11/03/2026
21 رمضان المبارک ، یومِ وصال خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی رضی اللہ
اور 11 مارچ یومِ وفات والد مرحوم ماسٹر محمد اشفاق احمد چِٹکال ایڈووکیٹ
مارچ میرے لیے صرف ایک مہینہ نہیں، یادوں اور جدائیوں کا ایک باب ہے۔
11 مارچ 2018 کو میرے ابو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ابو کی جدائی میرے لیے صرف ایک والد کی محرومی نہیں تھی؛ میں سمجھتا ہوں کہ وہ واحد شخصیت تھے جو مجھے واقعی سمجھتے تھے۔
ایک ادھورا سا شعر اکثر دل میں گونجتا ہے:
“ایک ہی شخص سمجھتا تھا ہمیں،
پھر یہ ہوا کہ وہ بھی سمجھدار ہو گیا۔”
میرے لیے وہ ایک ہی شخص میرے ابو تھے — اور وہ بھی چلے گئے۔
لوگ کہتے ہیں کہ وقت سب کچھ ٹھیک کر دیتا ہے، مگر مجھے لگتا ہے کہ بعض خلا وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے انسان کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ ابو کے جانے کے بعد زندگی کا رخ ہی بدل گیا۔ آٹھ سال گزرنے کے باوجود مجھے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں ابھی تک اسی لمحے میں کھڑا ہوں۔
مارچ میرے لیے اور بھی کئی جدائیاں لے کر آیا۔ اسی مہینے میرے بڑے کزن محمد یوسف اور غلام فرید اس دنیا سے رخصت ہوئے، اور اسی مہینے میری پھپھو بھی ہم سے بچھڑ گئیں۔ یوں یہ مہینہ میرے لیے یادوں اور غموں کا ایک سلسلہ بن گیا ہے۔
جب ذاتی دکھ سے آگے بڑھ کر میں امتِ مسلمہ کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اجتماعی طور پر بھی کتنی بڑی شخصیات کھو دی ہیں۔ اگر مسلکی اور قومی تعصبات — شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، پاکستانی، افغانی، ایرانی — سب سے ہٹ کر صرف ایک مسلمان کی حیثیت سے سوچوں تو یاد آتا ہے کہ ایک ایک کر کے کتنے بڑے رہنما ہم سے جدا ہو گئے:
روح اللہ خمینی، صدام حسین، معمر قذافی، ذوالفقار علی بھٹو، محمد ضیاء الحق، فیصل بن عبدالعزیز آل سعود — اور نہ جانے کتنے لوگ جو امت کی قوت، وقار اور آزادی کی علامت تھے، عالمی طاقتوں اور خصوصاً یہود و نصاریٰ کی سیاسی سازشوں کا نشانہ بنے اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان دنوں ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں بھی جاری ہیں، اور انہی مبارک ایام میں آج حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یومِ وصال بھی ہے۔ وہ عظیم ہستی جنہوں نے علم، شجاعت، عدل اور عشقِ رسول ﷺ کی ایسی مثالیں قائم کیں جو قیامت تک اہلِ ایمان کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔
آج ان مبارک دنوں میں دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت علیؓ کے صدقے اور رمضان المبارک کی برکتوں کے طفیل میرے ابو، میرے تمام مرحوم عزیزوں اور آپ سب کے مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ امت کو اتحاد عطا فرمائے۔
اور جو لوگ باطل کے مقابلے میں شہادت کا جام نوش کر گئے، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