Azadari Network Jalla Bala

Azadari Network Jalla Bala No political chat & post Allowed

لاشہ شبیر پہ کھڑا سوچ رہا تھا اسلام فائدہ کیا ہوا کافر کو مسلماں کرکے 💔😭
27/06/2026

لاشہ شبیر پہ کھڑا سوچ رہا تھا اسلام
فائدہ کیا ہوا کافر کو مسلماں کرکے 💔😭

27/06/2026

دس محرم کی شام کو شامِ غریباں کہا جاتا ہے یعنی غریبوں کی شام۔ بظاہر یہ ایک ہارے لُٹے قافلے کی شام ہے جس کے مرد مارے جا چکے ہیں اور خیام جل چکے ہیں۔ لیکن اسی شامِ غریباں سے ایک ایسا کردار اُبھرا ہے جس نے امام عالی مقام اور اپنے سگے بھائی کا پیغام دنیا کو پہنچایا۔ اس بیبی کو زینب بنتِ علی کہتے ہیں۔ شامِ غریباں دراصل بیبی زینب کی شام ہے۔ جس کے ہونے سے یہ قتلِ ناحق چھُپ نہ سکا ورنہ سامراج تو اسے باغی گروہ کہہ کر قصہ تمام کر چکا تھا۔شامِ غریباں دراصل بیبی زینب کی مدعیت میں درج ناحق قتل کی ایف آئی آر ہے۔

تاریخ جسے کربلا کے نام سے یاد کرتی ہے وہ تو کوفہ شہر سے پچیس کوس پہلے ایک گمنام مقام تھا (لگ بھگ 75 کلومیٹر) ۔ اتنا گمنام کہ جب حُر نے قافلہ حسینی کو اس جگہ روک لیا تو امام نے استسفار فرمایا اس جگہ کو کیا کہتے ہیں ؟۔ جواب ملا نینوا۔ یہ دشتِ نینوا کہلاتا تھا جو جنگ کے بعد آنے والے دور میں کرب و بلا میں بدلا اور پھر زبان و لہجے کے فرق سے کربلا ہو گیا۔ نینوا کو آج دنیا کربلا کے نام سے جانتی ہے۔ اُس گمنام نینوا کو کربلا منوانے اور بتلانے میں اسی بیبی کا کردار ہے جس نے دنیا کو بتلایا کہ وہ جگہ کیا تھی اور وہاں کیا ظلم ہوا ہے۔ اقتدار تو اس جنگ کو باغی گروہ کا خروج کہہ کر قصہ پارینا بنانا چاہتا تھا۔ یہ خون اگر نہیں چھُپ سکا تو اس کے پیچھے بیبی زینب سلام اللہ علیہ کی محنت ہے۔ شام غریباں اسی بیبی کی شام ہے جس نے دنیا کو حق منوایا ہے۔

ڈیڑھ ہزار برس قبل آمد و رفت کے ذرائع بہت محدود تھے۔ اطلاعاتی یا پیغام رسانی کی عیاشی تیز رفتار گھڑ سوار قاصدوں کی محتاج تھی اور یہ عیش امراء و صاحبانِ اقتدار کو ہی میسر تھی۔ عام آدمی تو پیغام بھیجنے یا وصول کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اسے تو کہیں مہینوں بعد معلوم پڑتا کہ ہُوا کیا تھا۔شہر سے بہت پہلے ایک گمنام ریتلی زمین پر چند درجن افراد کے قتل کو چھپانا یا اسے باغی گروہ کا خاتمہ قرار دے کر قصہ تمام کرنا کوئی مشکل امر نہ تھا۔ جزیرہ نمائے عرب میں پھیلے مسلمانوں کی اکثریت اس سے قطعی لاعلم ہو سکتی تھی کہ کون مارا گیا ہے اور کس سبب مارا گیا ہے۔ یہ آج کی شام ہی تھی جس نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا اور پھر آنے والے وقت نے وہ مناظر دکھائے جس سے تاریخ لہو لہان ہے۔

