علم و دانش

علم و دانش Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from علم و دانش, Peshawar.
(1)

دنیا کے سب سے زیادہ آئی کیو رکھنے والے شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ خدا کے وجود کو ریاضی کی مدد سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔جنوبی ک...
24/12/2025

دنیا کے سب سے زیادہ آئی کیو رکھنے والے شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ خدا کے وجود کو ریاضی کی مدد سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔

جنوبی کوریا کے سائنسدان اور اے آئی ریسرچر ینگ ہون کم کا کہنا ہے کہ خدا سو فیصد حقیقت ہے اور اس بات کو تین آسان ریاضیاتی اصولوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا اصول:

کوئی بھی لکیر نقطے کے بغیر شروع نہیں ہو سکتی۔

ان کے مطابق جیسے جیومیٹری میں ہر لکیر کا آغاز ایک نقطے سے ہوتا ہے، اسی طرح کائنات اور زندگی کے آغاز کے لیے بھی ایک ابتدا ضروری تھی، اور وہ ابتدا خدا ہے۔

دوسرا اصول:

لامحدود ماضی کو عبور نہیں کیا جا سکتا۔

ینگ ہون کم کہتے ہیں کہ اگر وقت کا کوئی آغاز نہ ہوتا اور وہ ہمیشہ پیچھے کی طرف جاتا رہتا، تو آج کا دن کبھی نہ آتا۔ جیسے ریاضی میں منفی لامحدود سے صفر تک پہنچنا ممکن نہیں اگر کوئی پہلا عدد موجود نہ ہو۔

تیسرا اصول:

طاقت کا کوئی نہ کوئی ذریعہ ضرور ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ریاضی میں ضرب (ملٹی پلائی) یہ بتاتی ہے کہ طاقت خود بخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کا کوئی منبع ہوتا ہے۔ اسی طرح کائنات کے وجود اور پھیلاؤ کے لیے ایک عظیم طاقت کا ہونا ضروری ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ان کی ایک پوسٹ بہت وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے مختلف مذاہب سے متاثر اپنے مذہبی خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، جو اسلام اور عیسائیت دونوں کا مشترکہ عقیدہ ہے۔

واضح رہے کہ 36 سالہ ینگ ہون کم کا آئی کیو 276 بتایا جاتا ہے، جو اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا آئی کیو ہے۔ عام طور پر 140 سے زیادہ آئی کیو رکھنے والے افراد کو جینیئس سمجھا جاتا ہے، جبکہ البرٹ آئن اسٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم سائنسدانوں کا آئی کیو تقریباً 160 تھا۔

ینگ ہون کم نہ صرف اے آئی کے ماہر ہیں بلکہ مذہبی علوم میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اور انہوں نے سیول کی یونسی یونیورسٹی سے تھیالوجی (مذہبیات) کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔

ہم زمین کے باسی نہیں، ہم ’جلاوطن‘ ہیں: انسانیت کے ’خلائی نژاد‘ ہونے کا حتمی سائنسی اور مذہبی مقدمہ! - بلال شوکت آزادصدیو...
13/12/2025

ہم زمین کے باسی نہیں، ہم ’جلاوطن‘ ہیں: انسانیت کے ’خلائی نژاد‘ ہونے کا حتمی سائنسی اور مذہبی مقدمہ! - بلال شوکت آزاد

صدیوں سے ہمیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک جھوٹ پڑھایا جا رہا ہے، ایک ایسا سفید جھوٹ جسے "ارتقاء" (Evolution) کا نام دے کر ہمارے ذہنوں میں ٹھونسا گیا ہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ ہم اسی کیچڑ، اسی مٹی اور انہی کیمیائی جوہڑوں سے پیدا ہوئے ہیں جہاں سے مینڈک، بندر اور ڈائنوسار پیدا ہوئے۔

ہمیں بتایا گیا کہ ہم اس سیارہ زمین کے "نیٹیو" (Native) ہیں، ہم یہیں کے ہیں، اور ہمارا خمیر اسی زمین سے اٹھا ہے۔

لیکن آج، اکیسویں صدی میں، سائنس خود اپنے اس نظریے کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ جب انسانی جسم کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور مائیکرو بائیولوجی کی خوردبین کے نیچے رکھا گیا، تو ایک ہولناک اور حیران کن سچائی سامنے آئی۔

وہ سچائی یہ ہے کہ انسان زمین پر "فٹ" (Fit) نہیں بیٹھتا۔

ہمارا جسم، ہماری نفسیات، ہماری بیماریاں اور ہماری ضروریات چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہم اس سیارے کے نہیں ہیں۔

ہم کہیں اور سے آئے ہیں، یا لائے گئے ہیں۔ ہم یہاں "مہمان" نہیں، بلکہ "قیدی" (Prisoners) یا "جلاوطن" (Exiles) ہیں۔

آج میں، بلال شوکت آزاد، ڈاکٹر ایلس سلور کے دعووں کو نہ صرف سائنسی دلائل سے ثابت کروں گا، بلکہ قرآن و حدیث کی ان گہری نشانیوں کو بھی سامنے لاؤں گا جو 1400 سال سے ہمیں بتا رہی تھیں کہ

"تمہارا گھر یہ نہیں ہے، تم جنت سے نکالے گئے ہو!"

