظ کی مہم میں شامل ہوں۔ دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں، بلکہ پاکستان کی ثقافت، معیشت، اور قدرتی ورثے کی علامت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس دریا سے فائدہ اٹھائیں، تو ہمیں اس کے حقوق کی حفاظت کرنی ہوگی۔ دریائے سندھ کے حقوق کا قانون اس کے تحفظ کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ اب سوال یہ ہے: کیا ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے؟

02/11/2024

ماهيگيرن جا بنيادي مسئلا حل نه ٿيڻ سنڌ سميت بدين ۾ ڊنڊن ڊورن تي بااثرن پاران قبضا ڪرڻ خلاف ۽ وفاقي حڪومت پاران ڇھ نوان ڪينال ڪڍڻ ڻ خلاف سيد مھراڻ شاه ۽ سيده ياسمين شاه جي اڳواڻي ۾ ھزارين ماهيگيرن مردن عورتن پاران شھيد بينظير چوڪ کان بدين پريس ڪلب تائين ريلي ڪڍي سخت احتجاج ڪيو ويو.

ماهيگيرن جا بنيادي مسئلا حل نه ٿيڻ سنڌ سميت بدين ۾ ڊنڊن ڊورن تي بااثرن پاران قبضا ڪرڻ خلاف ۽ وفاقي حڪومت پاران ڇھ نوان ڪ...
02/11/2024

ماهيگيرن جا بنيادي مسئلا حل نه ٿيڻ سنڌ سميت بدين ۾ ڊنڊن ڊورن تي بااثرن پاران قبضا ڪرڻ خلاف ۽ وفاقي حڪومت پاران ڇھ نوان ڪينال ڪڍڻ ڻ خلاف سيد مھراڻ شاه ۽ سيده ياسمين شاه جي اڳواڻي ۾ ھزارين ماهيگيرن مردن عورتن پاران شھيد بينظير چوڪ کان بدين پريس ڪلب تائين ريلي ڪڍي سخت احتجاج ڪيو ويو.

Address

Goth Ibrahim Haidari
Sindh

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mehran Ali Shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Mehran Ali Shah:

Share