حاکم شام یزید بخوبی سمجھتا تھا کہ اگر سارا جگ بھی بیعت کر لے تو جب تک مدینے میں نواسہ رسول بیعت نہیں کریں گے اس کی حکومت کو دوام حاصل نہیں ہو سکتا اور کل کو شورش و بغاوتیں جنم لے سکتی ہیں۔گورنر مدینہ ولید بن عتبہ کو حکمنامہ وصول ہوا کہ حسین سے بیعت طلب کرو بصورت دیگر قتل کر دو۔ حسین ابن علی کے ساتھ جو ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔ آپ نے اہل خانہ و اصحاب کے ساتھ مدینہ چھوڑا اور کوفہ کی راہ لی۔ امام کا فرمانا تھا کہ میں نہیں چاہتا میرے قتل سے میرے نانا کے شہر مدینہ کی حرمت پامال ہو۔ وہ قافلہ جو مدینے سے چلا، مکہ میں پڑاو ڈال کر رخصت ہوا،وہ دس محرم کو تہہ تیغ کر دیا گیا۔

آل رسول کو حاکم شام نے کربلا کے صحرا میں جس بیدردی سے قتل کیا اس کے بعد اس قتل کو چھپانے کے لیئے کئی جتن کرنے پڑے۔ شام سے فوجیں اس اعلان پر جمع کی گئیں تھیں کہ ایک باغی نے خلیفہ وقت یزید کے خلاف خروج کیا ہے۔ یہ قتل چھپ جاتا مگر بیبی زینب کے برسر بازار و دربار خطبوں نے اسے چھپنے نہیں دیا۔ بالخصوص دربار یزید میں بیبی زینب سلام اللہ علیہہ کا طویل خطبہ ہے جس میں انہوں نے اپنا اور اپنے خاندان کا مفصل تعارف کرایا ہے اور قاتلین کے دردناک انجام کی بددعا کی ہے۔ وہ خطبہ طوالت کے باعث مکمل تو نہیں لکھ سکتا۔ طبری اور تواریخ کی کتب میں سلسلہ در سلسلہ نقل ہوا ہے۔

“سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے ۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت(علیهم السلام) پر۔ اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دئیے ہیں اور آلِ رسول کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز ہوا اور ہم رسوا ہوئے ہیں؟۔ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے ، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے ۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ہوش کی سانس لے ۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے ۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں ۔ اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین کیا جا چکا ہے ۔

اس شخص سے بھلائی کی کیا توقع ہو سکتی ہے جس کی ماں (یزید کی دادی ہندہ) نے پاکیزہ لوگوں (حمزہ) کے جگر کو چبایا ہو اور اس شخص سے کیا امید ہو سکتی ہے جس نے اہلبیت کا خون پی رکھا ہو۔

اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے فرزند رسول خدا اور عبدالمطلب کے خاندانی ستاروں کا خون بہا کر ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوا ہے ۔تو نے اولادِ رسول کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کیے ہیں”۔

واقعہ کربلا کے بعد یزید تین سال زندہ رہا مگر اس کے ہوتے ہی ملک کے طول و عرض میں شورش پھیلنے لگی۔ جوں جوں قتل حسین کی خبر اور بیبی زینب کے خطبات کی بازگشت عرب کے صحراؤں میں پھیلتی گئی توں توں لوگ غم و غصہ دکھاتے جتھے بنا کر خروج کرنے لگے۔ اہلیانِ مدینہ نے یزید کی بیعت توڑتے ہوئے بغاوت کر دی۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیئے یزید نے اپنی فوج کو مکہ اور مدینہ پر چڑھائی کرنے کے احکامات دیئے جس کو واقعہ حرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 27 ہزار نفوس پرمشتمل یزیدی فوج نے مدینہ کی حرمت کو پامال کر ڈالا۔ مدینہ میں اصحاب اور ان کے خاندان کا قتل کیا گیا۔ اصحاب زادیوں سے گستاخیاں کی گئیں۔ روضہ رسول پر شامی فوج نے اپنے گھوڑے باندھے اور اسے اصطبل بنا ڈالا۔ مسجد نبوی میں تین روز تک آذان و نماز معطل رہی۔ آپ واقعہ حرہ کو پڑھیں تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں لگ بھگ 700 اصحاب رسول کا قتل کیا گیا اور مجموعی طور پر ہزاروں افراد کا خون بہایا گیا۔

