گوشۂ ادب

گوشۂ ادب اردو ادب

اردو زبان پر مشتمل ادب اردو ادب کہلاتا ہے جو نثر اور شاعری پرمشتمل ہے۔ نثری اصناف میں ناول، افسانہ، داستان، انشائیہ، مکتوب نگاری اور سفر نامہ شامل ہیں۔ جب کہ شاعری میں غزل، رباعی، نظم، مرثیہ، قصیدہ اور مثنوی ہیں۔ اردو ادب میں نثری ادب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ شعری ادب، لیکن غزل اور نظم سے ہی اردو ادب کی شان بڑھی ایسا سمجھا جاتا ہے۔ اردو ادب پاکستان میں مقبول ہے، بھارت میں مشہور ہے اور افغانستان میں بھی سمجھا اور پڑھا جاتا ہے۔

03/12/2025

Celebrating my 7th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

14/07/2025
عشق کیوں ہوتا ھے ؟؟ایک بار حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ سے کسی نے پوچھا عشق کیوں ہوتا ھے؟کسی انسان کو کوئی انسان اتنا اچ...
14/07/2025

عشق کیوں ہوتا ھے ؟؟
ایک بار حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ سے کسی نے پوچھا عشق کیوں ہوتا ھے؟
کسی انسان کو کوئی انسان اتنا اچھا کیوں لگتا ھے کہ اسکے سامنے ساری کائنات کچھ نہیں لگتی؟
امام جعفر صادق رضی اللہ نے جواب دیا میں نے اپنے بابا سے اور انہوں نے اپنے بابا سے اور انہوں نے اپنے بابا سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا ہر انسان کے اندر الله تعالى کی کوئی نہ کوئی صفت ضرور موجود ہوتی ھے
کوئی رحم دل ہوتا ھے کوئی سخی ہوتا ھے تو کوئ عادل ہوتا ھے کوئی شجاع ہوتا ھے
انسان اپنے اندر پائے جانے والے اوصاف کی خوشبو کسی دوسرے میں محسوس کرتا ھے تو اسکی طرف مائل ہونا شروع ہوجاتا ھے اور اس سے بات کرنا اسے دیکھنا اور اس سے ملنا اسے اچھا لگتا ھے اسے یہ لگتا ھے یہ میرا اور میں اسکا ہوں دراصل وہ خود کو اس میں اور اپنے آپ میں اسکو دیکھتا ھے۔
اور ہر جگہ اسکی کمی کو محسوس کرتا ھے اور وہ چاہتا ھے کہ وہ ہر پل مجھ سے راضی رھے اسی کیفیت کو زمانے والے عشق کہتے ہیں

20/12/2024

سوال:
جو بندہ خود ڈپریشن میں ہو وہ دوسروں کی ڈپریشن کیسے
دور کر سکتا ہے؟

جواب:-

""آپ دوسرے شخص کو Company دو، ''
اس کو اپنا ساتھ دو ۔""

"" مثلاً آپ کو کوئی کارڈ دیتا ہے تو آپ ضرور جائیں ۔ ""

" جس دن اس نے کارڈ دیئے تھے
تو سارے آدمی خوش نہیں تھے
مگر وہ فنکشن میں شریک ہوتے ہیں ۔""

"تو عام طور پر جو لوگ آپ کے فنکشن میں آنے کے قابل نہیں ہوتے مگر خوشی میں شامل ہونا ان کا کام تھا ۔""

"" آپ بھی لوگوں کی خوشی میں شریک ہو جائیں ۔ ""
""اس طرح ان کی ڈپریشن دور ہو جائے گی ۔""

" اگر کوئی ڈپریشن میں ہے اور اس کا پرانا ساتھی آ جائے"
" تو ڈپریشن کم ہو جاتی ہے ۔ "

""اگر آپ ڈپریشن میں جا رہے ہوں
اور کوئی پرانا فیورٹ گانا سنائی دے"
تو ڈپریشن کم ہو جائے گی ۔""

"" کوئی پرانا منظر نگاہوں میں آ جائے""
" تو ڈپریشن کم ہو جائے گی ۔

""اس لیے زندگی میں کسی کو فائدہ پہنچاؤ ""
""تو اس کی دعا سے ڈپریشن کم ہو جائے گی ۔ ""

"" ڈپریشن کو تحفظ نہ دو
بلکہ اس کو ختم کرنے کے لئے Struggle کرو ۔""

