Dulleke Bhattian Welfare Society

Dulleke Bhattian Welfare Society Dulleke Bhattian Welfare Society

10/05/2026

کھونے کے بعد پتہ چلتا ہےکتناقیمتی تھاجو چلا گیا
وہ وقت ہو-انسان ہو-یا پھر کوئی رشتہ ہو-

10/05/2026
08/05/2026

توجہ کی کمی سے بھی مر سکتے ہیں یہ پھول پودے انسان وغیرہ

08/05/2026

Dulla Bhatti کی اصل تاریخی کہانی

Dulla Bhatti کا اصل نام عبداللہ بھٹی تھا۔ وہ سولہویں صدی میں پنجاب کے علاقے پنڈی بھٹیاں کے قریب پیدا ہوئے۔ اس دور میں ہندوستان پر Akbar کی حکومت تھی۔ دلا بھٹی کا تعلق بھٹی راجپوت قبیلے سے تھا۔

ان کے والد فرید بھٹی اور دادا سندھو بھٹی مغل حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔ روایت کے مطابق مغل حکومت نے بغاوت کے الزام میں ان دونوں کو قتل کر دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دلا بھٹی کے دل میں مغل حکمرانوں کے خلاف نفرت پیدا ہوئی۔

جوان ہونے کے بعد دلا بھٹی نے پنجاب کے دیہات میں مغلوں کے ٹیکس وصول کرنے والوں اور ظالم جاگیرداروں کے خلاف مزاحمت شروع کی۔ وہ امیروں اور سرکاری خزانے پر حملے کرتے اور حاصل شدہ مال غریبوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ اسی وجہ سے عام لوگ انہیں اپنا محافظ سمجھتے تھے۔

لڑکیوں کو بچانے والا واقعہ

دلا بھٹی کی سب سے مشہور تاریخی روایت دو لڑکیوں سندری اور مندری کے بارے میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ بااثر لوگ ان لڑکیوں کو زبردستی لے جانا چاہتے تھے۔ دلا بھٹی نے انہیں بچایا، ان کی شادیاں کروائیں اور خود ان کے سرپرست کے طور پر کھڑے ہوئے۔ اسی واقعے کی یاد میں پنجاب میں Lohri کے موقع پر یہ مشہور بول گائے جاتے ہیں:

> “سندر مُندریئے ہو!”

یہ بول آج بھی دلا بھٹی کی بہادری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

انجام

مغل حکومت دلا بھٹی کی سرگرمیوں سے پریشان تھی۔ آخرکار Akbar کے دور میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ تاریخی روایات کے مطابق انہیں لاہور میں سزائے موت دی گئی۔

اگرچہ دلا بھٹی ایک حکومتی باغی سمجھے جاتے تھے، لیکن پنجاب کے عوام انہیں آج بھی ایک ہیرو، غریبوں کے مددگار اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والے انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

06/05/2026

✨ بھٹی راجپوت قبیلہ آف پاکستان✨

بھٹی قبیلہ صرف ایک نام نہیں بلکہ تاریخ، شجاعت، وقار اور روایات کا ایک ایسا روشن استعارہ ہے جس کی جڑیں صدیوں پرانی عظمت میں پیوست ہیں۔ یہ وہ قبیلہ ہے جس کی پہچان صرف نسب یا شناخت سے نہیں بلکہ کردار، بہادری، مہمان نوازی اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے سے بنتی ہے۔ بھٹی نام سنتے ہی دل میں ایک ایسا احساس جنم لیتا ہے جو عزت، غیرت اور عظمت کی خوشبو سے لبریز ہوتا ہے۔

بھٹی قبیلے کی تاریخ بہادری کے انمٹ نقوش سے مزین ہے۔ اس قبیلے کے افراد نے ہر دور میں اپنی جرأت، دانائی اور غیرت سے اپنی الگ پہچان قائم کی۔ میدانِ جنگ ہو، سماجی قیادت ہو یا انسانیت کی خدمت، بھٹی قبیلہ ہمیشہ صفِ اول میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے قول کو اپنی پہچان اور اپنے کردار کو اپنی شان سمجھتے ہیں۔

بھٹی قبیلے کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا اتحاد، خاندانی رشتہ اور اپنائیت کا جذبہ ہے۔ اس قبیلے کے لوگ جہاں بھی بستے ہیں، اپنی روایات، اپنے بزرگوں کی عزت اور اپنی پہچان کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ بھٹی خاندان میں محبت صرف لفظ نہیں بلکہ ایک روایت ہے، احترام صرف اخلاق نہیں بلکہ تربیت ہے، اور ساتھ نبھانا صرف تعلق نہیں بلکہ فرض سمجھا جاتا ہے۔

