23/09/2026
*تعلیمی اداروں کی بندش نامنظور!*
اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر سیکیورٹی فورسز کی رہائش کے لیے تعلیمی اداروں کو بند کروانا اور جڑواں شہروں کے ہاسٹلز کو خالی کروانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
ہمارا سوال حکومت اور انتظامیہ سے ہے:
*آخر ہر سیکیورٹی یا انتظامی صورتِ حال میں سب سے پہلی قربانی تعلیمی اداروں کی ہی کیوں لی جاتی ہے؟*
شہر میں بڑے شادی ہالز، کنونشن سینٹرز اور متعدد غیر فعال سرکاری عمارتیں موجود ہیں، جنہیں انتظامی مقاصد اور رہائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان متبادل ذرائع کو چھوڑ کر تعلیمی اداروں پر تالے لگانا اور ہر احتجاج کے موقع پر طلبہ سے ہاسٹلز خالی کروا کر انہیں پریشان کرنا، بچوں کے قیمتی وقت اور تعلیم کا صریح ضیاع ہے۔
*ایم ایس او پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ:*
🔹 تعلیمی ادارے فوراً بحال کیے جائیں۔
🔹 انتظامیہ کی رہائش کے لیے تعلیمی اداروں کے بجائے دیگر متبادل عمارتوں کو استعمال کیا جائے۔
🔹 احتجاج کی آڑ میں تعلیمی ماحول کو متاثر کرنے اور ہاسٹلز خالی کروانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
🔹 دور دراز سے آنے والے طلبہ کو درپیش سفری مسائل اور قیمتی سامان کے ضائع ہونے کے خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔
طلبہ کے مستقبل کی قیمت پر سیکیورٹی تدابیر قبول نہیں۔