Sargodha press club

Sargodha press club this page is presented by Sargodha press club khushab road Sargodha

06/08/2026
18 مئی 2026 کو سرگودہا پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی کے اجلاس پر حملہ ہو اس حملے کے بعد دو ملزمان کی بنیادی رکنیت ختم کردی گ...
01/08/2026

18 مئی 2026 کو سرگودہا پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی کے اجلاس پر حملہ ہو اس حملے کے بعد دو ملزمان کی بنیادی رکنیت ختم کردی گئی اس مقدے کی سماعت عدالت میں جاری ہے جبکہ سابق جنرل سیکرٹری کامران ملک کی جانب سے درج کروایا گیا جھوٹا کراس ورژن جھوٹے موقف کی بنیاد پر ختم کردیا گیا ہے حملہ آوور کہتے ہیں ھمیں عہدیدار سمجھوں ایسا ممکن نہیں ہے نیچے ملزمان پر درج ایف آئی آر ایگزیکٹو باڈی کی اکثریت کا فیصلہ اور کراس ورژن کی دی گئی درخواست اور کراس ورش مقدمہ کا سکرین شارٹ موجود ہے ادارہ اگر کسی حملہ آوور کے اقدامات کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا تو کسی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی یہ قانون اور آئین کی جدوجہد ہے کسی کے ساتھ مخاصمت بالکل نہیں ہے اگر کوئی منتخب ہوکر آتا ہے تو وہ آئین کا پابند ہے وہ مادر پدر آزاد نہیں ہوجاتا ایگزیکٹو باڈی ہی سرگودہا پریس کلب کے معاملات کو چلانے کی اتھارٹی ہے کسی فرد واحد کو آئین یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔

سرگودہا پریس کلب جنرل سیکرٹری کلب تنازعہ نہیں ایک قانونی بحث ہے مندرجہ ذیل میں آئین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اختیارات ایک ق...
31/07/2026

سرگودہا پریس کلب جنرل سیکرٹری کلب تنازعہ نہیں ایک قانونی بحث ہے مندرجہ ذیل میں آئین اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اختیارات ایک قانونی تجزیہ پیش کیا گیا ہے
سرگودہا پریس کلب ایک آئینی ادارہ ہے جو اپنے مخصوص آئین کے تحت چلتا ہے جسے بزرگوں نے بنا کر اس ادارے کو تحفہ دیا آئین کے مطابق ایگزیکٹو باڈی کو نہ صرف انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے بلکہ یہ ایک عدالت کی حیثیت بھی رکھتی ہے جو ارکانِ کلب کو بدانتظامی (Misconduct) کی صورت میں سزا بھی دے سکتی ہے یہ تحریر اسی آئینی حیثیت ایگزیکٹو کمیٹی کے اختیارات، اور حالیہ قانونی کارروائیوں کا تجزیہ پیش کرنے کیلئے ہے

ایگزیکٹو کمیٹی ایک عدالت کی حیثیت رکھتی ہے

سرگودہا پریس کلب کا آئین ایگزیکٹو کمیٹی کو وسیع اختیارات دیتا ہے جب کوئی رکن آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کی مخالفت کرتا ہے یا ادارے پر حملہ آور ہوتا ہے یا آئین شکنی کرتا ہے تو کمیٹی اس رکن کی بنیادی رکنیت ختم کر سکتی ہے یہ اختیار کمیٹی کو ایک نظم و ضبط کی عدالت (Disciplinary Court) کا درجہ دیتا ہے جو اپنے دائرہ کار میں آزاد ہے

رکنیت ختم کرنے کا عمل اور چیلنج کا اختیار

آئین کے تحت جب ایگزیکٹو کمیٹی کسی رکن کی بنیادی رکنیت ختم کرتی ہے تو متاثرہ رکن کو 30 دن کے اندر اس فیصلے کو جنرل باڈی میں چیلنج کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے کامران ملک کے خلاف کارروائی اسی آئینی شق کے تحت کی گئی انہوں نے مقررہ مدت میں اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جس کے بعد ان کی بنیادی رکنیت ختم ہوگئی اور وہ سرگودہا پریس کلب کے ممبر نہیں رہے یہ اصول پاکستان کے دیگر پریس کلبوں میں بھی رائج ہیں مثال کے طور پر نیشنل پریس کلب (NPC) نے بھی اپنے آئین کے تحت دو ارکان کی بنیادی رکنیت معطل کی تھی اور بھی ملک بھر کے کلبوں میں ایسے فیصلوں کی نظیر موجود ہے
سپریم کورٹ کی نظیر یوسف رضا گیلانی کیس

یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کی مثال ھم سب کے سامنے ہے 2012 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں نااہل قرار دیا تھا عدالت نے کہا کہ جب وہ ممبر قومی اسمبلی ہی نہیں رہے تو وزیراعظم کیسے رہ سکتے تھے

اس نظیر سے ثابت ہوتا ہے کہ

1. بنیادی رکنیت کا خاتمہ اعلیٰ عہدے کو خودکار طور پر ختم کر دیتا ہے جیسے گیلانی کی ممبر شپ ختم ہونے سے وزارت عظمیٰ ختم ہوئی۔
2. عدالتی فیصلے کو چیلنج نہ کرنا فیصلے کی حتمیت کو تسلیم کرنا ہے گیلانی نے اپنی سزا کے خلاف اپیل نہیں کی۔

جنرل سیکرٹری کے عہدے کا مسئلہ

یہ اعتراض کہ جنرل سیکرٹری کو صرف عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے، عام صورت حال میں درست ہے۔ لیکن جہاں بدانتظامی (Misconduct) ثابت ہو، وہاں بنیادی رکنیت ہی ختم کر دی جائے تو عہدہ خودکار طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ یہی اصول گیلانی کیس میں بھی لاگو ہوا تھا۔

موجودہ قانونی کارروائی

کامران ملک کی بنیادی رکنیت ختم ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو جنرل سیکرٹری کے طور پر پیش کررہے ہیں اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ان کا کہنا ہے کہ مصالحتی فیصلے میں انہیں بحال کیا گیا تو اس فیصلے میں ایسا کچھ نہیں لکھا اس میں دو شخصیات کی صلح ہوئی اس کے بعد مصالحتی کمیٹی کے مطابق کامران ملک کو ممبر شپ بحالی کے لئے درخواست دینی تھی وہ جب بحال ہوجاتے تو کلب کے امور صدر کلب اور ایگزیکٹو باڈی کی مشاورت سے آگے بڑھنے کی بات اس مصالحتی فیصلے میں لکھی تھی باقی ایگزیکٹو باڈی پر حملہ کرنے کی پاداش میں کامران ملک ان کے دو معاونین اور 8 نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ فیکٹری ایریا میں مقدمہ درج ہے جب کامران ملک کی ایک جھوٹی درخواست پر درج کراس ورژن خارج ہوچکا ہے اس کیس کا چالان عدالت میں پیش ہوچکا اور پر کاروائی آگے بڑھ رہی ہے اس لئے یہ بحث فضول ہے کہ عمران گورائیہ جنرل سیکرٹری کیسے ہیں انہیں یہ اختیارات سرگودہا پریس کلب کی ایگزیکٹو کمیٹی نے دیئے ہیں جس کا نوٹیفیکیشن موجود ہے کامران ملک نے اپنی رکنیت ختم کرنے کے فیصلے کو مقررہ مدت میں چیلنج نہیں کیا لہٰذا وہ اب سرگودہا پریس کلب کے ممبر نہیں رہے انہیں اب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے سرگودہا پریس کلب میں کوئی جنگ نہیں ہورہی بلکہ ادارے کی بقا وقار اور قانون کی بحالی کی جدوجہد ہورہی ہے ادارہ اس جدوجہد کو ہر حال میں منطقی انجام تک پہنچائے گا سرگودہا پریس کلب ملک بھر کے کلبوں میں اپنے اندرونی احتساب کی اس کاروائی کو مثال بنائے گا صدر سرگودہا کلب عبدالحنان چوہدری انتہائی قابل پڑھے لکھے اور ورکر صحافی ہیں ان کی قیادت میں سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ انیس اکرم نے نئی ممبر شپ کی باقاعدہ سکروٹنی کی اور 14 اہل افراد کو ممبر شپ بھی دی جبکہ عرصہ دراز سے ورکر صحافیوں کے لئے اس کلب کے دروازے بند تھے سرگودہا پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی مسلسل اپنے اجلاس کررہی ہے اور کلب کی بہتری کیلئے فیصلے بھی کئے جارہے ہیں جبکہ صدر عبدالحنان چوہدری اور جنرل سیکرٹری عمران گورائیہ اپنا کام ایگزیکٹو باڈی کی اکثریت سے انجام دے رہے ہیں ۔

