Institute Of Research And Annals Of Pakistan

  • Home
  • Institute Of Research And Annals Of Pakistan

Institute Of Research And Annals Of Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Institute Of Research And Annals Of Pakistan, Non-Governmental Organization (NGO), Sarprah House 106-D Block Z, Gulshan-e-IQBAL, Rahimyar Khan., .

Founded by Syed.N.A.Z HUSAINI in1966 ,August 14.............Secretary: PERVEZ SADIQ Main Achievement:Archaeological Research on Bahawalpur state & Balouchistan.Honourable Prof.Dr.RAZZAK SABIR Balochistan University Quetta supervises All research work. 1.Archaelogical Research on Greeks,Buddhist and Muslims period of ex-Bahawalpur state.
2.Historical research of Balouchistan and Bahawalpur with Ho

nourable Prof.Dr.Abdul Razzak Sabir University of Balouchistan Queetta.
3. with Syed Naqi Hussaini Chairman Institute of Research And Annals Of Pakistan.Archaelogical sites along with old bed of Hakara and Sindh river.
4.Narrate the history of Abbasi's of Bahawalpur state.

سولر سسٹم لگوانا ایک مہنگا مرحلہ ہے، لیکن اس سے پوری بجلی اور مکمل فائدہ حاصل کرنا ایک الگ آرٹ ہے۔ یہاں سولر سسٹم کی بہت...
27/04/2026

سولر سسٹم لگوانا ایک مہنگا مرحلہ ہے، لیکن اس سے پوری بجلی اور مکمل فائدہ حاصل کرنا ایک الگ آرٹ ہے۔ یہاں سولر سسٹم کی بہترین کارکردگی بڑھانے کے حوالے سے چند ایسی زبردست باتیں بتائی جائیں گی جو عام طور پر سولر سسٹم انسٹال کرنے والے بھی نہیں بتاتے:
1: پینلز کی دھلائی کا بہترین وقت:
سولر پینلز کو کبھی بھی تپتی دھوپ میں ٹھنڈے پانی سے نہ دھوئیں، اس سے پینلز کے شیشوں میں مائیکرو کریکس آ سکتے ہیں جو وقتی طور پر تو نظر نہیں آتے پر جلدی ہی پینلز کی کارکردگی کو متاثر کر دیتے ہیں۔ صفائی کا بہترین وقت صبح سویرے یا سورج ڈھلنے کے بعد ہے جب پینلز مکمل ٹھنڈے ہوں۔
2: ڈش واشنگ مائع (Dish Soap) کا استعمال:
صرف پانی سے پینلز کی چکنائی اور جمی ہوئی مٹی صاف نہیں ہوتی۔ پانی میں تھوڑا سا برتن دھونے والا صابن ملائیں، اس سے پینل کا شیشہ بالکل شفاف ہو جائے گا اور بجلی کی پیداوار 10% سے 15% تک بڑھ جائے گی۔
3: بیٹری واٹر لیول اور ٹرمینلز:
اگر آپ بیٹری استعمال کر رہے ہیں تو اس کے ٹرمینلز پر پٹرولیم جیلی یا تبت کریم لگا کر رکھیں تاکہ کاربن نہ جمے۔ کاربن بجلی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے اور بیٹری جلدی چارج نہیں ہوتی اور ہم سولر سے مکمل فائدہ نہیں حاصل کر پاتے۔
4: ارتھنگ (Earthing) کا جادو:
اپنے سولر اسٹینڈ اور انورٹر کو پراپر ارتھ کروائیں۔ یہ نہ صرف آسمانی بجلی سے بچاتا ہے بلکہ سسٹم میں موجود اسٹیٹک چارج کو ختم کر کے انورٹر کی لائف اور کارکردگی بڑھاتا ہے۔ جو کہ بہترین کارکردگی اور سولر لائف کیلئے اہم ہوتا اسے آج ہی کروائیں۔
5: شیڈو آڈٹ (Shadow Audit):
دن کے کسی بھی حصے میں اگر پینل کے ایک کونے پر بھی کسی چھوٹی سی تار یا انٹینا کا سایہ پڑ رہا ہے، تو وہ پورے پینل کی کارکردگی آدھی کر دیتا ہے۔ یقینی بنائیں کہ صبح 9 سے شام 4 بجے تک پینلز پر زیرو شیڈو ہو۔ کسی چیز کا ہلکا سا بھی سایہ نہ ہو۔ یہ بہت بڑی بات ہے اسے ذہن نشین کرلیں۔
6: ہیوی لوڈ کا ٹائم ٹیبل:
سولر سسٹم پر استری، موٹر یا اے سی چلانے کا بہترین وقت وہ ہے جب سورج سوا نیزے پر ہو یعنی صبح 11 سے دوپہر 3 بجے۔ اس وقت بجلی براہِ راست پینل سے استعمال ہوتی ہے اور بیٹری پر بوجھ نہیں پڑتا۔ اور بیٹریاں زیادہ لمبا عرصہ چلتی ہیں۔
7: انورٹر سیٹنگز (Load Management):
اپنے انورٹر کی سیٹنگز میں Battery Cut-off وولٹیج کو تھوڑا اوپر رکھیں۔ بیٹری کو کبھی بھی 100% خالی نہ ہونے دیں، اس سے بیٹری کی زندگی دوگنی ہو جاتی ہے اور وہ بجلی زیادہ تیزی سے اسٹور کرتی ہے۔ یہ بہت بڑی سیٹنگ ہے اس لازمی اپلائی کریں۔
8: تاروں کی لمبائی اور موٹائی:
سولر پینلز سے انورٹر تک کی تار جتنی لمبی ہوگی، اتنی بجلی ضائع (Voltage Drop) ہوگی۔ ہمیشہ کم سے کم فاصلہ رکھیں اور تار کی کوالٹی پر سمجھوتہ نہ کریں، ہمیشہ Pure Copper کی تار استعمال کریں۔
9: انورٹر کی جگہ کا انتخاب:
اکثر لوگ انورٹر کو دھوپ میں یا بند الماری میں لگا دیتے ہیں۔ انورٹر جتنا ٹھنڈا رہے گا، اتنی بہتر کارکردگی دے گا۔ اسے ہمیشہ ہوادار اور سایہ دار جگہ پر لگائیں۔ اگر انورٹر بہت گرم ہو رہا ہے تو اس کے پاس ایک چھوٹا سا ایگزاسٹ فین لگا دیں۔
پرو ٹپ: اگر آپ کے پینلز کے نیچے بہت زیادہ گرمی جمع ہوتی ہے، تو اسٹینڈ کی اونچائی تھوڑی بڑھا دیں تاکہ ہوا کا گزر ہو سکے۔ پینلز جتنے ٹھنڈے رہیں گے، اتنے زیادہ وولٹیج پیدا کریں گے۔
اگر آپ سولر سسٹم استعمال کرتے ہیں تو ان باتوں کو لازمی فالو کریں انشاءاللہ دگنا فائدہ ہوگا سسٹم سے!
اس معلومات کو آگے ضرور شئیر کریں تاکہ سب لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ کسی کا فائدہ کرنا صدقہ جاریہ ہوتا۔

