ﯾﺎ ﻏــــﺎﺯﯼ ﻋﺒـــﺎﺱ ﻋﻠﻤــــﺪﺍﺭ ﻋﻠﯿــــﮧ ﺍﻟﺴــــﻼﻡ

  • Home
  • Pakistan
  • Sahiwala
  • ﯾﺎ ﻏــــﺎﺯﯼ ﻋﺒـــﺎﺱ ﻋﻠﻤــــﺪﺍﺭ ﻋﻠﯿــــﮧ ﺍﻟﺴــــﻼﻡ

ﯾﺎ ﻏــــﺎﺯﯼ ﻋﺒـــﺎﺱ ﻋﻠﻤــــﺪﺍﺭ ﻋﻠﯿــــﮧ ﺍﻟﺴــــﻼﻡ It's Azadari Page Mission
Promoting and Preaching true Islam to all the Muslims. Description
The Fourteen Stars Are Listed Below :
1. Hazrat Mohammad (S.A.W.W)
2.

Hazrat Ali Murtaza (A.S)
3. Hazrat Fatima (S.A)
4. Hazrat Imam Hasan (A.S)
5. Hazrat Imam Hussain (A.S)
6. Hazrat Imam Zain-ul-Abideen(A.S)
7. Hazrat Imam Mohammad Baqir (A.S)
8. Hazrat Imam Jafar Sadiq (A.S)
9. Hazrat Imam Moosa Kazim (A.S)
10. Hazrat Imam Ali Raza (A.S)
11. Hazrat Imam Mohammad Taqi (A.S)
12. Hazrat Imam Ali Naqi (A.S)
13. Hazrat Imam Hasan Askari (A.S)
14. Hazrat Imam Mehdi (A.

S)

1. KALEMA AND ITS MEANING:
LA ILAHA ILLALLAH: There is no God but Allah
MUHAMMADUN RASOOLULLAH: (Our Prophet)Muhammad Mustafa(S.A.W)is the Messenger of Allah. ALIYUN WALI-ULLAH: Hazrat Ali(A.S)is the guardian(Imam)appointed by Allah. WA-WASIYO-RASOOLILLAH: And He(Hazrat Ali A.S) is the rightful executor of the Will of the Prophet. WA-KHALIFATOHU-BILAFASL: And Hazrat Ali A.S is the Prophet's first Khalifa. To utter these verses and believing in them with your heart is the first step to become a muslim.

2. IMPORTANT ASPECTS :
* God is one (1)
* Panjetan are five (5)
* Imams are twelve (12)
* Masooms are fourteen (14)
* Prophets sent by Allah are total one hundred twentyfour thousand. (124.000)

3. NAMES OF THE PANJETAN:
1. Ya Muhammad(S.A.W)
2. Ya Ali(A.S)
3. Ya Fatema(S.A)
4. Ya Hasan(A.S)
5. Ya Husain(A.S)

بابُ الحوائج حضرت  ابوالفضل العباسؑ کے لیے بارگاہِ الٰہی میں ایسا بلند مقام اور ایسی عظیم منزلت کہ جس پر روزِ قیامت تمام...
23/06/2026

بابُ الحوائج حضرت ابوالفضل العباسؑ کے لیے بارگاہِ الٰہی میں ایسا بلند مقام اور ایسی عظیم منزلت کہ جس پر روزِ قیامت تمام شہداء اُن پر رشک کریں گے

ثابت بن ابی صفیہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن سید العابدین امام علی بن الحسین علیہما السلام کی نظر حضرت عباس بن علی بن ابی طالب علیہما السلام کے فرزند، عبید ﷲ بن عباس پر پڑی تو آپ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ پھر فرمایا: رسول ﷲ (ص) پر اُحد کے دن سے زیادہ سخت کوئی دن نہیں گزرا، کیونکہ اُس دن آپ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلبؑ، جو ﷲ اور اس کے رسول (ص) کے شیر تھے، شہید کر دیے گئے۔ اس کے بعد جنگِ مؤتہ کا دن آیا، جس میں آپ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالبؑ شہید ہوئے۔

پھر فرمایا: لیکن حسینؑ کے دن جیسا کوئی دن نہیں۔ تیس ہزار آدمی اُن کے مقابل آ کھڑے ہوئے تھے، جو اپنے آپ کو اسی امتِ محمدی (ص) کا فرد سمجھتے تھے اور ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرتا تھا کہ وہ امام حسینؑ کا خون بہا کر ﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کر رہا ہے۔ امام حسینؑ انہیں خدا کی یاد دلاتے رہے، نصیحت فرماتے رہے اور ﷲ سے ڈراتے رہے، لیکن وہ نصیحت قبول نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے ظلم، سرکشی اور عدوان کے ساتھ آپؑ کو شہید کر دیا۔

پھر امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میرے چچا عباسؑ پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ بے شک انہوں نے ایثار کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی، عظیم جانفشانی دکھائی اور اپنے بھائی پر اپنی جان قربان کر دی، یہاں تک کہ ان کے دونوں ہاتھ قلم کر دیے گئے۔ پس اللہ عزوجل نے ان کے عوض انہیں دو ایسے پَر عطا فرمائے جن کے ذریعے وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں، جس طرح حضرت جعفر بن ابی طالبؑ کو عطا فرمائے تھے۔ اور یقیناً حضرت عباسؑ کے لیے بارگاہِ الٰہی میں ایسا بلند مقام اور ایسی عظیم منزلت ہے کہ قیامت کے دن تمام شہداء اُن پر رشک کریں گے۔

الامالي - الشیخ الصدوق - الصفحۃ ۳۳۴
الخصال -الشیخ الصدوق - الجز ۱ - الصفحۃ ۶۸
بحارالانوار - العلامۃ المجلسي - الجز ۴۴ - الصفحۃ ۲۹۸

_یکم محرم کے دن پانی کی نذر_عمل کا طریقہ:_اپنے سامنے ایک گلاس پانی رکھیں_1. 12 مرتبہ صلوات پڑھیں   _اللّهُمَّ صَلِّ عَلَ...
16/06/2026

_یکم محرم کے دن پانی کی نذر_
عمل کا طریقہ:
_اپنے سامنے ایک گلاس پانی رکھیں_

1. 12 مرتبہ صلوات پڑھیں
_اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّد_
2. 7 مرتبہ سورہ حمد یعنی سورۃ الفاتحہ پڑھیں
3. 1 مرتبہ آیت الکرسی پڑھیں
_پڑھ کر پانی پر دم کریں_
_پھر وہ پانی پی لیں اور اللہ سے اپنی حاجت طلب کریں ۔

