Ummat-e-Muslima

Ummat-e-Muslima امت مسلمہ کی تشکیل نو
وحدت، محبت، اخوت
ملک اظہر اسماعیل

ہماری دعوت
امت مسلمہ۔۔۔امت مسلمہ۔۔۔ امت مسلمہ۔۔۔۔۔ آ پ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ امت مسلمہ کیا ہے؟ امت مسلمہ کہاں ہے؟ اور امت مسلمہ والے کون لوگ ہیں؟

میرے کلمہ گو بھائیو! غور سے سنو! امت مسلمہ ایک جماعت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جماعت۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ جماعت آج سے تقریباً سوا چودہ سو سال قبل قائم کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تو جماعت یعنی امت مسلمہ کے اندر پھوٹ پڑنے کا سوال ہی پیدا نہی

ں ہوتا تھااور رسول ﷺ کے بعد بھی حتی الامکان کوشش کی گئی کہ جماعت کے اندر تفرقہ اور پارٹی بازی نہ ہو سکے۔ تاہم امت مسلمہ بہت زیادہ عرصے تک متحد نہ رہ سکی اور اس کے اندر فرقے اور پارٹیاں وجود میں آنے لگیں۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے امت مسلمہ اتنے فرقوں اور پارٹیوں میں تقسیم ہو گئی کہ امت مسلمہ کا صرف نام ہی رہ گیا۔ اور امت مسلمہ کے کم و بیش تمام لوگوں نے اپنے اپنے فرقے اور پارٹیاں بنا لیں۔ اس تفرقے اور پارٹی بازی کا سارا نقصان امت مسلمہ اور دین ِ اسلام کو پہنچا، اور نہ صرف یہ کہ دین کا غلبہ برقرار نہ رہ سکا بلکہ مسلمان مکمل طور پر زوال کا شکار ہو کر دوسری قوموں کے محکوم بن گئے۔اس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا فرقوں اور پارٹیوں میں تقسیم ہوجانا ہے۔ ہر فرقہ اپنی بالا دستی چاہتا ہے، ہر پارٹی اپنی برتری اور فوقیت کی خواہاں ہے۔ جس کا نتیجہ یہ کہ اللہ کے دین یعنی اسلام کی جگہ جمہوریت نے اور بادشاہت نے لے لی اور امت مسلمہ کی جگہ فرقوں نے لے لی۔

اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے جمہوریت اور بادشاہت کی جگہ اللہ کے دین یعنی اسلام کو نافذ و غالب کرنے کے لیے، اور فرقوں اور پارٹیوں کی بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جماعت یعنی امت مسلمہ کو بحال و فعال کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ہماری طرح ہر کلمہ گو کی دینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر قسم کے باطل اور طاغوتی نظام کے خلاف اٹھ کھڑا ہو اور اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے ایک جماعت بن کر، متحد ہو کر،ہر قسم کی فرقہ پرستی اور پارٹی بازی سے بالا تر ہو کرصرف امت مسلمہ کو بحال و فعال کرنے کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دے۔جب تک مسلمان فرقوں اور پارٹیوں کو چھوڑ کر صرف ایک جماعت یعنی رسول ﷺ کی جماعت امت مسلمہ میں واپس نہیں آتے، اور اس طرح متحد و متفق ہو کر جد و جہد نہیں کرتے، اس وقت تک غلبہ دین حق کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اگر مسلمانوں نے اپنی روش نہ بدلی تو انہیں ذلت و رسوائی کے گڑھے سے کوئی نہیں نکال سکتا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس پوسٹ کو اپنے دوست و احباب کے ساتھ شیر بھی کیجئے ہمارا یوٹیوب چینل ضرور سبسکرائب کیجئے تاکہ حق و سچ پر مبنی محترم جناب ملک اظہر اسماعیل صاحب (امیر امت مسلمہ) کے نئے نشر ہونے والے لیکچرز کی اطلاعت آپ کو بروقت ملتی رہیں۔
Youtube Channel: یوٹیوب
http://youtube.com/UmmateMuslima
page: فیسبک پیج
http://www.facebook.com/JoinUM
Whatsapp Group:واٹس ایپ گروپ
https://chat.whatsapp.com/Jwa3IE0msRC1FWWiBWScxt
Telegram Group: ٹیلی گرام گروپ
Http://t.me/UM_ktn
Messenger Group:
https://m.me/join/AbbeQJe6hvZZb11c
Call/Message/Whatsapp
03325189360 (Phone/WhatsApp/Telegram)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

