پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076 بینق یونٹ

  • Home
  • Pakistan
  • Quetta
  • پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076 بینق یونٹ

پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076 بینق یونٹ Balochistan institute of nephro urology Quatta (Binuq)

*بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیفرو یورولوجی کوئٹہ میں انتظامیہ کا دوہرا معیار*بینق میں انتظامیہ کی جانب سے پسند و نہ پسند اور ...
24/11/2025

*بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیفرو یورولوجی کوئٹہ میں انتظامیہ کا دوہرا معیار*
بینق میں انتظامیہ کی جانب سے پسند و نہ پسند اور اسٹاف کے ساتھ دوہرا معیار برقرار واضح رہے کہ رواں مہینے کے شروع میں ادارے کے دس سال پرانے ملازمین نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی تھی جس پر ادارے میں موجود کرپٹ غیر قانونی اور عمر رسیدہ اور غیر قانونی طریقے سے ادارے پر مسلط ٹولے نے تین ملازمین کو بغیر کسی وجہ اور غیر قانونی طریقے سے ادارے سے فارغ کر دیا یہ سند رہے کہ اس سے پہلے ہیڈ آف ریڈیالوجی ڈاکٹر اعجاز کا ڈیپوٹیشن پیریڈ ختم ہونے پر ادارے نے اُسے اپنے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کا کہا جس پر ادارے میں موجود ڈاکٹر حضرات نے ادارے کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ڈیپاٹمنٹس کو کئی گھنٹوں کیلئے بند کر دیا جس پر سی ای او صاحب نے دباؤ میں آ کر غیر قانونی طریقے سے فوراً بحال کر دیا اسی طرح آج ایک بار پھر ڈاکٹر فضل مندوخیل کے ڈیپوٹیشن پیریڈ ختم ہونے کے باوجود ڈاکٹر حضرات نے معزز عدالت عالیہ کے فیصلے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے احتجاجاً پورا ہسپتال بند کر دیا جس میں او پی ڈی، ریڈیالوجی، پیتھالوجی سمیت تمام سروسز سے بائیکاٹ کیا گیا
انتظامیہ ایک طرف تو غریب ملازمین کو غیر قانونی طریقے سے برطرف کر رہا ہے تو ڈاکٹروں کی بدمعاشی اور بلیک میلنگ کے آگے سرنڈر کر کے انہیں غیر قانونی طریقے سے بحال کر دیا-
ارباب اختیار سے گزارش ہے کہ اس دوہرا معیار پر ایکشن لے کر اسٹاف کو انصاف فراہم کیا جائے-

*نام نہاد ایماندار چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیفرو یورولوجی کوئٹہ کے کارنامے* موصوف نے PSDP کے آٹھ کروڑ ر...
21/11/2025

*نام نہاد ایماندار چیف ایگزیکٹو آفیسر بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیفرو یورولوجی کوئٹہ کے کارنامے*

موصوف نے PSDP کے آٹھ کروڑ روپے غیر قانونی طریقے سے غیر قانونی ٹینڈر میں اڑا دئیے...اس کے علاؤہ موصوف ایک طرف تو فنڈ کا رونا رو رہے ہیں تو دوسری طرف صرف اپنے بھتیجے کو کروڑوں روپے جاری کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہی غیر قانونی طریقے سے ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس اور انٹرنل آڈیٹر کی سیلری بڑھائی گئی ہے اور سنا ہے کہ دونوں کو مزید لوٹ مار کرنے کے لیے دونوں کا کنٹریکٹ مزید غیر قانونی اختیارات کے ساتھ Extend کر دیا گیا ہے
ہم حکومت وقت سے اور مقتدر حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ کڈنی سینٹر کے موجودہ سی ای او سید لیاقت علی آغا
ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس ،انٹرنل آڈیٹر محمود الحسن ،ڈائریکٹر ایڈمن اور ایچ آر شمس الحق اسسٹنٹ ایچ آر شمع ہیریسن اور اکاؤنٹ آفیسر عطاء اللہ کو معطل کر کے ایک غیر جانبدار کمیٹی بناکر شفاف تحقیقات کی جائیں ان افراد کی موجودگی میں شفاف تحقیقات ممکن نہیں...

