District facilitation sell for disable person social welfare rahim yar khan

District facilitation sell for disable person social welfare rahim yar khan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from District facilitation sell for disable person social welfare rahim yar khan, social welfare office Rahim Yar Khan, Rahimyar Khan.

حکومتِ پنجاب نے خصوصی افراد کے لیے آن لائن سہولیات
معذوری سرٹیفکیٹ: dpmis.punjab.gov.pk/verification

ہمت کارڈ اسٹیٹس: dpmis.punjab.gov.pk/himmatcard-verification
معاون آلات جیسے وہیل چیئر، وائٹ کین، ہیئرنگ ایڈز وغیرہ کی درخواست: enabled.punjab.gov.pk

پنجاب دھی رانی پروگرامحکومتِ پنجاب نے خواتین کی فلاح و بہبود اور شادی کے اخراجات میں معاونت کے لیے دھی رانی پروگرام کا آ...
01/08/2025

پنجاب دھی رانی پروگرام

حکومتِ پنجاب نے خواتین کی فلاح و بہبود اور شادی کے اخراجات میں معاونت کے لیے دھی رانی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کی قیادت وزیراعلیٰ پنجاب، محترمہ مریم نواز شریف کر رہی ہیں۔ پروگرام کا مقصد معذور، یتیم، نادار اور بے سہارا خواتین کو مالی امداد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ زندگی کے نئے سفر کا آسان آغاز کر سکیں۔

---

پروگرام کی تفصیلات

1. پروگرام کا مقصد

مستحق دلہنوں کو دو لاکھ روپے مالی امداد (سلامی کی صورت میں) دی جائے گی

امداد شادی کی تقریبات، ضروری گھریلو سامان اور دیگر اخراجات میں مددگار ہو گی

شادیوں کے تمام اخراجات سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور حکومتِ پنجاب برداشت کریں گے

2. اہلیت کے اصول

عمر: 18 سے 40 سال

ترجیح معذور، یتیم، نادار اور بے سہارا خواتین کو دی جائے گی

درخواست دہندہ دلہن، والد، والدہ یا سرپرست ہو سکتا ہے

درخواست دہندہ پنجاب کا مستقل رہائشی ہو

دلہن غیر شادی شدہ ہو اور اجتماعی شادی تقریب میں شرکت کے لیے تیار ہو

اگر درخواستوں کی تعداد زیادہ ہو، تو الیکٹرانک قرعہ اندازی کے ذریعے انتخاب کیا جائے گا

3. درخواست کا طریقہ اور مدت

درخواستیں جمع کروانے کی مدت: 25 جولائی 2025 سے 20 اگست 2025

صرف آن لائن درخواستیں قبول کی جائیں گی

درخواست دینے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://cmp.punjab.gov.pk

تمام درخواستوں کی تصدیق محکمہ سوشل ویلفیئر کرے گا

تصدیق کے بعد ایک مخصوص دن کو اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کی جائے گی

تقریب میں جوڑوں کی شادی کروائی جائے گی اور ہر جوڑے کو دو لاکھ روپے کی سلامی دی جائے گی

4. درکار دستاویزات

دلہن کا شناختی کارڈ

دلہن کی ایک تصویر

دلہن کے والد اور والدہ کا شناختی کارڈ

دولہا کا شناختی کارڈ

دولہا کی ایک تصویر

دولہا کے والد اور والدہ کا شناختی کارڈ

دلہن اور دولہا کی تعلیم کی تفصیلات

بیانِ حلفی (تفصیلات نیچے)

5. بیانِ حلفی (نمونہ)

میں غیر شادی شدہ ہوں اور میرا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے

میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، حکومت پنجاب کے زیر اہتمام مشترکہ شادی پروگرام سے واقف ہوں

میں رضاکارانہ طور پر اس پروگرام میں شرکت کی خواہشمند ہوں

میں تقریب میں شرکت کے لیے تیار ہوں

میں تصدیق کرتی ہوں کہ میری پہلے کوئی شادی نہیں ہوئی

میں تمام درکار معلومات اور دستاویزات فراہم کرنے کی پابند ہوں

میں سمجھتی ہوں کہ غلط بیانی یا حقائق چھپانے کی صورت میں میری شرکت منسوخ کی جا سکتی ہے

میں اس بیانِ حلفی کے تمام مندرجات کو اپنے علم اور یقین کے مطابق درست سمجھتی ہوں

6. انتظامی امور

یہ پروگرام محکمہ سوشل ویلفیئر اور بیت المال، حکومت پنجاب کے تحت چلایا جا رہا ہے

شادیوں کی تقریب کے انتظامات بھی محکمہ خود انجام دے گا

7. رابطہ معلومات

مزید معلومات اور رہنمائی کے لیے پنجاب حکومت کی ہیلپ لائن 1312 پر کال کریں

---

یہ معلومات اعجاز احمد چوہدری، سوشل نیڈز آفیسر، سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال ڈیپارٹمنٹ، رحیم یار خان کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہیں۔
0301-7635397

پوسٹ برائے آگاہی: معذور افراد کے حقوق — نمبر 37عنوان: دفعہ 41 – مقدمات کی سماعت اور خصوصی عدالت کا دائرہ اختیارمقصد:دفعہ...
27/07/2025

پوسٹ برائے آگاہی: معذور افراد کے حقوق — نمبر 37

عنوان: دفعہ 41 – مقدمات کی سماعت اور خصوصی عدالت کا دائرہ اختیار

مقصد:
دفعہ 41 میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ معذور افراد سے متعلق مخصوص جرائم کی سماعت صرف خصوصی عدالت کرے گی۔ اس دفعہ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان مقدمات میں کون سا قانون لاگو ہوگا اور ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہوگا۔

---

دفعہ 41: مقدمات کی سماعت اور ٹرائل

سب سیکشن (1): خصوصی عدالت کا اختیار

اصل متن:
No court other than the Special Court constituted under this Act shall take cognizance of or try the offences under sections 38, 39 and 40 of this Act.

اردو ترجمہ:
اس ایکٹ کی دفعہ 38، 39 اور 40 کے تحت ہونے والے جرائم کی سماعت یا ان پر کارروائی صرف وہی عدالت کرے گی جو اس ایکٹ کے تحت خصوصی طور پر قائم کی گئی ہو۔

وضاحت:
یہ شق اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ معذور افراد کے خلاف مخصوص سنگین جرائم جیسے دھوکہ دہی، رکاوٹ ڈالنا یا دوہرے قوانین کی خلاف ورزی کی سماعت کوئی عام عدالت نہیں کرے گی بلکہ ایک خصوصی عدالت ہی کرے گی۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ایسے مقدمات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بااختیار عدالت ان کا فیصلہ کرے۔

---

سب سیکشن (2): فوجداری قانون کا اطلاق

اصل متن:
Notwithstanding anything contained in any other law for the time being in force, the provisions of the Code of Criminal Procedure, 1898 (Act V of 1898), shall mutatis mutandis, apply to the proceedings relating to the offences under sections 37, 38 and 39 of this Act.