---
فضیلت:
_یکم محرم کے دن پانی کی نذر ناممکن حاجتوں کے لیے کبھی رد نہیں ہوتی_

_یا حسین لکھ کر دوسروں کو بھیجیں تاکہ محرم قریب ہے اور ان کی بھی حاجت پوری ہو_
#محرم
#کربلاءٹوڈے

سرورؑ کا اگر سر ، سرِ نیزہ نہیں ہوتا لا ہوتا ، الہ ہوتا ، الا اللہ نہیں ہوتابتلا دیا شبیرؑ نے گھر بار لٹا کریہ عشق کا سو...
14/06/2026

سرورؑ کا اگر سر ، سرِ نیزہ نہیں ہوتا
لا ہوتا ، الہ ہوتا ، الا اللہ نہیں ہوتا

بتلا دیا شبیرؑ نے گھر بار لٹا کر
یہ عشق کا سودا کبھی سستا نہیں ہوتا

آتے نہیں میداں میں اگر اصغرِ بے شیر
اے کرب و بلا تیرا خلاصہ نہیں ہوتا

شبیرؑ سا ہوتا نہ جو مسجد میں مسیحا
راہب ترے گھر میں کبھی بچہ نہیں ہوتا

موسیٰؑ یہ کرم ہے کفِ عباسؑ کا ورنہ
ہر ہاتھ عموماً یدِ بیضا نہیں ہوتا

والعصر سرِ دار یہ دیتی ہیں صدائیں
یہ عشق ہے وہ جس میں خسارہ نہیں ہوتا

اعجازِ حسینی ہے حبیب ابن مظاہر
مرجائے جو وہ زندہ دوبارہ نہیں ہوتا

یہ زیارتِ عاشورہ کے نکلے ہیں نتائج
وامقؔ میری تربت میں اندھیرا نہیں ہوتا

محرم الحرام میں عزاداروں (مرد و خواتین) کے لباس کے بارے میں ائمۂ اہل بیتؑ کی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لباس ساد...
12/06/2026

محرم الحرام میں عزاداروں (مرد و خواتین) کے لباس کے بارے میں ائمۂ اہل بیتؑ کی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لباس سادہ، باوقار، غم و حزن کی علامت اور زینت و آرائش سے خالی ہونا چاہیے، تاکہ اہل بیتؑ کے مصائب پر حقیقی سوگواری کا اظہار ہو۔
1۔ امام جعفر صادقؑ کا فرمان
امام صادقؑ سے روایت ہے:
"لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ (ع) لَبِسَ نِسَاءُ بَنِي هَاشِمٍ السَّوَادَ وَالْمُسُوحَ، وَكُنَّ لَا يَشْتَكِينَ مِنْ حَرٍّ وَلَا بَرْدٍ."
ترجمہ: "جب امام حسینؑ شہید ہوئے تو بنی ہاشم کی خواتین نے سیاہ لباس اور غم کے کپڑے پہن لیے، اور گرمی و سردی کی پروا نہ کی۔"
📚 حوالہ:
بحار الأنوار، ج 45، ص 188
مستدرک الوسائل، ج 3، ص 327
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیتؑ کی خواتین نے عزاداری میں سیاہ لباس اختیار کیا۔
2۔ امام رضاؑ کا فرمان
ریان بن شبیب روایت کرتے ہیں کہ امام رضاؑ نے فرمایا:
"إِنَّ الْمُحَرَّمَ شَهْرٌ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يُحَرِّمُونَ فِيهِ الظُّلْمَ وَالْقِتَالَ ... فَصَارَ يَوْمُ الْحُسَيْنِ أَقْرَحَ جُفُونَنَا وَأَسْبَلَ دُمُوعَنَا."
ترجمہ: "محرم وہ مہینہ ہے... جس میں امام حسینؑ کی مصیبت نے ہماری آنکھوں کو اشکبار کر دیا اور ہمیں غمگین کر دیا۔"
📚 حوالہ:
الأمالي، مجلس 27، حدیث 5
عیون أخبار الرضا، ج 1، ص 299
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محرم ایامِ غم ہیں، لہٰذا لباس بھی اسی کیفیت کا عکاس ہونا چاہیے۔
مردوں کے لیے
سادہ اور باوقار لباس پہنیں۔
سیاہ یا گہرے رنگ کا لباس مستحب اور شعارِ عزاداری سمجھا جاتا ہے۔
چمکدار، فیشن ایبل یا توجہ کھینچنے والے لباس سے اجتناب کریں۔
خوشبو، زینت اور غیر ضروری آرائش کو کم کریں۔
دلیل
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
"شِيعَتُنَا يَفْرَحُونَ لِفَرَحِنَا وَيَحْزَنُونَ لِحُزْنِنَا"
"ہمارے شیعہ ہماری خوشی میں خوش اور ہمارے غم میں غمگین ہوتے ہیں۔"
📚 حوالہ:
الكافي، ج 2، ص 128
خواتین کے لیے
مکمل شرعی حجاب کے ساتھ لباس پہنیں۔
سیاہ چادر، عبایا یا سادہ غیر جاذبِ نظر لباس افضل ہے۔
زیورات کی نمائش اور بناؤ سنگھار سے پرہیز کریں۔
عزاداری کے ماحول کے مطابق وقار اور سنجیدگی اختیار کریں۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور بنی ہاشم کی خواتین کا طرزِ عمل اسی بات کی عملی دلیل ہے کہ ایامِ عزا میں زینت کے بجائے حزن و وقار اختیار کیا جائے۔
فقہائے شیعہ کا خلاصہ
معاصر مراجع جیسے آیت اللہ سید علی سیستانی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور دیگر فقہاء کے فتاویٰ کے مطابق:
امام حسینؑ کی عزاداری کے اظہار کے لیے سیاہ لباس پہننا جائز بلکہ شعائرِ حسینی میں شمار ہوتا ہے۔
لباس ایسا ہو جو غم و سوگواری کی علامت ہو۔
مرد و خواتین دونوں کو وقار، حیا اور سادگی ملحوظ رکھنی چاہیے۔
نتیجہ
محرم الحرام میں عزاداروں کا لباس:
سادہ اور باوقار ہو۔
غمِ حسینؑ کی علامت ہو۔
سیاہ یا گہرے رنگ کا ہونا مستحب ہے۔
زینت، نمائش اور فیشن پرستی سے پاک ہو۔
خواتین مکمل حجاب اور مرد سنجیدہ و متواضع انداز اختیار کریں۔
یہی طرزِ عمل اہل بیتؑ اور بنی ہاشم کی خواتین کے عمل اور ائمۂ معصومینؑ کی تعلیمات کے زیادہ قریب ہے۔

محرم میں سادہ لباس تحریک  محرم میں سیدھے سادے کالے پہنیئے۔۔۔۔ملک کے بڑے بڑے ٹیکسٹائل ہاوسز اور ڈیزائنرز نے محرم میں نت ن...
12/06/2026