تحقیقی ریسرچ مقالہ عنوان: قدیم سکّہ جاتی نظام اور عددی تحریر "چھدام سے دس ہزار روپے تک" ایک تجزیاتی  و علمی مطالعہتحقیق ...
23/04/2026

تحقیقی ریسرچ مقالہ عنوان: قدیم سکّہ جاتی نظام اور عددی تحریر "چھدام سے دس ہزار روپے تک" ایک تجزیاتی و علمی مطالعہ

تحقیق و تحریر سید خالد جاوید بخاری

خلاصہ (Abstract):
یہ مقالہ برصغیر کے قدیم سکّہ جاتی نظام اور اس میں استعمال ہونے والے عددی طریقۂ تحریر کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ زیرِ مطالعہ متن میں چھدام، دہیلا، آنا وغیرہ جیسے سکّوں کی مدد سے مالی حساب اور تحریر کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق کا مقصد ان اصولوں کو واضح کرنا اور ان کی تاریخی و تعلیمی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

تعارف (Introduction):
برصغیر میں برطانوی دور سے قبل اور اس کے بعد ایک مخصوص مالیاتی نظام رائج تھا جس میں روپے کے ساتھ چھوٹے سکّے جیسے چھدام، دہیلا، آنا، پاؤ آنا وغیرہ استعمال ہوتے تھے۔ ان سکّوں کی مدد سے نہ صرف لین دین کیا جاتا تھا بلکہ انہیں لکھنے اور حساب کرنے کے مخصوص طریقے بھی موجود تھے۔
زیرِ نظر متن اسی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔

تحقیق کے مقاصد (Objectives)
قدیم سکّہ جاتی نظام کو سمجھنا
عددی تحریر کے طریقوں کی وضاحت کرنا
موجودہ نظام سے تقابلی جائزہ لینا
تعلیمی اہمیت کو اجاگر کرنا

قدیم سکّہ جاتی نظام (Old Currency System):
اس نظام میں مختلف اکائیاں شامل تھیں:

چھدام
دہیلا
پاؤ آنا
ایک آنا
دو آنے
چار آنے
آٹھ آنے
سولہ آنے = ایک روپیہ

یہ نظام مکمل طور پر تقسیم (fractions) پر مبنی تھا۔

طریقۂ تحریر (Method of Writing Numbers):

متن کے مطابق:
مختلف سکّوں کو ترتیب سے لکھا جاتا تھا
ہر سکّے کی ایک مخصوص قدر ہوتی تھی
رقم کو "در" (حصوں) میں تقسیم کر کے لکھا جاتا تھا

مثال کے طور پر:
اگر رقم بارہ آنے ہو تو اسے مخصوص انداز میں ظاہر کیا جاتا
پونے، سوا، ڈیڑھ وغیرہ الفاظ استعمال ہوتے تھے

مثالیں (Examples):
مثال 1
اگر کسی کے پاس پونے تین آنے ہوں:
اس کا مطلب: دو آنے + ایک پاؤ آنا

مثال 2
بارہ آنے:
تین چوتھائی روپیہ کے برابر

مثال 3
دو روپے سے کم رقم:
اسے ہندسوں اور حصوں کی صورت میں لکھا جاتا تھا

تجزیہ (Analysis):
1. ریاضیاتی پہلو:
یہ نظام fractions (کسور) پر مبنی تھا، جس سے طلبہ کو تقسیم اور تناسب سمجھنے میں مدد ملتی تھی۔

2. تعلیمی پہلو:
طلبہ کو عملی حساب سکھایا جاتا تھا
ذہنی حساب (mental math) مضبوط ہوتا تھا

3. سماجی پہلو:
عام لوگوں کے لیے روزمرہ لین دین آسان تھا
چھوٹی رقم کی اہمیت برقرار رہتی تھی

موجودہ نظام سے موازنہ (Comparison with Modern System)
پہلو قدیم نظام جدید نظام
اکائیاں چھدام، آنا پیسہ، روپیہ

طریقہ:
کسری (fractions)اعشاریہ (decimal)

سیکھنے میں آسانی
نسبتاً مشکل آسان

عملی استعمال
زیادہ پیچیدہ سادہ

نتائج (Findings)
تحقیق سے یہ نتائج سامنے آئے:
قدیم نظام ریاضیاتی لحاظ سے مضبوط تھا
یہ نظام ذہنی مشق کو بہتر بناتا تھا
جدید نظام زیادہ سادہ اور تیز ہے
پرانے طریقے اب تاریخی اہمیت رکھتے ہیں

