24/09/2026
بلوچستان میں دفعہ 144 لگانا اس بات کی تصدیق ہے کہ حکومت کو امن اس وقت یاد آتا ہے جب کوئی سیاسی احتجاج سر اٹھانے والا ہو۔ ورنہ صوبے میں سالوں سے جو خونی صورتحال چل رہی ہے، اس پر اتنی تیزی اور ہم آہنگی سے کوئی کارروائی نظر نہیں آتی۔
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی کا بحران حقیقی اور گہرا ہے۔ لیکن اس بحران کو حل کرنے کے بجائے حکومت اکثر اسے سیاسی مخالفت دبانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
لانگ مارچ سے چند دن پہلے پورے صوبے میں اجتماعات پر پابندی لگانا “عوام کے تحفظ” سے زیادہ سیاسی کنٹرول لگتا ہے۔
امن قائم کرنے کا طریقہ لوگوں کو گھروں میں بند کرنا نہیں۔
امن اس وقت آتا ہے جب ریاست خود اپنے فرائض ٹھیک سے ادا کرے، احتساب کرے، اور سیاسی آزادی کو خطرہ نہ سمجھے۔
میں کسی پارٹی کا وکیل نہیں ہوں۔
میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ریاست اگر صرف اپنے مخالفین کے خلاف دفعہ 144 استعمال کرے اور اصل مسائل کو نظرانداز کرے، تو وہ امن نہیں، کنٹرول قائم کر رہی ہوتی ہے۔
#بلوچستان #کوئٹہ #پاکستان