مدینے سے فارغ ہو کر یزیدی فوج نے ابن زبیر (ر) کو قتل کرنے کے واسطے مکہ کی راہ لی۔ ابن زبیر (ر) حرم میں پناہ لئے بیٹھے تھے اور اپنے خاندان و اصحاب کے ساتھ اپنے دفاع میں لشکر بنائے موجود تھے۔ حسین ابن علی کے بعد حاکم شام کو دوسرا خطرہ ابن زبیر سے تھا جنہوں نے بیعت نہیں کی تھی اور اپنے قبیلے کے ساتھ کعبہ میں پناہ لے رکھی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ کوئی مسلمان کعبہ پر لشکر کشی کی ہمت نہیں کرے گا۔ یزیدی فوج نے 64 روز تک کعبہ کا محاصرہ کیا۔ بلآخر کعبہ پر منجیقوں سے سنگ باری کی گئی۔ کعبہ کے غلاف کو آتشزدگی سے آگ لگی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ کعبہ کی دیواریں سیاہ ہو گئیں۔ اسی حملے کے دوران اطلاع آئی کہ دمشق میں یزید کا انتقال ہو گیا ہے۔ ابن زبیر نے اعلان کیا کہ اب تمہارا آقا تو مر گیا اب کیوں کعبہ کی حرمت پامال کر کے مزید ظلم کرتے ہو ؟ ۔ فوج واپس دمشق کو روانہ ہو گئی۔ ابن زبیر نے مکہ میں اپنی گورنری کا اعلان کرتے ہوئے اپنی حکومت قائم کر لی۔

یزید کا بیٹا معاویہ ابن یزید تخت پر بیٹھا۔ اس نے لگ بھگ 40 روز تک حکومت کی اور پھر تمام خاندان و وزیر و مشیر کو جمع کر کے اس نے تخت چھوڑنے کا اعلان کیا اور اپنی ماں کے ساتھ گوشہ نشین ہو گیا۔ بعض روایات کے مطابق تخت چھوڑنے کے چند روز بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کا فرمانا تھا "مجھے اپنے باپ کا وہ تخت نہیں چاہئیے جس سے خون حسین کی بو آتی ہو" ۔ اس کے بعد بنو امیہ کا حاکم مروان بنا۔ وقت کے ساتھ عباسیوں نے لوگوں کو قتل حسین کا بدلہ لینے کے لیئے جمع کرنا شروع کیا۔ عباسی رسول پاک کے چچا حضرت عباس کے بیٹے عبداللہ ابن عباس کی نسل سے تھے۔ انہوں نے کالے پرچموں کے ساتھ "یا الثارث الحسین" کا نعرہ بلند کیا۔ لاکھوں کی فوج اس بنا پر جمع کی کہ خاندان رسول کے ناحق قتل کا بدلہ بنو امیہ سے لینا ہے۔ ابو العباس السفاح نے مروان ثانی کو شکست دے کر بنو امیہ کا تختہ الٹ دیا۔ عباسی حکومت قائم ہوئی۔ انہوں نے امویوں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا یہاں تک کہ بنو امیہ کی قبریں کھودیں گئیں اور لاشوں کو نکال کر جلایا گیا۔ عباسی حکومت کی تاریخ بھی لہو لہان ہے اور لمبی ہے۔