محرم میں سادہ لباس تحریک

محرم میں سیدھے سادے کالے پہنیئے۔۔۔۔ملک کے بڑے بڑے ٹیکسٹائل ہاوسز اور ڈیزائنرز نے محرم میں نت نئے بلیک اینڈ وہائٹ ڈیزائنر وئیر مارکیٹ میں ڈال دئیے ہین۔۔۔ان میں بریزے پیش پیش ھے۔۔۔۔۔۔
گل احمد کے ideas اور نشاط اور سیفائر بھی مقابلے میں شریک۔ اور شیعہ عزادار خواتین shopping میں مصروف۔ کچھ خوف خدا کریں اور عزاداری کو festival نہ بنائین ۔ نہ اپنا پیسہ ان منافع خور ڈیزائنرز کی جیبوں میں بھرین۔
محرم میں سادہ کالا لباس بغیر گل بوٹوں اور فینسی ڈیزائنگ کا پہنیئے ۔۔۔۔یاد رکھیں یہ عزاءے امام حسین ھے فینسی ڈریس شو نہی۔

یہ پیسہ ضرورت مند شیعوں کی مدد میں استعمال کریں ۔ اپنے بچوں کی تعلیم میں استعمال کریں اور اشاعت علوم و تاریخ آل محمد میں استعمال کرین۔
اس پیغام کو تحریک کی طرح پھیلائیں اور محرم میں کسی ڈیزائنر اور ٹیکسٹائل ہاوسز کی مصنوعات نہ لیں۔

یہ صرف ایک کمپنی کا نام لکھا ہے گوگل میں چیک کریں آپ کو اسطرح کی ہزاروں کمپنیاں مل جائیں گی ۔۔

جو لوگ ماتم اور زنجیر زنی کو حرام کہتے ہیں ان کے لئے قران و معصومین ع کی فرمان اور کتب اہلسنت سے جوابنوٹ۔ مجھے معلوم ہے ...
10/06/2026