18/11/2025

اللہ کے ہاں دین سے پھرنا کیا ہے اور دینداری کیا ہے؟
اللہ کسی قوم کو بدلتا کیوں ہے اور دوسری قوم کیوں لاتا ہے؟
اللہ کو کس قسم کی قوم مطلوب ہے؟
Full Video Link 👇
https://youtu.be/OPwVGMd3UPo?si=ElAbrfaO4zeu9MU5


Taj Muhammad Abbasi

30/08/2025

ایک مسلمان کی زندگی کا مشن و مقصد کیا ہونا چاہیئے؟

24/08/2025

Deen ki Saheh Tabeer (Surah Al-Maun ki Roshni Main).
Wahdat-e-Ummat ka Lahya-e-Amal
Nizam ki Tabdeeli ka Lahya-e-Amal

23/08/2025

The Views of Prominent Scholars and Religious Thinkers on Democracy
معروف علماء و سکالرز کا جمہوریت کے حوالے سے مؤقف
سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ
کسی شخص کے دو دین نہیں ہو سکتے۔ اگر واقع میں آپ دینِ جمہور پر ہوں یا دینِ انگریز، یا دینِ جرمن، یا دینِ ملک و وطن پر ہوں تو اس میں بھی دینُ اللّٰہ کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔ الیکشن میں ووٹ مانگنے والے امیدواروں کو کم از کم پچاس کوڑے لگنے چاہئیں۔

مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند مفتی محمود حسن گنگوہیؒ
جمہوریت میں اکثریت رائے قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسی پر فیصلہ ہوگا۔ قرآن کریم نے اکثریت کی اطاعت کو موجبِ ضلالت فرمایا ہے۔

معروف عالمِ دین، مفتی حمید اللہ جانؒ
جمھوری نظام ہی بے دینی، بے حیائی اور تمام فسادات کی جڑ ہے۔ کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ ووٹ کا استعمال شرعاً ناجائز ہے۔

مولانا شاہ محمد حکیم اخترؒ
اسلام میں جمھوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہوجاؤ۔

سید عطاء المحسن شاہ بخاریؒ
اگر کسی ایک قبر کو مشکل کشا ماننا شرک ہے تو کسی اور نظام ریاست، امپیریل ازم، ڈیموکریسی، کمیونزم، کیپٹلزم اور تمام باطل نظام ہائے ریاست کو ماننا کیسے اسلام ہوسکتا ہے؟

مولانا اشرف علی تھانویؒ
اسلام میں جمھوری سلطنت کوئی چیز نہیں۔۔۔۔یہ مخترعہ متعارفہ جمھوریت محض گھڑا ہوا ڈھکوسلہ ہے۔

مولانا ادریس کاندھلویؒ
لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ مزدور اور عوام کی حکومت ہے، ایسی حکومت بلاشبہ حکومتِ کافرہ ہے۔

سید سلیمان ندویؒ
جمھوریت اور جمھوری عمل کا اسلام سے کیا تعلق؟ اور خلافتِ اسلامی سے کیا تعلق؟ موجودہ جمھوریت تو سترہویں صدی کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ یونان کی جمھوریت بھی موجودہ جمھوریت سے الگ تھی، لہذا اسلامی جمھوریت ایک بے معنی اصطلاح ہے۔