بحث (Discussion)
اگرچہ جدید اعشاری نظام زیادہ آسان ہے، لیکن قدیم نظام میں سیکھنے کے کئی فوائد موجود تھے۔ خاص طور پر طلبہ کے لیے یہ ذہنی ورزش کا بہترین ذریعہ تھا۔ آج کے دور میں بھی اس نظام کا مطالعہ تعلیمی لحاظ سے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ (Conclusion):
"چھدام سے دس ہزار روپے تک" کا طریقہ نہ صرف ایک حسابی نظام کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ یہ برصغیر کی معاشی اور تعلیمی تاریخ کا اہم حصہ بھی ہے۔ اگرچہ یہ نظام اب استعمال نہیں ہوتا، لیکن اس کی اہمیت آج بھی برقرار ہے اور اسے سمجھنا ہمارے علمی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

حوالہ جات (References)
1- برصغیر کا قدیم مالیاتی نظام
2- ریاضی کی ابتدائی تعلیم کے اصول
3- تاریخی سکّہ جاتی مطالعہ
4- اردو نصابی کتب (پرائمری سطح)

اوکاڑہ ساہیوال کے ٹھل ۔ (thool)نیچے رحیم یار خان کے ایک ٹھل کی تاریخ درج کر رہا ہوں ۔ موضع شاہ پوررحیم یار خان  کا قدیم ...
02/04/2026

اوکاڑہ ساہیوال کے ٹھل ۔ (thool)
نیچے رحیم یار خان کے ایک ٹھل کی تاریخ درج کر رہا ہوں ۔
موضع شاہ پوررحیم یار خان کا قدیم ٹھل۔۔۔
جو آج تک کھڑا ھے ۔ سابق ریاست بہاول پور کے دور میں 1868/78 کے درمیان کرنل منچن نے آباد کاری کے لیے زمین کی پیمائش کروائی ۔ وسیع رقبہ پر جنگلات تھے ان کی کٹائی کی گئی ۔ اور دریا سے سیلابی نہریں بھی احداث کروائیں ۔ آباد کاروں کو پنجاب اور دیگر علاقوں سے دعوت دے کر زمینیں الاٹ کیں یہ پہلی آباد کاری تھی ۔ (ضلع رحیم یار خان)
ٹھل دور دور تک دیکھنے کو تھے ۔ پیمائش کے لیے کلہ بندی راجہ ٹوڈر مل کی قدیم اصطلاح کے مطابق تھی ۔
یعنی مرله، كنال ،ایکڑ اور مربع 272 مربع فٹ کا ایک مرلہ ۔ 20 مرلے کا ایک كنال ، 8 كنال کا 01 ایكڑ ۔ اور 25 ایکڑ کا ایک مربع ۔ 16مربع کا ایک بلاک۔
یہ ٹھل جیسا کہ پہلی تصویر میں نظر آ رہا ترچھی دیوار ہے ۔ ادھر اوپر چڑھنے کو سیڑھی بنی ہوتی تھی ۔ ٹاپ پر مسطح جگہ تھی ۔ جہاں افسر اور اہلکار ٹھہر کر مساحت کا اندازه کرتے اور کیلہ بندی کی الاینمنٹ کو چیک کرتے ۔ ہر 25 ایکڑ پر پتھر لگا ہوتا تھا ۔ جو آج بھی درست پیمائش کے لیے استعمال ہوتا ھے ۔ گوبعض مقامات پر زمین داروں نے ان کو ذاتی مفاد کے لیے آگے پیچھے کر لیا ۔ لیکن محکمہ مال اب بھی ان کو دور سے دوسرے پتھروں سے پیمائش کر کے درست کر لیتا ھے ۔
پیمائش کے لیے جریب استعمال کرتے ہیں ۔ لوہے کی زنجیر ہوتی تھی ۔ 55 فٹ لمبی ۔ یہ جریب میں نے پہلے پہل چوہدری صابر جٹ گرداور کے پاس دیکھی یہ 1980/85 کے درمیان کی بات ھے ۔ میرا رقبه چک 54/پی رحیم یار خان میں ابو ظہبی پیلس کے ساتھ ھے ۔ اور دس بارہ ایكڑ کی لائن ساتھ ساتھ مشترک ھے ۔ پیلس والے دیوار بنانا چاہتے تھے ۔ اس پر پیمائش کی ضرورت پیش آئی ۔ چوہدری صابر نے دو تین پتھر دور سے جا کر پیمائش کی اور میرا مؤقف درست ثابت ہوا ۔ میرے دادا جان نے جو جگہ مجھے بتائی تھی اسی مقام پر پتھر تھا ۔
ہر ٹھل کے نیچے خالی جگہ بھی ہوتی تھی جس میں شدت مواسم سے بچنے کو پناہ لے لیتے تھے ۔ دوسری تصویر میں آپ نیچے ایک گول دروازه سرنگ نما اب بھی دیکھ سکتے ہیں جو کہ زیر زمین دب چکا ہے ۔
میں نے سب سے پہلے یہ ٹھل چنی گوٹھ سے جہاں سڑک لیاقت پور کو مڑتی ھے وہاں دیکھا تھا ۔ اور کافی عرصہ موجود رہا ۔ اب نہیں ھے ۔
دوسرا ٹھل لعلو والا ۔ جو خان پور سے نواں کوٹ جاتے پختہ سڑک كنارے اب بھی کھڑا ھے ۔ مجھے اس کے بارے میرے مرحوم عزیز دوست اور بھائی جام سعید احمد ضلع دار اریگیشن نے بتلايا ۔ اور پھر اپنی کار پر مجھے دکھانے بھی لے گئے ۔ اللّه درجات بلند کرے عظیم انسان تھا ۔
تیسرے ٹھل شاہ پور کی تصویریں شامل ہیں ۔ یہ بھی گرنے کو ھے اور آباد زمین کے بیچوں بیچ کھڑا ھے ۔ میانوالی قریشیاں نہر کے بنگلہ سے 8/10 کلو میٹر کے فاصلہ پر ھے ۔
چوتھا ٹھل ھے "ٹھل حمزہ" یہ بھی قومی شاہ راہ سے ہٹ کر بنگله نہر ٹھل حمزہ کے قریب واقع ھے ۔ مجھے دیکھے 25برس سے زیادہ ہو گئے ۔ اب پتہ نہین کس حال میں ھے ۔ اس جگہ بھی جام سعید احمد کے ساتھ گیا تھا جب وه خان بیلہ ضلع داری میں تعینات تھے ۔
اس کے علاوہ اور بھی ٹھل ہوں گے ۔
میری دوستوں سے درخواست ھے ۔ جن کے علم میں مزید ہوں وه مجھے بتائیں ضرور ممنوں ہوں گا ۔
تحریر و تحقیق
Pervez Sadiq
Secretary
Institute Of Research And Annals Of Pakistan

