12/10/2025
جو لوگ اللہ کی رضا کے لیے راستہ کشادہ کرتے ہیں، یعنی دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں، راستہ صاف کرتے ہیں، یا بندش دور کرتے ہیں — ان کے بارے میں قرآن و حدیث میں بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> "اور جو شخص کسی مؤمن کی دنیاوی تکلیف دور کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور کرے گا۔"
(سورۃ البقرۃ: 177، مفہوماً)
اللہ تعالیٰ نے نیکی کو صرف عبادت تک محدود نہیں رکھا بلکہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی نیکی قرار دیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> "جو شخص کسی مسلمان کے لیے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹا دے، اسے نیکی لکھی جاتی ہے۔"
(صحیح مسلم)
اور ایک دوسری روایت میں فرمایا:
> "میں نے ایک شخص کو جنت میں دیکھا، وہ اس وجہ سے داخل ہوا کہ اُس نے راستے سے ایک درخت کی ٹہنی ہٹا دی تھی جو لوگوں کو تکلیف دیتی تھی۔"
(بخاری و مسلم)
خلاصہ:
جو لوگ اللہ کی رضا کے لیے دوسروں کے لیے راستے صاف کرتے، آسانیاں پیدا کرتے اور تکلیف دور کرتے ہیں، وہ نہ صرف دنیا میں عزت پاتے ہیں بلکہ آخرت میں جنت کے مستحق بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے راضی ہوتا ہے جو بندوں کے لیے آسانی چاہتے ہیں۔