ODY "Organization for the Development of Youth"

ODY "Organization for the Development of Youth" To uplift youth educationally, culturally, liberally and equipped them with skills and confidence.

Organization for the Development of Youth is a non _governmental nonreligious and non-profit organization. ODY came into the arena of social services with the firm enthusiasm and zeal of serving the youth in the grasslands of Peace, Education, Juvenile Labor, Environment, Culture, Gender Mainstreaming, Skills and Confidence Building, Prevention of Extremism, Trans Gender, Career Counseling, SRHR I

ssues, Disaster Rehabilitation and Counter Terrorism. Our prime motto and mission is the service delivery and capacity building of the youth. Our professional and qualified youth group has started working in Balochistan under the umbrella of ODY with team work approach from February 2010. The members of team have great experience and exposure regarding youth issues not only on regional level but on national level as well. The team members have represented Balochistan on almost all sorts of stages whether it’s debating, conferencing, training, public speaking, or dramatic performances in almost all major cities of Pakistan including Islamabad, Lahore, Karachi, and Peshawar and have brought many honors to the province. Main objective of the ODY is to provide a healthy environment to the youngsters of Balochistan so that they can uplift themselves educationally, culturally, liberally and equip them with skills and confidence, a youth that will be more competitive, healthy, and conscious and far away from extremism, terrorism, and several other frustrating isms.

12/07/2024
16/05/2024

یہ 1994کی بات ہے۔ میرے سکول میں داخلے والے دن میرے والد صاحب
نے خوشی سے چلاتے ہوئے میز پر سے چھلانگ لگائی۔ مگر یہ میرا دوسرا سکول تھا۔ تین سال پہلے انہوں نے میرا داخلہ چھڑوادیاتھا۔ “جب بچے کی بنیاد ہی ٹھیک نہیں ہے تو اسکول میں داخلے کا کیا فائدہ” یہ وہ ہمیشہ کہتے تھے۔ 80 اور 90 کی دہائی میں پنجگور میں کون ہوگا جو ان کو نہیں جانتا ہوگا۔ لوگ کہتے تھے پنجگور میں وہ واحد فرد ہیں جو الیکشن نہیں لڑ سکتا کیونکہ وہ خود الیکشن افسر ہے۔ تو تین سال مسلسل میری بنیاد پر والد صاحب نے کام کیا۔ اردو کا قائدء لکھنا۔ چار لائنوں والی انگریزی کی مشق، حساب کی کتابیں۔ ساتھ ساتھ BBCایسے سنوانا جیسے syllabus کا حصہ ہو۔ ایک ایک غلطی پر تھپڑ لگانا اور پر وہ ٹھیک ہوجانے پر وہی خوشی سے کھل کر قہقہہ لگااور پھر کھلونے کے ایرانی ٹرک اور خاص کھانا بنوانا ان کی چھوٹی چھوٹی فتوحات تھیں۔ وہ آدمی ہی عجیب تھا۔ نوکری سے کبھی لگاؤ نہیں رہا۔ چھوٹی خوشیاں دینا جانتا تھا۔ بڑی خوشی اس لیے نہیں دی کہ سرمایہ دار تھا ہی نہیں۔ میں نے زندگی اپنی من مانی گزاری۔ تمام فیصلے خود کیے۔ اور وہ میرے ہر فیصلے پر راضی ہوجاتا تھا۔ میری ٹیم تھا۔ اپنی دعائیں یوں شاملِ حال رکھتا تھا کہ زندگی میں ڈر لگا ہی نہیں۔ دفتر اور دفتر سے باہر ہر جنگ یا تو میں جیت گیا یا بروقت چھوڑ دیں۔ کہتا تھا کچھ نہیں ہوگا۔ ایسا کوئی دن نہیں ہوتا جب میں تمھارے لیے تلاوت اور دعائیں نہیں کرتا۔