قاری طیب صاحبؒ
یہ جمھوریت ربِ تعالیٰ کی صفتِ ملکیت میں بھی شرک ہے اور صفتِ علم میں بھی شرک ہے۔

مفتی رشید احمد لدھیانویؒ
یہ تمام برگ و بار مغربی جمھوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔

مولانا یوسف لدھیانویؒ
جمھوریت کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریے کی ضد ہے۔

صدر وفاق المدارس پاکستان مولانا سلیم اللہ خانؒ
نہ انتخابات کے ذریعے اسلام لایا جاسکتا ہے، نہ جمھوریت کے ذریعے اسلام لایا جاسکتا ہے۔ جمھوریت میں کثرتِ رائے کا اعتبار ہوتا ہے اور اکثریت جہلاء کی ہے جو دین کی اہمیت سے واقف نہیں۔

17/08/2025

No Way to Choose a Leader in Islam? Exposing the False Claim
اسلام میں حکمران کے انتخاب کا کوئی طریقہ نہیں؟ جھوٹے دعوے کا پردہ چاک

جمہوریت نواز سکالر کہتے ہیں اسلام کا سیاسی نظام کوئی ہے ہی نہیں یا ناقص ہے کیونکہ اس میں حکمران کے انتخاب کا طریقہ نہیں۔ وہ یہ اعتراض وارد کرتے ہیں کہ چاروں خلفاء کا تقرر الگ الگ طریقے سے ہوا۔ کیا یہ سیاسی نظام کے نہ ہونے کی علامت ہے یا اسلام کے سیاسی نظام کی لچک، وسعت اور حکمت کی؟ جانیے اس ویڈیو میں

ہمارا نظام، نظام مصطفیٰ

16/08/2025

Islamic Democracy: When Wealth and Self-Promotion Become Leadership Criteria

اسلامی جمہوریت: جب دولت اور خود نمائی قیادت کا معیار بن جائیں

ہمارے جمہوریت نواز اکابرین کا کہنا ہے کہ "اسلامی جمہوریت" میں اکثریت قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی نہیں کر سکتی لیکن حکمران کا انتخاب کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کے حکمران کے انتخاب اور سیاست کے تمام طریقے بھی قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔

لیڈر شپ کا معیار:
چونکہ یہ ایک سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ ایک سرمایہ دار اپنے آپ کو کسی عہدے کے لیے امیدوار بناتا ہے۔ اربوں روپے انتخابی مہم پر خرچ کرتا ہے۔
عوام کو سبز باغ دکھاتا ہے۔یہ سب کچھ کس لیے؟ ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ وہ کرسی پر پہنچنے کے بعد اپنی لگائی ہوئی سرمایہ کاری واپس نکالتا ہے۔ لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کے دروازے کھلتے ہیں۔ عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفاد اور خاندان کی سیاست پروان چڑھتی ہے۔ اسلام میں جو شخص خود کو عہدے کے لیے پیش کرے وہ نااہل سمجھا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہم اس کو منصب نہیں دیتے جو خود اس کی خواہش کرے یا اس کی طلب کرے۔“ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

ہمارا نظام، نظام مصطفیٰ

15/08/2025

Democracy: Where Law is the Servant of the Powerful
جمہوریت: جس میں قانون طاقتور کی لونڈی ہے

جمہوری عمل کے تحت منتخب ہونے والے نمائندوں کو قانون سازی کا اختیار دیا جاتا ہے۔ جمہوری طریقہ کار میں اکثر نااہل اور کرپٹ افراد اسمبلیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جن کی زد میں وہ خود نہ آئیں۔ اپنے لیے چور دروازے رکھتے ہیں، اور جب کسی قانون کی زد میں آتے ہیں تو اس میں ترمیم کر لیتے ہیں۔
اس کے برعکس اسلام میں اصول و قوانین اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہیں، اور مسلمانوں کو ان کے تابع رہنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، اور کوئی بھی ان کی حدود سے باہر نہیں جا سکتا۔

