Moulana Asad Muavia

Moulana Asad Muavia امید ایسی روشنی ہے جو مرتے ہوئے انسان کو بھی زندگی دے سک

سرمایہٴ جاوداں: اس مادہ دنیا کے مزاج میں فنا ہونا موجود ہے ۔ مضبوط ترین عمارتیں ، طویل حکومتیں ، نہایت قوی انسان اور ان ...
22/07/2025

سرمایہٴ جاوداں:
اس مادہ دنیا کے مزاج میں فنا ہونا موجود ہے ۔ مضبوط ترین عمارتیں ، طویل حکومتیں ، نہایت قوی انسان اور ان سے بھی مضبوط ہر چیز نے آخر کار کہنہ، فرسودہ اور نابود وہونا ہے ۔ بلا استثناء ہر چیز کے لئے زوال ہے لیکن ان موجودات کا رشتہ اگر کسی طرح خدا کی ذات پاک سے قائم ہو جائے اور انھیں اس کے لئے اس کی راہ پر ڈال دےا جائے تو وہ جاودانی رنگ اختیار کر لیتی ہےں کیونکہ اس کی ذات پاک ابدی ہے ۔شہید حیات جاوداں رکھتے ہیں ۔ انبیاء آئمہ حقیقی علماء اور مجاہدین راہ خدا کی تاریخ جاودانی ہے ۔ کیونکہ وہ اللہ کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں ، اسی بناء پر زیر بحث آیات ہمیں خبر دار کرتی ہیں کہ آوٴ اور اپنے سرمایہ ٴ وجود جو فنا ہونے سے بچاوٴاس سرمائے کو اس بینک میں محفوظ کر لو کہ جس میں جتنا بھی زمانہ گذر جائئے کسی چیز کے ضائع ہو نے کا احتمال نہیں ۔ اپنے وسائل اور صلاحتیں خدا کے لئے مخلوق خدا کے مفاد میں اور اس کی رضاکے حصول کے لئے استعمال میں لاوٴ تاکہ وہ ”عنداللہ “ کا مصsداق ہو جائیں اور ” ماعند اللہ باق“ کے تقاضے کے مطابق باقی ہیں ۔
ایک حدیث میں رسول اکرم سے منقول ہے :
اذات مات ابن آدم انقطع املہ الا عن ثلاث صدقة جاریہ علم ینتفع بہ وولد صالح یدعولہ
فرزندآدم جب دنیا سے جاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا ہرچیز سے اس کی امید کا رشتہ توٹ جاتا ہے ۔: اور وہ تین چیزیں ہیں :
۱۔ صدقات جاریہ:۔ (لوگوں کی خدمت کی غرض سے اور راہ خدا میں انجام دئے جانے والے کاموں کے آثارِ خیر ) ۔
۲۔وہ علم کے جس سے لو گ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
۳۔اور نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی ہے ۔ 2
یہ سب چیزیں جو اللہ کے لئے اور اس کی راہ میں ہیں اس لئے ابدیت کا رنگ رکھتی ہیں :
شتان مابین عملین: عمل تذھب لذتہ و تبقی تبعتہ و عمل تذھب مئونتہ و یبقی اجرہ
بہت فرق ہے اس عمل میں جس کی سختی ختم ہو جاتی ہے اور اس کا اجر باقی رہ جاتا ہے ۔ 3

شیتل اور زرک تیری محبت کو سلام ۔۔۔۔آپ نے محبت کی بنیاد پر نکاح کیا  حلال راستہ چُنا، کسی کا دل نہیں دکھایا، کسی قانون کی...
21/07/2025

شیتل اور زرک تیری محبت کو سلام ۔۔۔۔
آپ نے محبت کی بنیاد پر نکاح کیا
حلال راستہ چُنا، کسی کا دل نہیں دکھایا، کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ مگر اُن کا قصور بس اتنا تھا کہ انہوں نے "پسند" سے شادی کی۔
اور زیادہ تر غیرت کے ٹھیکیداروں کی غیرت کو پسند سے نکاح کبھی برداشت نہیں رہا۔