شامِ غریباں بیبی زینب کی شام ہے۔ اس خاتون کی شام جس نے گاہ گاہ اپنے خطبوں سے تاریخ کا دھارا موڑ دیا اور اپنے بھائی کی قربانی کو مسلسل بیان کیا۔یہ شکست کی شام نہیں، بقا کی شام ہے۔ یہ اس عورت کی شام ہے جس نے تلوار سے نہیں، زبان سے فتح حاصل کی۔ جس کے ہاتھ میں نہ لشکر تھا، نہ سلطنت، نہ خزانہ، صرف سچ تھا۔ اور تاریخ نے ثابت کیا کہ جب سچ بولنے والا باقی رہ جائے تو فاتح کے محل بھی مٹی ہو جاتے ہیں۔ اگر بیبی زینب نہ ہوتیں تو کربلا شاید تاریخ کی گرد میں گم ہو جاتی مگر ایک اسیر خاتون کے خطبوں نے درباروں کے بیانیے کو توڑ دیا۔ اس نے دنیا کو بتایا کہ نیزوں پر اٹھائے گئے سر باغیوں کے نہیں، رسولِ اکرم کے خاندان کے تھے۔ جلائے گئے خیمے کسی لشکر کے نہیں، اہلِ بیت کے تھے اور قید کی جانے والی عورتیں کسی مفتوح قوم کی نہیں، نبوت کے گھرانے کی تھیں۔

اسی لیے شامِ غریباں صرف سوگ کی ایک رات نہیں، شعور کی ایک صبح بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ظلم اپنی پوری طاقت کے باوجود سچ کو ہمیشہ دفن نہیں کر سکتا۔ کبھی ایک شہادت تاریخ بدل دیتی ہے اور کبھی ایک خطبہ۔ کربلا میں شہادت نے اپنا فرض ادا کیا، اور جنگ کے بعد زینب بنتِ علی کے خطبوں نے۔سلام اس بیبی پر جس نے اپنے آنسوؤں کو دلیل، اپنے صبر کو استقامت، اور اپنی اسیری کو دعوتِ حق بنا دیا۔ سلام اس زبان پر جس نے یزید کے دربار میں کھڑے ہو کر تاریخ کا فیصلہ لکھ دیا۔ اور سلام اس شامِ غریباں پر جس نے ثابت کر دیا کہ بعض اوقات تاریخ کی سب سے روشن صبح سب سے تاریک رات کے بعد طلوع ہوتی ہے۔

اسی شام کے حوالے سے منشی چھنو لال دلگیر کا دردناک کلام ہے جو ذرائع ابلاغ سے نشر ہوتا آیا ہے۔

گھبرائے گی زینب
بھیا تمہیں گھر جا کے کہاں پائے گی زینب
: حوالہ جات:

تاریخ الخلفاء صفحہ نمبر 186 ، جلال الدین سیوطی
البدایہ صفحہ نمبر 1162 ، ابن کثیر
مسند احمد باب 6 نمبر 380 ، امام احمد بن جنبل
سنن ترمذی باب 8 نمبر 602، ترمذی
صحیح بخاری ، نمبر 2604
صحیح مسلم، نمبر 4101
دلائل النبوة للبيهقى، باب 6، نمبر 475، امام بیہقی
ابن عساکر 108/58
الإصابة لابن حجر 26/5، ابن حجر
المنتظم لابن الجوزی 15/6، امام ابن الجوزی
سنن ابن ماجہ، نمبر 3958

27/06/2026

کربلا میں روز عاشور یزیدی فوج کے سپہ سالار عمر بن سعد لعین پر براہ راست صرف ایک انتہائی خطرناک حملہ ہوا جس میں وہ بچ نکلا۔ یہ واحد حملہ کرنے والا کوئی جنگجو نہیں بلکہ دو معصوم بچے تھے۔ عون و محمد۔

