23/08/2026
ہیروئن کا نشہ محض ایک بری عادت نہیں، بلکہ یہ دماغ کی ایک پیچیدہ اور دائمی بیماری ہے۔ ہیروئن کا استعمال دماغ کے ریوارڈ سسٹم کو براہ راست متاثر کرتا ہے، جس سے ڈوپامائن کی سطح میں شدید اضافہ ہوتا ہے اور انسان کو فوری خوشی کا احساس ملتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، یہ عمل دماغی ساخت میں مستقل تبدیلیاں پیدا کر دیتا ہے۔
جیسا کہ سٹی سکن کے مختلف مراحل میں دکھایا گیا ہے، پہلی تبدیلی فرنٹل کارٹیکس میں ایٹروفی، یعنی دماغی حجم کا کم ہونا، کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ جیسے جیسے نشہ بڑھتا ہے، پریفرنٹل کارٹیکس کا حجم مزید کم ہو جاتا ہے اور دماغ کے اندر موجود وینٹریکلز پھیلنے لگتے ہیں۔
بعد کے مراحل میں، وائٹ میٹر کے ٹشوز میں زخم بننا اور برین کے گہرے حصوں، جیسے کہ بیسل گینگلیا، میں سکڑن پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے نیورونز کے درمیان رابطے کمزور پڑتے ہیں، جس سے یادداشت، فیصلہ سازی، اور جذبات پر کنٹرول بری طرح متاثر ہوتا ہے۔