اردو ترجمہ:
اس وقت نافذ کسی بھی دوسرے قانون کے باوجود، اس ایکٹ کی دفعات 37، 38 اور 39 سے متعلق مقدمات کی کارروائی پر فوجداری قانون 1898 کا اطلاق ہوگا، جیسا کہ حسبِ ضرورت تبدیلی کے ساتھ۔

وضاحت:
اس دفعہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ معذور افراد سے متعلق ان دفعات کے مقدمات پر عام فوجداری قانون (CrPC 1898) لاگو ہوگا۔ یعنی ملزم کے حقوق، گواہی، تفتیش، اور دیگر عدالتی کارروائی کا طریقہ وہی ہوگا جو عام مجرمانہ مقدمات میں رائج ہے، مگر جہاں ضرورت ہو وہاں قانون میں مناسب رد و بدل بھی کیا جا سکتا ہے۔

---

سب سیکشن (3): فاسٹ ٹریک ٹرائل کا اطلاق

اصل متن:
Subject to sub section (1), the provisions of Chapter XXIIA of the Code of Criminal Procedure, 1898 (Act V of 1898) shall apply to trials under this Act.

اردو ترجمہ:
سب سیکشن (1) کے تحت، اس ایکٹ کے مقدمات پر فوجداری قانون 1898 کے باب XXIIA کا اطلاق ہوگا۔

وضاحت:
یہ شق فاسٹ ٹریک ٹرائل کا دائرہ واضح کرتی ہے۔ اس کے تحت ایسے مقدمات کو تاخیر سے بچاتے ہوئے جلد از جلد نمٹانے کا انتظام کیا جائے گا۔ عدالتوں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ فوری تاریخیں دیں، کم التوا رکھیں، اور بروقت فیصلے کریں تاکہ متاثرہ شخص کو جلد انصاف مل سکے۔

---

خلاصہ

سب سیکشن خلاصہ

(1) دفعہ 38، 39، 40 کے مقدمات صرف خصوصی عدالت سنے گی۔
(2) ان دفعات پر CrPC 1898 لاگو ہوگا، حسبِ ضرورت ترمیم کے ساتھ۔
(3) مقدمات کا فیصلہ فاسٹ ٹریک طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔

---

اہم قانونی اصطلاحات

اصطلاح (انگریزی) اردو مفہوم

Cognizance مقدمہ سننے کا اختیار
Special Court خصوصی عدالت
Code of Criminal Procedure فوجداری طریقہ کار قانون (CrPC)
Mutatis Mutandis حسبِ ضرورت ترمیم کے ساتھ اطلاق
Fast Track Trial تیز رفتار مقدمے کی کارروائی
Chapter XXIIA CrPC کا باب برائے فوری ٹرائل

---

اختتامیہ

دفعہ 41 نہایت اہم ہے کیونکہ یہ معذور افراد سے متعلق سنگین مقدمات کے لیے ایک مخصوص، موثر اور فوری عدالتی نظام قائم کرتی ہے۔ اس سے متاثرہ افراد کو بروقت انصاف فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

اگر اس پوسٹ میں کوئی قانونی، لسانی یا اصطلاحی خامی محسوس ہو تو براہ کرم آگاہ کریں تاکہ اصلاح کی جا سکے۔

Ijaz Ahmed Chaudhry
Social Needs Officer for Special Persons
Social Welfare Department, Rahim Yar Khan
📧 [email protected]
📞 0301 7635397

الیکشن کمیشن رحیم یار خان کے زیراہتمام ایک اہم مشاورتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین اور معذور افراد کی انتخاب...
25/07/2025

الیکشن کمیشن رحیم یار خان کے زیراہتمام ایک اہم مشاورتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں خواتین اور معذور افراد کی انتخابی عمل میں مکمل اور باعزت شمولیت یقینی بنانے سے متعلق اہم نکات اور تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت الیکشن کمشنر رحیم یار خان نے کی، جبکہ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ کئی عملی تجاویز کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو پیش کیا جائے گا تاکہ آئندہ انتخابات میں ان طبقات کو درپیش رکاوٹوں کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔

سیمینار میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی جن میں:

الیکشن کمیشن رحیم یار خان سے میاں زاہد صاحب

سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے اجاز احمد چوہدری (افسر برائے سماجی ضروریات برائے معذور افراد)

سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے عرفان احمد صاحب (فوکل پرسن، بی او سپیشل ایجوکیشن)

نادرا سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ افسران

لوکل گورنمنٹ اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نمائندگان

خواتین نمائندے

اور مختلف سول سوسائٹی/NGOs کے نمائندگان شامل تھے۔

تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابی عمل میں معذور افراد اور خواتین کی شرکت کو قانونی، تکنیکی اور انتظامی سطح پر آسان اور باعزت بنایا جائے تاکہ ایک مکمل شمولیتی جمہوریت کو فروغ دیا جا سکے۔

بہاولپور ڈویژن کی پرائیویٹ اسٹیبلشمنٹ میں معذور افراد کی شمولیت کی جانب ایک مؤثر پیش رفتڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر بہا...
19/07/2025

بہاولپور ڈویژن کی پرائیویٹ اسٹیبلشمنٹ میں معذور افراد کی شمولیت کی جانب ایک مؤثر پیش رفت

ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر بہاولپور جناب اشتیاق احمد صاحب اور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر رحیم یار خان جناب محمد عزیر صاحب نے کوکا کولا فیکٹری (رحیم یار خان) کا دورہ کیا۔

فیکٹری پہنچنے پر وہاں کے ماحول اور ٹیم کی خوش اخلاقی نے ہمیں ایک خوشگوار تاثر دیا۔ جناب عمر جاوید، ڈائریکٹر ایچ آر کوکا کولا، اور ان کی ٹیم نے سوشل ویلفیئر افسران کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ کوکا کولا فیکٹری ان چند اداروں میں شامل ہے جو معذور افراد کے لیے سازگار (Disabled-Friendly) ماحول اور قابلِ تقلید اقدامات پر عمل پیرا ہیں۔ فیکٹری میں قابلِ رسائی سہولیات، باعزت اور محفوظ ورکنگ ماحول، اور معذور افراد کی مؤثر شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔

دورے کے دوران معذور افراد کے لیے مختص 3 فیصد کوٹہ کے نفاذ اور مساوی روزگار کی فراہمی پر تعمیری گفتگو ہوئی۔

کوکا کولا رحیم یار خان کے ڈائریکٹر ایچ ار جناب عمر جاوید صاحب اور ان کی انتظامیہ نے یہ یقین دلایا کہ معذور افراد کو نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ تربیت، صلاحیتوں کی نشوونما اور فلاح کے لیے بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

یہ ادارہ معذور افراد کی سماجی اور پیشہ ورانہ شمولیت کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے، جو دیگر اداروں کے لیے بھی راہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

یہ دورہ اِس امر کی عملی شہادت ہے کہ جب وژن واضح اور جذبوں میں خلوص ہو تو معذوری رکاوٹ نہیں، بلکہ ترقی اور خود مختاری کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