دعوت پر بلایا گیا، مگر یہ کھانے کی نہیں، مارنے کی دعوت تھی۔
چٹیل میدان، قافلہ گاڑیاں، 19 مرد —5 لوڈڈ بندوقیں — اور بیچ میں دو بے بس انسان۔۔۔
شیتل، ہاتھ میں قرآن لیے، خود قتل گاہ کی جانب بڑھی، اُس کے لبوں پر التجا نہیں تھی، رحم کی درخواست نہیں تھی، صرف ایک جملہ:

"صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔۔۔"

اور پھر 9 گولیاں — ایک عورت کی محبت، وقار، وجود، سب کچھ چھین لیا گیا۔

پھر زرک کی باری آئی — 18 گولیاں — تاکہ غیرت کا توازن برقرار رہے۔
کیسی عدالت تھی یہ، جس میں جرم محبت تھا اور سزا موت؟

جہاں باپ، بھائی، چچا، ماموں سب مل کر اپنی ہی بیٹی، بہن، بھتیجی کو قتل کرتے ہیں اور پھر راضی نامہ نامی کاغذ سے سب دھو ڈالتے ہیں۔

کیا کسی نے سوال کیا کہ:

اگر قرآن اُس کے ہاتھ میں تھا تو تمہارے ہاتھ میں بندوق کیوں تھی؟
اگر وہ "بے غیرت" تھی، تو تم نے غیرت کا ثبوت کس عمل سے دیا؟

شیتل مر گئی۔۔۔ مگر وہ ہزاروں سوال چھوڑ گئی۔
اور شاید کل کوئی اور شیتل، کسی اور زرک کے ساتھ اُسی میدان میں کھڑی ہو، اُسی پگڑی کے نیچے انصاف مانگے، اور پھر مٹی میں دفن کر دی جائے۔

سوال صرف یہ ہے:
کیا غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کی غیرت، صرف
نکاح کرنے والوں کے لئے کیوں جاگتی ہے اس کا حق تو انہیں ان کا خالق بھی دیتا ہے

اور اگر یہی غیرت کسی بیٹے کی حرام کاری پر نہیں جاگتی،
کسی زانی کو سر عام شریعت اسلامیہ کے تحت کوڑے نہیں مارے جاتے تو پھر یہ غیرت نہیں۔۔۔ یہ بزدلی ہے۔

سورۃُ النِّساء میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔۔۔۔!

"فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ"
ترجمہ:
"پس تم اُن (عورتوں) کو نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہو جائیں۔

19/07/2025

🌹 ماشاءاللہ، لا قوۃ الا باللہ 🌹
ہمارے پیارے بھائی
چوہدری عباس حنیف صاحب کے ہونہار صاحبزادے
محمد زیان بن عباس آج صدقہ کے بارے میں ایک حدیثِ مبارکہ بیان کرتے ہوئے نظر آئے۔

📖 یہ نہ صرف خوشی کا موقع ہے بلکہ ایک امید افزا لمحہ بھی کہ ہماری نئی نسل دینِ اسلام سے جڑ رہی ہے۔

💐 اللہ پاک ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے
اور دین کی خدمت کا عظیم ذریعہ بنائے۔ آمین 🤲

#ماشاءاللہ #دعائیں

حدیث مبارکہ کا متن بھی پیش خدمت ہے
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں زیادتی کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے تاآنکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔

اخوت وبھائی چارگی کا اسلامی تصورممتاز احمد سلفی (گلبرگہ)دیگر مضامین,Latest magazine,اہم مضامین,ممتاز احمد سلفی (گلبرگہ),...
28/04/2025