موضع شاہ پور کا قدیم ٹھل۔۔۔ جو آج تک کھڑا ھے ۔ سابق ریاست بہاول پور کے دور میں 1868/78 کے درمیان کرنل منچن نے آباد کاری ...
29/03/2026

موضع شاہ پور کا قدیم ٹھل۔۔۔
جو آج تک کھڑا ھے ۔ سابق ریاست بہاول پور کے دور میں 1868/78 کے درمیان کرنل منچن نے آباد کاری کے لیے زمین کی پیمائش کروائی ۔ وسیع رقبہ پر جنگلات تھے ان کی کٹائی کی گئی ۔ اور دریا سے سیلابی نہریں بھی احداث کروائیں ۔ آباد کاروں کو پنجاب اور دیگر علاقوں سے دعوت دے کر زمینیں الاٹ کیں یہ پہلی آباد کاری تھی ۔ (ضلع رحیم یار خان)
ٹھل دور دور تک دیکھنے کو تھے ۔ پیمائش کے لیے کلہ بندی راجہ ٹوڈر مل کی قدیم اصطلاح کے مطابق تھی ۔
یعنی مرله، كنال ،ایکڑ اور مربع 272 مربع فٹ کا ایک مرلہ ۔ 20 مرلے کا ایک كنال ، 8 كنال کا 01 ایكڑ ۔ اور 25 ایکڑ کا ایک مربع ۔ 16مربع کا ایک بلاک۔
یہ ٹھل جیسا کہ پہلی تصویر میں نظر آ رہا ترچھی دیوار ہے ۔ ادھر اوپر چڑھنے کو سیڑھی بنی ہوتی تھی ۔ ٹاپ پر مسطح جگہ تھی ۔ جہاں افسر اور اہلکار ٹھہر کر مساحت کا اندازه کرتے اور کیلہ بندی کی الاینمنٹ کو چیک کرتے ۔ ہر 25 ایکڑ پر پتھر لگا ہوتا تھا ۔ جو آج بھی درست پیمائش کے لیے استعمال ہوتا ھے ۔ گوبعض مقامات پر زمین داروں نے ان کو ذاتی مفاد کے لیے آگے پیچھے کر لیا ۔ لیکن محکمہ مال اب بھی ان کو دور سے دوسرے پتھروں سے پیمائش کر کے درست کر لیتا ھے ۔
پیمائش کے لیے جریب استعمال کرتے ہیں ۔ لوہے کی زنجیر ہوتی تھی ۔ 55 فٹ لمبی ۔ یہ جریب میں نے پہلے پہل چوہدری صابر جٹ گرداور کے پاس دیکھی یہ 1980/85 کے درمیان کی بات ھے ۔ میرا رقبه چک 54/پی رحیم یار خان میں ابو ظہبی پیلس کے ساتھ ھے ۔ اور دس بارہ ایكڑ کی لائن ساتھ ساتھ مشترک ھے ۔ پیلس والے دیوار بنانا چاہتے تھے ۔ اس پر پیمائش کی ضرورت پیش آئی ۔ چوہدری صابر نے دو تین پتھر دور سے جا کر پیمائش کی اور میرا مؤقف درست ثابت ہوا ۔ میرے دادا جان نے جو جگہ مجھے بتائی تھی اسی مقام پر پتھر تھا ۔
ہر ٹھل کے نیچے خالی جگہ بھی ہوتی تھی جس میں شدت مواسم سے بچنے کو پناہ لے لیتے تھے ۔ دوسری تصویر میں آپ نیچے ایک گول دروازه سرنگ نما اب بھی دیکھ سکتے ہیں جو کہ زیر زمین دب چکا ہے ۔
میں نے سب سے پہلے یہ ٹھل چنی گوٹھ سے جہاں سڑک لیاقت پور کو مڑتی ھے وہاں دیکھا تھا ۔ اور کافی عرصہ موجود رہا ۔ اب نہیں ھے ۔
دوسرا ٹھل لعلو والا ۔ جو خان پور سے نواں کوٹ جاتے پختہ سڑک كنارے اب بھی کھڑا ھے ۔ مجھے اس کے بارے میرے مرحوم عزیز دوست اور بھائی جام سعید احمد ضلع دار اریگیشن نے بتلايا ۔ اور پھر اپنی کار پر مجھے دکھانے بھی لے گئے ۔ اللّه درجات بلند کرے عظیم انسان تھا ۔
تیسرے ٹھل شاہ پور کی تصویریں شامل ہیں ۔ یہ بھی گرنے کو ھے اور آباد زمین کے بیچوں بیچ کھڑا ھے ۔ میانوالی قریشیاں نہر کے بنگلہ سے 8/10 کلو میٹر کے فاصلہ پر ھے ۔
چوتھا ٹھل ھے "ٹھل حمزہ" یہ بھی قومی شاہ راہ سے ہٹ کر بنگله نہر ٹھل حمزہ کے قریب واقع ھے ۔ مجھے دیکھے 25برس سے زیادہ ہو گئے ۔ اب پتہ نہین کس حال میں ھے ۔ اس جگہ بھی جام سعید احمد کے ساتھ گیا تھا جب وه خان بیلہ ضلع داری میں تعینات تھے ۔
اس کے علاوہ اور بھی ٹھل ہوں گے ۔
میری دوستوں سے درخواست ھے ۔ جن کے علم میں مزید ہوں وه مجھے بتائیں ضرور ممنوں ہوں گا ۔
تحریر و تحقیق
Pervez Sadiq
Secretary
Institute Of Research And Annals Of Pakistan