بڑے کی عمر تیرہ سال تھی اور چھوٹے کی گیارہ سال۔

یہ وہ ہیں جنہیں قتل کرنے کے بعد یزیدی فوج نے خوشی کے شادیانے بجائے تھے۔

باجے والوں کی صدا زیرِ قنات آتی ہے
کیسے لاشے میرے بچوں کی بارات آتی ہے۔

حسین جب مدینہ سے روانہ ہوئے تو زینب عالیہ کے شوہر عبداللہ ابن جعفر طیار آئے۔

'آقا میں زینب سے علیحدگی میں کوئی بات کرنا چاہتا ہوں۔'

حسین نے کہا تمہاری عزت افزائی کا شکریہ ۔ تمہاری بیوی ہے۔ ضرور کرو۔

خاوند بیوی سے مخاطب ہوا۔

'حسین سے میرے دو رشتے ہیں۔ دنیاوی رشتے میں میرا بھائی ہے۔ دینی رشتے میں میرا امام ہے اور جب امام پر مشکل وقت آجائے تو رعیت پر لازم ہے وہ سب سے قیمتی شے کا صدقہ دیا کرتی ہے۔'

بیوی نے کہا

جانتی ہوں عرب کے بڑے تاجر ہو۔ لیکن ایسا کون سا بیش قیمت مال تمہارے ہاتھ آیا ہے جسے تم میرے بھائی کا صدقہ اتار سکو؟ کیا کوئی ایسا مال تمہارے پاس ہے؟

عبداللہ ابن جعفر طیار پرنم آنکھوں سے گویا ہوئے

مال میں تو ایسا کچھ نہ تھا۔ دو بیٹے ہیں۔ ایک کو میری طرف سے صدقہ کردینا دوسرے کو اپنی طرف سے۔

نو محرم کو جب حسین نے ایک دن کی مہلت مانگی تو شب عاشور سب کو معلوم تھا کہ صبح کیا ہوگا۔

علی کی بیٹی زینب نے دونوں بیٹوں کو خیمے میں بلایا۔ ان کو تیار کیا۔ دونوں کے کپڑے نکالے ۔

عون کل کے دن تم یہ پہننا۔ محمد تمہیں یہ اچھا لگے گا۔

ایک دم سنجیدہ ہو کر بولیں

عون تم بڑے ہو۔ تمہاری دگنی ذمہ داری ہے۔ دونوں میری بات دھیان سے سنو۔

مجھ سے تین باتوں کا وعدہ کرو۔

اول۔ اگر دریا کے قریب پہنچ جاؤ تو خبردار پانی پینے کا خیال بھی اپنے دل میں مت لانا۔حسین کے بچے پیاسے ہیں۔

دوم ۔ ایسے لڑنا کہ دشمن چکرا جائے۔ تمہیں عمر بن سعد تک پہنچنا ہے۔ بولو پہنچ کر دکھاؤ گے ناں؟ وعدہ کرو اپنی ماں سے ۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور یک زبان ہو کر وعدہ کیا۔

اب گھر میں آئیو تو وغا کرکے آئیو
سر لے کے ابن سعد کا ، یا مر کے آئیو

اور آخری بات۔
اگر چوٹ لگ کر گرنے لگو تو اپنے ماموں کو مدد کے لئے مت بلانا۔ بہت تھک گیا ہے۔ اور ہاں تمہاری لاش یہاں میدان جنگ میں آس پاس نہیں گرنی چاہیئے۔

عاشور کی صبح سے دوپہر پوگئی۔ دونوں بچے مُڑ پھر کر حسین کے سامنے آجاتے اور پنجوں کے بل کھڑے ہوجاتے کہ ہم ماموں کو چھوٹے نہ لگیں۔
ایک کے بعد ایک فدائی جانے لگا۔ عون و محمد ہر ایک کے جانے پر پوچھتے ماموں اب ہم جائیں گے۔اب ہماری باری۔ گویا کوئی کھیل ہورہا ہے۔ حسین کبھی کوئی حیلہ کرکے ٹال دیتے کبھی کوئی بہانہ.