وضاحت ۔ عمران گورائیہ آئندہ انتخابات تک جنرل سیکرٹری کلب رہیں گے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کامران ملک کیسے  ...
31/07/2026

وضاحت ۔
عمران گورائیہ آئندہ انتخابات تک جنرل سیکرٹری کلب رہیں گے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کامران ملک کیسے پریس کلب کے جنرل سیکرٹری نہیں ہیں اور عمران گورائیہ کیسے جنرل سیکرٹری ہیں جناب سرگودہا پریس کلب کا ایک آئین ہے جس کے مطابق کلب کو چلایا جاتا ہے جس کے مطابق ہر سال انتخاب ہوتا ہے اس انتخاب میں کوئی ایک ووٹ کی لیڈ سے جیتے یا 20 ووٹوں کی وہ جیت ایک جیسی ہی کہلاتی ہے پریس کلب کا آئین بالکل واضح ہے جب کوئی ممبر کلب سرگودہا پریس کلب کے آئین اور ایگزیکٹو باڈی کے فیصلوں کو نہیں مانتا تو سرگودہا پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی کسی بھی ممبر کی بنیادی رکنیت ختم کرسکتی ہے اس بنیادی رکنیت کی بحالی کیلئے متاثرہ ممبر 30 دن کے اندر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے درخواست دے گا وہ درخواست جنرل باڈی سنے گی کسی بھی برخاست ممبر کو بحال کرنے کا اختیار کسی فرد واحد کے پاس نہیں ہے جنرل باڈی ایگزیکٹو کمیٹی کے کئے فیصلوں کو واپس لینے کا اختیار رکھتی ہے اب کامران ملک نے کئی ایک غیر قانونی کام کئے جس میں ایگزیکٹو کمیٹی پر حملہ اور انہیں زخمی کرنا شامل ہے کامران ملک سمیت دیگر دو لوگوں کے خلاف تھانہ فیکٹری ایریا میں مقدمہ درج ہے جس پر عدالتی کاروائی جاری ہے جبکہ کامران ملک نے 30 دن کے اندر جنرل باڈی کو ممبر شپ کی بحالی کے لئے درخواست نہیں دی اس وجہ سے وہ اب ممبر پریس کلب نہیں رہے جب کوئی ممبر کلب نہیں ہے تو جنرل سیکرٹری کیسے ہوسکتا ہے اس لئے ایگزیکٹو باڈی نے جو فیصلہ کیا ہے وہ تکمیل پاچکا ہے اور جب تک اب نئے انتخابات نہیں ہوتے عمران گورائیہ جنرل سیکرٹری کے منصب پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے آئین کی دو شقیں نیچے لگائی گئی ہیں اور بھی بہت سی شقیں ہیں جب کامران ملک عدالت میں ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلے کو چیلنج کریں گے تو وہ عدالت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

30/07/2026

سرگودہا پریس کلب میں صدر عبدالحنان چوہدری کے حکم پر پریس کلب میں سرگرمیاں بحال جنرل سیکرٹری عمران گورائیہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے تاوقتیکہ ایگزیکٹو باڈی کے کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوتا ۔۔۔

