08/08/2026
نوجوانوں کی کہانی (نظم)
ہم بچے تھے، معصوم تھے، دنیا سے بے خبر،
ہر چہرہ اپنا لگتا تھا، ہر شخص تھا معتبر۔
نہ مطلب کی پہچان تھی، نہ چالوں کا شعور،
ہر وعدے پر یقین تھا، ہر بات لگتی تھی ضرور۔
پھر عمر بڑھی، زمانہ بدلا، بدل گئے سب رنگ،
جو ساتھ چلنے والے تھے، وہی بن گئے تنگ۔
کہیں خواب خریدے گئے، کہیں محنت بیچ دی گئی،
کہیں صلاحیت استعمال ہوئی، کہیں عزت چھین لی گئی۔
کام لیا گیا، نام لیا گیا، تالیاں بھی بجوائی گئیں،
وقت بدلتے ہی انہی ہاتھوں سے، رخصتیں لکھوائی گئیں۔
ہم سوچتے رہے شاید قصور ہمارا ہی ہوگا،
مگر قصور صرف اتنا تھا، کہ دل ابھی بھی سچا تھا۔
نوجوانو! یہ دنیا ہر مسکراہٹ کا مطلب نہیں جانتی،
ہر ہاتھ دوستی کے لیے نہیں، کچھ صرف ضرورت پہ اٹھتے ہیں۔
اپنی صلاحیت کی قدر کرو، اپنے وقت کی قیمت جانو،
جو خود کی عزت نہ کرے، وہ دوسروں سے کیا مانو؟
لوگ آئیں گے، لوگ جائیں گے، یہ دنیا کا دستور ہے،
مگر جو رب پر بھروسہ رکھے، وہی اصل میں مضبوط ہے۔
غم بھی آئیں گے، تنقید بھی ہوگی، راستے بھی رکیں گے،
لیکن ہمت والے لوگ، ہر ٹھوکر سے آگے بڑھیں گے۔
اپنے خواب کسی کے ہاتھ نہ بیچنا،
اپنی شناخت کسی کے نام نہ لکھنا۔
کیونکہ زندگی تمہارا سفر ہے، فیصلہ بھی تمہارا ہوگا،
اگر خود پر یقین رکھو گے، تو کل زمانہ تمہارا ہوگا۔
یاد رکھو!
لوگ تمہیں استعمال کر سکتے ہیں،
لیکن تمہاری اصل قیمت صرف خدا جانتا ہے۔
مسکراتے رہو، دعا کرتے رہو، محنت کرتے رہو،
کیونکہ جو نوجوان خود کو پہچان لیتا ہے،
ایک دن دنیا بھی اُسے پہچان لیتی ہے۔
Rev. Ashfan Arshad
Pastor | Youth Leader | Social Entrepreneur
Founder MAGOI ENTERPRISES & ASH JEREMIAH INITIATIVE
نوجوانوں کو صرف خواب نہیں، سمت، کردار اور مواقع بھی چاہیے۔