ہم کوکا کولا فیکٹری اور اس کی انتظامیہ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے سماجی ہم آہنگی اور انضمام کے جذبے کو اپنی فیکٹری میں عملی شکل دی۔

Ijaz Ahmed Chaudhry
Social Needs Officer for Special Persons
Social Welfare Department, Rahim Yar Khan
📞 +92 301 7635397








یونی لیور رحیم یار خان میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی اعلی قیادت اور افسران کی خصوصی آمد — معذور افراد کے لیے امید کا پیغ...
17/07/2025

یونی لیور رحیم یار خان میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی اعلی قیادت اور افسران کی خصوصی آمد — معذور افراد کے لیے امید کا پیغام

ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال بہاولپور ڈویژن جناب اشتیاق احمد صاحب اور ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال رحیم یار خان جناب محمد عزیر صاحب نے یونی لیور پاکستان (رحیم یار خان) کا ایک بامقصد اور پُراثر دورہ کیا۔

اس موقع پر ڈائریکٹر ایچ آر یونی لیور جناب بلال جاوید صاحب سے خصوصی ملاقات کی گئی جس میں معذور افراد کو روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے اور تین فیصد سرکاری کوٹے پر عملدرآمد سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

دورے کے دوران فیکٹری کے انتظامی و عملی نظام، ورکنگ ماحول، اور معذور افراد کی شمولیت سے متعلق ممکنہ مواقع کا جائزہ لیا گیا۔

یونی لیور پاکستان کی جانب سے خصوصی افراد کو باوقار روزگار کی فراہمی کے عزم کو سراہا گیا اور اس مثبت تعاون کو ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا گیا
Ijaz ahmed Chaudhary social needs officer for the person with disabilities social welfare department Rahim yar khan 03017635397۔










پوسٹ برائے آگاہی: معذور افراد کے حقوق — نمبر 36عنوان: دفعہ 40 – جرائم کی تطبیقمقصد: اس دفعہ کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ا...
10/07/2025

پوسٹ برائے آگاہی: معذور افراد کے حقوق — نمبر 36

عنوان: دفعہ 40 – جرائم کی تطبیق

مقصد: اس دفعہ کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اگر کسی معذور فرد کے خلاف ایسا جرم کیا جائے جو کسی سے زیادتی یا قانون شکنی کے زمرے میں آتا ہو، اور وہ جرم بیک وقت دو یا زیادہ قوانین کی خلاف ورزی ہو، تو اسے صرف اس قانون کے تحت سزا دی جائے گی جس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہو۔

40. Application of offences.- Where an act or omission constitutes an offence punishable under this Act and also under any other Act, then, notwithstanding anything contained in any other law for the time being in force, the offender found guilty of such offence shall be liable to punishment only under such Act as provides for punishment which is greater in degree.

اردو ترجمہ

40۔ جرائم کی تطبیق
اگر کوئی فعل یا جرم ایسا ہو جو اس قانون اور کسی دوسرے قانون کے تحت قابلِ سزا جرم ہو، تو موجودہ وقت میں نافذ کسی بھی دوسرے قانون میں درج کسی بھی بات کے باوجود، مجرم کو صرف اسی قانون کے تحت سزا دی جائے گی جو زیادہ سخت سزا فراہم کرتا ہو۔

قانونی وضاحت

یہ دفعہ اس وقت لاگو ہوتی ہے جب کسی ایک ہی عمل سے ایک سے زیادہ قوانین کی خلاف ورزی ہو۔ اگر کسی معذور فرد کے ساتھ کوئی ایسا ظلم یا زیادتی ہو جو بیک وقت دو مختلف قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو — مثلاً تعزیراتِ پاکستان اور معذور افراد کا قانون — تو صرف اُس قانون کے تحت سزا دی جائے گی جس میں سزا زیادہ سخت ہو۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جرم کے لحاظ سے زیادہ سخت سزا دی جائے، اور ملزم کو بار بار الگ الگ قانون کے تحت سزا نہ دی جائے۔ یہ اصول انصاف، سادگی اور قانون کی یکسانیت کے لیے رکھا گیا ہے۔

عملی مثالیں

1. تشدد کا واقعہ: ایک معذور فرد پر اس کے باس نے جسمانی تشدد کیا۔ یہ عمل پاکستان پینل کوڈ اور معذور افراد کے تحفظ کے قانون دونوں کے تحت جرم ہے۔ عدالت اُس قانون کے تحت سزا دے گی جس کی سزا زیادہ ہے۔

2. جنسی ہراسانی: ایک معذور خاتون کو کسی ادارے میں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ یہ عمل خواتین کے تحفظ کے قانون اور معذوروں کے حقوق کے قانون دونوں میں جرم ہے۔ سزا صرف اُس قانون کے مطابق دی جائے گی جس میں سخت سزا مقرر ہو۔

3. جبری مشقت: ایک نابینا بچے سے فیکٹری میں زبردستی کام لیا جا رہا ہے۔ یہ چائلڈ لیبر قوانین اور معذور افراد کے قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت اُس قانون کے مطابق کارروائی کرے گی جس کی سزا زیادہ سنگین ہو۔

اہم قانونی اصطلاحات (Glossary)

English Term اردو مفہوم

Offence جرم / قابلِ سزا عمل
Omission ترکِ فعل / کسی ضروری عمل کا نہ ہونا
Notwithstanding باوجود اس کے کہ / قطع نظر
Liable to punishment سزا کا مستوجب / سزا یافتہ ہونے کا اہل
Greater in degree زیادہ سخت یا بلند تر درجہ کی سزا

اختتامیہ

📌 اگر اس پوسٹ میں کوئی غلطی، قانونی سقم یا اصطلاحی ابہام ہو تو براہ کرم مطلع فرمائیں تاکہ بروقت اصلاح کی جا سکے۔ آپ کی رہنمائی ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔
Ijaz Ahmed Chaudhry
Social Needs Officer for Special Persons
Social Welfare Department, Rahim Yar Khan
📞 0301 7635397---

📌 پوسٹ برائے آگاہی: معذور افراد کے حقوق — نمبر 35Empowerment of Persons with Disabilities Act 2022 کا آرٹیکل 39آرٹیکل 39...
09/07/2025

📌 پوسٹ برائے آگاہی: معذور افراد کے حقوق — نمبر 35
Empowerment of Persons with Disabilities Act 2022 کا آرٹیکل 39

آرٹیکل 39 کا عنوان ہے
Punishment for failure to furnish information
یعنی معلومات فراہم نہ کرنے پر سزا

حصہ سوم
جرائم اور سزائیں

مقصدِ آرٹیکل 39
اس دفعہ کا مقصد اُن افراد، اداروں یا محکموں کو قانون کا پابند بنانا ہے جو معذور افراد سے متعلق مطلوبہ معلومات، ریکارڈ یا تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کریں یا اس میں تاخیر کریں۔ شفافیت، جواب دہی اور معذور افراد کے قانونی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