"" اگر آپ تنہائی میں کمرے میں چلے جائیں
"" تو ڈپریشن Down ہو جائے گی ۔

""ڈپریشن میں اللّٰہ کے حضور سجدہ کیا کرو ، "
اور دعا کیا کرو کہ
"یااللہ تو ہی طوفان سے نجات دینے والا ہے،
" تُو ہی مچھلی کے پیٹ سے نکالنے والا ہے،

"تُو ہی یوسف علیہ السلام کو کنوئیں سے نکالنے والا ہے،

تُو ہی قیدیوں کو آزاد کرتا ہے،

""تُو ہی پوری کائنات کا مالک ہے،
""تُو مجھے اس مصیبت سے نجات دے
" جو مجھ پر میری وجہ سے آئی ہے ۔

"" ""تو اس طرح کا والہانہ سجدہ ضرور کیا کرو۔""""

"" وہی ایک آخری سہارا ہے۔"""

"" باقی سب سہارے جھوٹے ہیں""
"" اور ساری وفائیں بے وفا ہو جاتی ہیں۔""

"" دنیا والے تو جھکے ہوئے سر کو بھی نہیں مانتے
""اور ڈپریشن دیتے رہتے ہیں۔

"" انسان کے وجود کو کوئی قبول نہیں کرتا۔""

"" وہ ایسا مالک ہے کہ جس نے انسان کو تنہائی میں بھی کبھی نہیں چھوڑا ، ""

""اور پریشان شخص کی بات بڑی سنتا ہے۔""

"" اس طرح آپ کو اللّٰہ تعالیٰ اپنی Company دے دے گا""
"" اور آپ کی ڈپریشن دور ہو جائے گی۔

اس لئے آپ تنہائی کے سجدے میں وفاداری اور تابعداری سے یہ دعا مانگو کہ:-

یااللّٰہ !
""اے آگ کو گلزار بنانے والے،
'"اس ڈپریشن کی آگ سے مجھے بچا۔

""اے پانیوں میں راستے بنا دینے والے!
""مجھے اس عذاب سے اور اس سیلاب سے بچا!

""ڈپریشن ایک ایسا سیلاب ہے جو غرق کر دیتا ہے
""اور ایک ایسا ریگستان ہے جو جلا دیتا ہے۔

"" انسان کبھی صحرا میں جلتا ہے
""اور کبھی دریا میں ڈوبتا ہے،

دونوں صورتوں میں ڈپریشن ہے۔

" دوست دھوکہ دے جائے تب بھی ڈپریشن ہے۔""

"" اس لئے آپ تلاوت کرنا شروع کر دو
"" تو ڈپریشن ختم ہو جائے گی،

"" درود شریف پڑھنا شروع کر دو
""تو ڈپریشن ختم ہو جائے گی،

""اللہ کے آگے Surrender کر دو
""تو ڈپریشن ختم ہو جائے گی !!!

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
( گفتگو 5/ صفحہ نمبر 44)

15/12/2024

‏لوگوں کے عیبوں پر پردہ رکھنا خدائی صفت ہے....

‏جو لوگ دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں اور رازوں کو راز رکھتے ہیں اللہ پاک انکی شخصیت میں اک عجیب سی کشش پیدا کردیتا ہے کہ ہر ملنے والا شخص ان سے مرعوب ہوجاتا ہے!!

13/12/2024

‏آئیں ڈاکٹروں کے بغیر زندہ رھنے کی کوشش کریں مگر کیسے ؟
اسلامک میڈیکل سائنس
قرآن بتاتا ھے
انسانی صحت کا راز قرآن کی 3 آیات میں
انسانی تاریخ کی سب سے سنسنی خیز تحقیق جسے پڑھ کر ہم ہر بیماری سے بچ سکتے ہیں
مصر کے ڈاکٹر عماد فہمی جو کہ ایک ماہر غذائیات (Nuitritionist) اور موٹاپے‏کے معالج Bariatric consultant ہیں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ بتایا کہ انسانی صحت کا راز قرآن کی تین آیات میں پنہاں ہے:

1۔ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۝۰ۚ (الاعراف آیت 31) ترجمہ: کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔
اس کی تشریح میں ڈاکٹر فہمی کہتے ہیں کہ اکثر‏ڈاکٹر نشاستہ (carbohydrates) اور چکنائی ( fats) سے منع کرتے ہیں حالانکہ یہ دونوں چیزیں انسانی صحت کے لئے بنیادی ( اہمیت کی حامل ہیں۔
اصل چیز جس سے منع کیا جانا چاہئے، وہ حد سے تجاوز ہے.

2۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ (الانبياء آیت 30) ترجمہ: اور پانی سے ہر زندہ چیز‏پیدا کی۔ پیاس لگے یا نہ لگے پانی ضرور پیجئے۔ طبی معیار کے مطابق ہر شخص اپنے وزن کے ہر ایک کلو پر 30 ملی گرام پانی پیئے۔ مثلاً اگر کسی کا 70 کلو وزن ہو تو وہ 70 × 30 یعنی 2100 ملی گرام یعنی 2 لیٹر اور 100 گرام (تقریباً) 8 گلاس پانی روزانہ پیئے۔
یہ جگر، گردوں اور دل کی اچھی کاکردگی‏کے لئے بہت ضروری ہے۔

3) وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا۝۱۰ۙ وَّجَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا۝۱۱ (النباء آیت 10-11) ترجمہ: اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا۔

ڈاکٹر فہمی کہتے ہیں کہ رات کو جلدی سویا جائے اور صبح جلدی اٹھا جائے۔ یہ سب سے بہترین نسخہ ہے جو‏آپ کو نہ موٹا کرے گا اور نہ بیمار کرے گا۔۔۔
اسلامی طرز پہ زندگی گزارتے ہوئے اپنے جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھے۔

جزاک اللّہ خیر کثیرا

12/12/2024

دن کا ایک گھنٹہ اپنے لیے ضرور نکالیں...گھر کی چھت پر بیٹھیں...لوگوں کے مکان دیکھیں...آسمان میں اڑتے پرندے دیکھیں...کافی یا چائے کا کپ..دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حرارت محسوس کریں.
اپنے لیے وقت نکالیں...اپنے آپ کو انا سے ہٹا کر اہمیت دیں..زندگی کی تلخیوں کو چائے کی چسکیوں کے ساتھ ختم کریں...!!
اور اگر پھر بھی سکون نا آئے...تو اس خالی کپ کو دیکھیے...جس طرح اس کپ میں دوبارہ چائے بھرنے کی گنجائش ہے اسی طرح آپکے اندر بھی زندگی اور خوشی بھرنے کی گنجائش باقی ہے..!
اپنے اندر کی خالی جگہوں کو پُر کرنا سیکھیے....

11/12/2024

*مطالعہ سے کیا ملتا ہے؟*
۔۔۔مطالعہ انسان کے لئے اخلاق کا معیار ہے۔ *(ڈاکٹر اقبال)*
۔۔۔ بری صحبت سے تنہائی اچھی ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مطالعے کی ضرورت ہے۔ *(امام غزالی)*
۔۔۔ تیل کے لئے پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں کے پاس کھڑے ہوکر کتاب کا مطالعہ کرتا تھا۔ *(حکیم ابو نصر فارابی)*
۔۔۔ورزش سے جسم مضبوط ہوتا ہے اور مطالعے کی دماغ کے لئے وہی اہمیت ہے جو ورزش کی جسم کے لئے۔ *(ایڈیسن)*
۔۔۔ مطالعہ سے انسان کی تکمیل ہوتی ہے۔ *(بیکن)*
۔۔۔مطالعے کی عادت اختیار کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے گویا دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ تیار کرلی ہے۔
*(سمر سٹ ماہم)*
۔۔۔ تین دن بغیر مطالعہ گزار لینے کے بعد چوتھے روز گفتگو میں پھیکا پن آجاتا ہے۔
*(چینی ضرب المثل)*
۔۔۔انسان قدرتی مناظر اور کتابوں کے مطالعے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ *(سسرو)*
۔۔۔مطالعے کی بدولت ایک طرف تمہاری معلومات میں اضافہ ہوگا اوردوسری طرف تمہاری شخصیت دلچسپ بن جائے گی۔ *(وائٹی)*
۔۔۔دماغ کے لئے مطالعے کی وہی اہمیت ہے جو کنول کے لئے پانی کی۔ *(تلسی داس)*
۔۔۔مطالعہ کسی سے اختلاف کرنے یا فصیح زبان میں گفتگو کرنے کی غرض سے نہ کرو بلکہ ’’تولنے‘‘ اور ’’سوچنے‘‘ کی خاطر کرو۔ *(بیکن)*
۔۔۔جس طرح کئی قسم کے بیج کی کاشت کرنے سے زمین زرخیز ہو جاتی ہے، اسی طرح مختلف عنوانات پر کتابوں اور رسالوں وغیرہ کا مطالعہ انسان کے دماغ کو منور بنادیتا ہے۔ *(ملٹن)*
۔۔۔ جو نوجوان ایمانداری سے کچھ وقت مطالعے میں صرف کرتا ہے، تو اسے اپنے نتائج کے بارے میں بالکل متفکر نہ ہونا چاہئے۔ *( ولیم جیمز)*
۔۔۔ مطالعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب وتدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ *(بیکن)
۔۔۔وہ شخص نہایت ہی خوش نصیب ہے جس کو مطالعہ کا شوق ہے، لیکن جو فحش کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اس سے وہ شخص اچھا ہے جس کو مطالعہ کا شوق نہیں. *(میکالے)*
۔۔۔مطالعہ ذہن کو جلا دینے کے لئے اوراس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ *(شیلے)*
*۔۔۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ کتابوں کے مطالعہ نے انسان کے مستقبل کو سنوار دیا*

