06/04/2026
نوشکی سے کوئٹہ تک پھیلی یہ کہانی صرف ایک قتل کی نہیں.
** تصویر شہید ملک یونس جان محمدشہی کی ہیں جو کہ ناحق قتل ہؤا ملک یونس جان محمدشہی کو قتل کرنے کے 7 ماہ بعد ان کے بھائی محمد یعقوب محمدشہی کو بیوی بچے سمیت قتل کر دیا گیا **
یہ ایک ایسے خاندان کی داستان ہے جو دوستی رشتہ داری اور خوشحالی سے شروع ہو کر خونریزی تک جا پہنچی۔
شہید ملک محمد یونس محمدشہی کے خاندان کے مطابق
2019 میں ایک رشتہ قائم ہوا جہاں لڑکی کے والدین اور بھائی نے اپنی مرضی اور اہلخانہ کی رضامندی سے اپنی بہن کا نکاح محمد یعقوب محمدشہی سے کروایا۔
محمد یعقوب ایک کاروباری اور خوشحال شخص تھے جبکہ لڑکی کا خاندان مالی طور پر کمزور تھا۔
شادی کے بعد نہ صرف مجید ( لڑکی کے والد)گھر کے حالات بہتر ہوئے بلکہ شہید ملک یونس کے خاندان ذرائع کے مطابق
2019 سے 2025 تک تقریباً 75 لاکھ روپے
جو کہ مجید کے گھر کی تعمیر اور بیٹوں کے
موٹر سائیکلیں (دو عدد ہنڈا 125 زیرو میٹر اور ایک زیرو میٹر CD 70) ہنڈا
دیگر اخراجات
یہ سب محمد یعقوب محمدشہی کی جانب سے فراہم کیے گئے۔
خاندانی دعویٰ کے مطابق اصل تنازع یہاں سے شروع ہوا
جب مالی معاملات بگڑنے لگے اور رقوم واپس نہ ہو سکیں تو
تعلقات میں تلخی آئی
دباؤ اور بلیک میلنگ شروع ہوئی
اور پھر حالات نے خطرناک رخ اختیار کر لیا
خاندان کا کہنا ہے کہ:
جس رشتے کو پہلے خوشی سے قبول کیا گیا بعد میں اسی کو
“غیرت” کا نام دے کر قتل کی وجہ بنایا گیا
حالانکہ:
تین سال تک یہی رشتہ قائم رہا
لڑکا ان کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہائش رہی
کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا
پھر اچانک
حملے شروع ہوئے
اور پھر قتل پر قتل
یہ تمام مؤقف شہید ملک یونس محمدشہی کے خاندان کی جانب سے پیش کیا گیا ہے جس کی مزید تحقیقات ہونا باقی ہیں۔
یہ کہانی ابھی مکمل نہیں
اصل حقائق سامنے آنا باقی ہیں