20/11/2025

ہم بلوچستان کے غریب مریضوں سے معذرت خواہ ہیں، کرپشن اور نااہلی کے ماحول میں مزید خدمات انجام نہیں دے سکتے

کڈنی سینٹر میں دہائی بھر سے کرپشن، غیر قانونی بھرتیوں اور ریٹائرڈ افراد کے قبضے نے ادارہ مفلوج کر دیا ہے، ملازمین کا شدید احتجاج

20/11/2025

کڈنی سینٹر کوئٹہ میں اربوں کی لوٹ مار اور
نااہل ریٹائرڈ مافیا کا قبضہ

ملازمین نے کرپٹ انتظامیہ کے خلاف اجتماعی استعفیٰ دے
کر احتجاج کا اعلان کر دیا!

*اطلاعِ عام**تمام کڈنی سینٹر بینق کے ملازمین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کل، بروز جمعرات، شام 4 بجے پریس کلب کوئٹہ میں ملازمی...
19/11/2025

*اطلاعِ عام*
*تمام کڈنی سینٹر بینق کے ملازمین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کل، بروز جمعرات، شام 4 بجے پریس کلب کوئٹہ میں ملازمین کی ایک اہم پریس کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں ہسپتال منیجمنٹ کی نااہلی اور مبینہ غیرقانونی اقدامات سے متعلق حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔*
*تمام صحافی حضرات، سوشل میڈیا ایکٹیویٹس اور متعلقہ ذمہ دار حلقوں سے گزارش ہے کہ اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔

*خدارا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور اربابِ اختیار متوجہ ہو**قسط نمبر 3*جیسا کہ ہم نے گزشتہ روز ہیڈ آف ریڈیالوجی ڈاکٹر اعجاز اور ہ...
12/11/2025