ہمارا نظام، نظام مصطفیٰ

14/08/2025

Islamic Democracy: Where a Scholar and a Pr******te Are Equal
"اسلامی جمہوریت: جہاں ایک عالم اور ایک طوائف برابر ہیں"

ہہم مغربی جمہوریت کی تردید کر چکے ہیں، اور ہمارے اکابرین بھی اسے حرام سمجھتے ہیں، کیونکہ مغربی جمہوریت میں اکثریت کی رائے سے قرآن و سنت کے خلاف بھی قانون بنایا جا سکتا ہے۔

لیکن افسوس کہ جن اکابرین نے مغربی جمہوریت کو رد کیا، وہی آج ایک اور دھوکے میں مبتلا ہیں — وہ جمہوریت جسے "عین اسلام" کہا جاتا ہے، یعنی نام نہاد اسلامی جمہوریت۔ ہم اسے بھی حرام سمجھتے ہیں۔

کیوں؟ کیونکہ جب بات آتی ہے انتظامی یا ریاستی امور کی، یا حکمران کے انتخاب کی، تو اس "اسلامی جمہوریت" میں بھی معیار گنتی ہی کو مانا جاتا ہے، نہ کہ اہلیت و علم کو۔

جبکہ اسلام میں ایک جید عالم کی رائے لاکھوں جاہلوں کی رائے پر بھاری ہے۔
نام نہاد "اسلامی جمہوریت" — میں ایک عالم اور ایک جاہل، بلکہ ایک عالم اور ایک طوائف، ہم پلہ شمار ہوتے ہیں، کیونکہ دونوں کے ووٹ یا رائے کا وزن برابر ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں بندوں کو گنا جاتا ہے، تولا نہیں جاتا۔

جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا:

جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے۔

ہمارے جمہوریت نواز علماء — جنہیں نظامِ مصطفیٰ نے عزت، مقام اور مرتبہ عطا کیا — جب اس جمہوری نظام کی حمایت کرتے ہیں، تو وہ دراصل اس نظام کو تسلیم کرتے ہیں جس میں ان کی رائے ایک جاہل کے برابر کر دی گئی ہے۔ انہیں اسی نظام کا حامی ہونا چاہیے جس نے انہیں عزت اور وقار بخشا ہے، نہ کہ اس نظام کا جو ان کی قدر گھٹا دے۔

ہمارا نظام، نظام مصطفیٰ

13/08/2025

Democratic Election System Conflicts with Islam’s Unity Principle

جمہوری انتخابی نظام اسلام کے اصولِ وحدت سے متصادم

ہمارے جمہوریت نواز اکابرین یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ مغربی جمہوریت حرام ہے، کیونکہ اس میں اکثریت کی رائے سے قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی ممکن اور جائز ہے۔ لیکن وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جس جمہوریت کے وہ خود پیروکار ہیں، یعنی "اسلامی جمہوریت"، وہ اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔ ان کے نزدیک حکمران کے انتخاب یا ریاستی امور میں عوامی رائے لینے کا جو طریقہ کار جمہوریت نے دیا ہے، وہ درست اور شرعی طور پر جائز ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا انتخابی طریقہ بھی اسلام کے بالکل خلاف ہے۔ جمہوریت کی پیدائش ہی اس اصول پر ہوئی کہ ایک متحد قوم کو کم از کم دو گروہوں یا پارٹیوں میں تقسیم کیا جائے، کیونکہ جب تک دو فریق موجود نہ ہوں، الیکشن ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ تقسیم ہی جمہوریت کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔

اسلام میں دو پارٹیوں یا گروہوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام ہمیں ایک امت، ایک جماعت اور کامل اتحاد کا درس دیتا ہے، جہاں قیادت کا تعین شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ باہمی مقابلہ بازی اور تقسیم کے ذریعے۔

