23/08/2025
The Views of Prominent Scholars and Religious Thinkers on Democracy
معروف علماء و سکالرز کا جمہوریت کے حوالے سے مؤقف
سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ
کسی شخص کے دو دین نہیں ہو سکتے۔ اگر واقع میں آپ دینِ جمہور پر ہوں یا دینِ انگریز، یا دینِ جرمن، یا دینِ ملک و وطن پر ہوں تو اس میں بھی دینُ اللّٰہ کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔ الیکشن میں ووٹ مانگنے والے امیدواروں کو کم از کم پچاس کوڑے لگنے چاہئیں۔
مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند مفتی محمود حسن گنگوہیؒ
جمہوریت میں اکثریت رائے قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسی پر فیصلہ ہوگا۔ قرآن کریم نے اکثریت کی اطاعت کو موجبِ ضلالت فرمایا ہے۔
معروف عالمِ دین، مفتی حمید اللہ جانؒ
جمھوری نظام ہی بے دینی، بے حیائی اور تمام فسادات کی جڑ ہے۔ کتاب و سنت کے خلاف ہے۔ ووٹ کا استعمال شرعاً ناجائز ہے۔
مولانا شاہ محمد حکیم اخترؒ
اسلام میں جمھوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہوجاؤ۔
سید عطاء المحسن شاہ بخاریؒ
اگر کسی ایک قبر کو مشکل کشا ماننا شرک ہے تو کسی اور نظام ریاست، امپیریل ازم، ڈیموکریسی، کمیونزم، کیپٹلزم اور تمام باطل نظام ہائے ریاست کو ماننا کیسے اسلام ہوسکتا ہے؟
مولانا اشرف علی تھانویؒ
اسلام میں جمھوری سلطنت کوئی چیز نہیں۔۔۔۔یہ مخترعہ متعارفہ جمھوریت محض گھڑا ہوا ڈھکوسلہ ہے۔
مولانا ادریس کاندھلویؒ
لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ مزدور اور عوام کی حکومت ہے، ایسی حکومت بلاشبہ حکومتِ کافرہ ہے۔
سید سلیمان ندویؒ
جمھوریت اور جمھوری عمل کا اسلام سے کیا تعلق؟ اور خلافتِ اسلامی سے کیا تعلق؟ موجودہ جمھوریت تو سترہویں صدی کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ یونان کی جمھوریت بھی موجودہ جمھوریت سے الگ تھی، لہذا اسلامی جمھوریت ایک بے معنی اصطلاح ہے۔
قاری طیب صاحبؒ
یہ جمھوریت ربِ تعالیٰ کی صفتِ ملکیت میں بھی شرک ہے اور صفتِ علم میں بھی شرک ہے۔
مفتی رشید احمد لدھیانویؒ
یہ تمام برگ و بار مغربی جمھوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے۔ اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔
مولانا یوسف لدھیانویؒ
جمھوریت کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریے کی ضد ہے۔
صدر وفاق المدارس پاکستان مولانا سلیم اللہ خانؒ
نہ انتخابات کے ذریعے اسلام لایا جاسکتا ہے، نہ جمھوریت کے ذریعے اسلام لایا جاسکتا ہے۔ جمھوریت میں کثرتِ رائے کا اعتبار ہوتا ہے اور اکثریت جہلاء کی ہے جو دین کی اہمیت سے واقف نہیں۔