10/06/2026
جو لوگ ماتم اور زنجیر زنی کو حرام کہتے ہیں ان کے لئے قران و معصومین ع کی فرمان اور کتب اہلسنت سے جواب
نوٹ۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ لوگ قرآن اور حدیث کو نہیں مانتے مگر پھر بھی بار ان کی منحوس شکلوں پر تماچہ رسید کرنا ضروری سمجھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم سورہ النسا آیت 148
ترجمہ: اللّه پسند نہیں کرتا ماتم کو ہاں مگر سوائے مظلوم کے یعنی اللّه کو مظلوم کا ماتم پسند ہے اب مولوی بتائے کہ امام حسین ع سے زیادہ کون مظلوم تھا۔
جب حضرت (ابراہیم) ع کی بیوی کو فرشتوں نے اولاد کی بشارت سنائی تو بی بی کے بارے میں اللّه فرماتا ہے سورہ الزیارات آیت 29 ترجمہ اور وہ آگے آئی اور اپنے منہ پر ہاتھ مارا۔ یعنی پیٹا
(زنجیر زنی)
سورہ یوسف آیت 31
ترجمہ: یوسف کو دیکھ کر چھریاں چل گئی اور عورتو نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے: جب حضرت یوسف ع کی محبت میں چھریاں چل پڑی ان کے بھی تو ہاتھ اپنے چھری اپنی خون بھی اپنا تو کسی کو کوئی اعتراض کیوں؟
نہیں وہ بھی محبت کا تقاضا تھا اور ہم بھی محبت کی شدت سے زنجیر چلاتے ہیں
ِسوال: کیا امام معصوم ع کی موجودگی میں کسی نے غم وعزائے امام حسین علیہ السلام میں خون نکالا ہے؟
جواب: جی ہاں, تاریخ و روایات و مقاتل سے منقول ہیں کہ نہ فقط امام معصوم کے موجودگی میں بلکہ خود امام معصوم نے بهی خون نکالا ہے-
روایات ذیل پے توجہ دیجئے:
منقول ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کیلئے کسی شخص نے چند مصائب کربلا یاد کیا
تو امام سیدھے کھڑے ہو گئے اور مصیبت امام حسین علیہ السلام میں اپنے سر مبارک کو دیوار پر مارا جس کی وجہ سے ناک اور سر مبارک زخمی ہوا۔ اور آپ کے سر و صورت کا خون سینہ پر جاری ہو گیا اور شدت گریہ وغم کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے۔
کتاب۔ دارالسلام ج 2 صفحه 179
تالیف: علامہ حسین نوری طبرسی،
جب سیدہ بنت علی علیہا السلام کی نظر کوفہ میں اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے سر اقدس پر پڑی تو اپنی پیشانی کو چوبہ محمل پر مارا اور پیشانی مبارک سے خون جاری ہوا۔
کتاب۔ بحار الانوار ج 45 صفحه 114- 115
کتاب۔ مستدرک سفینه البحار ج 6 صفحه 246
کتاب۔ نفس المهموم صفحه 400
کتاب۔ ینابیع الموده صفحه 350
کتاب۔ ناسخ التواریخ ج 3 صفحه 53-52
کتاب۔ جزء دوم جلا العیون صفحه 238
کتاب۔ منتخب طریحی صفحه477
کتاب۔ الدمعه الساکبه ج 5 صفحه 44
کتاب۔ معالی السبطین ج 2 صفحه 99
کتاب۔ وسیله الدارین صفحه 356 الی 358
کتاب۔ حیاه امام حسین علیه السلام ج 3 صفحه 333
کتاب۔ اسرار الشهادات ج 3 صفحه 222
امام زمان عج نے امام حسین علیه السلام کو مخاطب فرماتے ہیں-
اگر زمانه نے دیر کی اور تقدیر نے مجهے روز عاشورا آپ کی نصرت سے باز رکها,
میں صبح و شام آپ کےلئے ندبه کرتا ہوں
اور آنسو کی جگہ آپ پر خون گریه کرتا ہوں-
-زیارت ناحیہ مقدسہ
-بحارالانوار ج98 صفحہ238-320