09/12/2024

*موبائل نہ رکھنے والی ماں چاہیے*
سوچنے پر مجبور کرنے والا واقعہ۔۔۔
پانچویں جماعت کے طلباء سے بات کرنے کے بعد، استاد نے انہیں ایک مضمون لکھنے کو کہا کہ انہیں کیسی *"ماں پسند ہے"؟*
سب نے اپنی ماں کی کتنی تعریف کی، اور اس پر مضمون لکھا۔ لیکن ایک بچے نے مضمون کے عنوان میں لکھا:
"آف لائن ماں"

*مجھے "ماں" چاہیے، لیکن مجھے آف لائن چاہیے۔ مجھے اَن پڑھ ماں چاہیے، جو "موبائل" استعمال نہ کرتی ہو، لیکن جو میرے ساتھ کہیں بھی جانے کے لیے تیار اور پُرجوش ہو۔** مجھے ایسی ماں چاہیے جو بچے کی طرح مجھے گود میں سر رکھ کر سلائے۔*
*مجھے "ماں" چاہیے، لیکن "آف لائن"۔*

*اس کے پاس "میرے اور میرے پاپا کے لیے" موبائل" سے زیادہ وقت ہونا چاہیے۔*

*آف لائن "ماں" ہوگی تو پاپا سے جھگڑا نہیں ہوگا۔ جب میں شام کو سونے جاؤں گا، تو وہ مجھے ویڈیو گیم کھیلنے کے بجائے ایک کہانی سنائے گی اور سلائے گی۔*

*ماں، آن لائن پیزا آرڈر نہ کرو۔ گھر میں کچھ بھی بنا لو؛ پاپا اور میں مزے سے کھا لیں گے۔ مجھے بس آف لائن "ماں" چاہیے۔*

*اتنا پڑھنے کے بعد پوری کلاس میں مانیٹر کے رونے کی آواز سنائی دی۔ ہر طالب علم اور کلاس کے استاد کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔*

*ماں، جدید بنو لیکن اپنے بچے کے بچپن کا خیال رکھو۔ موبائل کی وجہ سے بچوں سے دور نہ جاؤ۔ یہ بچپن کبھی واپس نہیں آئے گا۔*

یہ تحریر ان نام نہاد جدید *"ماؤں"* کے نام ہے جو اپنے بچوں کا بچپن چھین رہی ہیں!
*یہ کہانی نہیں، ایک حقیقت ہے*

دو غزلیں, دو ساغر -------------------------ساغر صدیقیہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیںمیرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیںہم...
08/12/2024

دو غزلیں, دو ساغر
-------------------------
ساغر صدیقی

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں

ہم نے جن کے لئے راہوں میں بچھایا تھا لہو
ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے
میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں

کیسے بھر آئیں سرِ شام کسی کی آنکھیں
کیسے تھرائی چراغوں کی ضیاءیاد نہیں

صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے
کب ہوا، کون ہوا، مجھ سے خفا یاد نہیں