سب سے پہلا اور سب سے بڑا ثبوت خود آپ کے جسم کا ڈھانچہ ہے۔

اگر ہم زمین پر لاکھوں سالوں کے ارتقاء کا نتیجہ ہوتے، تو ہمارا جسم زمین کی کششِ ثقل (Gravity) کے ساتھ مکمل ہم آہنگ (Compatible) ہونا چاہیے تھا۔

لیکن حقیقت کیا ہے؟

1-کمر درد کی عالمی وباء (The Back Pain Epidemic):

دنیا کا شاید ہی کوئی انسان ہو جسے زندگی میں کبھی نہ کبھی کمر درد، گھٹنوں کے درد یا مہروں کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور کہتے ہیں کہ یہ درد اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان ایک ایسے سیارے پر ارتقاء پذیر ہوا (یا ڈیزائن کیا گیا) جہاں کششِ ثقل زمین سے کم تھی۔

ہم زمین پر سیدھے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن زمین کی کشش ہمیں نیچے کھینچ رہی ہے۔ ہمارا ریڑھ کی ہڈی کا نظام (Spinal Column) زمین کی 1G فورس کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا اصل گھر ایک "کم کشش والا سیارہ" (Lower Gravity Planet) یا ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہمارے جسموں پر مادی بوجھ نہیں تھا۔

2- ویریکوز وینز اور دورانِ خون:

انسانوں میں ویریکوز وینز (پاؤں کی رگوں کا پھولنا) ایک عام بیماری ہے، جو کسی اور جانور میں نہیں پائی جاتی۔

کیوں؟

کیونکہ ہمارا دورانِ خون کا نظام زمین کے بھاری پن کے خلاف خون کو واپس دل تک پمپ کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔

یہ "ڈیزائن فالٹ" نہیں ہے، یہ "Wrong Planet Syndrome" ہے۔

مذہبی تصدیق:

اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا اصل گھر "جنت" ہے۔ اور جنت کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، وہاں ہمارے جسم کثیف (مادی بوجھل) نہیں ہوں گے، بلکہ لطیف اور نورانی ہوں گے۔ وہاں کششِ ثقل کا یہ جبر نہیں ہوگا جو ہمیں زمین پر تھکا دیتا ہے۔ ہماری کمر کا درد دراصل ہماری روح کی اس یادداشت کا درد ہے جو "ہلکے پھلکے وجود" کی عادی تھی۔

زمین پر موجود ہر جانور, چاہے وہ چھپکلی ہو، کتا ہو یا پرندہ, سورج کی روشنی میں گھنٹوں رہ سکتا ہے اور اسے کچھ نہیں ہوتا۔

لیکن انسان؟

ہم زمین کے "بادشاہ" ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ہم اپنے ہی سیارے کے سورج کے سامنے چند گھنٹے بھی ننگے جسم نہیں بیٹھ سکتے۔

1- سن برن اور سکن کینسر:

اگر ہم یہیں پیدا ہوئے ہوتے، تو لاکھوں سالوں میں ہماری جلد کو سورج کی الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کے خلاف مکمل مدافعت پیدا کر لینی چاہیے تھی۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ہمیں سن بلاک چاہیے، ہمیں کپڑے چاہئیں، ہمیں چھاؤں چاہیے۔

ڈاکٹر ایلس سلور کا دعویٰ ہے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان جس جگہ سے آیا ہے، وہاں سورج اتنا تیز نہیں تھا، یا وہاں کی فضا ایسی تھی جو مضر شعاعوں کو مکمل روکتی تھی۔

2- آنکھوں کی حساسیت:

انسان کی آنکھیں سورج کی تیز روشنی برداشت نہیں کر سکتیں، جبکہ زمین کے دیگر جانور (جیسے عقاب) سیدھا سورج کو دیکھ سکتے ہیں۔

ہم اس ستارے (Sun) کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوئے۔

مذہبی تصدیق:

قرآن مجید میں جنت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"لَا یَرَوْنَ فِیهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِیرًا"

(وہاں وہ نہ دھوپ (کی تپش) دیکھیں گے اور نہ سخت سردی)۔ [الانسان: 13]

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ ہمارا "اوریجنل ہیبی ٹیٹ" (Original Habitat) ایک ایسی جگہ ہے جہاں روشنی تو ہے، مگر "جلانے والی دھوپ" نہیں۔ ہماری جلد آج بھی اسی "نورانی ماحول" کی متلاشی ہے، اسی لیے یہ زمین کا سورج اسے جلا دیتا ہے۔

یہ سب سے زیادہ ٹھوس سائنسی ثبوت ہے۔

زمین اپنے محور پر 24 گھنٹے میں چکر پورا کرتی ہے۔ یہاں رہنے والے تمام جانوروں اور پودوں کی "حیاتیاتی گھڑی" (Circadian Rhythm) 24 گھنٹے پر سیٹ ہے۔