*خدارا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور اربابِ اختیار متوجہ ہو*
*قسط نمبر 3*
جیسا کہ ہم نے گزشتہ روز ہیڈ آف ریڈیالوجی ڈاکٹر اعجاز اور ہیڈ آف نیفرولوجی ڈاکٹر فضل مندوخیل کے ڈیپوٹیشن اور ان کے غیر قانونی طریقوں سے وصول کی گئی تنخواہوں ، مراعات اور ہیلتھ کارڈ فنڈ کی مد میں وصول کی گئی غیر قانونی رقم اور ڈائریکٹر ایڈمن اور ایچ آر شمس الحق نوتانی اور انٹرنل آڈیٹر محمود الحسن کے بارے میں بات کی تھی ، آئندہ آنےوالی قسطوں میں ان حضرات اور فنانس اور ایچ آر ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھے ان کے سہولت کاروں کی کرپشن ،لوٹ مار اور غیر قانونی
مراعات حاصل کرنے کے لیے اسٹاف اور خاص کر فیمیل اسٹاف کو بلیک میل کر کے اور سہولت کاری کر کے اپنے مقاصد اور مراعات حاصل کرنا شامل ہونگے
جیسے کے گزشتہ قسط میں ہم نے ڈائریکٹر ایڈمن اور ایچ آر شمس الحق نوتانی صاحب کے بارے میں بات کی تھی
کچھ دن پہلے اسٹاف سے ذاتی عناد اور بغض کی وجہ سے ڈائریکٹر ایڈمن اور ایچ آر صاحب نے ادارے کے دو سینئر اسٹاف ممبرز کو بغیر کسی وجہ کے شوکاز نوٹس جاری کیا موصوف کے تعصب اور ڈر کا یہ عالم ہے کہ ان میں سے ایک سینئر اسٹاف کو چھ مرتبہ سی سی ٹی وی کیمروں میں چیک کر کے اور آخر میں سی سی ٹی وی کیمرا انچارج سے کہا کہ اس سینئر اسٹاف کو صرف ہسپتال کے احاطے میں داخل ہوتے ہوئے مجھے دکھاؤ ..اور اس کے بعد اس سینئر اسٹاف کو بغیر کسی وجہ کے ذاتیات اور اپنے لاڈلوں کی فرمائش پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا
جس سے موصوف کی اسٹاف کے ساتھ بغض ، زاتی عناد اور اپنے آقاؤں کے سامنے ان کی بےبسی اور ذہنیت کا پتہ چلتا ہے
اس کی علاؤہ ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس ہمایوں صاحب نہ صرف یہ کہ بغیر کسی اخباری اشتہار ،بغیر ٹیسٹ اور بغیر انٹرویو کے گھر سے بلا کر 70 پلس عمر میں بھرتی کیا گیا ہے
بعد ازاں موصوف نے اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے اپنی بیٹی کو بھی غیر قانونی طریقے سے ادارے میں بھرتی کروایا اور بعد میں موصوف کی بیٹی کے استعفیٰ کے بعد بھی ہیلتھ کارڈ فنڈ میں اپنی بیٹی کا نام غیر قانونی طور پر شامل کرتے رہے اس کے علاؤہ موصوف ایک طرف تو لاکھوں روپے غیر قانونی سیلری وصولتے رہے بلکہ ہیلتھ کارڈ فنڈ کے نام پر بھی لاکھوں روپے لیتے رہے
اس کے علاؤہ ٹینڈرز کی مد میں بقول ان کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے سینئرز کے ٹھیکیداروں سے لاکھوں روپے نقد اور گھر کا قیمتی فرنیچر اور دیگر قیمتی سامان لینے کا الزام بھی لگتا رہا ہے
موصوف نے یہی پر بس نہیں کیا بلکہ انٹرنل آڈیٹر محمود الحسن کے ساتھ ساز باز کر کے دونوں نے اپنی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ بھی کیا ہے واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے واضح احکامات ہیں کہ مرکزی اداروں کے ریٹائرڈ ملازمین کسی ادارے میں دوبارہ کام کرنے کی صورت میں پینشن یا اس ادارے کی سیلری میں سے کسی ایک ایک کا ایک کا انتخاب کرے
اس کے باوجود موصوف ایک طرف تو ایک وفاقی ادارے سے لاکھوں روپے کی پینشن لے رہے ہیں اور دوسری طرف کڈنی سینٹر سے بھی لاکھوں روپے کی سیلری وصول رہے ہیں
نوٹ.
اگلے قسطوں میں ایچ آر ،ایڈمن، فنانس اور دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں اربابِ اختیار کی جے جے کار کر کے غیر قانونی پرموشنز اور انچارج سیکورٹی اور جینیٹوریل اور سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کے مریضوں کے ساتھ غیر قانونی غیر اخلاقی حرکات اور لوٹ مار پر ہو گی

*خدارا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور اربابِ اختیار متوجہ ہو**قسط نمبر 2*گزشتہ سے پیوستہ پہلے قسط میں ہم نے ہیڈ آف ریڈیالوجی ڈاکٹر ...
11/11/2025

