10/07/2026
میری کہانی
انیس سال بعد… کیا کھویا، کیا پایا؟
ایک سفر، ایک دعا، اور ایک مقصد
ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب اسے ایک مشکل فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ میری زندگی میں وہ لمحہ تقریباً انیس سال پہلے آیا، جب میں نے بہتر مستقبل کی امید میں اپنا وطن چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
یہ صرف ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر نہیں تھا، بلکہ اپنے بچپن، اپنی گلیوں، اپنے دوستوں، اپنے بہن بھائیوں اور سب سے بڑھ کر اپنے والدین سے دور ہونے کا فیصلہ تھا۔
جب میں ایک اجنبی سرزمین پر پہنچا تو میرے پاس نہ کوئی اپنا تھا اور نہ کوئی سہارا۔ صرف ایک خواب تھا کہ محنت، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کے ساتھ اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی بہتر بنا سکوں۔
یہ سفر ہرگز آسان نہیں تھا۔ کئی راتیں ایسی گزریں جب وسائل محدود تھے اور ذمہ داریاں بہت زیادہ۔ کئی بار دل چاہا کہ سب کچھ چھوڑ کر اپنے وطن واپس چلا جاؤں، لیکن ہر بار اپنے مستقبل، اپنے خوابوں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسے نے مجھے دوبارہ ہمت دی۔
آج، انیس سال بعد، جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو میرا دل اللہ تعالیٰ کے شکر سے بھر جاتا ہے۔ اس نے مجھے عزت دی، روزگار دیا، سکون دیا اور اتنا عطا کیا کہ میں اپنے خاندان کی ضروریات عزت اور خودداری کے ساتھ پوری کر سکوں۔
لیکن میری خوشی مکمل نہیں۔
جب میں اپنے وطن میں رہنے والے دوستوں، کلاس فیلوز اور بچپن کے ساتھیوں سے بات کرتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ مجھ سے کہیں زیادہ ذہین، باصلاحیت اور محنتی تھے۔
فرق صرف صلاحیت کا نہیں تھا، بلکہ مواقع کا تھا۔
مجھے ایک ایسے معاشرے میں محنت کرنے کا موقع ملا جہاں محنت کی قدر کی جاتی ہے، جبکہ میرے بہت سے دوست ایسے ماحول میں رہ گئے جہاں بے روزگاری، مہنگائی اور محدود مواقع نے ان کے خوابوں کو محدود کر دیا۔
اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں:
“اصل فرق اکثر انسانوں میں نہیں، بلکہ نظام میں ہوتا ہے۔”
⸻
ماں کی دعا — میری زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ
اگر آج میری زندگی میں کوئی کامیابی، عزت یا سکون ہے تو اس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا فضل اور میری والدہ کی دعائیں ہیں۔
مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ اپنی والدہ کی خدمت کر سکا۔ میں نے اس خدمت کو کبھی ذمہ داری نہیں سمجھا بلکہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت سمجھا۔
آج پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میری والدہ کی دعاؤں نے میری زندگی کے ہر مشکل راستے کو آسان کیا، میری محنت میں برکت عطا کی اور ہر آزمائش میں مجھے ثابت قدم رکھا۔
میں دل سے یقین رکھتا ہوں کہ ماں کی دعا وہ دولت ہے جس کی کوئی قیمت نہیں، اور والدین کی خدمت وہ سرمایہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں انسان کو کامیاب بناتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج مجھے سب سے زیادہ خوشی دوسروں کی خدمت کرنے، ضرورت مندوں کا سہارا بننے اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے سے ملتی ہے۔
⸻
ایک احساس… جس نے فاؤنڈیشن کو جنم دیا
وقت کے ساتھ میرے دل میں ایک سوال بار بار پیدا ہوتا رہا:
“کیا صرف اپنی زندگی بہتر بنا لینا کافی ہے؟”
ہر بار جواب یہی ملا:
“نہیں۔”
اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت، روزگار اور استحکام دیا ہے تو اس میں دوسروں کا بھی حق ہے۔
اسی احساس نے Abdus Sattar Daudzai Welfare Foundation & First Aid Center کی بنیاد رکھی۔
ہمارا مقصد صرف وقتی امداد فراہم کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کو تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار کے ذریعے خود کفیل بنانا ہے۔
میرا یقین ہے:
“اگر آپ کسی انسان کو ایک دن کا کھانا دیتے ہیں تو آپ اس کی ایک دن کی مدد کرتے ہیں، لیکن اگر آپ اسے تعلیم، ہنر، صحت اور روزگار کا ذریعہ فراہم کر دیں تو آپ اس کی پوری زندگی، بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی بدل سکتے ہیں۔”
⸻
میری دعا
میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اس مقام تک پہنچایا۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہمیشہ عاجزی، اخلاص اور انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری فاؤنڈیشن کو مستحق لوگوں کے لیے امید، سہارا اور خود کفالت کا ذریعہ بنائے۔
میں اپنے وطن پاکستان کے لیے بھی دعا گو ہوں کہ وہاں انصاف، امن، روزگار اور امید کا چراغ روشن رہے، تاکہ کسی نوجوان کو صرف بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے والدین، اپنے شہر اور اپنی مٹی سے دور نہ جانا پڑے۔
آخر میں، اگر میری پوری زندگی کو ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو میں صرف اتنا کہوں گا:
“میری کامیابی میری محنت کا نتیجہ ضرور ہے، لیکن اس کی اصل بنیاد اللہ تعالیٰ کا فضل، میری ماں کی دعائیں، اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہے۔”
والسلام
Abdus Sattar Daudzai
Founder
Abdus Sattar Daudzai Welfare Foundation & First Aid Center
🌐 asdfoundation.com