30/07/2026

سرگودہا پریس کلب کی سرگرمیاں بحال ۔۔۔۔۔
سرگودہا پریس کلب ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 28 جولائی کو ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سرگودہا پریس کلب کی سرگرمیاں بحال کی جائیں جس کے بعد آج سرگودہا پریس کلب کی سرگرمیاں بحال کردی گئی ہیں پریس کلب کے اوقات کار صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک ہونگے باقی سرگودہا پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی نے جن لوگوں پر مقدمات درج کروا رکھے ہیں جب تک ان مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوتا ان افراد کے داخلے پر پابندی ہوگی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان پر جھوٹا کراس ورشن کروانے اور اس میں جھوٹے گواہان کراس ورشن خارج ہونے کے بعد گناہ گناہگار ٹھہرے ہیں اس لئے حملہ اوور مدعی مقدمہ اور دو جھوٹے گواہان سرگودہا پریس کلب میں داخل نہیں ہوسکیں گے اور اگر کوئی داخل ہوگا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی یہ اتفاق ہوا کہ پریس کلب میں کوئی گالی گلوچ اور بدتمیزی برداشت نہیں کی جائے گی سرگودہا پریس کلب میں ایک ضابطہ اخلاق آویزاں کیا جائے گا جو اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی جہاں تک مصالحتی کمیٹی کے فیصلے سے متعلق لوگوں کے سوالات ہیں تو اس فیصلے میں لکھا ہے کہ عبدالحنان چوہدری اور کامران ملک کی حد تک صلح ہوئی ہے اس اور یہ مل کر نظام چلائیں گے اس فیصلے میں کامران ملک کو بطور ممبر بحال کرنے کی بات موجود نہیں ہے کیونکہ مصالحتی کمیٹی کا مینڈٹ بحال کرنا نہیں تھا ان کا مینڈیٹ مصالحت کروانا تھا بحال تو جس ایگزیکٹو کمیٹی نے ممبر کی بنیادی رکنیت ختم کی ہے وہی بحال کرسکتی ہے مصالحتی کمیٹی کے چیئرمین اسرار وڑائچ ، میاں محسن ،نے ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں واضح کیا کہ مصالحت پر باقاعدہ عمل اسی وقت شروع ہوگا جب کامران ملک اپنی ممبر شپ کی بحالی کیلئے ایگزیکٹو کمیٹی کو درخواست دیں گے اس میں ایگزیکٹو باڈی نے 28 جولائی کے اجلاس میں وضاحت کردی ہے اور شرائط بھی بتا دی ہیں ایگزیکٹو باڈی صلح کی حمایت کرتی ہے اس سے بالکل انکار نہیں کررہی لیکن بحالی آئین قانون اور ضابطے کے مطابق ہی ممکن ہے مصالحتی کمیٹی کے اسی فیصلے میں لکھا ہے کہ فیصلے ایگزیکٹو کمیٹی کرے گی اس لئے اگر ادارے کی توقیر بحال کرنی ہے اور رٹ کو قائم کرنا ہے تو آئین پریس کلب مقدم ہے اسی سے راہنمائی لی جائے گی۔

سرگودھا میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر توقیر محمدنعیم نے کہا ہے کہ عام آدمی اور میڈیا کے لیے میرے در...
29/07/2026

سرگودھا میں حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر توقیر محمدنعیم نے کہا ہے کہ عام آدمی اور میڈیا کے لیے میرے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، عوامی خدمت، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ان کی زندگی آسان بنانا میری اولین ترجیحات ہیں۔ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی جواب دہ ہوں، اس لیے پولیسنگ کو صرف ملازمت نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہوں۔ڈی پی او توقیرمحمدنعیم نے چارج سنبھالنے کے بعد سرگودہا پریس کلب کی قیادت اور میڈیا کے دوستوں سے پہلی ملاقات کی اس دوران اپنی ترجیحات اور پولیسنگ پالیسی واضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کرائم کنٹرول، بدمعاشی کلچر کا خاتمہ، منشیات کے خلاف مؤثر کارروائی اور شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ہو یا گلی محلہ، بازار ہو یا شہر، بدمعاشی اور غنڈہ کلچر کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی جو شہریوں کو خوفزدہ یا پریشان کرتے ہیں۔ منشیات فروشی کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، کسی کو کسی کا گھر اجاڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔توقیر محمد نعیم کا کہنا تھا کہ جب سے پولیس سروس میں آیا ہوں، جرائم، بدمعاشی اور منشیات کے خلاف کارروائی کو عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہوں۔ شہریوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مقدمات کی تفتیش اور پولیس کارروائیوں میں میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ڈی پی او نے کرپشن کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی روک تھام کے لیے ہر سطح تک جائیں گے، عوام کا خون چوسنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ سود کو بھی معاشرے کا ناسور قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ کمیونٹی، والدین اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پولیس اور معاشرے کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرکے جرائم کی روک تھام کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ڈی پی او توقیر محمد نعیم نے کہا کہ گلی محلوں کی سطح پر مصالحتی کونسلز قائم کرکے بہت سے بڑے مسائل تھانے تک پہنچنے سے پہلے ہی حل کیے جاسکتے ہیں۔ ضلع بھر میں دیانتدار اور باکردار افراد پر مشتمل مصالحتی کونسلز تشکیل دی جائیں گی اور کوشش ہوگی کہ 50 سے 60 فیصد چھوٹے نوعیت کے عوامی تنازعات مقامی سطح پر مصالحت کے ذریعے حل ہوں۔انہوں نے کہا کہ اصل پبلک سرونٹ وہی ہے جو کمیونٹی کے قریب ہو اور لوگوں کے مسائل کو سمجھتا ہو۔ میں دفتر میں بیٹھ کر پولیسنگ کرنے والا افسر نہیں ہوں، تھانوں کے دورے کرکے خود کارکردگی چیک کرتا ہوں اور پولیس افسران و اہلکاروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتا رہوں گا۔توقیر احمد نعیم نے کہا کہ جو شہری پولیس کو درخواست دیتا ہے، اسے سنا جانا اس کا بنیادی حق ہے اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ اس کی شکایت کا قانون اور میرٹ کے مطابق ازالہ کرے۔ کسی مظلوم کو انصاف کے لیے دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔سوشل میڈیا کے حوالے سے ڈی پی او نے کہا کہ مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاہم سوشل میڈیا پر غیر ذمہ داری، جھوٹ، افواہوں یا کسی کی عزت و جان کو نقصان پہنچانے والے عمل کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ڈی پی او توقیر محمد نعیم نے مزید کہا کہ سرگودھا پولیس کو عوام دوست، میرٹ پر مبنی، جواب دہ اور جرائم کے خلاف مؤثر فورس بنانا ان کا عزم ہے۔ شہری پولیس کا ساتھ دیں، جرائم اور منشیات فروشوں کی بروقت اطلاع دیں، پولیس ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