اس دن کا خطرہ تو سب کو ہوتا ہے کہ کسی دن باپ چلا نہ جائے۔ پر وہ دن اور اس کے بعد سے اب تک یہ سمجھ آیا ہے کہ یہ غم وقت کے ساتھ مندمل نہیں ہو سکتا۔ بظاہر ہو بھی گیا تو ایک ذرا سی کھرچن سے یہ کھرنڈ ہمیشہ زخم کھولتی رہے گی۔

میرے والد کی پرہیزگاری اور اللہ سے لو لگانا وہ وجہ نہیں ہے کہ مجھے کوئی فکر ہے۔ اپنا کام پورا کرتے تھے۔ کہتے تھے میں نے امتحان کی تیاری کرلی ہے۔ اب جب بھی ڈیٹ شیٹ آجائے۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ میرا باپ عبادت کے علاوہ اپنے معاملات میں صوفی تھا۔ کپڑے نہیں سلواتا تھا۔ کہتا تھا اپنے کپڑے دے دیا کرو۔ اتنی سادگی کہ ہم چڑ جاتے تھے۔ بہت دھوکے کھائے مگر کبھی کسی کو دیا نہیں۔ جوانی میں اپنے dress up پر بالکل سمجھوتہ نہ کرنے والا، اتنا سادہ تھا جیسے اس کا دنیا سے کوئی لینا دینا نہ ہو۔ مشکل زندگی گزاری۔ مگر اس اطمینان سے رہا کہ اس پر کچھ اثر نہ کرتا۔ ہر فون پر دعا ہی دیتا۔ میرا تو دوست تھا۔ کھانے پینے میں احتیاط کچھ خاص نہیں کرتے تھے۔ آخر تک چھپ کر اپنی مرضی کا کھا ہی لیتے تھے۔ میری اسی بات پر لڑائی ہوتی تھی۔ کبھی مجھے جواب میں نہیں ڈانٹا۔ بس معصوم بے بس آنکھوں سے دیکھتے تھے اور میں پھر منانے لگ جاتا تھا۔ ایک منٹ سے کم میں وہ مان جاتے تھے اور سب ٹھیک ہوجاتا تھا۔ ملنگ انسان تھا۔ مسجدوں کی خدمت کرتا تھا۔ ہر ایک کو کھانا کھلاتا تھا۔ کہتا تھا یہی تواصل کمائی ہے۔

میرے باپ کی ذات کا لوگوں سے دیوانہ وار پیار کرنے کا پہلو ان کی موت کے بعد آشکار ہوا۔ صدیقیہ مسجد کے مہتمم نے گواہوں کے ساتھ مجھے بتایا کہ آپ کے والد مرکز کے فرش اور لیٹرین بھی دھوتے تھے۔ سختی سے منع کیا کہ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ بیٹے کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔

جن دوستوں سے میں ترجیحات کے چکر میں دور ہوگیا تھا، جن ملازموں کو میں نے فارغ کیا تھا، سب ان کی موت کے بعد واپس آگئے۔ سب کو کہا تھا کہ اس کا باپ بھی ٹھیک کرے گا تمھارے ساتھ۔ ایسا انسان تھا۔ دفتر کے چھوٹے عملے سے میرے جاسوسی کرتا تھا کہ میں ان سے کیسے پیش آتا ہوں۔ ہر فون کے اختتام پر کہتے تھے”میں دعاگو ہوں”

