08/10/2026
جس دن ہمارے دروازے کھولنے کا انداز بدلے گا، شاید اُس دن پاکستان بدلنے کی ایک نئی سوچ بھی جنم لے گی۔
آج بھی کئی ریسٹورنٹس اور برانڈز کے باہر گاہک کے لیے دروازہ کھولنے کو لازمی سروس سمجھا جاتا ہے۔ یہ سہولت کم اور نوآبادیاتی ذہنیت کی ایک پرانی جھلک زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ایک مہذب اور خوددار معاشرے میں عزت، خدمت اور برابری کا معیار ہونا چاہیے—نہ کہ کسی کے لیے دروازہ کھولنا بطور حیثیت یا مرتبہ۔
تبدیلی صرف دروازوں کی نہیں، سوچ کی بھی ہونی چاہیے۔