29/07/2026

پریس ریلیز
اجلاس ایگزیکٹو باڈی سرگودھا پریس کلب مورخہ 28/07/2026
سرگودھا ( ) سرگودھا پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صدر عبدالحنان چوہدری نے کی جبکہ جنرل سیکرٹری محمد عمران گورائیہ نے اجلاس کی کارروائی چلائی۔ اجلاس کا آغاز سید ذوالفقار ہاشمی نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جبکہ جنرل سیکرٹری محمد عمران گورائیہ نے نعتیہ اشعار پیش کیے۔اجلاس میں پریس کلب کے معاملات کی بہتری، ادارے میں اتحاد و اتفاق کے فروغ اور مصالحتی کمیٹی کی سفارشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ایگزیکٹو باڈی نے بنیادی رکنیت سے معطل ملک محمد کامران کی بحالی کے معاملے پر مشاورت کے بعد متفقہ طور پر تین شرائط مقرر کیں۔اجلاس کے فیصلے کے مطابق پہلی شرط یہ ہوگی کہ ملک محمد کامران 18 مئی کو پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی کے جاری اجلاس پر ہونے والے حملے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کریں اور اس واقعے میں ملوث افراد سے مکمل لاتعلقی کا تحریری، زبانی، میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے واضح اعلان کریں دوسری شرط کے تحت وہ بطور صحافی سرگودھا پریس کلب کی بنیادی رکینیت کی بحالی کے لیے باقاعدہ تحریری درخواست جمع کرائیں۔تیسری شرط کے مطابق وہ ایگزیکٹو باڈی کے آج تک کیے گئے تمام فیصلوں کو تسلیم کریں، آئندہ بھی اکثریتی فیصلوں پر عمل درآمد کی تحریری، زبانی اور سوشل میڈیا کے ذریعے یقین دہانی کرائیں، اور پریس کلب کے آئین و قانون کی مکمل پاسداری کا عہد کریں۔پریس کلب کی سرگرمیاں جلد بحال کرنے کافیصلہ کیاگیا۔ایگزیکٹو باڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرگودھا پریس کلب کھولنے کے بعد گالم گلوچ، بدزبانی، اشتعال انگیزی اور غنڈہ گردی کے کلچر کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور ادارے کے وقار، اتحاد اور بہتری کے لیے تمام فیصلے آئین و قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تمام اراکین اکثریتی فیصلوں کا احترام کریں اور ادارے کے مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ تینوں شرائط پوری ہونے کے بعد ایگزیکٹو باڈی، سرگودھا پریس کلب کے آئین و قانون کے مطابق معاملات کا جائزہ لے گی اور ملک محمد کامران کی بحالی کے معاملے پرحتمی فیصلہ کرے گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سرگودھا پریس کلب میں آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے متفقہ طور پر منظور شدہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا، جبکہ ان کی خلاف ورزی، اشتعال انگیزی یا ادارے کے نظم و ضبط کو متاثر کرنے والے افراد کے خلاف بلاامتیاز سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ایگزیکٹو باڈی نے مزید فیصلہ کیا کہ سرگودھا پریس کلب کا ماحول پرامن اور پیشہ ورانہ رکھنے کے لیے حالات خراب کرنے والے ناپسندیدہ عناصر کے پریس کلب میں داخلے پر پابندی برقرار رہے گی، جبکہ غیر صحافی اور غیر متعلقہ افراد کے پریس کلب میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اجلاس کے اختتام پر ایگزیکٹو باڈی نے تمام ممبران سے اپیل کی کہ وہ سرگودھا پریس کلب کے وقار، اتحاد، آئین و قانون کی پاسداری اور ادارے کے بہترین مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مثبت کردار ادا کریں تاکہ پریس کلب کو ایک مضبوط، باوقار اور مثالی صحافتی ادارہ بنایا جا سکے۔اجلاس میں صدر عبد الحنان چوہدری، جنرل سیکرٹری عمران گورائیہ، سینئر نائب صدر ذوالفقار ہاشمی ، انفارمیشن سیکرٹری اسجد چوہدری، ممبران مجلس عاملہ تصور ملیانہ ، انیس اکرم، اسرار احمد وڑائچ ، فیصل نعیم مرزا ،میاں محسن،سید شہزاد شیرازی ، 10عہدیداران شریک ہوئے جبکہ اجلاس میں فنانس سیکرٹری ارشد محمود ارشی ، رانا اشرف ، عبد الوہاب چوہدری اور محمود ڈوگر 4 عہہدیداران شریک نہیں ہو سکے۔
اسجد منیر چوہدری
انفارمیشن سیکرٹری
سرگودھاپریس کلب

