29/05/2026
حافظ آبادملہاسنگھ سکول کی بندش خاتون AEO معطل
حافظ آباد کا "گھوسٹ" سکول؟: یا تعلیم دشمنی، بھاری خورد برد یا سیاسی پوانٹ سکورنگ؟ شہریوں کے سلگتے سوال!
حافظ آباد: (بیورو رپورٹ ) ضلع بھر میں محکمہ تعلیم کی مبینہ غفلت، کرپشن، اور تعلیمی پالیسیوں پر سول سوسائٹی، وکلاء، تاجروں اور طلباء تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حافظ آباد کے علاقہ اسلام پورہ کا سکول (جس کے بارے میںچند افراد کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ وہ کبھی فعّال ہی نہیں ہوا) کی بندش پر محکمہ سکول ایجوکیشن میں مچنے والی کھلبلی نے کئی سنگین سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ اس مسئلے پر عوامی ردعمل میں شدت آ گئی ہے اور متعلقہ حکام سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بند سکول، معطلیاں، اور فرنیچر کی پراسرار واپسی:
عوامی حلقوں کی جانب سے پہلا اور بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایک سکول کبھی چلا ہی نہیں اور اس میں کبھی کلاسز ہی نہیں ہوئیں، تو پھر خبریں چلنے پر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر (AEO) کو معطل کیوں کیا گیا؟ اگر سکول غیر فعّال تھا، تو اس کی ذمہ داری کسی ایک آفیسر پر کیوں ڈالی گئی؟ مزید برآں، اگر اس سکول میں کبھی طالب علموں نے قدم بھی نہیں رکھا، تو پھر وہاں پڑا فرنیچر پراسرار طور پر واپس کیوں اٹھوا لیا گیا؟ یہ فرنیچر کب اور کس کے آرڈر پر لایا گیا تھا، اور اب اسے واپس لے جانے کا کیا مقصد ہے؟ یہ تمام عوامل اس معاملے میں کسی گہری خورد برد یا "گھوسٹ" کارروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
مویشیوں کا باڑہ اور فنڈز کا بے دریغ استعمال:
سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویرنے اس سنگین صورتحال کو مزید آشکار کیا ہے۔ سکول کی عمارت، جسے بچوں کی تعلیم کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا، اب مویشیوں کا باڑہ بن چکی ہے۔ وہاں مویشی بندھے ہوئے ہیں اور عمارت کو چارے کے گودام (توڑی) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ واضح نا اہلی کس کی ہے؟ اور اس قسم کی کھلی تباہی پر کارروائی کرنا کس کا کام تھا؟
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ سکول میں واش روم تک نہیں بنے، جبکہ اطلاعات کے مطابق ان کی تعمیر کے لیے 36 لاکھ روپے کا بھاری ٹھیکہ دیا گیا تھا۔ یہ بھاری رقم کہاں گئی اور کن ٹھیکیداروں یا حکام نے اسے ہضم کیا؟ عوامی مطالبہ ہے کہ 36 لاکھ روپے کے ٹھیکے کی مکمل تحقیقات ہو اور ذمہ داروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔
سیاسی گیم، "تعلیم دشمنی" اور محکمہ تعلیم سے سوالات:
اس سکول کی تعمیر پچھلی حکومت میں ہوئی یا اس سے بھی پچھلی میں، لیکن اسے فعّال بنانا اور چلانا کس کی ذمہ داری تھی؟ کیا ضلع کے دیگر بند سکولوں کی طرح یہ بھی صرف سیاسی پوانٹ سکورنگ اور کریڈٹ لینے کی وجہ سے بند ہے؟ شہریوں کا الزام ہے کہ محکمہ تعلیم آخر "تعلیم دشمن" کیوں بن رہا ہے اور تعلیمی سہولیات کو فعال بنانے کے بجائے انہیں برباد کیوں کیا جا رہا ہے؟ضلع بھر سے شہریوں، سول سوسائٹیز، وکلاء، طلباء تنظیموں اور تاجر برادری نے مشترکہ طور پر ان تمام سوالات کے جوابات مانگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "دال میں کالا ہے یا پوری دال ہی کالی ہے"، اس کا فیصلہ شفاف تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ:
AEO کی معطلی: اس معطلی کی اصل وجوہات اور اس کے پیچھے موجود حکام کو بے نقاب کیا جائے۔
فرنیچر کی واپسی: سکول سے فرنیچر کی پراسرار واپسی کی تحقیقات ہو اور اسے دوبارہ بحال کیا جائے۔
36 لاکھ روپے کے ٹھیکے کی تحقیقات: واش رومز نہ بننے کے باوجود ٹھیکے کی رقم کہاں گئی، اس کا حساب لیا جائے اور ذمہ دار ٹھیکیداروں اور افسران کو گرفتار کیا جائے۔
سکول کو فعال بنانا: اس سکول (اور ضلع کے دیگر بند سکولوں) کو فوری طور پر فعال بنا کر اسے بچوں کے لیے کھولا جائے اور اسے مویشیوں کے باڑے کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی لگائی جائے۔
خورد برد اور نا اہلی پر کارروائی: اس پوری صورتحال کے ذمہ دار تمام افراد، چاہے وہ کسی بھی حکومت کے دور میں رہے ہوں، کے خلاف کارروائی کی جائے۔
عوام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اگر ان سوالات کے تسلی بخش جواب نہ ملے، تو وہ بھرپور احتجاج کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
Deputy Commissioner Hafizabad
Maryam Nawaz Sharif
Saira Afzal Tarar
Ministry of Federal Education and Professional Training Pakistan
School Education Department, Government of the Punjab
Pakistan Education Endowment Fund - PEEF
Ministry of Information and Broadcasting, Pakistan
Chief Secretary Punjab
Chief Minister Punjab's Updates
UNICEF Pakistan
Mian Mazhar