بچے افسردہ ہوکر واپس خیمے میں گئے۔

26/06/2026
26/06/2026

🔰 *قیامت کے دن محمد و آلِ محمد علیھم الصلٰوۃ والسّلام کو سجدے ہوں گے* 🔰

🙇🏻‍♂️ *قرآن میں اللہ کا فرمان ہے:*

✔️ *یَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ* (سورہ القلم:42)
✔️ *خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ* (سورہ القلم:43)

✔️ *جس روز ساق سے پردہ اٹھا دیا جائے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے*
✔️ *اِنکی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُسوقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)۔*

🙇🏻‍♂️ *اس آیت کی تفسیر میں مولا امام رضا (ص) فرماتے ہیں: جب نور سے حجاب اٹھا دیا جائے گا تو اسوقت مؤمنین سجدے میں گر پڑھیں گے اور منافقین کی پشت اکڑ جائے گی اور وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے۔*

🌳 *عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا(ع)فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَ جَلَ‌ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ وَ يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ قَالَ حِجَابٌ مِنْ نُورٍ يُكْشَفُ فَيَقَعُ الْمُؤْمِنُونَ سُجَّداً وَ تَدْمُجُ أَصْلَابُ الْمُنَافِقِينَ‌ فَلا يَسْتَطِيعُونَ‌ السُّجُودَ*

📕عيون أخبار الرضا (ع)، الشيخ الصدوق، جلد 1، صفحه 121

✍️ *یاد رہے یہاں سجدوں کا ذکر ہے اور زیارت میں ہم یہ جملے پڑھتے ہیں ”السلام عليكم يا نور اللّه في ظلمات الأرض“ پتا چلا جس نور سے پردہ ہٹا دیا جائے گا وہ آل محمد (ص) کا نور ہے پھر ان (ص) سب کو سجدے ہونگے۔*

🌳 *السلام عليكم يا أولياء اللّه، السلام عليكم يا حجج اللّه، السلام عليكم يا نور اللّه في ظلمات الأرض، السلام عليكم صلوات اللّه عليكم و على آل بيتكم الطيّبين الطاهرين، بأبي أنتم و أمّي، لقد عبدتم اللّه مخلصين، و جاهدتم في اللّه حقّ جهاده حتّى أتاكم اليقين. فلعن اللّه أعدائكم من الجنّ و الإنس أجمعين، و أنا أبرأ إلى اللّه و إليكم منهم.*

📚 *حوالہ جات:*
📕بحار الأنوار، ط۔دارالاحیاء التراث، العلامة المجلسي، جلد 99، صفحه 215
📗موسوعة الإمام الهادي(ع)، اللجنة العلمیة فی موسسة ولیعصر، جلد 1، صفحه 327

*پیغام 10 محرم الحرام*"اپنے دل سے برائیاں مٹا دو، تمہارا نفس پاک اور اعمال مقبول ھو جائیں گے۔"مولا علی علیہ السلام
26/06/2026

*پیغام 10 محرم الحرام*
"اپنے دل سے برائیاں مٹا دو، تمہارا نفس پاک اور اعمال مقبول ھو جائیں گے۔"
مولا علی علیہ السلام

 #𝐈𝐍𝐒𝐇𝐀𝐋𝐋𝐀𝐇
26/06/2026

#𝐈𝐍𝐒𝐇𝐀𝐋𝐋𝐀𝐇

26/06/2026

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ"😭😭

26/06/2026

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ"😭😭

معیاد مک گئی ہےبھینڑ میڈی حسین۴ منگداے ولا ڈے اکبر۴

قضا رتوکی ہے تانگ دے وچ میں ٹور ڈیواں سجا ڈے اکبر۴

14/04/2026

شیر عباس 😭😭
میرالکھاں توں ڈیھرعباس😭😭😭

Address

Jalla Bala
Sargodha
1234

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azadari Network Jalla Bala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share