یہ 1931 کا سال تھا۔ گلگت کے نواحی علاقے نَوپور میں چند چرواہے اپنے جانوروں کو چرا رہے تھے، جب انہیں ایک ویران ٹیلے پر مو...
29/11/2025

یہ 1931 کا سال تھا۔ گلگت کے نواحی علاقے نَوپور میں چند چرواہے اپنے جانوروں کو چرا رہے تھے، جب انہیں ایک ویران ٹیلے پر موجود کھنڈرات میں لکڑی کا ستون نظر آیا۔ انہوں نے ملبہ ہٹایا تو نیچے ایک بڑا صندوق ملا
بدھ مت کے قدیم ترین نسخے گلگت سے ملے تھے ۔ ان پر نہرو نے کیوں ’قبضہ‘ کیا؟
یہ وہ دن تھے جب نوزائیدہ ممالک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر 1948 میں جنگ چھڑ چکی تھی۔ ایسے میں دہلی سے پرواز بھرنے والا ایک خصوصی طیارہ سری نگر میں اترتا ہے۔
اس جہاز میں سری نگر کے شری پرتاب سنگھ میوزیم سے لا کر چند صندوق رکھے جاتے ہیں، جن میں درخت کی چھال کے قدیم اور بوسیدہ قلمی نسخے موجود ہیں اور طیارہ دہلی کی طرف واپس محوِ پرواز ہو جاتا ہے۔
یہ بظاہر بوسیدہ نسخے اتنے اہم تھے کہ جنگ کے دوران ان کی حفاظت کے پیش نظر ان کی سری نگر سے دہلی منتقلی کا فیصلہ انڈین وزیراعظم جواہر لال نہرو نے خود کیا تھا۔
نہرو نے یہ حکم دینے سے قبل جموں و کشمیر میں قائم ایمرجنسی حکومت کے سربراہ شیخ عبداللہ کو اس اقدام پر راغب کیا۔ جنگ ختم ہوئی اور پھر شیخ عبداللہ کی حکومت بھی چلی گئی مگر انڈیا نے یہ مخطوطے جموں و کشمیر کو واپس نہیں کیے۔
بعد ازاں 1975 میں دوبارہ جموں و کشمیر کا وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد شیخ عبداللہ نے انڈین وزیراعظم اور نہرو کی بیٹی اندرا گاندھی کو خط لکھ کر ان کے والد کا وعدہ یاد دلایا اور نسخوں کی واپسی کا مطالبہ کیا، مگر انڈین حکومت نے اس پر کان نہ دھرا۔
یہ مخطوطے کہاں سے ملے؟
یہ 1931 کا سال تھا۔ گلگت کے نواحی علاقے نَوپور میں چند چرواہے اپنے جانوروں کو چرا رہے تھے، جب انہیں ایک ویران ٹیلے پر موجود کھنڈرات میں لکڑی کا ستون نظر آیا۔ انہوں نے ملبہ ہٹایا تو نیچے ایک بڑا صندوق ملا۔
اس میں مزید چار چھوٹے چھوٹے صندوق رکھے ہوئے تھے جنہیں کھولنے پر ان میں سے بھوج پتر کی چھالیں برآمد ہوئیں، جن پر نامعلوم زبان میں تحریر بھی رقم تھی۔ واضح رہے کہ بھوج پتر (برچ) کے درختوں کی چھال قدیم زمانے میں کاغذ کی جگہ لکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
یہ صندوق اور اس میں موجود اوراق چرواہوں کے کسی کام کے نہیں تھے، تاہم انہیں معلوم تھا کہ یہ پرانے دور کے آثار ہیں، اس لیے انہوں نے یہ صندوق گلگت ایجنسی میں تعینات وزیر کے حوالے کر دیا۔ گلگت اس وقت مہاراجہ کشمیر کا علاقہ تھا اور وزیر وہاں مہاراجہ کا نمائندہ ہوتا تھا۔
اس سے قبل کہ وزیر یہ نوادرات مہاراجہ کو بھیج دیتا تھا۔ اتفاقاً ہنگری کے مشہور ماہرِ آثار قدیمہ اور محقق آریل سٹین گلگت میں نمودار ہوئے جو وسطی ایشیا سے ایک تحقیقی مہم کے بعد واپس آ رہے تھے۔
سٹین اس سے قبل 1900 میں جب ایک ایسی ہی مہم کے دوران وسطی ایشیا جا رہے تھے تو انہیں نوپور کے قریب کارگہ نالے میں چٹان پر کندہ بدھا کا عظیم الشان نقش نظر آیا تھا۔
صدیاں گزرنے کے بعد اپنی تاریخ سے بے خبر مقامی آبادی اس بدھا کو ہیبت ناک چڑیل سمجھتی تھی جسے ان کے آبا و اجداد نے صدیوں تک پوجا تھا، ان کے بقول اس چڑیل کو کسی بزرگ نے چٹان میں چن دیا تھا۔ تاہم اس وقت سٹین کو معلوم نہیں تھا کہ قریب موجود قدیم کھنڈرات کے نیچے اس سے بھی اہم آثار دفن ہیں۔
آریل سٹین نے ابتدائی طور پر ان چھالوں کا معائنہ کیا اور لندن کے اخبار ’ٹائمز‘ اور کلکتہ کے اخبار ’سٹیٹس مین‘ میں رپورٹ لکھی جس سے ہندوستان اور باہر کے متعلقہ ماہرین کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو گئی اور انہیں ’گلگت مینو سکرپٹس‘ کا نام دیا گیا۔ انہوں نے ان کے کچھ اوراق برٹش میوزیم کو بھی بھیجے، جو اب بھی وہاں موجود ہیں۔
باقاعدہ کھدائی
گلگت کے یہ نوادرات جب سری نگر پہنچے تو اس وقت کے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے ان میں خاصی دلچسپی لی اور انہیں شری پرتاپ سنگھ میوزیم میں رکھنے کا حکم دیا۔
1938 میں سنسکرت متون کے ماہر ایم ایس کول شاستری مہاراجہ کے دربار سے اجازت لے کر گلگت آئے اور نوپور کے کھنڈرات کی باقاعدہ کھدائی کی۔ چرواہوں نے صرف ایک خانے سے مخطوطے برآمد کیے تھے لیکن یہاں تین اور منہدم کمروں کے کھنڈرات بھی تھے، جن کے دروازے اور کھڑکیاں نہیں تھیں۔
صرف چھ دن میں شاستری اور ان کی ٹیم کو ان کھنڈرات میں سے نہ صرف مزید اوراق ملے بلکہ قدیم سکے، دستی سائز کے سٹوپا، تصویریں، ظروف، زیورات، مہر، تعویز اور مٹی کی منقش تختیاں بھی ملیں۔