حضرت عابس بن ابی شبیب شاکری جب میدان جنگ کربلا میں روانہ ہوا تو یزیدی لشکر میدان سے موم کی طرح هرسمت فرار ہوا- تب حضرت عابس نے اپنے بدن مبارک کو عریان کرکے اپنے تلوار سے اپنے سر مبارک پر مارکر لہو لہان کیا اور فرمایا "حب الحسین اجننی"
-لحوف صفحه320
-مقتل الحسین علیه السلام، سید عبدالرزاق الموسوی، صفحه251
-نفس المهموم، انتشارات دارالحجه البیضاء، صفحه255
-مقتل ابی مخنف صفحه283
جناب صعصعہ بحرین میں تهے کہ امام حسین کے کوفه جانے کے بارے میں اطلاع ملی
تو جناب صعصعہ ایک فوج و لشکر کے ساتھ کوفہ کی طرف روانہ ہوا, جب جناب صعصعه کربلا پہنچا تو یزیدی لشکر نے امام کو شهید کیا تها
تب جناب صعصعه نے اپنے فوج و لشکر کو فرمان دیا
کہ سب اپنے اپنے تلواروں سے امام کے شهادت کے غم و عزا میں اپنے سر پر ماریں
منتخب طریحی ج2 صفحه478
-لم تکن رده محب الدین طبری صفحه272
عزاداری کے ایک اہم رکن کو (مواسات یا موافقت) کہتے ہیں
(مواسات یا موافقت) کے بارے میں یہ چند قابل غور احادیث با بصیرت کامل پڑهیئے
ِحضرت آدم علیہ السلام ، حضرت حوّا کی تلاش میں تھے اور کربلا سے ان کاگذر ہوا تو وہاں وہ غمگین ہوئے اوربغیر کسی وجہ سے ان کا دل دکھی ہوا، امام حسین علیہ السلام کی جائے شہادت پر وہ گرپڑے اور ان کےپائوں سے خون جاری ہوا
آسمان کی طرف سر اٹھا کر حضرت آدم نے عرض کیا:
پروردگارا! کیا مجھ سے کوئی معصیت سرزد ہوئی ہے جس کی وجہ سے مجھ پر یہ عتاب کر رہا ہے؟
میں نے پوری زمین کا طواف کیا ہے مجھے ایسی تکالیف کہیں بھی نہیں ہوئیں جو مجھے یہاں اس زمین پر ہوئیں ہیں۔
خداوندعالم نے فرمایا: اے آدم! تجھ سے کوئی معصیت نہیں ہوئی ہے، لیکن اس سر زمین پر تیرا بیٹا حسین مارا جائے گا، تیرا خون اُن کے خون کی مواسات.موافقت کی وجہ سے جاری ہوا ہے...
حضرت آدم نے امام حسین کے قاتل یزید ملعون پر چار مرتبہ لعنت کی، پھر چند قدم جبل عرفات کی طرف چلے تو وہاں حضرت حوا کو پالیا۔
-بحار الانوار، ج44، ص242
ِنیز مروی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام زمین کربلا سے گزرے تو وہ گھوڑے پر سوار تھے
ان کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی جس کی وجہ سے وہ گھوڑے سے گرپڑے، اور ان کا سر زخمی ہوگیا اور خون جاری ہوا،
حضرت ابراہیم علیہ السلام استغفار میں مشغول ہوگئے اور عرض کی: بارالہٰا: کیا مجھ سے کوئی تقصیر سرزد ہوگئی ہے؟
حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور کہا: آپ سے کوئی تقصیر نہیں ہوئی ہے، لیکن اس سر زمین پر آخری نبی کا نواسا اور آخری وصی کا بیٹا شہید ہوگا، پس آپ کا خون ان کی خون کے مواسات.موافقت میں جاری ہوا ہے۔
-بحار الانوار، ج44، ص243
ِنیز مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، یوشع بن نون کے ہمراہ سفر کررہے تھے جب زمین کربلا پر پہنچے تو وہاں آپ کی نعل مبارک پارہ ہوگئی اور خاردار کانٹا ان کےپائوں میں داخل ہوگیا، جس کی وجہ سے ان کےپائوں سے خون جاری ہوگیا،
آسمان کی طرف سر اٹھا کر عرض کیا:
بارالٰہا! کیا مجھ سے کوئی نامطلوب امر صادر ہوا ہے؟
اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ یہاں حسین علیہ السلام شہید ہوں گے، یہاں ان کا خون بہایا جائے گا پس تمہارا خون، ان کے خون کی موافقت کی وجہ سے جاری ہوا ہے۔
-بحار الانوار، ج44، ص244
خون کا پرسہ)
جب امام حسین ع کی شہادت ہوئی تو آسمان سے خون کی بارش ہوئی اور جو بہی پتھر اٹہایا جاتا اسکے نیچے سے خون نکلتا تھا۔ حوالا کتاب اہلسنت سرالشہادتین ص 57 ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی / حوالا اہل تشیع کامل زیارات صفحہ 118 : 119 : 142 " تو اب ہم پوچھتے ہیں شہادت امام حسین ع پر آسمان سے خون کی بارش ہوئی لیکن یہ خون کی بارش اتارنے والا کون تھا یقینا اللّه تھا کیونکہ بارش تو اللّه کے اختیار میں ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غم حسین ع میں سب سے پہلے جس نے خون کا پرسہ دیا وہ اللّه خودتھا اور قران میں اللّه فرماتا ہے سورہ فاطر آیت 43' ترجمہ : تم اللّه کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے / یعنی اللّه کا دستور بدلتا نہیں تو خون کا پرسہ شروع اللّه نے کیا لیکن یہ قیامت تک رک نہیں سکتا کیوں کہ یہ دستور اللّه نے قائم کیا اور اللّه کا دستور بدلتا نہیں
اب اگر شیعوں میں کوئی سوال کرنے والا ہو کہ کیا معصومین ع نے ماتم کیا اور خون نکالا تو ان کے لئے جواب ملاحضہ ہو
منقول روایت ہے کہ امام زین العابدین ع کے لئے کسی نے شخس نے چند مصائب کربلا یاد کیا تو امام سیدہے کھڑے ہو گئے اور مصیبت امام حسین ع میں اپنے سر مبارک دیوار پر ٹکر ماری جس کی وجہ سے آنجناب کی ناک اور سر مبارک زخمی ہوا اور اپ کے سر و سورت کا خون سینہ پر جاری ہوا اور شدت گریہ غم کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے حوالا دارالسلام جلد 2 صفحہ 179
جب سیدہ زینب سلام اللّه علیہا کی کی نظر کوفے میں اپنے بھائی حسین ع کی سر اقدس پر پڑی تو اپنی پیشانی جو چوبہ محمل پر مارا اور پیشانی مبارک سے خون جاری ہوا
امام جعفر صادق ع نے فرمایا
زندگی میں ایک بار خون کا پرسہ دینا ضرور دینا چاہئے لوگو کو پتا نہیں ہے کہ غم حسین ع میں نکلنے والے خون کی فضیلت کیا ہے محشر میں پتا چلے گا کہ اس خون کی فضیلت کیا ہے جب اس خون کا ایک قطرہ اس اقدس نورانی ہوگا کہ انبیا حیران ہونگے یا اللّه یہ کیسا نور ہے جو ہمارے نور پر حاوی ہے اور یہ کون لوگ ہیں تو اوآز قدرت ائے گی یہ حسین ع کے غم میں بہنے والے خون کا نور ہے
بحارالا نوار جلد 5 صفحہ 114 115
مسدر سفینہ الجبار جلد 6 صفحہ 246
نفس المہموم صفحہ 400
ینابیع المودہصفحہ 350
ناسخ التواریخ جلد 3 صفحہ 52 53
جز دوم جلاء العیون صفحہ 238
منتخب تریحی صفحہ 477
الدمعہ الساکبہ ج 5 صفحہ 44
معالی سبطین ج 2 صفحہ 99
وسیله الدارین صفحه 356
حیاة امام حسین ع ج 3 صفحہ 333
اسرار الشہادات ج 3 ص 222
♥️ 🌐ㅤ 📩 📤
ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ
゚viralfbreelsfypシ゚viral ゚viralvideo ゚viralシ ゚viral