*خدارا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور اربابِ اختیار متوجہ ہو*
*قسط نمبر 2*
گزشتہ سے پیوستہ
پہلے قسط میں ہم نے ہیڈ آف ریڈیالوجی ڈاکٹر اعجاز کے ڈیپوٹیشن پیریڈ ختم ہونے کے بعد بھی بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف نیفرو یورولوجی کوئٹہ ( کڈنی سینٹر ) میں موجودگی اور غیر قانونی تنخواہیں لینے کی بات کی تھی واضح رہے کہ 20 اگست 2025 کو ادارے کے سی ای او صاحب نے ڈاکٹر اعجاز ہیڈ آف ریڈیالوجی کے ڈیپوٹیشن پیریڈ پورا ہونے پر ادارے سے فارغ کر دیا تھا اسے پرنسپل بولان میڈیکل کالج کو رپورٹ کرنے کا کہا
جس پر ادارے میں موجود ڈاکٹرز حضرات نے ڈاکٹر اعجاز کے ڈیپوٹیشن پیریڈ پورا ہونے کے باوجود ڈاکٹر اعجاز کے غیر قانونی بحالی کے لئے غیر قانونی طریقے سے ادارے کا ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ گھنٹوں تک بند رکھا ، ہسپتال میں پروسٹیٹ کے بوڑھے مریض تکلیف سے تڑپتے رہے اور گھنٹوں بعد ادارے کے سی ای او صاحب نے اس غیر قانونی کام کے آگے سرنڈر کیا اور اس غیر قانونی عمل کا حصہ بنے اور دوسرے دن موصوف کو بحال کر کے اس غیر قانونی عمل کا حصہ بنےاور اس وقت سے ڈاکٹر اعجاز ہیڈ آف ریڈیالوجی کو ادارے سے غیر قانونی تنخواہیں دی جارہی ہیں اس کے برعکس ادارے کے حقیقی ملازمین نے گیارہ ماہ سے بند ہیلتھ کارڈ فنڈ کے بابت بات کرنے اور ،نو ،دس سالوں سے ادارے اور مریضوں کی خدمت کرنے والے تین ملازمین کو بغیر انکوائری اور بغیر قانونی تقاضے پورا کئے اور صفائی کا موقع دیئے بغیر یک جنبشِ قلم روزگار سے فارغ کر دیا
اسی طرح گزشتہ قسط میں ہم نے ہیڈ آف نیفرو ڈاکٹر فضل مندوخیل کے ڈیپوٹیشن پیریڈ ختم ہونے اور پھر ڈاکٹر فضل مندوخیل کا عدالت عالیہ سے رابط کرنے اور عدالت عالیہ کی طرف سے واضح جواب ملنے کے باوجود سی ای او صاحب کا نہ صرف یہ کہ موصوف کو غیر قانونی طریقے سے رکھنا غیر قانونی تنخواہیں دینا بلکہ اختیار کل دے کر سیاہ وسفید کا مالک بنانے کی بات کی تھی
اسی طرح ڈائریکٹر ایڈمن اور ایچ آر شمس الحق نوتانی صاحب 70 پلس سال عمر ہونے کے باوجود بغیر اخباری اشتہار اور بغیر بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے گھر سے بلا کر بھرتی کیا گیا ہے اور زائد العمر ہونے کی وجہ سے زہنی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں
واضح رہے کہ اپنے سابقہ دور میں بھی موصوف نے پندرہ ملازمین کو بغیر کسی وجہ کے ذاتیات کی بنیاد پر ادارے سے فارغ کر دیا تھا جنہیں بعد ازاں معزز صوبائی اسمبلی نے بحال کر دیا تھا اسی طرح سابقہ ٹرانسپورٹ آفیسر صاحب کو بھی ذاتی عناد اور ذاتیات پر ملازمت سے برخاست کر دیا تھا جسے معزز عدالت عالیہ نے بحال کر دیا تھا دو مرتبہ اخلاقی طور پر سبکی کے بعد تو موصوف کو اخلاقی جرآت کا مظاہرہ کرتے ہوئے واپس ہی نہیں آنا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ 75 پلس سال کی عمر میں بھی موصوف نے بغیر اخباری اشتہار اور بغیر بورڈ آف گورنرز کی منظوری کے صرف ملازمین سے ذاتی عناد اور ذاتیات اور ملازمین کا روز گار اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے تمام ،اخلاقی،قانونی،اور معاشرتی اقدار کو روندتے ہوئے واپس آئے اور ایک بار پھر اپنے آقاؤں کے جے جے کار میں لگے ہوئے ہیں
ادارے میں ہونے والی بے قاعدگیوں ، لوٹ مار ،غیر قانونی بھرتیوں ،غیر قانونی پرموشنز ،کے بارے میں اربابِ اختیار اور
عوام کو روزانہ کی بنیاد پر ایک قسط جاری کی جاۓ گی
Employees Insaf Movement Pakistan Paramedical Staff Association Rp2076 Baluchistan 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣 𝙉𝙪𝙧𝙨𝙞𝙣𝙜 𝘾𝙤𝙢𝙢𝙪𝙣𝙞𝙩𝙮 Federal Investigation Agency - FIA

Address

Samugli Road Quetta
Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پیرا میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن 2076 بینق یونٹ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category