اخوت وبھائی چارگی کا اسلامی تصور
ممتاز احمد سلفی (گلبرگہ)
دیگر مضامین,Latest magazine,اہم مضامین,ممتاز احمد سلفی (گلبرگہ),مارچ 2021اسلامی تعلیمات کا مطالعہ اور غور وفکرکرنے سے اخوت کی بنیادی طور پر چار قسمیں معلوم ہوتی ہیں ،انہی چار اقسام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اخوت اور بھائی چارگی سے متعلق کچھ تفصیلات ذیل کے سطور میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
اخوت کی کل چار قسمیں :
۱۔ جنسی اخوت: اس قسم میں دو لوگوں کا محض ہم جنس ہونا ضروری ہے۔ مثلاً ایک شخص جنس انسان ہے تو دوسرا بھی اسی جنس کا ہو ،صرف جنسیت کے ایک ہونے کی بنیاد پر یہ اخوت ثابت ہوتی ہے ، یہ وہ اخوت ہے جس کی بنا پر بلا تفریق مذہب وملت تمام انسانیت کو ایک زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے،اخوت کی اس قسم کو ہماری شریعت بھی تسلیم کرتی ہے کیونکہ شریعت میں اس سلسلے میں کچھ دلائل ملتے ہیں جن سے اس تقسیم کی درستی واضح ہوتی ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن میں پوری انسانیت کو آدم اور حوا علیہما السلام سے جوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا:
{يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَي وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ }
ترجمہ :’’اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک (ہی)مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو ۔کنبے قبیلے بنادیئے ہیں، اللہ کے نزدیک تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے ،یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے‘‘[الحجرات:۱۳]
اور جیسا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’كلكم بنو آدم و آدم خلق من تراب لينتهين قوم يفتخرون بآبائهم أو ليكونن أهون على اللّٰه من الجعلان ‘‘
’’تمام لوگ آدم کی اولاد سے ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ……‘‘[قال الشیخ الألبانی :(صحیح )انظر حدیث رقم:۴۵۶۸،فی صحیح الجامع]
نقلی دلائل کے علاوہ عقلی حقائق اور تجربات ومشاہدات سے اخوت کی اس تقسیم کی تائید ہوتی ہے جس کی ایک عمدہ مثال ہے کہ کسی جگہ ناگہانی حادثہ کی زد میں انسان اور جانور دونوں آجائیں اورجائے حادثہ سے قریب موجود کسی انسان کی نگاہ ان دونوں پر پڑے توایسی صورت میں محض انسانی اخوت کی بنیاد پر دیکھنے و الے انسان کی جنسی اخوت حادثہ سے دوچار انسان کی مدد پر مجبور کرتی ہے جبکہ اسی جگہ ایک حیوان بھی حادثہ سے دوچار ہوا ہے مگر انسان کی توجہ پہلے اپنے ہم جنس انسان کی حفاظت کی تگ ودو میں ر ہتی ہے اورحیوان کی حفاظت کی فکر دوسرے نمبر پر ہوتی ہے ، یہی وہ رشتہ ہے جو محض انسانیت کی بنیاد پر ایک انسان میں دوسرے انسان کے متعلق موجود ہوتا ہے اور اسی رشتے سے منسلک ہونے کی وجہ سے بے شمار انسانی ہمدردیوں کے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں ۔
۲۔ نسبی اخوت: یہ وہ رشتۂ اخوت ہے جس کے لیے ہم خاندان وہم قبیلہ ہونا ضروری ہے، اس اخوت میں دین کی ہم آہنگی کا امکان ہونے کے ساتھ دینی اختلاف کا بھی امکان موجود رہتا ہے ۔مثال کے طور پر سورہ النساء میں وراثت کے باب میں تفصیلی بحث موجود ہے ،اسی طرح شریعت اور عرف عام میں اس سلسلے کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں جن سے ہم اور آپ واقف ہیں ،نسبی اخوت کے سلسلے میں واقعاتی حقائق آئے دن دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیںمثلاًجب کسی انسان کے حقیقی اور نسبی بھائی سے کسی شخص کا اختلاف ہو تا ہے تو نسبی اور خاندانی اخوت کی بنیاد پر انسان اپنے نسبی بھائی ہی کا ساتھ دیتے نظر آتا ہے جو صرف نسبی اخوت ہی کی بنیاد پرانسان انجام دیتا ہے ۔