جو لوگ ماتم اور زنجیر زنی کو حرام کہتے ہیں ان کے لئے قران و معصومین ع کی فرمان اور کتب اہلسنت سے جواب
نوٹ۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ لوگ قرآن اور حدیث کو نہیں مانتے مگر پھر بھی بار ان کی منحوس شکلوں پر تماچہ رسید کرنا ضروری سمجھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم سورہ النسا آیت 148
ترجمہ: اللّه پسند نہیں کرتا ماتم کو ہاں مگر سوائے مظلوم کے یعنی اللّه کو مظلوم کا ماتم پسند ہے اب مولوی بتائے کہ امام حسین ع سے زیادہ کون مظلوم تھا۔
جب حضرت (ابراہیم) ع کی بیوی کو فرشتوں نے اولاد کی بشارت سنائی تو بی بی کے بارے میں اللّه فرماتا ہے سورہ الزیارات آیت 29 ترجمہ اور وہ آگے آئی اور اپنے منہ پر ہاتھ مارا۔ یعنی پیٹا
(زنجیر زنی)
سورہ یوسف آیت 31
ترجمہ: یوسف کو دیکھ کر چھریاں چل گئی اور عورتو نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے: جب حضرت یوسف ع کی محبت میں چھریاں چل پڑی ان کے بھی تو ہاتھ اپنے چھری اپنی خون بھی اپنا تو کسی کو کوئی اعتراض کیوں؟
نہیں وہ بھی محبت کا تقاضا تھا اور ہم بھی محبت کی شدت سے زنجیر چلاتے ہیں
ِسوال: کیا امام معصوم ع کی موجودگی میں کسی نے غم وعزائے امام حسین علیہ السلام میں خون نکالا ہے؟
جواب: جی ہاں, تاریخ و روایات و مقاتل سے منقول ہیں کہ نہ فقط امام معصوم کے موجودگی میں بلکہ خود امام معصوم نے بهی خون نکالا ہے-
روایات ذیل پے توجہ دیجئے:
منقول ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کیلئے کسی شخص نے چند مصائب کربلا یاد کیا
تو امام سیدھے کھڑے ہو گئے اور مصیبت امام حسین علیہ السلام میں اپنے سر مبارک کو دیوار پر مارا جس کی وجہ سے ناک اور سر مبارک زخمی ہوا۔ اور آپ کے سر و صورت کا خون سینہ پر جاری ہو گیا اور شدت گریہ وغم کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے۔
کتاب۔ دارالسلام ج 2 صفحه 179
تالیف: علامہ حسین نوری طبرسی،
جب سیدہ بنت علی علیہا السلام کی نظر کوفہ میں اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے سر اقدس پر پڑی تو اپنی پیشانی کو چوبہ محمل پر مارا اور پیشانی مبارک سے خون جاری ہوا۔
کتاب۔ بحار الانوار ج 45 صفحه 114- 115
کتاب۔ مستدرک سفینه البحار ج 6 صفحه 246
کتاب۔ نفس المهموم صفحه 400
کتاب۔ ینابیع الموده صفحه 350
کتاب۔ ناسخ التواریخ ج 3 صفحه 53-52
کتاب۔ جزء دوم جلا العیون صفحه 238
کتاب۔ منتخب طریحی صفحه477
کتاب۔ الدمعه الساکبه ج 5 صفحه 44
کتاب۔ معالی السبطین ج 2 صفحه 99
کتاب۔ وسیله الدارین صفحه 356 الی 358
کتاب۔ حیاه امام حسین علیه السلام ج 3 صفحه 333
کتاب۔ اسرار الشهادات ج 3 صفحه 222
امام زمان عج نے امام حسین علیه السلام کو مخاطب فرماتے ہیں-
اگر زمانه نے دیر کی اور تقدیر نے مجهے روز عاشورا آپ کی نصرت سے باز رکها,
میں صبح و شام آپ کےلئے ندبه کرتا ہوں
اور آنسو کی جگہ آپ پر خون گریه کرتا ہوں-
-زیارت ناحیہ مقدسہ
-بحارالانوار ج98 صفحہ238-320
حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری جب میدان جنگ کربلا میں روانہ ہوا تو یزیدی لشکر میدان سے موم کی طرح هرسمت فرار ہوا- تب حضرت عابس نے اپنے بدن مبارک کو عریان کرکے اپنے تلوار سے اپنے سر مبارک پر مارکر لہو لہان کیا اور فرمایا "حب الحسین اجننی"
-لحوف صفحه320
-مقتل الحسین علیه السلام، سید عبدالرزاق الموسوی، صفحه251
-نفس المهموم، انتشارات دارالحجه البیضاء، صفحه255
-مقتل ابی مخنف صفحه283
جناب صعصعہ بحرین میں تهے کہ امام حسین کے کوفه جانے کے بارے میں اطلاع ملی
تو جناب صعصعہ ایک فوج و لشکر کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوا, جب جناب صعصعه کربلا پہنچا تو یزیدی لشکر نے امام کو شهید کیا تها
تب جناب صعصعه نے اپنے فوج و لشکر کو فرمان دیا
کہ سب اپنے اپنے تلواروں سے امام کے شهادت کے غم و عزا میں اپنے سر پر ماریں
منتخب طریحی ج2 صفحه478
-لم تکن رده محب الدین طبری صفحه272
عزاداری کے ایک اہم رکن کو (مواسات یا موافقت) کہتے ہیں
(مواسات یا موافقت) کے بارے میں یہ چند قابل غور احادیث با بصیرت کامل پڑهیئے
ِحضرت آدم علیہ السلام ، حضرت حوّا کی تلاش میں تھے اور کربلا سے ان کاگذر ہوا تو وہاں وہ غمگین ہوئے اوربغیر کسی وجہ سے ان کا دل دکھی ہوا، امام حسین علیہ السلام کی جائے شہادت پر وہ گرپڑے اور ان کےپائوں سے خون جاری ہوا
آسمان کی طرف سر اٹھا کر حضرت آدم نے عرض کیا:
پروردگارا! کیا مجھ سے کوئی معصیت سرزد ہوئی ہے جس کی وجہ سے مجھ پر یہ عتاب کر رہا ہے؟