بھٹی قبیلہ علم، ادب، قیادت اور خدمت کے میدان میں بھی ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ اس قبیلے کے افراد نے نہ صرف اپنی برادری بلکہ معاشرے کی فلاح، ترقی اور بھلائی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھٹی قبیلہ جہاں جاتا ہے، اپنی تہذیب، شرافت اور وقار کی خوشبو بکھیر دیتا ہے۔ یہ قبیلہ صرف اپنے ماضی پر فخر نہیں کرتا بلکہ اپنے کردار سے حال کو روشن اور آنے والے کل کو بہتر بنانے کا ہنر بھی جانتا ہے۔

آج بھی بھٹی قبیلہ اپنی روایات، اپنے تشخص اور اپنی عظمت کے ساتھ سربلند کھڑا ہے۔ یہ قبیلہ عزت کا نشان، وفا کی پہچان اور غیرت کی مثال ہے۔ بھٹی ہونا صرف ایک نسبت نہیں، ایک ذمہ داری ہے؛ ایک ایسا وقار ہے جسے کردار، محبت، اتحاد اور اصولوں سے زندہ رکھا جاتا ہے۔ یہی بھٹی قبیلے کی اصل خوبصورتی ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی شان۔

04/05/2026

دلا بھٹی کے بارے میں ایک بہت مشہور اور دلیرانہ واقعہ یہ بھی سنایا جاتا ہے کہ اُس نے ایک بار قیدی کسانوں کو مغل فوج کے چنگل سے آزاد کروایا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ ایک علاقے کے کسان ٹیکس ادا نہ کر سکے کیونکہ اس سال فصل تباہ ہوگئی تھی۔ مغل اہلکاروں نے رحم کرنے کے بجائے کئی کسانوں کو پکڑ کر زنجیروں میں جکڑ دیا اور انہیں شہر لے جانے لگے تاکہ سزا دی جا سکے۔

راستے میں ایک بوڑھی عورت نے دلا بھٹی کو خبر دی: “او دلا! یہ بے گناہ لوگ ہیں، ان کے بچے بھوکے مر جائیں گے۔”

یہ سنتے ہی دلا بھٹی اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور چند ساتھیوں کے ساتھ رات کے اندھیرے میں اُس قافلے کے پیچھے نکل پڑا۔ جب قافلہ ایک جنگل کے قریب پہنچا تو دلا بھٹی نے بلند آواز میں للکارا:

> “بہادری بے گناہوں پر ظلم کرنے میں نہیں، ان کی حفاظت کرنے میں ہے!”

اچانک چاروں طرف سے اُس کے ساتھی نکل آئے۔ مختصر مگر سخت مقابلہ ہوا۔ دلا بھٹی نے خود آگے بڑھ کر کسانوں کی زنجیریں توڑیں اور انہیں آزاد کرا لیا۔ روایت ہے کہ جاتے وقت اُس نے سپاہیوں سے کہا:

> “جا کر اپنے حاکموں سے کہو، پنجاب کے غریب اکیلے نہیں ہیں!”

آزاد ہونے والے کسان روتے ہوئے دلا بھٹی کے قدم چومنے لگے، مگر اُس نے انہیں اٹھا کر گلے لگا لیا اور کہا:

> “انسان کی عزت سب سے بڑی دولت ہے۔”

اسی وجہ سے پنجاب کی لوک کہانیوں میں دلا بھٹی کو صرف ایک باغی نہیں بلکہ مظلوموں کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔

03/05/2026

✨ بھٹی راجپوت قبیلہ ✨
برصغیر کی اُن عظیم، باوقار اور جری اقوام میں شمار ہوتا ہے جن کی تاریخ شجاعت، غیرت، وفاداری اور حکمرانی کے سنہری ابواب سے روشن ہے۔ بھٹی راجپوتوں کی جڑیں قدیم ہندوستان کے اُن علاقوں میں پیوست ہیں جہاں ان کے اقتدار، وقار اور بہادری کے چرچے صدیوں تک زبان زدِ عام رہے۔ بھٹنیر، بھٹنڈہ، بھٹنیور، جیسلمیر اور راجستھان کی سرزمین آج بھی بھٹی راجپوتوں کی عظمت کی گواہ ہے، جہاں اس قبیلے نے اپنی تلوار، تدبر اور شرافت کے ذریعے ایک منفرد شناخت قائم کی۔ جیسلمیر کی ریاست اور صحرائے راجستھان کے قلعے آج بھی بھٹی راجپوتوں کی شاہانہ تاریخ، جرات اور اقتدار کے امین ہیں۔