۳۔ علاقائی اخوت: اس کا مطلب ہے کہ علاقے اور بستی کا اتفاق ہو مثلاً ایک شخص کسی علاقے سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا بھی اسی علاقے کا رہنے والا ہے، اس مناسبت سے دونوں کے درمیان جو اخوت ہے وہ علاقائی اخوت ہے اس میں بھی دین کے اختلاف کا امکان رہتا ہے ۔اس اخوت کا تذکرہ خود قرآن مجید میں متعدد مقامات پہ ملتا ہے۔ مثلاً: {وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاهُمْ شُعَیْبًا[اعراف:۸۵] وَإِلَی عَادٍ أَخَاهُمْ ہُودًا[اعراف:۶۵] وَإِلَی ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا[اعراف:۷۳]وغیرہ
خارج میں فطری طور پر علاقائی اخوت کے بھی مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں بالخصوص آدمی جب دیار غیر میں ہوتا ہے تو اپنے ملک اور اپنے علاقے کے افراد سے مل کر فطرتاً علاقائی اخوت کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے الفت ومحبت کے جذبات کو پیش کرتا نظر آتا ہے ۔
۴۔ دینی اخوت: دین کی بنیاد پرقائم ہونے والی اخوت کو دینی اخوت سے تعبیر کرتے ہیں یعنی کہ طرفین سے دین میں ہم آہنگی ہو ۔ اسلامی تناظر میں یہاں دین سے ہم آہنگی سے مراد دونوں کا دین اسلام ہو،اور اگر یہ دینی اتفاق ہو تو یہ اخوت تمام اخوتوں میں سب سے مضبوط رشتہ کو استوار کرنے کی تاکید کرتاہے، اس رشتے کی مضبوطی اور حفاظت کی خاطر اسلام نے بے شمار احکامات بیان کیے، چنانچہ ذیل میں چند ایک کا تذکرہ پیش خدمت ہے ۔
اخوتِ دینی کی مضبوطی اورحفاظت کے لیے چند اسلامی احکامات:
(۱) اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا :انما المؤمنون اخوۃ( یاد رکھو)سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں ۔[الحجرات:۱۰]مذکورہ آیت کا مفہوم بالکل واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ تمام اہل ایمان واسلام آپس میں اخوت کے رشتے سے منسلک ہیں۔
(۲) اس رشتے کی مضبوطی کو زمانی مسافت سے بے نیاز کرتے ہوئے اسلام نے حکم دیا کہ بعد میں آنے والا مسلمان اپنے تمام گزرے ہوئے مسلم بھائیوں کو دعائے استغفار میں یاد رکھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{وَالَّذِينَ جَائُ وا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَء ُوفٌ رَحِيمٌ }
اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ایمان والوں کے لیے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال ، اے ہمارے رب بے شک تو شفقت ومہربانی کرنے والا ہے ۔[الحشر:۱۰]
(۳) اسلامی رشتہ ٔاخوت کی اہمیت اور قدرومنزلت کے پیش نظرنبی ﷺ نے ایک دوسرے کے آپسی حقوق بیان کیے اور اس حوالے سے بے شمار روایات کتب احادیث میں ملتی ہیں جن میں سے کچھ کا تذکرہ ذیل کے سطور میں ہدیۂ قارئین ہے۔
(۱) عن ابن عمر أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللّٰهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ القِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ يَوْمَ القِيَامَةِ‘‘
ترجمہ:’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس پر خو دظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے، اورجو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہواللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اور جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا ‘‘[بخاری:۲۴۴۲]
(۲) اسی رشتے کی پاسداری کی تاکید کرتے ہوئے نبی ﷺنے ارشاد فرمایا :
’’لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَي بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللّٰهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَي هَاهُنَا وَيُشِيرُ إِلَي صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَي الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُهُ، وَمَالُهُ، وَعِرْضُهُ‘‘