شاستری نے 1939 میں اپنی دریافت سے متعلق رپورٹ شائع کی، جس میں انہوں نے ان نسخوں کو ساتویں سے نویں صدی عیسوی کے درمیان کے دور کا قرار دیا جبکہ نوپور کے کھنڈرات کی انہوں نے ایک قدیم بدھ خانقاہ اور سٹوپا کے طور پر نشاندہی کی۔
انہیں بھوج پتر کی چھالوں کے ساتھ ساتھ وہاں ایک کاغذ بھی ملا جو بظاہر اس زمانے میں چین سے وہاں لایا گیا تھا اور شاہراہ ریشم پر اس زمانے میں آمدورفت اور مذہبی و ثقافتی تبادلوں کا مظہر تھا۔
اس کے بعد 1956میں اٹلی کے ایک محقق جوسیپے توچی کو راولپنڈی میں ایک فوجی افسر آغا محمد شاہ سے ان کے مزید حصے ملے جو پہلی کھدائی کے وقت گلگت کی بونجی چھاؤنی منتقل کیے گئے تھے اور 1947 میں یہ افسر انہیں وہاں سے اپنے ساتھ راولپنڈی لے آیا تھا۔ توچی نے انہیں خرید کر کراچی میوزیم کو عطیہ کر دیا جہاں وہ آج بھی موجود ہیں۔
’گلگت مینو سکرپٹس‘ میں کیا لکھا ہے؟
گلگت میں دریافت ہونے والے نایاب نسخے بدھ مت تہذیب سے جڑے متعدد مذہبی اور غیر مذہبی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں جن میں بدھ مت عقائد، رسومات و طرز زندگی، فلسفہ، نقاشی، لوک کہانیاں، مقامی حکمرانوں کے بارے میں معلومات، بدھا کی زندگی کے احوال اور آیور ویدک طب جیسے موضوعات شامل ہیں۔
ان میں بدھ مت کے مشہور ’سدھرم پُندریکا سوترا‘ (لوٹس سوترا) اور ’سمادھی راجا سوترا‘ جیسے اہم اور بنیادی متون بھی شامل ہیں، جو بدھا کے پند و نصائح پر مشتمل ہیں۔ یہ متون قدیم سنسکرت اور پراکرت زبانوں کی آمیزش میں لکھے گئے تھے جسے عموماً ’بدھ سنسکرت‘ کہا جاتا ہے۔
ایم ایس کول شاستری کے مطابق ان میں سے ایک چھال پر گلگت کے اس وقت کے حکمران کا نام شہانوشاہی نواسوریندرا وکرامادیتیا نندی دیوا جبکہ ملکہ کا نام اننگا دیوی درج تھا۔
ایک لوٹس سوترا پر 43 مخیر مرد و خواتین کے نام درج ہیں، جنہوں نے اس نسخے کی اشاعت کروائی یا یہ جن کے نام کیے گئے تھے۔ تحریر سے واضح ہے کہ ان میں سے کچھ اس وقت وفات پا چکے تھے۔
کچھ افراد کے ناموں کے ساتھ ان کی ماؤں کے نام بھی درج ہیں، جو اس زمانے کے گلگت میں خواتین کی مرکزی حیثیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ بعض نام بروشسکی زبان کے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مخطوطے باہر سے نہیں لائے گئے بلکہ مقامی طور پر تیار کیے گئے اور بدھ مت کا مقامی ثقافت اور زبانوں سے ملاپ موجود تھا۔
یہ نسخے بدھ مت تہذیب ہی نہیں بلکہ متعلقہ زبانوں کے ارتقا اور اس خطے کے سیاسی اور سماجی حالات کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کو اصل ’بدھ سنسکرت‘ متون کی تلاش
بدھ مت کی دو اہم شاخیں تھیرواد اور مہایان ہیں۔ اول الذکر سری لنکا، انڈیا، تھائی لینڈ اور میانمار کے میدانی علاقوں میں رائج رہی جبکہ مہایان چین، کوریا، جاپان اور ویت نام میں پھلی پھولی۔ لداخ، تبت اور نیپال میں بدھ مت بھی اسی کی ایک قسم ہے۔ گلگت مینو سکرپٹس کا تعلق اس دوسری شاخ مہایان سے ہے۔
ہندوستان میں شروع میں تو بدھا کی تعلیمات کو لکھنے کا رواج نہیں تھا بلکہ بھکشو انہیں زبانی یاد کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں چھالوں اور پتوں پر لکھنے کا رواج شروع ہوا۔ مہایان بدھ مت کی تعلیمات سنسکرت یا بدھ سنسکرت زبانوں میں محفوظ ہوئیں اور تھیرواد کی تعلیمات پالی زبان میں۔
بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر بدھ مت کا اثر ہندوستان میں کم ہو گیا اور ساتھ ہی ان تعلیمات کو سنسکرت میں لکھنے کا رواج بھی ختم ہو گیا۔ اس سے قبل چین اور وسطی ایشیا سے بدھ مت کے یاتریوں نے ہندوستان سے ’بدھ سنسکرت‘ کتابوں کو اپنے علاقوں میں منتقل کر کے اپنی اپنی زبانوں میں ان کا ترجمہ کیا تھا۔
جدید دور میں بدھ مت کی یہ بنیادی کتابیں اپنے تراجم کی شکل میں تو موجود تھیں البتہ اصل ’بدھ سنسکرت‘ میں کہیں بھی دستیاب نہیں تھیں۔
اصل سنسکرت نسخوں کے نہ ہونے کی کئی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ موسم تھا۔ ہندوستان میں موجود اس دور کی ’بدھ سنسکرت‘ کتابوں کے جو مخطوطے بنائے گئے تھے وہ چھالوں اور پتوں پر موجود تھے جو میدانی علاقوں کے گرم اور مرطوب ماحول میں کہیں بھی زیادہ دیر محفوظ نہیں رہ سکے۔
البتہ جو مخطوطے ہندوستان سے باہر موجودہ تبت، نیپال، افغانستان، وسطی ایشیا اور چین وغیرہ لے جائے گئے تھے، وہ وہاں سرد اور خشک موسم کی وجہ سے تادیر محفوظ رہے اور 19 ویں اور 20 ویں صدی میں ماہرین کے ہاتھ آئے۔
گلگت بلتستان میں بدھ مت
گلگت بلتستان میں بدھ مت پہلی صدی عیسوی کے بعد کشان سلطنت کے زمانے میں باقاعدہ طور پر متعارف ہوا۔ اس سے قبل اشوکا کے زمانے میں بھی اس کا بدھ مت سے رابطہ بعید از قیاس نہیں۔
احمد حسن دانی کے مطابق کشان حکمران ویما کڈفیسس کے دور میں گلگت کشان ریاست کے زیرِ نگین آیا۔ اس حکمران کا ذکر چلاس اور ہنزہ کی منقش چٹانوں پر ملتا ہے۔
