24/08/2022
*تمہیں بلوچستان میں ایٹمی دھماکے کرنے ہوں تو تمہاری نظریں پہاڑوں کا سینہ چیر کے اپنے مطلب کے پہاڑ کا انتخاب کرلیتے ہو*
تمہیں اپنی معاشی حالت بہتر بنانی ہو تو گوادر کو اپنی سہولت کی خاطر گروی رکھ دیتے ہو۔
تمہیں بلوچستان سے کسی ایم این اے ، سینیٹر کی ضرورت ہو تو تم ان پر اربوں روپے لٹا دیتے ہو۔
تمہیں بلوچستان سے معدنیات ضرورت ہوں تو تم زمین کا سینہ چاک کرکے نکال لیتے ہو۔
تمہیں بلوچستان سے اپنی انڈسٹری چلانی ہو یا گھروں کے چولہے تم سوئی پر آکے قبضہ جما کے بیٹھ جاتے ہو۔
تمہارے سانحہ ساہیوال پر تمہاری چیخ و پکار میں ہم ساتھ چیخ رہے تھے۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہم آپکی آواز کے ساتھ آواز بلند کررہے تھے۔
زینب کیس ہو یا کوئی تم پر کوئی مصیبت یا آفت ہو ، لاہور میں سیلاب ہو یا مری میں برف باری سے اموات ہوں ہم نے اپنی آواز بلند کی۔
لیکن جب بلوچستان میں آفت آئے تو تم دور بیٹھے تماشہ دیکھتے ہو اپنی کھوکھلی آزادی کے جشن مناتے ہو۔
تمہارے نیوز چینل پر سیاسی گرفتاریوں اور قیدیوں کے جیل میں گزرے روز شب پر بحث ہوتی ہے۔
تمہارے میڈیا پر سیاستدانوں کی ذاتی لڑائیاں ڈسکس ہوتی ہیں
*لیکن ہمارا ڈوبتا بلوچستان ڈسکس نہیں ہوتا۔*
*آخر کیوں*