Article 39 — Punishment for failure to furnish information
Whoever fails to produce any book, account or other documents or to furnish any statement, information or particulars which, under this Act or any order or direction made or given there under, he is duty bound to produce or furnish or to answer any question put in pursuance of the provisions of this Act or of any order or direction made or given there under shall be punished with fine which may extend to fifty thousand rupees in respect of each offence and in case of continued failure or refusal with further fine which may extend to one thousand rupees for each day of continued failure or refusal after the date of original order imposing punishment of fine

اردو ترجمہ
معلومات فراہم نہ کرنے پر سزا
جو شخص اس قانون یا اس کے تحت جاری کردہ کسی حکم یا ہدایت کے مطابق کوئی حساب کتاب ریکارڈ یا دیگر دستاویزات پیش کرنے یا کوئی بیان معلومات یا تفصیل فراہم کرنے یا قانون کے تحت کیے گئے کسی سوال کا جواب دینے کا پابند ہو اور ایسا کرنے سے انکار کرے یا ناکام ہو تو اسے ہر خلاف ورزی پر پچاس ہزار روپے تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے اور اگر وہ مسلسل معلومات فراہم نہ کرے تو جرمانے کے اصل حکم کے بعد ہر دن کی خلاف ورزی پر ایک ہزار روپے یومیہ جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے

قانونی وضاحت
یہ دفعہ اُن افراد یا اداروں پر لاگو ہوتی ہے جو قانونی ذمہ داری کے تحت معذور افراد سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں دانستہ غفلت یا انکار کے مرتکب ہوں۔ اکثر یہ معلومات ملازمت کے کوٹے، تعلیمی سہولیات، قانونی تحفظ یا حکومتی پالیسی سے متعلق ہوتی ہیں۔ معلومات کا فراہم نہ کرنا نہ صرف قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ معذور افراد کے حقوق کے لیے رکاوٹ بھی ہے۔

مثالیں برائے وضاحت
اگر کوئی سرکاری یا نیم خودمختار ادارہ معذور افراد کے لیے مختص تین فیصد ملازمت کے کوٹے سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کرے تو وہ اس آرٹیکل کے تحت قابل سزا ہوگا

کوئی تعلیمی ادارہ اگر معذور طلبہ کی سہولیات یا داخلوں کی تفصیل فراہم نہ کرے تو یہ بھی خلاف قانون ہے

اگر کوئی آجر معذور ملازم کے حقوق یا سہولیات سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے انکار کرے تو اس پر جرمانہ عائد ہو سکتا ہے

کوئی کمیشن کونسل یا بورڈ معذور افراد سے متعلق مطلوبہ معلومات مسلسل فراہم نہ کرے تو اس پر یومیہ جرمانہ لگایا جا سکتا ہے

اہم اصطلاحات اور ان کے مفاہیم
Failure to furnish information — معلومات فراہم نہ کرنے کی خلاف ورزی
Statement — بیان
Particulars — تفصیلات
Order / Direction — حکم یا ہدایت
Fine — جرمانہ
Continued refusal — مسلسل انکار
Autonomous body — خودمختار ادارہ
Semi-autonomous body — نیم خودمختار ادارہ

اختتامیہ
یہ پوسٹ Empowerment of Persons with Disabilities Act 2022 کی دفعہ 39 پر مبنی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی فرد یا ادارہ معذور افراد سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار نہ کرے۔ معلومات کا چھپانا انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس دفعہ کے ذریعے اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں ورنہ ان پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس پوسٹ میں کسی قسم کی قانونی یا لسانی غلطی ہو تو براہ کرم نشاندہی فرما کر اصلاح کا موقع دیں۔

Ijaz Ahmed Chaudhry
Social Needs Officer (For the Persons with Disabilities)
Social Welfare Department, Rahim Yar Khan
Phone: 0301-7635397ل16cw8Bp6yr/

---

📌 پوسٹ برائے آگاہی: معذور افراد کے حقوق — نمبر 34
Empowerment of Persons with Disabilities Act 2022 کا آرٹیکل 38

---

آرٹیکل 38 کا عنوان

Punishment for other offences
(یعنی: دیگر جرائم پر سزا)

---

حصہ سوم (Part III) — جرائم اور سزائیں

(Offences and Penalties)

---

مقصدِ آرٹیکل 38

اس دفعہ کا مقصد یہ ہے کہ معذور افراد کے ساتھ بدسلوکی، جسمانی یا ذہنی زیادتی، جنسی استحصال، بنیادی ضروریات سے محرومی، یا اُن کے آلات یا جسمانی اعضا کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔ یہ شق معذور افراد کی جسمانی و نفسیاتی سلامتی، تحفظ اور ان کے انسانی وقار کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔

---

Article 38 — Punishment for other offences

“38. Punishment for other offences.-
Whoever:
(a) intentionally insults or intimidates with intent to humiliate a person with a disability in any place within public view;
(b) having the actual charge or control over a person with a disability voluntarily or knowingly denies food to him;
(c) being in a position to dominate the will of a child or woman with a disability and uses that position to exploit him or her sexually;
(d) voluntarily injures, damages or interferes with the use of any limb or sense or any supporting device of a person with a disability; or
(e) performs, conducts or directs any medical procedure to be performed on a woman with a disability which leads to or is likely to lead to termination of pregnancy without her express consent except in cases where medical procedure for termination of pregnancy is done in severe cases of disabilities and with the opinion of a registered medical practitioner and also with the consent of the guardian of the woman with disabilities, shall be punished with imprisonment for a term which may extend to five years which shall not be less than six months and with fine of up to five hundred thousand rupees.”**

---

اردو ترجمہ

۳۸۔ دیگر جرائم پر سزا
جو کوئی شخص:
(الف) جان بوجھ کر کسی معذور فرد کو عوامی مقام پر توہین یا خوفزدہ کرنے کی نیت سے بے عزت کرے۔
(ب) کسی معذور فرد کی نگہداشت یا اختیار میں ہوتے ہوئے اُسے رضاکارانہ یا جان بوجھ کر خوراک سے محروم رکھے۔
(ج) کسی معذور خاتون یا بچے کی خواہش پر اثرانداز ہو کر اُسے جنسی طور پر استحصال کا نشانہ بنائے۔
(د) کسی معذور فرد کے عضو، حواس یا معاون آلے کو جان بوجھ کر زخمی کرے، نقصان پہنچائے یا ان میں مداخلت کرے۔
(ہ) کسی معذور خاتون پر اُس کی مرضی کے بغیر ایسا طبی عمل کروائے جو حمل کے اسقاط کا باعث بنے یا بن سکتا ہو، سوائے ان مخصوص کیسز کے جہاں معذوری شدید ہو اور رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کی رائے اور سرپرست کی اجازت سے اسقاط کیا جائے۔
تو اُسے چھ ماہ سے کم نہیں اور پانچ سال تک کی قید، اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

---

قانونی وضاحت

یہ دفعہ اُن تمام سنگین جرائم کا احاطہ کرتی ہے جو معذور افراد کی عزت نفس، جسمانی سلامتی یا تولیدی حقوق کے خلاف ہوں۔ مندرجہ بالا نکات کے مطابق:

کسی معذور فرد کی عوامی مقام پر تذلیل، دھمکی یا بے عزتی کرنا ناقابل برداشت جرم ہے۔

سرپرست یا دیکھ بھال کرنے والا فرد اگر خوراک سے جان بوجھ کر محروم کرے تو وہ بھی قانوناً مجرم ہے۔

اگر کوئی شخص کسی معذور خاتون یا بچے کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں جنسی استحصال کا نشانہ بنائے تو یہ سخت ترین جرم شمار ہوگا۔

معذور افراد کے کسی عضو، حواس یا آلے (جیسے وہیل چیئر، سماعت کے آلات وغیرہ) کو نقصان پہنچانا قابل سزا جرم ہے۔

کسی معذور خاتون کا اسقاط حمل اُس کی رضامندی کے بغیر کروانا، سوائے مخصوص قانونی حدود کے، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس دفعہ کے تحت عدالت مجرم کو کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا سنا سکتی ہے۔

---

مثالیں برائے وضاحت

1. ایک معلم نے خصوصی طلبہ کی کلاس میں ایک معذور طالبعلم کو سب کے سامنے طنزیہ الفاظ کہہ کر بے عزت کیا۔ یہ فعل عوامی توہین کے زمرے میں آتا ہے اور آرٹیکل 38 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔

2. ایک ادارے میں معذور خاتون کو بار بار کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور اُس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر خاموش کروایا گیا۔ یہ ایک سنگین جنسی استحصال ہے جس پر سخت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

3. ایک سرپرست نے ذہنی معذوری کے شکار بچے کو سزا کے طور پر کھانا دینا بند کر دیا۔ یہ آرٹیکل 38 کی شق (ب) کے تحت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے اور قابلِ سزا جرم ہے۔

4. ایک ہسپتال میں بغیر اجازت کے ایک معذور خاتون کا اسقاط حمل کیا گیا، حالانکہ وہ اس عمل کی مخالف تھی۔ یہ قانوناً ممنوع ہے سوائے ان خاص حالات کے جو دفعہ کے آخر میں بیان کیے گئے ہیں۔

---

اہم اصطلاحات اور ان کے مفاہیم

انگریزی اصطلاح اردو مفہوم وضاحت

Intentionally insults جان بوجھ کر توہین کرنا کسی کو شعوری طور پر نیچا دکھانا
Intimidates دھمکانا / خوفزدہ کرنا خوف یا دباؤ ڈالنا
Dominate the will مرضی پر قابو پانا کسی کی آزادیِ رائے پر دباؤ ڈالنا
Exploit sexually جنسی استحصال کرنا جنسی فائدہ اٹھانا، جبری یا فریب سے
Supporting device معاون آلہ جیسے وہیل چیئر، سفید چھڑی، سماعت کے آلات وغیرہ
Termination of pregnancy اسقاطِ حمل حمل ختم کرنے کا عمل
Express consent واضح رضامندی کسی فرد کی آزاد مرضی سے اجازت
Registered medical practitioner رجسٹرڈ طبی معالج حکومت سے منظور شدہ ڈاکٹر

---

اختتامیہ

یہ پوسٹ پنجاب امپاورمنٹ آف پرسنز وِد ڈس ایبیلٹیز ایکٹ 2022 کی دفعہ 38 پر مبنی ہے، جو اُن جرائم کو قابو میں لانے کے لیے تشکیل دی گئی ہے جن سے معذور افراد کے جسمانی، ذہنی اور سماجی تحفظ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ قانون ہر فرد کو یہ پیغام دیتا ہے کہ معذور افراد کی عزت، سلامتی اور حقوق کی خلاف ورزی ناقابل برداشت ہے اور ایسا کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔

اگر اس پوسٹ میں کوئی قانونی یا لسانی غلطی رہ گئی ہو تو براہ کرم نشاندہی فرمائیں تاکہ بروقت اصلاح کی جا سکے۔

---

Ijaz Ahmed Chaudhry
Social Needs Officer (For the persons with Disabilities)
Social Welfare Department, Rahim Yar Khan
📞 Phone: 03017635397

06/07/2025

📌 سوشل ویلفیئر و بیت المال ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے معذور افراد کے لیے ایک شاندار اقدام

سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ PITB کے تعاون سے معذور افراد کے لیے ایک جدید دوطرفہ SMS ہیلپ لائن 8070 متعارف کروائی ہے

یہ سہولت درج ذیل سرکاری پروگرامز سے فائدہ اٹھانے والے معذور افراد کے لیے دستیاب ہے
🔹 Himmat Card Program
🔹 Punjab Di Rani Program
🔹 Bait-ul-Maal Program
🔹 Wheelchair & Assistive Devices Program

اب ان تمام پروگرامز سے مستفید ہونے والے افراد اپنے موبائل فون کے ذریعے گھر بیٹھے درج ذیل معلومات حاصل کر سکتے ہیں
✅ اپنی درخواست کی موجودہ حیثیت معلوم کریں
✅ اپنی اہلیت eligibility چیک کریں
✅ درخواست کی پیش رفت کے بارے میں جانیں

📲 طریقہ استعمال
اپنے موبائل سے SMS بھیجتے وقت درج ذیل فارمیٹ استعمال کریں
[پروگرام کا کوڈ] [اپنا 13 ہندسوں والا شناختی کارڈ یا بے فارم نمبر]
دونوں کے درمیان صرف ایک اسپیس دیں

🔸 For example
HC 35201#########
یہ SMS 8070 پر بھیجیں

📋 پروگرامز اور ان کے شارٹ کوڈز ہمیشہ Capital Letters میں لکھیں
• Himmat Card کے لیے → HC لکھ کر ایک اسپیس دیں اور پھر 13 ہندسوں والا CNIC یا B-Form نمبر لکھ کر 8070 پر بھیجیں
• Punjab Di Rani Program کے لیے → CMP لکھ کر اسپیس دیں اور پھر 13 ہندسوں والا CNIC یا B-Form نمبر لکھ کر 8070 پر بھیجیں
• Wheelchair & Assistive Devices Program کے لیے → ADWC لکھ کر اسپیس دیں اور پھر 13 ہندسوں والا CNIC یا B-Form نمبر لکھ کر 8070 پر بھیجیں
• Bait-ul-Maal Program کے لیے → BM لکھ کر اسپیس دیں اور پھر 13 ہندسوں والا CNIC یا B-Form نمبر لکھ کر 8070 پر بھیجیں

📌 اہم ہدایات
• تمام شارٹ کوڈز صرف Capital Letters میں لکھے جائیں جیسے HC CMP
• CNIC یا B-Form نمبر صرف 13 ہندسوں پر مشتمل ہو
• شارٹ کوڈ اور نمبر کے درمیان صرف ایک اسپیس ہو
• یہ SMS 8070 پر بھیجا جا سکتا ہے جس کے چارجز تقریباً دو روپے اور پچاس پیسے ٹیکس سمیت ہوں گے اس لیے آپ کے موبائل اکاؤنٹ میں کم از کم اتنے بیلنس کی موجودگی ضروری ہے