تقسیمِ ہند کے بعد بھٹی راجپوت قبیلہ پاکستان میں بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ آباد ہوا اور یہاں بھی اپنی بہادری، شرافت اور قومی خدمات کے باعث ممتاز مقام حاصل کیا۔ پنجاب کے پنڈی بھٹیاں، جلال پور بھٹیاں، جام کے بھٹیاں، شام کے بھٹیاں اور بھٹی قوم کے بے شمار پنڈ آج اس قبیلے کی مضبوط سماجی، ثقافتی اور تاریخی شناخت کے امین ہیں۔ پاکستان کے طول و عرض میں بھٹی راجپوت صرف ایک برادری نہیں بلکہ عزت، رواداری، مہمان نوازی اور وفاداری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ دیہات سے لے کر شہروں تک، زراعت سے لے کر سیاست تک، فوج سے لے کر سماجی خدمت تک، بھٹی قوم نے ہر میدان میں اپنی قابلیت اور کردار کا لوہا منوایا ہے۔

بھٹی راجپوت قبیلے کی سب سے درخشاں پہچان اس کی عسکری عظمت ہے۔ یہ وہ قبیلہ ہے جس کے سپوتوں نے پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے تاریخ رقم کی۔ میجر عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر، راجہ محمد سرور شہید نشانِ حیدر، لانس نائیک محمد محفوظ شہید نشانِ حیدر اور میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر جیسے عظیم سپوت اسی دھرتی کے وہ روشن ستارے ہیں جنہوں نے بہادری، جرات اور حب الوطنی کی لازوال داستانیں لکھیں۔ ان شہداء نے اپنے خون سے وطنِ عزیز کی سرحدوں کو محفوظ بنایا اور ثابت کیا کہ بھٹی قوم صرف نسب کی نہیں بلکہ قربانی کی بھی عظیم علامت ہے۔

پاکستان کی عسکری تاریخ میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھٹی کا نام بھی فخر سے لیا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی جراتمندانہ قیادت، پیشہ ورانہ بصیرت اور مضبوط عزم کے ذریعے نہ صرف پاک فوج کو نئی قوت بخشی بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کو تاریخی کامیابیاں دلائیں۔ ان کی قیادت نے دنیا بھر میں پاکستان کے دفاعی وقار کو بلند کیا اور بھٹی راجپوت قبیلے کا نام مزید روشن کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھٹی قوم قیادت، بصیرت اور قومی خدمت میں بھی ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔

سیاسی میدان میں بھی بھٹی راجپوت قبیلہ ایک مؤثر، فعال اور باوقار کردار کا حامل رہا ہے۔ پاکستان کے مختلف حلقوں میں بھٹی برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد ایم این اے، ایم پی اے، چیئرمین، وائس چیئرمین اور عوامی نمائندے خدمت، دیانت اور عوامی فلاح کے جذبے کے ساتھ قوم کی نمائندگی کرتے آئے ہیں۔ بھٹی قوم نے سیاست کو صرف اقتدار نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ سمجھا، اور یہی وجہ ہے کہ اس قبیلے کے نمائندے عوامی اعتماد اور عزت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

بھٹی راجپوت قبیلہ صرف ایک برادری نہیں بلکہ تاریخ، شجاعت، قربانی، قیادت اور وقار کا ایک عظیم استعارہ ہے۔ ہندوستان کے قلعوں سے لے کر پاکستان کے میدانوں تک، راجستھان کے ریگزاروں سے لے کر پنجاب کے زرخیز کھیتوں تک، بھٹی قوم نے ہر دور میں اپنی عظمت کے نقوش ثبت کیے ہیں۔ یہ قبیلہ آج بھی اپنی روایات، اقدار، بہادری اور اخوت کے ساتھ زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے فخر، اتحاد اور قومی خدمت کی روشن مثال بنا ہوا ہے۔

02/05/2026

رائے امیر عبداللہ عرف دُلا بھٹی شہید — سُن آف پنجاب

رائے امیر عبداللہ، جنہیں تاریخ دُلا بھٹی شہید کے نام سے یاد کرتی ہے، پنجاب کی دھرتی کا وہ عظیم سپوت ہیں جنہیں لوگ محبت اور عقیدت سے “سُن آف پنجاب” کہتے ہیں۔ دُلا بھٹی صرف ایک نام نہیں بلکہ جرات، غیرت، بہادری اور عوامی خدمت کی وہ روشن علامت ہیں جنہوں نے ظلم کے اندھیروں میں حق اور حریت کا چراغ روشن کیا۔ وہ پنجاب کی مٹی کا وہ بہادر فرزند تھے جنہوں نے اپنی جان تو قربان کر دی مگر مظلوموں کے سر کبھی جھکنے نہ دیے۔