’’آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ،ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو ، ایک دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرو اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ، مسلمان (دوسرے)مسلمان کابھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے ،تقویٰ یہاں ہے ۔ اور آپ ﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کیا (پھر فرمایا) کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ، ہر مسلمان پر (دوسرے) مسلمان کا خون ،مال اور عزت حرام ہے‘‘[مسلم:۲۵۶۴]
(۳) عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَي اللّٰهُ عَنْهُ‘‘
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان بچے رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے ‘‘ [بخاری:۱۰]
(۴) عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَال:’’ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ، قَالَ: ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:إِذَا التَقَي المُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالقَاتِلُ وَالمَقْتُولُ فِي النَّارِ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَذَا القَاتِلُ فَمَا بَالُ المَقْتُولِ قَالَ:إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلٰي قَتْلِ صَاحِبِهِ‘‘
احنف بن قیس کہتے ہیں :’’کہ میں اس آدمی (علی بن ابی طالب) کی مدد کرنے چلا، راستے میں مجھ کو ابو بکرہ ملے ، پوچھا: کہاں جاتے ہو ؟ میں نے کہا اس شخص (علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کرنے جاتا ہوں ، ابو بکرہ نے کہا: اپنے گھر لوٹ جاؤ، میں نے نبی کریم ﷺسے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے: جب دو مسلمان آپس میں اپنی اپنی تلواریں لے کر بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ قاتل تو خیر (ضرور دوزخی ہونا چاہیے )۔ لیکن مقتول کیوں دوزخی ہوگا ؟ فرمایا: وہ بھی اپنے ساتھی کو مار ڈالنے کا لالچ رکھتا تھا (موقع پاتا تو اسے ضرور قتل کر دیتا )‘‘ [بخاری:۳۱]
(۵) قَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمََ:’’ سِبَابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ‘‘
رسول ﷺ نے فرمایا:’’مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے ‘‘[بخاری:۴۸]
(۶) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:’’حَقُّ المُسْلِمِ عَلَي المُسْلِمِ خَمْسٌ:رَدُّ السَّلَامِ، وَعِيَادَةُ المَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الجَنَائِزِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَتَشْمِيتُ العَاطِسِ‘‘
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں : سلام کاجواب دینا ،مریض کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا ، دعوت قبول کرنا ،اور چھینک آنے پر جواب دینا ( چھینکنے والا جب ’’الحمد للہ‘‘کہے تو اس کے جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘کہنا ‘‘[بخاری:۱۲۴۰]
اس طرح بے شمار احادیث ہیں جن میں اس رشتہ کی مضبوطی سے متعلق اصول بتاے گئے تاکہ ایک طرف لوگوں کو اس رشتہ کی اہمیت معلوم ہو اور دوسری طرف اس میں مضبوطی لانے کے لیے بیان کردہ اصول پر عمل پیرا ہوکر دینی اخوت کو مستحکم بنانے کی کو شش کی جائے ۔
کیا غیر مسلم کو بھائی بول سکتے ہیں؟
اس مسئلے میں کسی نتیجے تک پہنچنے میں اوپر دی گئی تفصیلات سے مسئلہ کسی قدر واضح ہوچکا ہے مگر غیر مسلم کو بھائی کہنے سے متعلق تفصیلات پر نظر ڈالنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس مسئلے میں علماء کی مختلف آراء ہیں جن میں کچھ علماء انتہائی شدت سے غیر مسلم کو بھائی کہنے کی مخالفت کرتے ہیں، انہی علماء میں مفتی ٔاعظم علامہ ابن باز رحمہ اللہ بھی ہیں اور انہی کے فتو یٰ کو بنیاد بنا کر کئی عرب علماء کی یہی رائے ہے، چنانچہ فتاویٰ اسلامیہ میں سعودی لجنہ دائمہ کے جو فتاویٰ یکجا کیے گئے ہیں انہی میں علامہ ابن باز کا یہ فتویٰ مذکو ر ہے اور شیخ رحمہ اللہ نے اپنے اس موقف پر کئی دلائل پیش فرمائے ہیں۔ مثلاً:
{قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآئُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللّٰهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَائُ أَبَدًا حَتَّي تُؤْمِنُوا بِاللّٰهِ وَحْدَهُ) [ممتحنہ:۴] وقال سبحانه: {لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَاددُّونَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَائَ هُمْ أَوْ أَبْنَاء َهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ}[مجادلہ:۲۲]
بلکہ علامہ ابن باز رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ انسانی اخوت کا تصور ان کے حوالے سے کرنا یہ شیطانی وسوسے کی پیداوار ہے اور یہ کسی بھی صورت درست نہیں ہے کیونکہ حقیقی اخوت ایمانی اخوت ہے اور اگر دین میں اختلاف موجود ہے تو اس اخوت کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا اور علامہ رحمہ اللہ نے اپنے اس قول کی تائید میں قرآن کی یہ آیت پیش فرمائی ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کی بابت ہے: {رَبِّ إِنَّ ابْنِی مِنْ أَهلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ}[ھود:۴۵]قال {إِنَّه لَیْسَ مِنْ أَهلِکَ }[ھود:۴۶]اور اس سلسلے کی دوسری آیت پیش فرماتے ہیں جو کہ اس حوالے سے عموماً پیش کی جاتی ہے:{یَا أَیُّها الَّذِینَ آَمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاءَ تُلْقُونَ إِلَیْهمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوا بِمَا جَاءَ کُمْ مِنَ الْحَقِّ }[ممتحنہ:۱]
جبکہ دوسری طرف قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں غیر مسلمین اور کفار کو’’اخ‘‘یعنی بھائی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔مثلاً شعیب ،ہود اور صالح کی قوم کو ان کا بھائی تعبیر کیا گیا ہے اور مزید یہ کہ نبی ﷺکے زمانے میں بھی انہیں بھائی کہنے کا رواج معلوم ہوتا ہے مثلاً بخاری کی یہ روایت ہے جسے امام بخاری نے مختلف مقام پر پیش کیا بلکہ ایک جگہ تو اسی روایت کو اسی سے متعلق باب قائم کرکے اس کے ذیل میں ذکر فرمائے ہیں باب ہے ’’باب صلۃ الاخ المشرک‘‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:’’رَأَي عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاء َ عِنْدَ بَابِ المَسْجِدِ، فَقَالَ:يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَهَا، فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ، قَالَ:إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الآخِرَةِ ، ثُمَّ جَاء َتْ حُلَلٌ، فَأَعْطَي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، وَقَالَ:أَكَسَوْتَنِيهَا، وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا‘‘[بخاری:۲۶۱۲]
اس روایت سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غیر مسلمین کو بھائی کہنے کا معاملہ ویسا نہیں ہے جس قدر بعض علماء نے شدت برتتے ہوئے اپنے فتاویٰ میں ذکر کیا ہے بلکہ اس سلسلے میں معقول اور راجح بات جو معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ غیر مسلمین کو بھائی کہنا جائز ہے جیساکہ مختلف دلائل سے ثابت ہے، بالخصوص ہندوستانی ماحول میں اس شوشہ کو زیادہ بڑھا کر لوگوں میں دوری پیدا کرنے سے بچنا ہی بہتر معلوم ہوتا ہے البتہ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ’’ الولاء والبراء‘‘ کے اسلام نے جو اصول مقرر کیے ہیں انہیں ملحوظ رکھا جائے اور مسلم اور غیر مسلم میں فرق کا انکار کرنے سے بچاجائے ،دل میں مسلمانوں سے محبت اور غیر مسلم سے برأت کا جذبہ موجود ہونا چاہیے ۔اب رہا علامہ ابن باز اور دیگر علماء سعودیہ کے اس فتویٰ کا مسئلہ جس میں انہوں نے انکا ر کیا ہے تو اس سلسلے میں بعض علماء ربانین سے گفتگو کرنے سے معلوم ہوا کہ ان علماء کے یہ فتاویٰ وقتی اور محلّی کے قبیل سے ہیں چونکہ اس وقت سعودیہ میں ان غیر مسلمین سے تعلقات میں کافی وسعت والی صورت حال دکھ رہی تھی اور اس پر نکیر کرنے کی خاطر اہل علم نے اس طرح کے فتاوے صادر فرمائے ۔واللہ اعلم