میں نے پوری زمین کا طواف کیا ہے مجھے ایسی تکالیف کہیں بھی نہیں ہوئیں جو مجھے یہاں اس زمین پر ہوئیں ہیں۔
خداوندعالم نے فرمایا: اے آدم! تجھ سے کوئی معصیت نہیں ہوئی ہے، لیکن اس سر زمین پر تیرا بیٹا حسین مارا جائے گا، تیرا خون اُن کے خون کی مواسات.موافقت کی وجہ سے جاری ہوا ہے...
حضرت آدم نے امام حسین کے قاتل یزید ملعون پر چار مرتبہ لعنت کی، پھر چند قدم جبل عرفات کی طرف چلے تو وہاں حضرت حوا کو پالیا۔
-بحار الانوار، ج44، ص242
ِنیز مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام زمین کربلا سے گزرے تو وہ گھوڑے پر سوار تھے
ان کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی جس کی وجہ سے وہ گھوڑے سے گرپڑے، اور ان کا سر زخمی ہوگیا اور خون جاری ہوا،
حضرت ابراہیم علیہ السلام استغفار میں مشغول ہوگئے اور عرض کی: بارالہٰا: کیا مجھ سے کوئی تقصیر سرزد ہوگئی ہے؟
حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور کہا: آپ سے کوئی تقصیر نہیں ہوئی ہے، لیکن اس سر زمین پر آخری نبی کا نواسا اور آخری وصی کا بیٹا شہید ہوگا، پس آپ کا خون ان کی خون کے مواسات.موافقت میں جاری ہوا ہے۔
-بحار الانوار، ج44، ص243
ِنیز مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، یوشع بن نون کے ہمراہ سفر کررہے تھے جب زمین کربلا پر پہنچے تو وہاں آپ کی نعل مبارک پارہ ہوگئی اور خاردار کانٹا ان کےپائوں میں داخل ہوگیا، جس کی وجہ سے ان کےپائوں سے خون جاری ہوگیا،
آسمان کی طرف سر اٹھا کر عرض کیا:
بارالٰہا! کیا مجھ سے کوئی نامطلوب امر صادر ہوا ہے؟
اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ یہاں حسین علیہ السلام شہید ہوں گے، یہاں ان کا خون بہایا جائے گا پس تمہارا خون، ان کے خون کی موافقت کی وجہ سے جاری ہوا ہے۔
-بحار الانوار، ج44، ص244
خون کا پرسہ)
جب امام حسین ع کی شہادت ہوئی تو آسمان سے خون کی بارش ہوئی اور جو بہی پتھر اٹہایا جاتا اسکے نیچے سے خون نکلتا تھا۔ حوالا کتاب اہلسنت سرالشہادتین ص 57 ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی / حوالا اہل تشیع کامل زیارات صفحہ 118 : 119 : 142 " تو اب ہم پوچھتے ہیں شہادت امام حسین ع پر آسمان سے خون کی بارش ہوئی لیکن یہ خون کی بارش اتارنے والا کون تھا یقینا اللّه تھا کیونکہ بارش تو اللّه کے اختیار میں ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غم حسین ع میں سب سے پہلے جس نے خون کا پرسہ دیا وہ اللّه خودتھا اور قران میں اللّه فرماتا ہے سورہ فاطر آیت 43' ترجمہ : تم اللّه کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے / یعنی اللّه کا دستور بدلتا نہیں تو خون کا پرسہ شروع اللّه نے کیا لیکن یہ قیامت تک رک نہیں سکتا کیوں کہ یہ دستور اللّه نے قائم کیا اور اللّه کا دستور بدلتا نہیں
اب اگر شیعوں میں کوئی سوال کرنے والا ہو کہ کیا معصومین ع نے ماتم کیا اور خون نکالا تو ان کے لئے جواب ملاحضہ ہو
منقول روایت ہے کہ امام زین العابدین ع کے لئے کسی نے شخس نے چند مصائب کربلا یاد کیا تو امام سیدہے کھڑے ہو گئے اور مصیبت امام حسین ع میں اپنے سر مبارک دیوار پر ٹکر ماری جس کی وجہ سے آنجناب کی ناک اور سر مبارک زخمی ہوا اور اپ کے سر و سورت کا خون سینہ پر جاری ہوا اور شدت گریہ غم کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے حوالا دارالسلام جلد 2 صفحہ 179
جب سیدہ زینب سلام اللّه علیہا کی کی نظر کوفے میں اپنے بھائی حسین ع کی سر اقدس پر پڑی تو اپنی پیشانی جو چوبہ محمل پر مارا اور پیشانی مبارک سے خون جاری ہوا
امام جعفر صادق ع نے فرمایا
زندگی میں ایک بار خون کا پرسہ دینا ضرور دینا چاہئے لوگو کو پتا نہیں ہے کہ غم حسین ع میں نکلنے والے خون کی فضیلت کیا ہے محشر میں پتا چلے گا کہ اس خون کی فضیلت کیا ہے جب اس خون کا ایک قطرہ اس اقدس نورانی ہوگا کہ انبیا حیران ہونگے یا اللّه یہ کیسا نور ہے جو ہمارے نور پر حاوی ہے اور یہ کون لوگ ہیں تو اوآز قدرت ائے گی یہ حسین ع کے غم میں بہنے والے خون کا نور ہے
بحارالا نوار جلد 5 صفحہ 114 115
مسدر سفینہ الجبار جلد 6 صفحہ 246
نفس المہموم صفحہ 400
ینابیع المودہصفحہ 350
ناسخ التواریخ جلد 3 صفحہ 52 53
جز دوم جلاء العیون صفحہ 238
منتخب تریحی صفحہ 477
الدمعہ الساکبہ ج 5 صفحہ 44
معالی سبطین ج 2 صفحہ 99
وسیله الدارین صفحه 356
حیاة امام حسین ع ج 3 صفحہ 333
اسرار الشہادات ج 3 ص 222
♥️ 🌐ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
゚viralfbreelsfypシ゚viral ゚viralvideo ゚viralシ ゚viral