ان کی دنیاوی معاملات میں بے نیازی کی وجہ سے میں نے بہت سے لوگوں کو practical fatherhoodدینے کی کوشش کی۔ سب نے وہی کیا جو اس الہام کو توڑنے کے لیے ضروری تھا۔ اس جیسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ چھوٹی خوشیاں جیتا تھا۔ کھل کر ہنستا تھا۔ ہمارے ان گنت راز تھے۔ ان میں ایک ان کا میرے ساتھ سگریٹ پینا بھی شامل تھا۔ میرا یار تھا۔ اپنے ہر دوست سے میری تعریف کرتے تھے۔ بالکل ٹھیک تھے۔ سر درد بھی نہیں تھا۔ وفات سے ایک ہفنتہ قبل مجھے کہتے ہیں یار میں نے خواب دیکھا کہ میرا انتقال ہوگیا ہے اور میں کہہ رہا ہوں کہ بس یہی تھا موت کا سفر۔ یہ تو بہت آسان تھا۔ ہم نے کہا آپ کی عمر درازی کا خواب ہے۔ ان کے لیے شاید ایک ریہرسل تھی۔ کٹر نہیں تھا۔ میرے ساتھ 90 کی دہائی کے گانوں سے بہت محظوظ ہوتے۔ کھل کر بار بار ہنسنے والا آدمی تھا جیسے اگلا انسان اس کا انتہائی قریبی ہو۔ چھوٹے، بڑے سب دوست تھے۔ سب کے پاس ان کے تدفین کے لیے الگ کہانی تھی۔ ایک عام آدمی تھا جو بہت مشہور تھا۔ کوئی دنیاوی معاملہ چھوڑ کر نہیں گیا اور اپنی کہانی کو ایسا finishدیا کہ سب ٹھیک کر کے چلا گیا۔ یہ ان کا دعا پر اعتقاد تھا کہ بظاہر کچھ ٹھیک نہ بھی ہورہا ہو تو بھی دعا بھرپور رہنی چاہیے۔ دعا پر ان کا یقین ایسا پورا ہوا کہ ان سطروں میں بیان نہیں ہوسکتا اور ریا کاری، تصنع اور خود نمائی جن سے میرے والد نے ہمیشہ نفرت کی ملحوظ خاطر رہے گی۔

یہ 1994کی بات ہے۔ میرے سکول میں داخلے والے دن میرے والد صاحب نے خوشی سے چلاتے ہوئے میز پر سے چھلانگ لگائی۔ مگر یہ میرا د...
16/05/2024

یہ 1994کی بات ہے۔ میرے سکول میں داخلے والے دن میرے والد صاحب نے خوشی سے چلاتے ہوئے میز پر سے چھلانگ لگائی۔ مگر یہ میرا دوسرا سکول تھا۔ تین سال پہلے انہوں نے میرا داخلہ چھڑوادیاتھا۔ “جب بچے کی بنیاد ہی ٹھیک نہیں ہے تو اسکول میں داخلے کا کیا فائدہ” یہ وہ ہمیشہ کہتے تھے۔ 80 اور 90 کی دہائی میں پنجگور میں کون ہوگا جو ان کو نہیں جانتا ہوگا۔ لوگ کہتے تھے پنجگور میں وہ واحد فرد ہیں جو الیکشن نہیں لڑ سکتا کیونکہ وہ خود الیکشن افسر ہے۔ تو تین سال مسلسل میری بنیاد پر والد صاحب نے کام کیا۔ اردو کا قائدء لکھنا۔ چار لائنوں والی انگریزی کی مشق، حساب کی کتابیں۔ ساتھ ساتھ BBCایسے سنوانا جیسے syllabus کا حصہ ہو۔ ایک ایک غلطی پر تھپڑ لگانا اور پر وہ ٹھیک ہوجانے پر وہی خوشی سے کھل کر قہقہہ لگااور پھر کھلونے کے ایرانی ٹرک اور خاص کھانا بنوانا ان کی چھوٹی چھوٹی فتوحات تھیں۔ وہ آدمی ہی عجیب تھا۔ نوکری سے کبھی لگاؤ نہیں رہا۔ چھوٹی خوشیاں دینا جانتا تھا۔ بڑی خوشی اس لیے نہیں دی کہ سرمایہ دار تھا ہی نہیں۔ میں نے زندگی اپنی من مانی گزاری۔ تمام فیصلے خود کیے۔ اور وہ میرے ہر فیصلے پر راضی ہوجاتا تھا۔ میری ٹیم تھا۔ اپنی دعائیں یوں شاملِ حال رکھتا تھا کہ زندگی میں ڈر لگا ہی نہیں۔ دفتر اور دفتر سے باہر ہر جنگ یا تو میں جیت گیا یا بروقت چھوڑ دیں۔ کہتا تھا کچھ نہیں ہوگا۔ ایسا کوئی دن نہیں ہوتا جب میں تمھارے لیے تلاوت اور دعائیں نہیں کرتا۔

