25/08/2026
کرنل فائرنگ کا پورا پس منظر ۔ دوسری سائیڈ کا موقف
یہ سارا موقف سعید اشبالی کی پوسٹ سے لیا گیا ہے اور قرین قیاس ہے یہ ٹھیک ہے باقی سارے موقف گھر بیٹھ کر لکھے گئے
میرے سورس نے بتایا ؛
سرحد یونیورسٹی اسلام کیمپس روات میں ہے ، ڈاکٹر جدون ھیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹس افیئرز کے انچارج ہے ، وہ سٹوڈنٹس کو فیس میں انسٹالمنٹ کی سہولت اور انٹرن شپ کیلئے ھاسپیٹلز جانے والے سٹوڈنٹس کو فری ٹرانسپورٹ سروس دیتے ہیں ۔
خاتون نے مینجمنٹ سائنس میں پی ایچ ڈی کی ہے وہ بھی پختونخوا سے ہے ، انکا بھائی ائی ایس ائی میں افیسر ہے اور شوہر لیفٹنٹ کرنل ۔
خاتون نے اتے ہی فیس انسٹالمنٹ اور ھاسپیٹلز کیلئے فرئ ٹرانسپورٹ کی سہولت ختم کردی ۔ اس پر ڈاکٹر جدون صاحب نے اعتراض کیا کہ کروڑوں روپے کمانے والے ادارے کو ساڑھے سات لاکھ روپے سے خسارا نہیں ہوگا لیکن سٹوڈنٹس کو بڑا ریلیف ملے گا ۔ اس ہر خاتون غصہ ہوئی کہ یہ کوئی خیراتی ادارہ نہیں نہ اپکے باپ کا ہے کہ اپنی مرضی سے چلاو ۔ ڈاکٹر جدون نے کہا کہ تمھارے باپ کی بھی نہیں ہے ۔
اس پر خاتون نے مزید برا بھلا کہا ، جدون خاموش رہا ۔ عورت نے پہلے بھائی کو فون کیا پھر پولیس کو کال کیا ۔ پولیس نے دونوں کو تھانے بلایا خاتون نے ھراسمنٹ کا الزام لگایا مگر یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس نے منع کیا ۔ اور معافی نامے پر بات ختم کردی ، ڈاکٹر جدون معفی نہیں مانگ رہے تھے مگر دوستوں نے راضی کیا کہ شکایت کنندہ خاتون کی زیادہ سنی جاتی یے ، دفع کرو ، پھر ڈاکٹر جدون نے کہا :
"اگر میری کسی بات سے کسی کی دل اذاری ہوئی ہے تو ائی ایم سوری " -
پولیس نے کیس ختم کردیا ۔
خاتون نے یونیورسٹی انتظامیہ پر پریشر ڈالا کہ ڈاکٹر جدون کو چلتا کرو۔
اگلے دن یونیورسٹی میں بات پھیل گئی کہ ڈاکٹر جدون کو سٹوڈنٹس کیساتھ بھلائی کرنے کے جرم میں استعفی دینے پر مجبور کیا گیا ہے ۔ سٹوڈنٹس نے کمپس کا گیٹ اندر سے بند کردیا ۔ اور ڈاکٹر صاحب کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگے ۔ ٹیچرز اور سثاف والے یونیورسٹی گیٹ سے باہر کھڑے تھے ، اس دوران محترمہ تشرہف لائی ، غصہ اور دھمکیاں دیئے لگی مگر طلبہ نہیں مانے ۔ پھر خاتون نے کرنل صاب کو بلایا اور یہ واقعہ رونما ہوا۔
اس فائرنگ کو ساری دنیا نے دیکھ لیا ۔ انڈین میڈیا مرچ مصالحہ لگاکر پیش کررہی ہے ۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی رپورٹ کردیا ہے ۔
فائرنگ کے بعد مقامی ایس پی اور ڈی ائی جی پہنچ گئے ، ڈی سی بھی اگئے ، بچوں کے والدین بھی پہنچ گئے ۔ پولیس نے کرنل کو پکڑ کر بٹھا رکھا تھا ۔ والدین ایف ائی ار کا مطالبہ کررہے تھے ۔
پولیس کرنل کو پولیس سٹیشن لے گئے ۔ ڈی ائی جی نے جی ایچ کیو کو لیٹر ای میل کردیا ، ملٹری پولیس اگئی اور کرنل کو گرفتار کرکےاپنے ساتھ لے گئی ۔
جی ایچ کیو نے خبر ریلیز کردی ہے کہ کرنل کا کورٹ مارشل کیا جائیگا ۔
اب یہ معلوم نہیں کہ سچ میں کورٹ مارشل ہوگا یا
عوامکو مطمئن کرنے کیلئے ایسا کہہ دیا ہے ۔
゚viralシ