24 اور 25 زی الحجہ کو زیارت جامعہ اور زیارت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ع پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے زیارت جامعہ جو کہ ہ...
10/06/2026

24 اور 25 زی الحجہ کو زیارت جامعہ اور زیارت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ع پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے
زیارت جامعہ جو کہ ہر معصوم ع کے روضہ پر ، ہر مناسبت پر ، ہر جگہ پر پڑھی جا سکتی ہے
ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﺭَﺳُﻮﻝَ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻧَﺒِﻲَّ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﺧِﻴَﺮَﺓَ ﺍﻟﻠﻪ ﻣِﻦْ ﺧَﻠْﻘِﻪِ ﻭَﺃَﻣِﻴﻨَﻪُ ﻋَﻠﻰ ﻭَﺣْﻴِﻪِ ، ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﻣِﻴﺮَ ﺍﻟﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦَ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﺃَﻧْﺖَ ﺣُﺠَّﺔُ ﺍﻟﻠﻪ ﻋَﻠﻰ ﺧَﻠْﻘِﻪِ ﻭَﺑﺎﺏُ ﻋِﻠْﻤِﻪِ ﻭَﻭَﺻِﻲُّ ﻧَﺒِﻴِّﻪِ ﻭَﺍﻟﺨَﻠِﻴﻔَﺔُ ﻣِﻦْ ﺑَﻌْﺪِﻩِ ﻓِﻲ ﺃُﻣَّﺘِﻪِ ، ﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﺃُﻣَّﺔً ﻏَﺼَﺒَﺘْﻚَ ﺣَﻘَّﻚَ ﻭَﻗَﻌَﺪَﺕْ ﻣَﻘْﻌَﺪَﻙَ ﺃَﻧﺎ ﺑَﺮِﻱٌ ﻣِﻨْﻬُﻢْ ﻭَﻣِﻦْ ﺷِﻴﻌَﺘِﻬِﻢْ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ، ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚِ ﻳﺎﻓﺎﻃِﻤَﺔُ ﺍﻟﺒَﺘُﻮﻝُ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚِ ﻳﺎﺯَﻳْﻦَ ﻧِﺴﺎﺀِ ﺍﻟﻌﺎﻟَﻤِﻴﻦَ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚِ ﻳﺎﺑِﻨْﺖَ ﺭَﺳُﻮﻝِ ﺭَﺏِّ ﺍﻟﻌﺎﻟَﻤِﻴﻦَ ﺻَﻠّﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋَﻠَﻴْﻚِ ﻭَﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚِ ﻳﺎﺃُﻡَّ ﺍﻟﺤَﺴَﻦِ ﻭَﺍﻟﺤُﺴَﻴْﻦِ ﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﺃُﻣَّﺔً ﻏَﺼَﺒَﺘْﻚِ ﺣَﻘَّﻚِ ﻭَﻣَﻨَﻌَﺘْﻚِ ﻣﺎ ﺟَﻌَﻠَﻪُ ﺍﻟﻠﻪ ﻟَﻚِ ﺣَﻼﻻً ﺃَﻧﺎ ﺑَﺮِﻱٌ ﺇِﻟَﻴْﻚِ ﻣِﻨْﻬُﻢْ ﻭَﻣِﻦْ ﺷِﻴﻌَﺘِﻬِﻢْ ، ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃﺑﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺍﻟﺤَﺴَﻦَ ﺍﻟﺰَّﻛِﻲَّ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ، ﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﺃُﻣَّﺔً ﻗُﺘَﻠَﺘْﻚَ ﻭَﺑﺎﻳَﻌَﺖْ ﻓِﻲ ﺃَﻣْﺮِﻙَ ﻭَﺷﺎﻳَﻌَﺖْ ﺃَﻧﺎ ﺑَﺮِﻱٌ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ﻣِﻨْﻬُﻢْ ﻭَﻣِﻦْ ﺷِﻴﻌَﺘِﻬِﻢْ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺤُﺴَﻴْﻦَ ﺑْﻦَ ﻋَﻠِﻲٍّ ﺻَﻠَﻮﺍﺕُ ﺍﻟﻠﻪ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻭَﻋَﻠﻰ ﺃَﺑِﻴﻚَ ﻭَﺟَﺪِّﻙَ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺻَﻠّﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺁﻟِﻪِ ، ﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﺃُﻣَّﺔً ﺍﺳْﺘَﺤَﻠَّﺖْ ﺩَﻣَﻚَ ﻭَﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﺃُﻣَّﺔً ﻗَﺘَﻠَﺘْﻚَ ﻭَﺍﺳْﺘَﺒﺎﺣَﺖْ ﺣَﺮِﻳﻤَﻚَ ﻭَﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﺃَﺷْﻴﺎﻋَﻬُﻢْ ﻭَﺃَﺗْﺒﺎﻋَﻬُﻢْ ﻭَﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻤُﻤَﻬّﺪِﻳﻦَ ﻟَﻬُﻢْ ﺑِﺎﻟﺘَّﻤْﻜِﻴﻦِ ﻣِﻦْ ﻗِﺘﺎﻟِﻜُﻢْ ﺃَﻧﺎ ﺑَﺮِﻱٌ ﺇِﻟﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻭَﺇِﻟﻴﻜﻢ ﻣِﻨْﻬُﻢْ ، ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃﺑﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻋَﻠِﻲَّ ﺑْﻦَ ﺍﻟﺤُﺴَﻴْﻦِ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﺟَﻌْﻔَﺮٍ ﻣُﺤَﻤَّﺪَ ﺑْﻦَ ﻋَﻠِﻲٍّ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﻋَﺒْﺪِ ﺍﻟﻠﻪ ﺟَﻌْﻔَﺮَ ﺑْﻦَ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﺍﻟﺤَﺴَﻦِ ﻣُﻮﺳﻰ ﺑْﻦَ ﺟَﻌْﻔَﺮٍ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﺍﻟﺤَﺴَﻦِ ﻋَﻠِﻲَّ ﺑْﻦَ ﻣُﻮﺳﻰ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﺟَﻌْﻔَﺮٍ ﻣُﺤَﻤَّﺪَ ﺑْﻦَ ﻋَﻠِﻲٍّ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﺍﻟﺤَﺴَﻦِ ﻋَﻠِﻲَّ ﺑْﻦَ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﺍﻟﺤَﺴَﻦَ ﺑْﻦَ ﻋَﻠِﻲٍّ ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﻳﺎﺃَﺑﺎ ﺍﻟﻘﺎﺳِﻢِ ﻣُﺤَﻤَّﺪَ ﺑْﻦَ ﺍﻟﺤَﺴَﻦِ ﺻﺎﺣِﺐَ ﺍﻟﺰَّﻣﺎﻥِ ، ﺻَﻠّﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻭَﻋَﻠﻰ ﻋِﺘْﺮَﺗِﻚَ ﺍﻟﻄَّﺎﻫِﺮَﺓِ ﺍﻟﻄَّﻴِّﺒَﺔِ . ﻳﺎﻣَﻮﺍﻟِﻲَّ ﻛُﻮﻧُﻮﺍ ﺷُﻔَﻌﺎﺋِﻲ ﻓِﻲ ﺣَﻂِّ ﻭِﺯْﺭِﻱ ﻭَﺧَﻄﺎﻳﺎﻱَ ، ﺁﻣَﻨْﺖُ ﺑِﺎﻟﻠﻪ ﻭَﺑِﻤﺎ ﺃُﻧْﺰِﻝَ ﺇِﻟَﻴْﻜُﻢْ ﻭَﺃَﺗَﻮﺍﻟﻰ ﺁﺧِﺮَﻛُﻢْ ﺑِﻤﺎ ﺃَﺗَﻮﺍﻟﻰ ﺃَﻭَّﻟَﻜُﻢْ ﻭَﺑَﺮِﺋْﺖُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺠِﺒْﺖِ ﻭَﺍﻟﻄَّﺎﻏُﻮﺕِ ﻭَﺍﻟﻼّﺕِ ﻭَﺍﻟﻌُﺰَّﻯ ، ﻳﺎﻣَﻮْﻻﻱَ ﺃَﻧﺎ ﺳِﻠْﻢٌ ﻟِﻤَﻦْ ﺳﺎﻟَﻤَﻜُﻢْ ﻭَﺣَﺮْﺏٌ ﻟِﻤَﻦْ ﺣﺎﺭَﺑَﻜُﻢْ ﻭَﻋَﺪُﻭُّ ﻟِﻤَﻦْ ﻋﺎﺩﺍﻛُﻢْ ﻭَﻭَﻟِﻲُّ ﻟِﻤَﻦْ ﻭَﺍﻻﻛُﻢْ ﺇِﻟﻰ ﻳَﻮْﻡِ ﺍﻟﻘِﻴﺎﻣَﺔِ ، ﻭَﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﻇﺎﻟِﻤِﻴﻜُﻢْ ﻭَﻏﺎﺻِﺒِﻴﻜُﻢْ ﻭَﻟَﻌَﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﺃَﺷْﻴﺎﻋَﻬُﻢْ ﻭَﺃَﺗْﺒﺎﻋَﻬُﻢْ ﻭَﺃَﻫْﻞَ ﻣَﺬْﻫَﺒِﻬِﻢْ ﻭَﺃَﺑْﺮَﺃُ ﺇِﻟﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻭَﺇِﻟَﻴْﻜُﻢْ ﻣِﻨْﻬُﻢ