دُلا بھٹی شہید نے اپنے دور کے جابر حکمرانوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو کر یہ ثابت کیا کہ پنجاب کی سرزمین ہمیشہ ایسے جانبازوں کو جنم دیتی ہے جو حق و انصاف کے لیے اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ وہ غریبوں، مظلوموں اور بے سہارا لوگوں کے محافظ تھے۔ ان کی بہادری صرف تلوار کی دھار میں نہیں بلکہ ان کے کردار، غیرت اور عوامی محبت میں بھی جھلکتی تھی۔

دُلا بھٹی شہید کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ انہوں نے ظلم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور مظلوم بیٹیوں کی عزت و حرمت کے محافظ بن کر ابھرے۔ انہوں نے نہ صرف جبر کے نظام کو للکارا بلکہ بے سہارا بیٹیوں کو تحفظ دیا، ان کی شادیاں کروائیں اور ان کے سروں پر عزت کی چادر رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے عوام انہیں صرف ایک بہادر جنگجو نہیں بلکہ اپنی دھرتی کا محسن مانتے ہیں۔

دُلا بھٹی شہید کی داستان صرف تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں بلکہ آج بھی پنجاب کے ہر گاؤں، ہر شہر اور ہر دل میں زندہ ہے۔ ان کا نام غیرت، حمیت، بہادری اور عوامی خدمت کی علامت بن چکا ہے۔ وہ ایک ایسے عظیم کردار کے مالک تھے جنہوں نے اپنی زندگی عوام کے نام کی اور شہادت کے بعد ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

آج بھی جب پنجاب کی دھرتی پر بہادری، غیرت اور حق گوئی کی بات ہوتی ہے تو دُلا بھٹی شہید کا نام فخر سے لیا جاتا ہے۔ وہ صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک سوچ اور ایک جذبہ ہیں۔ رائے امیر عبداللہ عرف دُلا بھٹی شہید بلاشبہ پنجاب کے وہ عظیم سپوت ہیں جنہیں تاریخ ہمیشہ “سُن آف پنجاب” کے نام سے یاد رکھے گی۔

27/04/2026

بےروزگار یا پھر الگ سے انکم بنانے والے لوگ حاضری لگائیں۔ انکے لیے ایک اچھی opportunity لیکر آرہا ہوں۔

27/04/2026

دُلا بھٹی اور سُنہری کہانی (سُندری اور مُندری)
ایک زمانے میں پنجاب کے ایک علاقے میں دو یتیم لڑکیاں تھیں جن کے نام سُندری اور مُندری تھے۔ ایک ظالم زمیندار ان لڑکیوں کو زبردستی اغوا کر کے بیچنا چاہتا تھا۔ اُس وقت لوگوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے۔
جب یہ خبر دلا بھٹی تک پہنچی تو اُس نے فوراً ایک منصوبہ بنایا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رات کے وقت اس زمیندار کے علاقے میں پہنچا، لڑکیوں کو اُس کے چنگل سے آزاد کروایا، اور انہیں اپنے تحفظ میں لے لیا۔
صرف یہی نہیں، دُلا بھٹی نے ان دونوں لڑکیوں کی عزت کے ساتھ شادی بھی کروائی۔ چونکہ ان کا کوئی سرپرست نہیں تھا، اس لیے دُلا بھٹی نے خود باپ کا کردار ادا کیا۔ روایت کے مطابق اُس نے شادی کے وقت مہر کے طور پر صرف "شکر" (گڑ) دیا، کیونکہ اُس کے پاس زیادہ دولت نہیں تھی۔
یہ واقعہ دُلا بھٹی کی بہادری، انسانیت اور انصاف پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آج بھی پنجاب میں لوگ لوہڑی کے گیتوں میں اس کا ذکر فخر سے کرتے ہیں:
"سُندری مُندری ہو… تیرا کون وِچارا… دُلا بھٹی والا…"

14/04/2026

اپریل آدھا گزر چکا ہے
پچھلے مہینے اس دن مارچ کی دو تاریخ تھی

Address

Pindi Bhattian
52180

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dulleke Bhattian Welfare Society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Dulleke Bhattian Welfare Society:

Share