05/03/2026
مصر Egypt کے فرعون ہم سے 7000 سال پہلے ٹیکنالوجی اور سائنس میں ہم سے بہت آگے تھے۔ یہ سات ہزار سال قبل سات سو کلو میٹر دور سے ایک کروڑ پتھر مصر لائے- ہر ایک پتھر 25 سے 28 سو ٹن وزنی تھا- یہ ون پیس تھا اور یہ پہاڑ سے چوڑائی میں کاٹا گیا تھا-
یہ پتھر صحرا کے عین درمیان 170 میٹر کی بلندی پر لگائے گئے- قدیم مصری آرکیٹیک نے 8 ہزار سال قبل ایسا ڈیزائن بنایا جو ہر طرف سے بند بھی تھا لیکن بندش کے باوجود اندر سورج کی روشنی بھی آتی تھی , اندر کا درجہ حرارت بھی باہر کے ٹمپریچر سے کم تھا - اُن لوگوں نے 8 ہزار سال قبل لاشوں کو محفوظ کرنے کا طریقہ بھی ایجاد کر لیا تھا-
یہ خوراک کو ہزار سال تک محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی جان گئے تھے - قاہرہ کے علاقے گیزہ Giza کے بڑے اہرام میں 23 لاکھ بڑے پتھر ہیں - ابوالہول دنیا کا سب سے بڑا ون پیس اسٹرکچر ہے اور یہ لوگ جانتے تھے کہ شہد دنیا کی واحد خوراک ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتی - اہراموں میں سے 5 ہزار سال پرانا شہد نکلا اور یہ مکمل طور پر استعمال کے قابل تھا-
یہ لوگ کمال تھے پر اُن میں یہ خرابی تھی کہ یہ تکبر کرتے تھے اور اِسی لئے اُن لوگوں نے اللّٰه کو یکتا ماننے سے انکار کیا - اللّٰه تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں چنانچہ یہ پکڑ میں آ گئے اور عبرت کا یوں نشان بنے کہ آج تک نشان عبرت ہیں - جس نے رب کیلئے جھکنا سیکھ لیا وہی علم والا ہے کیونکہ علم کی پہچان عاجزی ہے اور جاہل کی پہچان تکبر ھے ...!!! فرمانِ مصطفی ﷺ ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا (مسلم شریف، حدیث نمبر 91)۔