مفاتیح الجنان ص 1068

زیارت امین اللہ بھی زیارت جامعہ میں شمار کی جاتی ہے جو کہ ہر معصوم ع کی قبر مبارک پر ، مناسبت پر پڑھی جاتی ہے
ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﺃَﻣِﻴﻦَ ﺍﻟﻠﻪ ﻓِﻲ ﺃَﺭْﺿِﻪِ ﻭَﺣُﺠَّﺘَﻪُ ﻋَﻠﻰ ﻋِﺒﺎﺩِﻩِ ، ﺍﻟﺴَّﻼﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﻳﺎﺃَﻣِﻴَﺮ ﺍﻟﻤُﺆْﻣِﻨِﻴﻦَ ، ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻧَّﻚَ ﺟﺎﻫَﺪْﺕَ ﻓِﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﺣَﻖَّ ﺟِﻬﺎﺩِﻩِ ﻭَﻋَﻤِﻠْﺖَ ﺑِﻜِﺘﺎﺑِﻪِ ﻭَﺍﺗَّﺒَﻌْﺖَ ﺳُﻨَﻦَ ﻧَﺒِﻴِّﻪِ ﺻَﻠّﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺁﻟِﻪِ ﺣَﺘّﻰ ﺩَﻋﺎﻙَ ﺍﻟﻠﻪ ﺇِﻟﻰ ﺟِﻮﺍﺭِﻩِ ﻓَﻘَﺒَﻀَﻚَ ﺇِﻟَﻴْﻪِ ﺑِﺎﺧْﺘِﻴﺎﺭِﻩِ ﻭَﺃَﻟْﺰَﻡَ ﺃَﻋْﺪﺍﺋَﻚَ ﺍﻟﺤُﺠَّﺔَ ﻣَﻊَ ﻣﺎ ﻟَﻚَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺤُﺠَﺞِ ﺍﻟﺒﺎﻟِﻐَﺔِ ﻋَﻠﻰ ﺟَﻤِﻴﻊِ ﺧَﻠْﻘِﻪِ ، ﺍﻟﻠّﻬُﻢَّ ﻓَﺎﺟْﻌَﻞْ ﻧَﻔْﺴِﻲ ﻣُﻄْﻤَﺌِﻨَّﺔً ﺑِﻘَﺪَﺭِﻙَ ﺭﺍﺿِﻴﺔً ﺑِﻘَﻀﺎﺋِﻚَ ﻣُﻮﻟَﻌَﺔً ﺑِﺬِﻛْﺮِﻙَ ﻭَﺩُﻋﺎﺋِﻚَ ﻣُﺤِﺒَّﺔً ﻟِﺼَﻔْﻮَﺓِ ﺃَﻭْﻟِﻴﺎﺋِﻚَ ﻣَﺤْﺒُﻮﺑَﺔً ﻓِﻲ ﺃَﺭْﺿِﻚَ ﻭَﺳَﻤﺎﺋِﻚَ ﺻﺎﺑِﺮَﺓً ﻋَﻠﻰ ﻧُﺰُﻭﻝِ ﺑَﻼﺋِﻚَ ﺷﺎﻛِﺮَﺓً ﻟِﻔَﻮﺍﺿِﻞِ ﻧَﻌْﻤﺎﺋِﻚَ ﺫﺍﻛِﺮَﺓً ﻟِﺴَﻮﺍﺑِﻎِ ﺁﻻﺋِﻚَ ﻣُﺸْﺘﺎﻗَﺔً ﺇِﻟﻰ ﻓَﺮْﺣَﺔِ ﻟِﻘﺎﺋِﻚَ ﻣُﺘَﺰَﻭِّﺩَﺓً ﺍﻟﺘَّﻘْﻮﻯ ﻟِﻴَﻮْﻡِ ﺟَﺰﺍﺋِﻚَ ﻣُﺴْﺘَﻨَّﺔً ﺑِﺴُﻨَﻦِ ﺃَﻭْﻟِﻴﺎﺋِﻚَ ﻣُﻔﺎﺭِﻗَﺔً ﻻَﺧْﻼﻕِ ﺃَﻋْﺪﺍﺋِﻚَ ﻣَﺸْﻐُﻮﻟَﺔً ﻋَﻦِ ﺍﻟﺪُّﻧْﻴﺎ ﺑِﺤَﻤْﺪِﻙَ ﻭَﺛَﻨﺎﺋِﻚَ
ﺍﻟﻠّﻬُﻢَّ ﻗُﻠُﻮﺏَ ﺍﻟﻤُﺨْﺒِﺘِﻴﻦَ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ﻭﺍﻟِﻬَﺔٌ ﻭَﺳُﺒُﻞَ ﺍﻟﺮَّﺍﻏِﺒِﻴﻦَ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ﺷﺎﺭِﻋَﺔً ﻭَﺃَﻋْﻼﻡَ ﺍﻟﻘﺎﺻِﺪِﻳﻦَ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ﻭَﺍﺿِﺤَﺔٌ ﻭَﺃَﻓْﺌِﺪَﺓَ ﺍﻟﻌﺎﺭِﻓِﻴﻦَ ﻣِﻨْﻚَ ﻓﺎﺯِﻋَﺔٌ ﻭَﺃَﺻْﻮﺍﺕَ ﺍﻟﺪَّﺍﻋِﻴﻦَ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ﺻﺎﻋِﺪَﺓٌ ﻭَﺃَﺑْﻮﺍﺏَ ﺍﻹﺟﺎﺑَﺔِ ﻟَﻬُﻢْ ﻣُﻔَﺘَّﺤَﺔٌ ﻭَﺩَﻋْﻮَﺓَ ﻣَﻦْ ﻧﺎﺟﺎﻙَ ﻣُﺴْﺘَﺠﺎﺑَﻪٌ ﻭَﺗَﻮْﺑَﺔَ ﻣَﻦْ ﺃَﻧﺎﺏَ ﺇِﻟَﻴْﻚَ ﻣَﻘْﺒُﻮﻟَﺔٌ ﻭَﻋَﺒْﺮَﺓَ ﻣَﻦْ ﺑَﻜﻰ ﻣِﻦْ ﺧَﻮْﻓِﻚَ ﻣَﺮْﺣُﻮﻣَﺔٌ ﻭَﺍﻻِﻏﺎﺛَﺔَ ﻟِﻤَﻦْ ﺍﺳْﺘَﻐﺎﺙَ ﺑِﻚَ ﻣَﻮْﺟُﻮﺩَﺓٌ ﻭَﺍﻹﻋﺎﻧَﺔَ ﻟِﻤَﻦْ ﺍﺳْﺘَﻌﺎﻥَ ﺑِﻚَ ﻣَﺒْﺬُﻭﻟَﺔٌ ﻭَﻋِﺪﺍﺗِﻚَ ﻟِﻌِﺒﺎﺩِﻙَ ﻣُﻨْﺠَﺰَﻩٌ ﻭَﺯَﻟَﻞَ ﻣَﻦِ ﺍﺳْﺘَﻘﺎﻟَﻚَ ﻣُﻘﺎﻟَﺔٌ ﻭَﺃَﻋْﻤﺎﻝَ ﺍﻟﻌﺎﻣِﻠِﻴﻦَ ﻟَﺪَﻳْﻚَ ﻣَﺤْﻔُﻮﻇَﺔٌ ﻭَﺃَﺭْﺯﺍﻗَﻚَ ﺇِﻟﻰ ﺍﻟﺨَﻼﺋِﻖِ ﻣِﻦْ ﻟَﺪُﻧْﻚَ ﻧﺎﺯِﻟَﺔٌ ﻭَﻋَﻮﺍﺋِﺪَ ﺍﻟﻤَﺰِﻳﺪِ ﺇِﻟَﻴْﻬِﻢْ ﻭﺍﺻِﻠَﺔٌ ﻭَﺫُﻧُﻮﺏَ ﺍﻟﻤُﺴْﺘَﻐْﻔِﺮِﻳﻦَ ﻣَﻐْﻔُﻮﺭَﺓٌ ﻭَﺣَﻮﺍﺋِﺞَ ﺧَﻠْﻘِﻚَ ﻋِﻨْﺪَﻙَ ﻣَﻘْﻀِﻴَّﺔٌ ﻭَﺟَﻮﺍﺋِﺰَ ﺍﻟﺴَّﺎﺋِﻠِﻴﻦَ ﻋِﻨْﺪَﻙَ ﻣَﻮْﻓَّﺮَﺓٌ ﻭَﻋَﻮﺍﺋِﺪَ ﺍﻟﻤَﺰِﻳﺪِ ﻣُﺘَﻮﺍﺗِﺮَﺓٌ ﻭَﻣَﻮﺍﺋِﺪَ ﺍﻟﻤُﺴْﺘَﻄْﻌِﻤِﻴﻦَ ﻣُﻌَﺪَّﺓٌ ﻭَﻣَﻨﺎﻫِﻞَ ﺍﻟﻈِّﻤﺎﺀِ ﻣُﺘْﺮَﻋَﺔٌ ﺍﻟﻠّﻬُﻢَّ ﻓَﺎﺳْﺘَﺠِﺐْ ﺩُﻋﺎﺋِﻲ ﻭَﺍﻗْﺒَﻞْ ﺛَﻨﺎﺋِﻲ ﻭَﺍﺟْﻤَﻊْ ﺑَﻴْﻨِﻲ ﻭَﺑَﻴْﻦَ ﺃَﻭْﻟِﻴﺎﺋِﻲ ﺑِﺤَﻖِّ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَﻋَﻠِﻲٍّ ﻭَﻓﺎﻃِﻤَﺔَ ﻭَﺍﻟﺤَﺴَﻦِ ﻭَﺍﻟﺤُﺴَﻴْﻦِ ﺇِﻧَّﻚَ ﻭَﻟِﻲُّ ﻧَﻌْﻤﺎﺋِﻲ ﻭَﻣُﻨْﺘَﻬﻰ ﻣُﻨﺎﻱَ ﻭَﻏﺎﻳَﺔُ ﺭَﺟﺎﺋِﻲ ﻓِﻲ ﻣُﻨْﻘَﻠَﺒِﻲ ﻭَﻣَﺜْﻮﺍﻱَ ﺃَﻧْﺖَ ﺇِﻟﻬِﻲ ﻭَﺳَﻴِّﺪِﻱ ﻭَﻣَﻮْﻻﻱَ ﺍﻏْﻔِﺮْ ﻻَﺅْﻟِﻴﺎﺋِﻨﺎ ﻭَﻛُﻒَّ ﻋَﻨَّﺎ ﺃَﻋْﺪﺍﺋَﻨﺎ ﻭَﺍﺷْﻐَﻠْﻬُﻢْ ﻋَﻦْ ﺃَﺫﺍﻧﺎ ﻭَﺃَﻇْﻬِﺮْ ﻛَﻠِﻤَﺔَ ﺍﻟﺤَﻖِّ ﻭَﺍﺟْﻌَﻠْﻬﺎ ﺍﻟﻌُﻠْﻴﺎ ﻭَﺃﺩْﺣِﺾْ ﻛَﻠِﻤَﺔَ ﺍﻟﺒﺎﻃِﻞِ ﻭَﺍﺟْﻌَﻠْﻬﺎ ﺍﻟﺴُّﻔْﻠﻰ ﺇِﻧَّﻚَ ﻋَﻠﻰ ﻛُﻞِّ ﺷَﻲٍْ ﻗَﺪِﻳﺮٌ