ضروری اعلان ۔۔۔۔سرگودہا پریس کلب کے صدر عبدالحنان چوہدری اور ایگزیکٹو باڈی نے جو ممبران ایک پراسس کے تحت بنائے ہیں وہی م...
25/07/2026

ضروری اعلان ۔۔۔۔

سرگودہا پریس کلب کے صدر عبدالحنان چوہدری اور ایگزیکٹو باڈی نے جو ممبران ایک پراسس کے تحت بنائے ہیں وہی ممبر ہیں اس کے علاوہ ایسا کوئی نان پروفیشل ممبر سرگودہا پریس کلب نہیں بنایا گیا اہل سرگودہا کو اگاہ کیا جاتا ہے کہ ساجد شاکر نامی کسی شخص کا سرگودہا پریس کلب سے کوئی تعلق نہیں اور نہ زم زم پر ہونے والی اس تقریب سے سرگودہا پریس کلب کا تعلق ہے وقت آنے پر ہر ایسے شخص کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی جو لوگوں کو سرگودہا پریس کلب کا نام لے کر گمراہ کر رہا ہے منجانب صدر سرگودہا پریس کلب عبدالحنان چوہدری و ایگزیکٹو باڈی سرگودھا پریس کلب ۔۔

سرگودہا پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی کی جانب سے بنائی مصالحتی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مصالحت کا جو بھی عمل ہوا ہے آئین اور...
04/07/2026

سرگودہا پریس کلب کی ایگزیکٹو باڈی کی جانب سے بنائی مصالحتی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مصالحت کا جو بھی عمل ہوا ہے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہوا ہے جنرل سیکرٹری کامران ملک اور صدر سرگودہا پریس کلب عبدالحنان چوہدری کے درمیان فی الحال مفاھمت ہوئی ہے باقی مقدمے میں نامزد ملزمان سے تاحال کوئی مفاھمت نہیں ہوئی اس مفاھمت کا باقاعدہ معاہدہ تحریر ہوا ہے جس معاہدے میں تحریر ہے کہ ایگزیکٹو باڈی تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق اکثریت رائے سے کرے گی اور اسی کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا مصالحتی کمیٹی کے ارکان میں اسرار وڑائچ ، میاں محسن،تصور ملیانہ ، تہور بلال اصغر شامل تھے جبکہ دوسری جانب سے میڈیا کلب کے صدر سیف خان ، نائب صدر رانا اشرف رانا ساجد اور جاوید گجر شامل تھے۔

Address

Khushab Road Sargodha Near Mola Bakhsh Hospital
Sargodha

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923006025005

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sargodha press club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sargodha press club:

Shortcuts

Share