https://www.facebook.com/share/p/16HtoX5Es4/
08/04/2025

https://www.facebook.com/share/p/16HtoX5Es4/

ہمارے نہایت ہی عزیز بھائی جناب حضرت **مولانا اسد معاویہ**
جو کہ سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔
خرابی صحت کے بعد پاکستان تشریف لے گئے تھے جو اب گردوں کی پتھری کے آپریشن اور پھیپڑوں کے علاج کے لیے ایم ایچ میں زیر علاج ہیں
تمام دوستوں سے گزارش ہے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی مولانا کو جلد از جلد صحت کامل اجر و مستمراء عطا فرمائے

07/07/2024

الحمدللہ ثم الحمدللہ
مسجد عمر بن خطاب المجید ٹاؤن اپر ریڑھ بن میں مدرسہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی افتتاحی تقریب باجود خرابی موسم کے جاری و ساری
کثیر تعداد میں علماء کرام قراء عظام اور محبین قران کی شرکت
اللہ پاک اس ادرے کو اپنے کلام پاک کی اشاعت میں کامیاب فرمائے آمین

24/06/2024

ان شاء اللہ

02/06/2023

ایسا کوئی حاجت نہیں جو پوری نہ ہو اسم اعظم کا خاص مجرب وظیفہ پورے یقین کے ساتھ کیجیے سارے بگڑے کام سنور جائیں گے ضرور سنیے گا اور فائدہ عامہ کے لیے شئیر بھی ضرور کیجیے گا

05/04/2023

الجزائر کی مسجد میں امام صاحب تروایح پڑھا رہے ہیں اور بلی ان کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہی ۔۔ خوبصورت آواز ماشاءاللہ

سعودی حج و عمرہ منسٹری نے تصویر نشر کی ہے جیسا کہ نیچے تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کعبے کے سامنے جو ہاتھ گڑگڑاتے ہوئے ...
02/04/2023

سعودی حج و عمرہ منسٹری نے تصویر نشر کی ہے جیسا کہ نیچے تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کعبے کے سامنے جو ہاتھ گڑگڑاتے ہوئے دعا کیلئے اٹھنے چاہیے تھے وہ ہاتھ اب تصاویر ،سیلفی ،اور ویڈیو کال کیلئے اٹھ رہے ہیں ،کافی لوگ اب عمرہ کے وقت مٹر گشتی کرتے ہیں ،رونے گڑگڑانے والے لوگ کافی تیزی سے گھٹ رہے ہیں ، کیا سچ میں ہمیں ایمان کی فکر ہے؟
اور یہ سب کرکے ہم کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ، کسی کو کیا دکھانا چاہتے ہیں ، ہم بچپن سے سنتے تھے کہ حج کو جاتے جو سفید احرام پہنتے ہیں اس کو کفن سمجھ کر پہنتے ہیں تاکہ اللہ کے حضور موت بھی آ جائے تو احرام کی حالت میں موت ہو ، اور اب یہ ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ عمرے کی نہیں
کسی ٹورسٹ پیلیس کی تصویریں ہو
اللہ ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے،آمین

Address

گاؤں ریڑھ بن
Rawala Kot
420000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Friday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 17:00
18:00 - 19:00

Telephone

+966590519025

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Moulana Asad Muavia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Moulana Asad Muavia:

Share