لہٰذا ہمارے جمہوریت نواز اکابرین کی نام نہاد "اسلامی جمہوریت" درحقیقت مغربی جمہوریت ہی کی ہم شکل ہے، کیونکہ دونوں کی بنیاد ایک ہی ہے — قوم کو تقسیم کرنا، جبکہ اسلام کی بنیاد اتحاد اور وحدت پر ہے۔

ہمارا نظام، نظام مصطفیٰ

12/08/2025

Islamic Democracy Exposed — The Drama of Public Participation and the Game of Throne
"اسلامی جمہوریت بے نقاب — عوامی شمولیت کا ڈرامہ اور اقتدار کا کھیل"
جمہوریت نواز اکابرین کہتے ہیں کہ جمہوریت دو طرح کی ہے۔ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت۔ مغربی جمہوریت میں اکثریت کی راۓ پر کوئی بھی قانون بن سکتا ہے چاہے وہ قرآن و سنت کے خلاف ہو لیکن اسلامی جمہوریت میں اکثریت کی راۓ پر ایسا کوئی قانون نہیں بن سکتا جو قرآن و سنت کے خلاف ہو۔ مثلاً اگر اکثریت کی راۓ ہو کہ مرد مرد سے یا عورت عورت سے شادی کر سکتی ہے تو مغربی جمہوریت میں یہ قانون بن جاۓ گا لیکن اسلامی جمہوریت میں اکثریت کی راۓ کے باوجود یہ قانون نہیں بن سکتا کیونکہ یہ قرآن و سنت کے خلاف ہے کہ مرد مرد سے یا عورت عورت سے شادی کرے۔ تاہم جہاں تک حکمران کے انتخاب کا تعلق ہے یا انتظامی و ریاستی امور کا معاملہ ہے تو اس میں اکثریت کی راۓ ضروری ہے اور یہی اسلامی جمہوریت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلام میں یہ اصول کہاں سے لیا گیا کہ اکثریت حکمران کا انتخاب کرے یا ریاستی امور میں اکثریت سے راۓ لی جاۓ؟ وہ بھی رائج جمہوری طریق پر متعدد گروہوں میں قوم کو تقسیم کر کے حکمران کے انتخاب کے لیے الیکشن لڑنے کا جو عمل ہے اس کی بنیاد اسلام میں کہاں ہے اور اسلامی تاریخ میں ایسا کب ہوا؟

نظامِ مصطفیٰ میں حکمران کے تقرر کا طریق کیا ہے؟ جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ فرمائٰیں اور اپنا فیڈ بیک دیں۔

11/08/2025

When Democracy Ignores God - Majority Decisions Against Morality.
جمہوریت میں خدا کہیں نہیں ہے۔ جمہوریت ایک ایسا نظام ہےجس میں عوام کی خواہش نفس کی بنیاد پر کوئی بھی قاعدہ، ضابطہ یا اصول مستقل قانون طے قرار پاتا ہے۔ مثلاً اگر اکثریت کہے کہ مرد مرد سے شادی کر سکتا ہے تو جمہوریت کہتی ہے کہ کر سکتا ہے، کیونکہ اس نظام میں کسی اخلاقی ضابطے کی کوئی گنجائش نہیں۔

نظام مصطفیٰ میں قرآن و سنت کا فیصلہ اٹل ہے چاہے اکثریت اس کے مخالف ہو یا حمایت میں۔ اکثریت یا اقلیت کو یہ اختیار ہی نہیں کہ خدا کے عطا کردہ اٹل قوانین میں کوئی تغیر و تبدل کر سکے۔ یعنی دنیا کی سات ارب آبادی بھی ایک طرف ہو جائے اور اس بات کی قائل ہو جائے کہ مرد مرد سے شادی
کر سکتا ہے تو نظام مصطفیٰ میں اس کی اجازت نہیں۔

ہمارا نظام ۔ نظام مصطفیٰ

Address

Satellite Town
Rawalpindi
46300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ummat-e-Muslima posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Ummat-e-Muslima:

Share