📨 آپ کو 8070 سے فوری جوابی SMS موصول ہوگا جس میں آپ کی درخواست کی تازہ ترین تفصیل موجود ہوگی

🔁 یہ سروس فی الوقت تجرباتی مرحلے میں ہے اگر آپ کے ذہن میں اس سروس کے بارے میں کوئی رائے یا تجویز ہو تو برائے مہربانی متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر یا تحصیلوں کے سوشل ویلفیئر افسران کو ضرور آگاہ کریں

میرا مقصد یہ ہے کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے معذور افراد کے لیے فراہم کردہ تمام سہولیات کی بروقت معلومات ان تک مؤثر آسان اور قابلِ رسائی انداز میں پہنچیں میری کوشش ہے کہ ہر مستحق فرد ان سہولیات سے باخبر ہو اور ان سے بروقت فائدہ اٹھا سکے اسی مقصد کے لیے یہ پیغام آپ کی خدمت میں شیئر کیا جا رہا ہے تاکہ آپ 8070 پر SMS بھیج کر ان پروگرامز سے متعلق معلومات باآسانی حاصل کر سکیں

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پیغام کسی معذور فرد کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے تو براہِ کرم اسے اپنے جاننے والے معذور افراد تک ضرور پہنچائیں تاکہ وہ اپنے مسائل کے حل میں زیادہ سے زیادہ خود مختار بن سکیں

منجانب
اعجاز احمد چوہدری
افسر سماجی ضروریات برائے خصوصی افراد
سوشل ویلفیئر و بیت المال ڈیپارٹمنٹ، رحیم یار خان
📞 0301-7635397

📢 پنجاب بھر کے معذور افراد کے لیے خوشخبری!⚙️ حکومتِ پنجاب کے زیرِ انتظام پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل (PVTC) کے تحت صوبے ب...
03/07/2025

📢 پنجاب بھر کے معذور افراد کے لیے خوشخبری!

⚙️ حکومتِ پنجاب کے زیرِ انتظام پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل (PVTC) کے تحت صوبے بھر میں قائم تمام تحصیل و ضلعی ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس (VTIs) میں معذور افراد کے لیے مختلف فنی و پیشہ ورانہ کورسز میں مفت داخلے جاری ہیں

✅ کورسز کی تفصیلات:
کمپیوٹر آپریٹر — میٹرک — 8 ماہ
ویب ڈیزائن اینڈ ڈیولپمنٹ — میٹرک — 8 ماہ
کمپیوٹر ہارڈویئر اینڈ نیٹ ورک پروفیشنل — میٹرک — 14 ماہ
الیکٹریکل ہوم اپلائنسز ریپئرنگ — مڈل — 8 ماہ
پلمبنگ — پرائمری — 8 ماہ
فیشن ڈیزائننگ — پرائمری — 8 ماہ
ڈریس میکنگ — پرائمری — 8 ماہ
ویلڈر / فیبریکیشن — پرائمری — 8 ماہ

📌 کورسز کی خصوصیات:
داخلہ بالکل مفت ہے کورسز میں کتابیں، تربیتی مواد اور دیگر سہولیات بھی مفت فراہم کی جائیں گی داخلے کے وقت شناختی کارڈ یا بی فارم ساتھ لانا ضروری ہوگا عمر کی حد 15 سال سے 40 سال مقرر ہے مرد و خواتین دونوں داخلہ لے سکتے ہیں کلاسز کا آغاز 25 جولائی 2025 سے ہوگا

🗓 فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ: 20 جولائی 2025

📍 داخلے سے متعلق ہدایات:
ضلع رحیم یار خان کے معذور افراد اپنے قریبی تحصیل یا ضلعی ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ (VTI) سے براہ راست رابطہ کریں یا اعجاز احمد چوہدری افسر سماجی ضروریات برائے معذور افراد سوشل ویلفیئر و بیت المال ڈیپارٹمنٹ رحیم یار خان سے معلومات حاصل کریں پنجاب کے دیگر اضلاع کے معذور افراد اپنے اپنے تحصیل یا ضلع کے متعلقہ VTI سے رابطہ کریں تاکہ بروقت داخلہ ممکن ہو سکے

📍 اہم وضاحت:
ضلع رحیم یار خان کے معذور افراد کی رہنمائی اور معلومات کی فراہمی ہماری اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے جبکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں موجود معذور افراد کے لیے معلومات کی فراہمی ہمارا ایک اخلاقی فریضہ ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہر وہ فرد جو اپنی معذوری کے باوجود جدوجہد کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے وہ حکومتی سہولیات کا مستحق ہے ہماری خواہش اور مشن یہ ہے کہ پورے پنجاب میں جہاں کہیں بھی کوئی معذور فرد موجود ہو اسے حکومت پنجاب کے ان تمام اقدامات اور مواقع کی مکمل اور بروقت معلومات حاصل ہوں جو ان کی فلاح و ترقی کے لیے متعین کیے گئے ہیں پنجاب بھر کے تمام معذور افراد ہمارے لیے قابل قدر ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر ایک کو باعزت روزگار، ہنر اور خود انحصاری کا حق حاصل ہو

📞 رابطہ کریں:
اعجاز احمد چوہدری
افسر سماجی ضروریات برائے معذور افراد
سوشل ویلفیئر و بیت المال ڈیپارٹمنٹ، رحیم یار خان
Phone: 0301-7635397

📣 نوٹ:
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ معلومات کسی معذور فرد کے لیے اہم ہیں تو براہ کرم اس پوسٹ کو اپنے عزیز و اقارب اور ایسے تمام افراد کے ساتھ ضرور شیئر کریں جو ان سہولیات کے مستحق ہیں

Post baraye Aagahi: Mazoor Afraad ke Huqooq — Number 34Empowerment of Persons with Disabilities Act 2022 ka Article 38--...
01/07/2025

Post baraye Aagahi: Mazoor Afraad ke Huqooq — Number 34
Empowerment of Persons with Disabilities Act 2022 ka Article 38

---

Article 38 ka Unwan

Punishment for other offences
(yaani: Deegar jaraim par Saza)

---

Part III) — jaraim aur Sazayein

(Offences and Penalties)

---

Maqsad-e-Article 38

Is article ka maqsad yeh hai ke mazoor afraad kay saath badsulooki, jismani ya zehni zyadaati, jinsi istihsaal, bunyadi zarooriyat se mehroomi, ya un ke aalaat ya jismani aaza ko nuqsaan pohanchane jese sangeen jairaym mein mulawis afraad ke khilaf sakht qanooni karwai ki ja sake.
Yeh shiq mazoor afraad ki jismani o nafsiyati salamti, tahaffuz aur un ke insani waqar ko yaqini banane ke liye mutaarif karai gayi hai.