اس دن کا خطرہ تو سب کو ہوتا ہے کہ کسی دن باپ چلا نہ جائے۔ پر وہ دن اور اس کے بعد سے اب تک یہ سمجھ آیا ہے کہ یہ غم وقت کے ساتھ مندمل نہیں ہو سکتا۔ بظاہر ہو بھی گیا تو ایک ذرا سی کھرچن سے یہ کھرنڈ ہمیشہ زخم کھولتی رہے گی۔

میرے والد کی پرہیزگاری اور اللہ سے لو لگانا وہ وجہ نہیں ہے کہ مجھے کوئی فکر ہے۔ اپنا کام پورا کرتے تھے۔ کہتے تھے میں نے امتحان کی تیاری کرلی ہے۔ اب جب بھی ڈیٹ شیٹ آجائے۔ مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ میرا باپ عبادت کے علاوہ اپنے معاملات میں صوفی تھا۔ کپڑے نہیں سلواتا تھا۔ کہتا تھا اپنے کپڑے دے دیا کرو۔ اتنی سادگی کہ ہم چڑ جاتے تھے۔ بہت دھوکے کھائے مگر کبھی کسی کو دیا نہیں۔ جوانی میں اپنے dress up پر بالکل سمجھوتہ نہ کرنے والا، اتنا سادہ تھا جیسے اس کا دنیا سے کوئی لینا دینا نہ ہو۔ مشکل زندگی گزاری۔ مگر اس اطمینان سے رہا کہ اس پر کچھ اثر نہ کرتا۔ ہر فون پر دعا ہی دیتا۔ میرا تو دوست تھا۔ کھانے پینے میں احتیاط کچھ خاص نہیں کرتے تھے۔ آخر تک چھپ کر اپنی مرضی کا کھا ہی لیتے تھے۔ میری اسی بات پر لڑائی ہوتی تھی۔ کبھی مجھے جواب میں نہیں ڈانٹا۔ بس معصوم بے بس آنکھوں سے دیکھتے تھے اور میں پھر منانے لگ جاتا تھا۔ ایک منٹ سے کم میں وہ مان جاتے تھے اور سب ٹھیک ہوجاتا تھا۔ ملنگ انسان تھا۔ مسجدوں کی خدمت کرتا تھا۔ ہر ایک کو کھانا کھلاتا تھا۔ کہتا تھا یہی تواصل کمائی ہے۔

میرے باپ کی ذات کا لوگوں سے دیوانہ وار پیار کرنے کا پہلو ان کی موت کے بعد آشکار ہوا۔ صدیقیہ مسجد کے مہتمم نے گواہوں کے ساتھ مجھے بتایا کہ آپ کے والد مرکز کے فرش اور لیٹرین بھی دھوتے تھے۔ سختی سے منع کیا کہ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے۔ بیٹے کو معلوم نہیں ہونا چاہیے۔

جن دوستوں سے میں ترجیحات کے چکر میں دور ہوگیا تھا، جن ملازموں کو میں نے فارغ کیا تھا، سب ان کی موت کے بعد واپس آگئے۔ سب کو کہا تھا کہ اس کا باپ بھی ٹھیک کرے گا تمھارے ساتھ۔ ایسا انسان تھا۔ دفتر کے چھوٹے عملے سے میرے جاسوسی کرتا تھا کہ میں ان سے کیسے پیش آتا ہوں۔ ہر فون کے اختتام پر کہتے تھے”میں دعاگو ہوں”