ویما کڈفیسس کے بیٹے کنیشکا کے دور میں بدھ مت ہندوستان سے شاہراہِ ریشم کے ذریعے چین پہنچا تو اس وقت گلگت اس شاہراہ پر اہم پڑاؤ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کشان حکمرانوں نے قدیم ہندومت، بدھ مت اور زرتشتیت، تینوں مذاہب کی سرپرستی کی۔
تاہم چھٹی صدی عیسوی سے لے کر آٹھویں صدی عیسوی تک گلگت میں ’پالولہ شاہی‘ نامی مقامی ریاست قائم ہوئی، جس کے حکمران مکمل طور پر بدھ مت کے پیروکار تھے۔ انہی میں سے ایک بادشاہ کا نام گلگت مینو سکرپٹس میں بھی مرقوم ہے۔
دراصل گلگت مینو سکرپٹس پالولہ شاہی بادشاہ اور امرا کے حکم پر لکھے گئے تھے کیوں کہ اس زمانے کے بدھ مت کے پیروکاروں میں نذرانے کے طور پر مقدس مذہبی متون کی اشاعت کا رواج عام تھا۔
جرمن ماہر آثارِ قدیمہ کارل جیٹمر نے ان نسخوں کا اس دور کے سیاسی ماحول کے تناظر میں جائزہ لے کر ایک مفروضہ پیش کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ آٹھویں صدی کے وسط میں تبتی فوج نے گلگت اور آس پاس کے علاقوں کو فتح کیا اور مقامی پالولہ شاہی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
اس کے بعد گلگت جسے اس وقت ’بلور‘ کہا جاتا تھا، سیاسی چپقلش کا مرکز رہا۔ اس دور میں عباسی خلیفہ المامون کی فوج بھی یہاں نمودار ہوئی جس نے کابل، چترال، بلور اور تبتی سلطنت کو شکست دی اور واپس چلی گئی۔
جیٹمر کا کہنا ہے کہ نویں صدی کے وسط میں تبتی سلطنت کمزور پڑ گئی اور کشمیر کی ’درادہ شاہی‘ سلطنت نے اپنا اثر بلور تک بڑھا دیا۔
گو کہ ان کا مذہب بھی بدھ مت ہی تھا لیکن جیٹمر کے خیال میں گلگت کے خطے کے عوام کو بدھ مت کی پلولہ شاہی، تبتی اور درادہ شاہی شکل مکمل طور پر قبول نہیں تھی اور ان کے لیے یہ بیرونی اشرافیہ کا مذہب ہی تھا جو سیاسی طور پر ان پر تھونپا گیا تھا۔
یہاں کے عام باسیوں پر ’بون مت‘ عقائد کا گہرا اثر تھا، جو بدھ مت سے قبل ان کا مذہب تھا۔ بدھ مت کو بھی انہوں نے اپنے پرانے عقیدے کے امتزاج کے ساتھ مقامی رنگ دے کر قبول کیا۔
جیٹمر کا کہنا ہے کہ تبت کے زیرِ نگین جانے کے بعد سیاسی خلفشار کے دوران سرکاری سرپرستی رکھنے والے بدھ مت کے خلاف مقامی لوگوں میں مزاحمت سامنے آئی اور انہوں نے اپنے مقامی عقائد کا احیا کیا۔ اس کا ثبوت چلاس کی چٹانوں پر نقش وہ تصویریں ہیں، جن میں بدھ مت کے ساتھ ساتھ مقامی مذہبی علامات کثرت سے ملتی ہیں۔
تاہم 10 ویں صدی میں بدھ مت نے ایک بار پھر درادہ شاہیوں کے ساتھ ریاستی سرپرستی میں خطے میں اپنی تجدید کی لیکن اس زمانے تک یہ پرانے نسخے لسانی اور سیاسی تغیرات کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو کر غیرمتعلق اور ناقابل تفہیم ہو چکے تھے۔
البتہ ان سے تقدس کا عنصر اب بھی جڑا تھا، اس لیے نئے حکمرانوں کو ان کا بہترین مصرف یہ نظر آیا کہ انہیں تبرکاً ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جائے، اس لیے انہوں نے انہیں تاریک اور بے روزن سٹوپاز میں ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جہاں یہ قریباً ایک ہزار سال چرواہوں کے آنے کے منتظر رہے۔
مودی کی دلچسپی
نریندر مودی نے 12 ستمبر 2025 کو دہلی میں قدیم ہندوستانی نسخوں کو ڈیجیٹائز اور محفوظ کرنے کے اہم منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گلگت مینو سکرپٹس کا بھی ذکر کیا اور ان کی نمائش دیکھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ مینو سکرپٹس ہمیں کشمیر کی ’اصل‘ تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہندوستان کے نایاب نسخوں پر 30 منٹ فی البدیہہ تقریر کرتے ہوئے انڈین وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا بھر سے نایاب نسخے انڈیا لا کر ڈیجیٹل طریقے سےمحفوظ کیے جائیں گے
On and around the Gilgit Manuscripts in the National Archives of India by Noriyuki Kudo
THE GILGIT MANUSCRIPTS AND THE POLITICAL HISTORY OF GILGIT by Karl Jettmar
The Saddharmapundarikasutra at Gilgit Manuscripts, Worshippers, and Artists by Oskar von Hinüber
History of Northern Areas of Pakistan by A. H. Dani, 1991
Gilgit Manuscripts Vol. I by Nalinaksha Dutt, 1939
REPORT ON THE GILGIT EXCAVATION IN 1938 By M. BS. KAUL SHASTRI, 1939
The Civil and Military Gazette, July 25, 1931
نوپورہ گاٶں جسے موجودہ گلگت شہر کی اولین آبادی بھی کہا جاتاھے۔اس کی پہاڑیوں پہ موجود قدیم بدہ مت دور اور راجہ شری بدت کے دور حکومت جو غالباً آٹھویں صدی عیسوی کے تھے۔کہا جاتا ھے کہ ان پہاڑی چٹانوں پہ اب بھی اس قدیم دور کے کچھ آثار اب تک موجود ھیں جنکو محفوظ کرنے کی اشد ضرورت ھے۔