---

Article 38 — Punishment for other offences

“38. Punishment for other offences.-
Whoever:
(a) intentionally insults or intimidates with intent to humiliate a person with a disability in any place within public view;
(b) having the actual charge or control over a person with a disability voluntarily or knowingly denies food to him;
(c) being in a position to dominate the will of a child or woman with a disability and uses that position to exploit him or her sexually;
(d) voluntarily injures, damages or interferes with the use of any limb or sense or any supporting device of a person with a disability; or
(e) performs, conducts or directs any medical procedure to be performed on a woman with a disability which leads to or is likely to lead to termination of pregnancy without her express consent except in cases where medical procedure for termination of pregnancy is done in severe cases of disabilities and with the opinion of a registered medical practitioner and also with the consent of the guardian of the woman with disabilities, shall be punished with imprisonment for a term which may extend to five years which shall not be less than six months and with fine of up to five hundred thousand rupees.”

---

Urdu Tarjuma

38. Deegar Jaraim par Saza
Jo koi shakhs:
(a) jaan boojh kar kisi mazoor fard ko awaami maqam par tauheen ya khaufzada karne ki niyat se bay izzat kare.
(b) kisi mazoor fard ki nigahdaasht ya ikhtiyar mein hotay hue use raza kaarana ya jaan boojh kar khoraak se mehroom rakhe.
(c) kisi mazoor khatoon ya bbachay ki khwahish par asar andaaz ho kar use jinsi tor par istihsaal ka nishana banaye.
(d) kisi mazoor fard ke uzoo, hawaas ya muawin aalat ko jaan boojh kar nuksan pahunchaye kare, nuqsaan pohanchaye ya un mein mudakhlat kare.
(e) kisi mazoor khatoon par us ki marzi ke baghair aisa tibbi amal karwaye jo hamal ke isqaat ka bais banay ya ban sakta ho, siwaye un makhsoos cases ke jahan mazoori shadeed ho aur registered medical practitioner ki raye aur sarparast ki ijazat se isqaat kiya jaye.
To use chhay maah se kam nahi aur paanch saal tak ki qaid, aur paanch laakh rupay tak jurmane ki saza di jaye gi.

---

Qanooni Wazahat

Yeh dafa un tamam sangeen juraym ka aehata karti hai jo mazoor afraad ki izzat e nafs, jismani salamati ya toleedi huqooq ke khilaf hon.
Mundarja bala nuqaat ke mutabiq:

Kisi mazoor fard ki awaami maqam par tazleel, dhamki ya bay izzati karna na-qabil-e-bardasht jurm hai.

Sarparast ya dekh bhaal karne wala fard agar khoraak se jaan boojh kar mehroom kare to woh bhi qanoonan mujrim hai.

Agar koi shakhs kisi mazoor khatoon ya bache ki kamzori ka faida utha kar unhein jinsi istihsaal ka nishana banaye to yeh sakht tareen jurm shumaar hoga.

Mazoor afraad ke kisi uzoo, hawaas ya aale (jaise wheelchair, samaat ke aalaat waghera) ko nuqsaan pohanchana qabil-e-saza jurm hai.

Kisi mazoor khatoon ka isqaat e hamal us ki razamandi ke baghair karwana, siwaye makhsoos qanooni hudood ke, insani huqooq ki khuli khilaaf warzi hai.
Is dafa ke taht adalat mujrim ko kam az kam chhay maah aur zyada se zyada paanch saal qaid aur paanch laakh rupay tak jurmane ki saza suna sakti hai.

---

Misaalen baraye Wazahat

1. Ek moallim ne khusoosi talba ki class mein ek mazoor talib-e-ilm ko sab ke samne tanzia alfaaz keh kar bay izzat kiya. Yeh fail awaami tauheen ke zumer mein aata hai aur Article 38 ke taht qabil-e-saza jurm hai.

2. Ek idaray mein mazoor khatoon ko baar baar kaam ki jagah par jinsi tor par haraas kia Gaia kia gaya aur us ki kamzori ka faida utha kar khamosh karwaya gaya. Yeh ek sangeen jinsi istihsaal hai jis par sakht qanooni karwai ho sakti hai.

3. Ek sarparast ne zehni mazoori ke shikaar bache ko saza ke tor par khana dena band kar diya. Yeh Article 38 ki shiq (b) ke taht insani huqooq ki shadeed khilaaf warzi hai aur qabil-e-saza jurm hai.

4. Ek hospital mein baghair ijazat ke ek mazoor khatoon ka isqaat e hamal kiya gaya, halankeh woh is amal ki mukhalif thi. Yeh qanoonan mamnoo hai siwaye un khaas haalaat ke jo dafa ke aakhir mein bayan kiye gaye hain.

---

Ahem Istilahaat aur Un ke Mafahim

English Istilah Urdu Mafhoom Wazahat

Intentionally insults Jaan boojh kar tauheen karna Kisi ko sha'oori tor par neecha dikhana
Intimidates Dhamkana / Khaufzada karna Khauf ya dabao daalna
Dominate the will Marzi par qaboo paana Kisi ki azadi-e-raaye par dabao daalna
Exploit sexually Jinsi istihsaal karna Jinsi faida uthana, jabri ya fareb se
Supporting device Muawin aala Jaise wheelchair, safed chhadi, samaat ke aalaat waghera
Termination of pregnancy Isqaat e hamal Hamal khatam karne ka amal
Express consent Wazeh razamandi Kisi fard ki azaad marzi se ijazat
Registered medical practitioner Registered tibbi moalij Hukoomat se manzoor shuda doctor

---

Ikhtitamiya

Yeh post Punjab Empowerment of Persons with Disabilities Act 2022 ki dafa 38 par mabni hai, jo un juraym ko qaboo mein lanay ke liye tashkeel di gayi hai jin se mazoor afraad ke jismani, zehni aur samaji tahaffuz ko khatra laahiq ho sakta hai.
Yeh qanoon har fard ko yeh paighaam deta hai ke mazoor afraad ki izzat, salamati aur huqooq ki khilaaf warzi na-qabil-e-bardasht hai aur aisa karne walon ko qanoon ke mutabiq sakht sazaayein di jaayein gi.

Agar is post mein koi qanooni ya lisaani ghalti reh gayi ho to barah-e-karam nishandahi farmaayein taa-ke bar-waqt islaah ki ja sake.