آﺅ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

-------------------------------
ساغر نظامی

دشت میں قیس نہیں، کوہ پہ فرہاد نہیں
ہے وہی عشق کی دنیا مگر آباد نہیں

ڈھونڈنے کو تجھے او میرے نہ ملنے والے
وہ چلا ہے، جسے اپنا بھی پتہ یاد نہیں

روحِ بلبل نے خزاں بن کے اجاڑا گلشن
پھول کہتے رہے، ہم پھول ہیں صیاد نہیں

حسن سے چوک ہوئی اس کی ہے تاریخ گواہ
عشق سے بھول ہوئی ہو، یہ مجھے یاد نہیں

بربطِ ماہ پہ مضرابِ فغاں رکھ دی تھی
میں ان نغمہ سنایا تھا، تمہیں یاد نہیں

لاؤ اک سجدہ کروں عالم بد مستی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے ا...
07/12/2024

کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں
شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں

نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے
ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں

یہی ناصح جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں
تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ جائیں

ہم کہ ہیں لذت آزار کے مارے ہوئے لوگ
چارہ گر آئیں تو زخموں کو چھپانے لگ جائیں

ربط کے سینکڑوں حیلے ہیں محبت نہ سہی
ہم ترے ساتھ کسی اور بہانے لگ جائیں

ساقیا مسجد و مکتب تو نہیں مے خانہ
دیکھنا پھر بھی غلط لوگ نہ آنے لگ جائیں

قرب اچھا ہے مگر اتنی بھی شدت سے نہ مل
یہ نہ ہو تجھ کو مرے روگ پرانے لگ جائیں

اب فراز آؤ چلیں اپنے قبیلے کی طرف
شاعری ترک کریں بوجھ اٹھانے لگ جائیں
(احمد فراز)

04/12/2024

جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے“
”ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں‘ یہ کیمیکلز ہمارے جذبات‘ ہمارے ایموشن بناتے ہیں‘ ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری پرسنیلٹی بناتے ہیں“ ”ہمارے ہر ایموشن کا دورانیہ 12 منٹ ہوتا ہے“ ”مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے‘ یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے‘مثلاً ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی‘ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا‘
ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے‘ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا‘ یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا‘ ہم بھڑک اٹھیں گے لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف 12 منٹ طویل ہو گی‘ ہمارا جسم 12 منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے 15منٹوں میں کول ڈاؤن ہو جائیں گے چنانچہ ہم اگر غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بچ جائیں گے“
ہمارے چھ بیسک ایموشنز ہیں‘ غصہ‘ خوف‘ نفرت‘ حیرت‘ لطف(انجوائے) اور اداسی‘ ان تمام ایموشنز کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے‘ ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے‘ ہم صرف 12 منٹ قہقہے لگاتے ہیں‘ ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں‘ ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے‘ ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف 12 منٹ رہتا ہے‘
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے“ ”آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں‘ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے‘ آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے‘ آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی‘ یہ بھڑکتی رہے گی‘
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے 12 منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو‘ تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے‘ ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت‘ ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے یوں لوگ ہمیں غصیل خان‘ اللہ دتہ اداس‘ ملک خوفزدہ‘ نفرت شاہ‘ میاں قہقہہ صاحب اور حیرت شاہ کہنا شروع کر دیتے ہیں“
وجہ صاف ظاہر ہے‘ جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو‘ قہقہہ ہو‘ نفرت ہو‘ خوف ہو‘ اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن گیا‘ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو گیا‘ یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ مینج کر لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے‘ یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے‘ یہ اس کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہوتے“ ” لیکن ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں‘ ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ 12 منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے“۔
جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آئیں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیں زبان سے ایک لفظ نہیں بولیں میں قہقہہ لگانے کی بجائے صرف ہنسیں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیں ‘ خوف‘ غصے‘ اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلے جائیں ‘ غسل کرلیں ‘ فون کرلیں ‘ اپنے کمرے‘ اپنی میز کی صفائی شروع کر دیں اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جائیں ‘ اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں یوں بارہ منٹ گزر جاتے ہیں‘ طوفان ٹل جاتا ہے‘ عقل ٹھکانے پر آ جائے اور فیصلے کے قابل ہو جائیں ”آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے‘ منہ نہیں کھولیں
خاموش رہیں اور سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے‘ آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ھیں۔
____منقول

Address

ساہووالہ سمبڑیال سیالکوٹ
Sialkot

Telephone

+923332091234

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when گوشۂ ادب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share