قلعہ دین گڑھ(ترہارا)
13/10/2025

قلعہ دین گڑھ(ترہارا)

Selection from   Calutta Review 1874. Second Series Notes on the lost River of the indian Desert.================یہ نوٹس...
09/10/2025

Selection from Calutta Review 1874. Second Series
Notes on the lost River of the
indian Desert.================
یہ نوٹس سی ایف اولڈھم نے تحریر کئے تھے ۔ ان واقعاتی شواہد کو ایک (Nearchus) نیرچس
نامی دستخط کرنے والےشخص نے ایک حتمی راۓ کے ساتھ
میں كهنگال کر شامل کیا Vol LX 1875
اس مقالہ کے پہلے مصنف کی راۓ کو
مسٹر اولڈھم نے تصدیق کر کے مزید دلائل
کے ساتھ جے اے ایس بنگال واليوم ایل ایكس پارٹ 2۔ 1887میں شآئع کروایا ۔
مسٹر ایچ جے راورٹی نے اسی شمارے میں مختلف توجیہات سے اس کو مزید آگے بڑھایا ۔ اس کا ترجمہ جلد پیش کیا جاۓ گا ۔
Pervez Sadiq
Secretary
Institute Of Research And Annals Of Pakistan
Books of Sadiq Library .

آ ئیے ہم آپکو دكهاتے ہیں ڈسٹرکٹ  لیہ میں موجود  آثار قدیمہ اور ان کی باقیات کی تصاویر ۔
28/01/2025

آ ئیے ہم آپکو دكهاتے ہیں ڈسٹرکٹ لیہ میں موجود آثار قدیمہ اور ان کی باقیات کی تصاویر ۔

ادیرہ یا ہندیره ❤️ہماری بلوچی زبان میں ہدیرہ یا ادیره  اس  مقبره کو کہا جاتا ھے جس پر چھت نہ ہو ۔Institute Of Research A...
30/12/2024

ادیرہ یا ہندیره ❤️
ہماری بلوچی زبان میں ہدیرہ یا ادیره اس مقبره کو کہا جاتا ھے جس پر چھت نہ ہو ۔
Institute Of Research And Annals Of Pakistan
کی ایک ریسرچ ٹیم کے ساتھ پروفیسر ڈاکٹر رزاق صابر وآئس چانسلر یونیورسٹی آ ف گوادر نے 1990 میں Rahim Yar Khan کے ترنڈہ علی مراد خان میں ایک بغیر چھت کے کھنڈر کا نام ہندیرہ بتلائے جانے پر انکشاف کیا تھا کہ اس جگہ کوئی مقبره ہو سکتا ھے ۔
اور وہاں علی مراد خان پیر جانی سردار آعلیٰ غربی حصہ ریاست بہاول پور کی قبر ہو سکتی ھے ۔
ہم ترنڈہ علی مراد خان میں پروفیسر ملک احمد بخش صاحب کے بلانے پر وه آثار قدیمه دیکھنے گئے تھے ۔

سنسکرت زبان میں ھندیرہ کی ٹرم موت اور انتقال کیلئے استعمال کیا جاتا ھے ۔ سرائیکی وسیب میں بھی پرانے مقابر کو ہندیرہ یا ادیره پکارا جا تا ھے۔
ضلع بھکر کے علاقے نوتک میں مقبرہ نوتک خان ھوت ، لال ماہڑہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے مقابر اور وسیب کے باقی علاقوں میں بھی پرانے مقابر کو ہندیرہ کہا جاتا ھے۔

فوٹو: مقبرہ نوتک خان ھوت ضلع بکھر
یہ بھی بغیر چھت کے مقبره ھے ۔

پرویز صادق
سیكرٹری
اداره تحقیق و تزكره تاریخ پاکستان

Address

Sarprah House 106-D Block Z, Gulshan-e-IQBAL, Rahimyar Khan.

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Institute Of Research And Annals Of Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Institute Of Research And Annals Of Pakistan:

  • Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization?

Share