---

Ijaz Ahmed Chaudhry
Social Needs Officer (For the persons with Disabilities)
Social Welfare Department, Rahim Yar Khan
📞 Phone: 03017635397

📌 پوسٹ برائے آگاہی: معذور افراد کے حقوق — نمبر 34
Empowerment of Persons with Disabilities Act 2022 کا آرٹیکل 38

---

آرٹیکل 38 کا عنوان

Punishment for other offences
(یعنی: دیگر جرائم پر سزا)

---

حصہ سوم (Part III) — جرائم اور سزائیں

(Offences and Penalties)

---

مقصدِ آرٹیکل 38

اس دفعہ کا مقصد یہ ہے کہ معذور افراد کے ساتھ بدسلوکی، جسمانی یا ذہنی زیادتی، جنسی استحصال، بنیادی ضروریات سے محرومی، یا اُن کے آلات یا جسمانی اعضا کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔ یہ شق معذور افراد کی جسمانی و نفسیاتی سلامتی، تحفظ اور ان کے انسانی وقار کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔

---

Article 38 — Punishment for other offences

“38. Punishment for other offences.-
Whoever:
(a) intentionally insults or intimidates with intent to humiliate a person with a disability in any place within public view;
(b) having the actual charge or control over a person with a disability voluntarily or knowingly denies food to him;
(c) being in a position to dominate the will of a child or woman with a disability and uses that position to exploit him or her sexually;
(d) voluntarily injures, damages or interferes with the use of any limb or sense or any supporting device of a person with a disability; or
(e) performs, conducts or directs any medical procedure to be performed on a woman with a disability which leads to or is likely to lead to termination of pregnancy without her express consent except in cases where medical procedure for termination of pregnancy is done in severe cases of disabilities and with the opinion of a registered medical practitioner and also with the consent of the guardian of the woman with disabilities, shall be punished with imprisonment for a term which may extend to five years which shall not be less than six months and with fine of up to five hundred thousand rupees.”**

---

اردو ترجمہ

۳۸۔ دیگر جرائم پر سزا
جو کوئی شخص:
(الف) جان بوجھ کر کسی معذور فرد کو عوامی مقام پر توہین یا خوفزدہ کرنے کی نیت سے بے عزت کرے۔
(ب) کسی معذور فرد کی نگہداشت یا اختیار میں ہوتے ہوئے اُسے رضاکارانہ یا جان بوجھ کر خوراک سے محروم رکھے۔
(ج) کسی معذور خاتون یا بچے کی خواہش پر اثرانداز ہو کر اُسے جنسی طور پر استحصال کا نشانہ بنائے۔
(د) کسی معذور فرد کے عضو، حواس یا معاون آلے کو جان بوجھ کر زخمی کرے، نقصان پہنچائے یا ان میں مداخلت کرے۔
(ہ) کسی معذور خاتون پر اُس کی مرضی کے بغیر ایسا طبی عمل کروائے جو حمل کے اسقاط کا باعث بنے یا بن سکتا ہو، سوائے ان مخصوص کیسز کے جہاں معذوری شدید ہو اور رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر کی رائے اور سرپرست کی اجازت سے اسقاط کیا جائے۔
تو اُسے چھ ماہ سے کم نہیں اور پانچ سال تک کی قید، اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

---

قانونی وضاحت

یہ دفعہ اُن تمام سنگین جرائم کا احاطہ کرتی ہے جو معذور افراد کی عزت نفس، جسمانی سلامتی یا تولیدی حقوق کے خلاف ہوں۔ مندرجہ بالا نکات کے مطابق:

کسی معذور فرد کی عوامی مقام پر تذلیل، دھمکی یا بے عزتی کرنا ناقابل برداشت جرم ہے۔

سرپرست یا دیکھ بھال کرنے والا فرد اگر خوراک سے جان بوجھ کر محروم کرے تو وہ بھی قانوناً مجرم ہے۔

اگر کوئی شخص کسی معذور خاتون یا بچے کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں جنسی استحصال کا نشانہ بنائے تو یہ سخت ترین جرم شمار ہوگا۔

معذور افراد کے کسی عضو، حواس یا آلے (جیسے وہیل چیئر، سماعت کے آلات وغیرہ) کو نقصان پہنچانا قابل سزا جرم ہے۔

کسی معذور خاتون کا اسقاط حمل اُس کی رضامندی کے بغیر کروانا، سوائے مخصوص قانونی حدود کے، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس دفعہ کے تحت عدالت مجرم کو کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا سنا سکتی ہے۔

---

مثالیں برائے وضاحت

1. ایک معلم نے خصوصی طلبہ کی کلاس میں ایک معذور طالبعلم کو سب کے سامنے طنزیہ الفاظ کہہ کر بے عزت کیا۔ یہ فعل عوامی توہین کے زمرے میں آتا ہے اور آرٹیکل 38 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔

2. ایک ادارے میں معذور خاتون کو بار بار کام کی جگہ پر جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور اُس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر خاموش کروایا گیا۔ یہ ایک سنگین جنسی استحصال ہے جس پر سخت قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

3. ایک سرپرست نے ذہنی معذوری کے شکار بچے کو سزا کے طور پر کھانا دینا بند کر دیا۔ یہ آرٹیکل 38 کی شق (ب) کے تحت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے اور قابلِ سزا جرم ہے۔

4. ایک ہسپتال میں بغیر اجازت کے ایک معذور خاتون کا اسقاط حمل کیا گیا، حالانکہ وہ اس عمل کی مخالف تھی۔ یہ قانوناً ممنوع ہے سوائے ان خاص حالات کے جو دفعہ کے آخر میں بیان کیے گئے ہیں۔

---

اہم اصطلاحات اور ان کے مفاہیم

انگریزی اصطلاح اردو مفہوم وضاحت

Intentionally insults جان بوجھ کر توہین کرنا کسی کو شعوری طور پر نیچا دکھانا
Intimidates دھمکانا / خوفزدہ کرنا خوف یا دباؤ ڈالنا
Dominate the will مرضی پر قابو پانا کسی کی آزادیِ رائے پر دباؤ ڈالنا
Exploit sexually جنسی استحصال کرنا جنسی فائدہ اٹھانا، جبری یا فریب سے
Supporting device معاون آلہ جیسے وہیل چیئر، سفید چھڑی، سماعت کے آلات وغیرہ
Termination of pregnancy اسقاطِ حمل حمل ختم کرنے کا عمل
Express consent واضح رضامندی کسی فرد کی آزاد مرضی سے اجازت
Registered medical practitioner رجسٹرڈ طبی معالج حکومت سے منظور شدہ ڈاکٹر

---

اختتامیہ

یہ پوسٹ پنجاب امپاورمنٹ آف پرسنز وِد ڈس ایبیلٹیز ایکٹ 2022 کی دفعہ 38 پر مبنی ہے، جو اُن جرائم کو قابو میں لانے کے لیے تشکیل دی گئی ہے جن سے معذور افراد کے جسمانی، ذہنی اور سماجی تحفظ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ قانون ہر فرد کو یہ پیغام دیتا ہے کہ معذور افراد کی عزت، سلامتی اور حقوق کی خلاف ورزی ناقابل برداشت ہے اور ایسا کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔

اگر اس پوسٹ میں کوئی قانونی یا لسانی غلطی رہ گئی ہو تو براہ کرم نشاندہی فرمائیں تاکہ بروقت اصلاح کی جا سکے۔

---

Ijaz Ahmed Chaudhry
Social Needs Officer (For the persons with Disabilities)
Social Welfare Department, Rahim Yar Khan
📞 Phone: 03017635397

Address

Social Welfare Office Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan
64350

Telephone

+923017635397

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when District facilitation sell for disable person social welfare rahim yar khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to District facilitation sell for disable person social welfare rahim yar khan:

Share