مفاتیح الجنان ص 680

عیدِ غدیر اسپیشل آفر  ایرانی، عراقی، لبنانی، عبایا کلیکشن حیا، وقار اور سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراءؑ کی سیرت کی خوشب...
06/06/2026

عیدِ غدیر اسپیشل آفر
ایرانی، عراقی، لبنانی، عبایا کلیکشن
حیا، وقار اور سیدۂ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراءؑ کی سیرت کی خوشبو کے ساتھ...
جدید اور خوبصورت ڈیزائن ✨ اعلیٰ معیار کا کپڑا ✨ آرام دہ اور باوقار اسٹائل ✨ مناسب قیمتیں
"حجاب عورت کا تاج اور اس کی عزت و عصمت کی پہچان ہے"
اپنے لیے یا اپنے پیاروں کے لیے خوبصورت عبایا اور حجاب آج ہی آرڈر کریں۔
🛍 One Ten Online Store
⭐ 6 Years Of Online Trust
📲 For Order & Details
WhatsApp: 0312 3128110
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

`علی پر شک نہ کرنا`*رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا :-اے ابن عباس ! خبردار ! علی علیہ السلام کے بارے میں شک ت...
06/06/2026

`علی پر شک نہ کرنا`

*رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا :-

اے ابن عباس ! خبردار ! علی علیہ السلام کے بارے میں شک تمھارے دل میں نہ آۓ کیونکہ علی علیہ السلام کے بارے شک کرنا اللہ کا انکار کرنا ہے

*اللَّهُـــــمَّ صَـــــلِّ عَـــــلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَــــــــمَّدٍ , اَللّهُـــــــمَّ عَجِّـــــلْ لِوَلیِّـــکَ فَرَجَهُـــــــــمْ والعَـــنْ اعدائھـــــــــم و الجــــــبت و الطاغـــوت , أَلـلّـهُــــــــمَّ ارْزُقْـنـی شَـــــفـاعَــةَ الْــحُــــسَـیْـنِ یَــومَ الْــوُرُودِ , الـلّــــــهُـمَ اَرزُقـنــٰا فِـی اَلْـدُنْیٰـــا زیٰــــارَۃ اَلْــمہـــــدی ع.*

*حــــــــــــــوالہ کتـــــب حــــــــــــدیث معصــــــــوم📚 :- الامالی شیخ طوسی ج1 صف105*

غدیرِ خم کے منکر پر عذابِ الٰہی(حارث بن نعمان فہری کا واقعہ)غدیرِ خم میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان فرمایا:مَنْ...
04/06/2026

غدیرِ خم کے منکر پر عذابِ الٰہی
(حارث بن نعمان فہری کا واقعہ)
غدیرِ خم میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان فرمایا:
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
"جس جس کا میں مولا ہوں، علیؑ اس کے مولا ہیں۔"
اعلانِ غدیر کے بعد حارث بن نعمان فہری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا:
يا محمد! أمرتنا عن الله أن نشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله فقبلناه منك... ثم لم ترض بهذا حتى رفعت بضبعي ابن عمك ففضلته علينا وقلت: من كنت مولاه فعلي مولاه، أفهذا شيء منك أم من الله؟
"اے محمدؐ! آپ نے ہمیں اللہ کی طرف سے توحید، رسالت اور دیگر احکام دیئے، ہم نے قبول کر لیے، پھر آپ نے اپنے چچا زاد بھائی علیؑ کا ہاتھ بلند کرکے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اس کا علیؑ مولا ہے، کیا یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
والذي لا إله إلا هو، إن هذا من الله عز وجل
"اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، یہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے۔"
یہ سن کر حارث پلٹا اور کہنے لگا:
اللهم إن كان ما يقول محمد حقاً فأمطر علينا حجارة من السماء أو ائتنا بعذاب أليم
"اے اللہ! اگر محمدؐ کی یہ بات حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا دردناک عذاب نازل فرما۔"
روایت کے مطابق ابھی وہ اپنی سواری تک نہ پہنچا تھا کہ آسمان سے ایک پتھر آیا، اس کے سر پر لگا اور وہ ہلاک ہوگیا۔
اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ۝ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ
"ایک سوال کرنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا، جو کافروں پر آنے والا ہے اور اسے کوئی روکنے والا نہیں۔"
(سورۃ المعارج 70:1-2)
مراجع و حوالہ جات
تفسیر ثعلبی
تفسیر الثعلبی، سورۃ المعارج، آیت 1
شواہد التنزیل
شواہد التنزیل
ج 2، ص 286، حدیث 1017
الاحتجاج
الاحتجاج
ج 1، ص 66
الغدیر
الغدیر
ج 1، ص 239 تا 247
مجمع البیان
مجمع البیان
تفسیر سورۃ المعارج
نور الابصار
نور الأبصار
ص 87

Address

Sahiwala
57000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ﯾﺎ ﻏــــﺎﺯﯼ ﻋﺒـــﺎﺱ ﻋﻠﻤــــﺪﺍﺭ ﻋﻠﯿــــﮧ ﺍﻟﺴــــﻼﻡ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share