ان کی دنیاوی معاملات میں بے نیازی کی وجہ سے میں نے بہت سے لوگوں کو practical fatherhoodدینے کی کوشش کی۔ سب نے وہی کیا جو اس الہام کو توڑنے کے لیے ضروری تھا۔ اس جیسا کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ چھوٹی خوشیاں جیتا تھا۔ کھل کر ہنستا تھا۔ ہمارے ان گنت راز تھے۔ ان میں ایک ان کا میرے ساتھ سگریٹ پینا بھی شامل تھا۔ میرا یار تھا۔ اپنے ہر دوست سے میری تعریف کرتے تھے۔ بالکل ٹھیک تھے۔ سر درد بھی نہیں تھا۔ وفات سے ایک ہفنتہ قبل مجھے کہتے ہیں یار میں نے خواب دیکھا کہ میرا انتقال ہوگیا ہے اور میں کہہ رہا ہوں کہ بس یہی تھا موت کا سفر۔ یہ تو بہت آسان تھا۔ ہم نے کہا آپ کی عمر درازی کا خواب ہے۔ ان کے لیے شاید ایک ریہرسل تھی۔ کٹر نہیں تھا۔ میرے ساتھ 90 کی دہائی کے گانوں سے بہت محظوظ ہوتے۔ کھل کر بار بار ہنسنے والا آدمی تھا جیسے اگلا انسان اس کا انتہائی قریبی ہو۔ چھوٹے، بڑے سب دوست تھے۔ سب کے پاس ان کے تدفین کے لیے الگ کہانی تھی۔ ایک عام آدمی تھا جو بہت مشہور تھا۔ کوئی دنیاوی معاملہ چھوڑ کر نہیں گیا اور اپنی کہانی کو ایسا finishدیا کہ سب ٹھیک کر کے چلا گیا۔ یہ ان کا دعا پر اعتقاد تھا کہ بظاہر کچھ ٹھیک نہ بھی ہورہا ہو تو بھی دعا بھرپور رہنی چاہیے۔ دعا پر ان کا یقین ایسا پورا ہوا کہ ان سطروں میں بیان نہیں ہوسکتا اور ان کی روش کے مطابق ریا کاری، تصنع اور خود نمائی جن سے میرے والد نے ہمیشہ نفرت کی ملحوظ خاطر رہے گی۔

افسر آدمی تھا۔ پر نہ ایسا رہا اور نہ کبھی اس کو دیکھ کر ایسا کوئی شائبہ بھی ہوتا تھا۔ سب کچھ بیان نہیں ہوسکتا۔ بڑا بیٹا تھا۔ شروع میں بہت مارا۔ وہ نیلا پائپ مجھے آج تک یاد ہے۔ کہتے تھے وقت سے فائدہ اٹھا لو۔ پھر نہیں واپس آئے گا۔ پھر مجھے ایسا Confidence دیا کہ دوست رشک کرتے تھے کہ اس کا والد تو اس کو کچھ کہتا ہی نہیں۔

زندگی میں free flowing approach میں نے اپنے باپ سےسیکھی۔ بس آنکھیں بند کرکے ہمیشہ بھاگ پڑا۔ اب لگتا ہے وہ حصار ٹوٹ گیا ہے۔ مجھے تو توڑ دیا۔ کوئی 150 لوگوں کو ابھی تک کال نہیں کرسکا۔ سمجھ ہی نہیں آرہا۔ سب سے معزرت اور یہ وعدہ کہ بات کر ونگا۔ اس سے بڑا غم نہیں دیکھا۔ میرا تو یار تھا۔

وفات والے دن ایک خاتون نے مجھے روکا کہ آپ کے والد کسی کو کچھ پہنچانے آئے تھے۔ چائے پی۔ باتوں باتوں میں مجھے کہا کہ جس دن اس دنیا سے گیا، میرے باقی گھر والے شاید برداشت کرلیں اور وقت کے ساتھ بھول جائیں مگر میرا بڑا بیٹا پوری زندگی برداشت نہیں کرسکے گا۔

اپنی مرضی کے مطابق رہے اور چلے گئے۔ بیماری تک کو کچھ کرنے نہیں دیا۔ اگر ممکن ہو تو میرے والد کے لیے ہر دوست ایک قران ختم کروادے تو عنایت رہے گی۔ میرے لیے بھی دعا کریں کہ یہ شبِ غم واقعی طویل ہے۔

آباد رہیں!

Address

Flat # 7, Infront Of Old AG Office Model Town Quetta
Quetta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ODY "Organization for the Development of Youth" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share