لیکن انسان؟

جب انسانوں کو غاروں یا بنکرز میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی نہیں تھی (Isolation Experiments)، تو حیرت انگیز طور پر انسانی جسم نے قدرتی طور پر 25 گھنٹے کا سائیکل اپنا لیا۔

یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟

یہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ہمارے اجداد (آدمؑ اور ان کی نسل) کسی ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں دن کا دورانیہ زمین سے مختلف تھا۔

ہمارا جسم آج بھی اسی "کائناتی گھڑی" پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن زمین زبردستی اسے 24 گھنٹے کے چکر میں گھسیٹ رہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انسان ہمیشہ "تھکا ہوا" اور "وقت کی کمی" کا شکار رہتا ہے۔

ہم اس سیارے کے وقت (Time Zone) کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔

زمین پر موجود تمام جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہی چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ بکری کا بچہ منٹوں میں کھڑا ہو جاتا ہے۔

لیکن انسان کا بچہ؟ وہ سالوں تک بے بس، لاچار اور محتاج رہتا ہے۔

سائنسدان اسے "The Obstetric Dilemma" کہتے ہیں۔

انسان کا سر (Brain Size) اتنا بڑا ہے کہ وہ پیدائش کے راستے (Birth Canal) سے گزرتے ہوئے ماں اور بچے دونوں کی جان لے سکتا ہے۔ اسی لیے قدرت کو انسانی بچے کو "وقت سے پہلے" (Premature) پیدا کرنا پڑتا ہے تاکہ اس کا سر مزید بڑا نہ ہو جائے۔

ڈاکٹر ایلس کا دعویٰ:

یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انسانی سر (جو ہماری اجنبی ذہانت کا مرکز ہے) اس سیارے کے ارتقاء کا حصہ نہیں ہے۔

ہم ایک "بڑے دماغ والی مخلوق" ہیں جسے ایک ایسے سیارے پر زبردستی اتارا گیا ہے جہاں کی حیاتیات اتنے بڑے سر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

کچھ مذہبی دلائل کی روشنی میں سامنے آیا ہے کہ یہ تکلیف، یہ زچگی کا درد، دراصل "سزا" کا حصہ ہے۔ بائبل اور اسلامی روایات میں اشارہ ملتا ہے کہ جنت سے نکالے جانے کے بعد حواؑ (عورت) پر "حمل اور جنم کی تکلیف" بڑھا دی گئی۔ یہ تکلیف زمین پر ہمارے "جلاوطن" ہونے کی قیمت ہے۔ جانوروں کو یہ تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ وہ یہیں کے ہیں؛ ہم "باہر" کے ہیں، اس لیے ہمارا "ہارڈ ویئر" یہاں فٹ نہیں بیٹھ رہا۔ واللہ عالم بلصواب!

آپ نے کبھی غور کیا کہ جنگلی جانور ش*ذ و نادر ہی بیمار ہوتے ہیں؟

وہ گندا پانی پیتے ہیں، کچا گوشت کھاتے ہیں، اور فٹ رہتے ہیں۔

لیکن انسان؟

ہم ابال کر پیتے ہیں، پکا کر کھاتے ہیں، دھو کر پہنتے ہیں، پھر بھی ہمیں ہزاروں بیماریاں لاحق ہیں۔ نزلہ، زکام، الرجی، معدے کے مسائل... فہرست لامتناہی ہے۔

ڈاکٹر سلور کہتے ہیں:

"ایسا لگتا ہے کہ ہم سب یہاں ’ٹرمینلی اِل‘ (Terminally Ill) ہیں۔"

ہماری غذائی نالی (Digestive System) زمین کی قدرتی خوراک (کچی سبزیاں اور گوشت) کو ہضم کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ ہمیں اسے "پکانا" (Process) پڑتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا معدہ "جنت کے لطیف پھلوں" اور "پاکیزہ مشروبات" کا عادی تھا، زمین کی کثیف غذا اس کے لیے "زہر" ہے۔

یہ میرا ذاتی اور سب سے مضبوط فلسفیانہ اور مذہبی نکتہ ہے۔

زمین پر لاکھوں اقسام کے جانور ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی, جی ہاں، ایک بھی ایسا نہیں ہے جسے "ننگا" رہنے میں شرم محسوس ہو یا جو اپنا جسم ڈھانپنے کی کوشش کرے۔ سوائے انسان کے۔

کیوں؟

اگر ہم بندر سے ارتقاء پاتے، تو ہمیں بھی ننگا رہنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

یہ "شرم" اور "حیا" کا مادہ کہاں سے آیا؟

قرآنی دلیل:

قرآن بتاتا ہے کہ جب آدمؑ اور حواؑ نے ممنوعہ درخت کا پھل کھایا، تو:

"بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ"

(ان کے ستر ایک دوسرے پر کھل گئے اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنے لگے)۔ [طٰہٰ: 121]

یہ "کپڑے پہننے کی جبلت" زمین کی نہیں ہے۔ یہ اس "لباسِ جنت" کے چھن جانے کا صدمہ ہے جو ہمارے ڈی این اے میں محفوظ ہے۔

ہم واحد مخلوق ہیں جو کپڑے پہنتے ہیں کیونکہ ہم واحد مخلوق ہیں جو اپنی "اصلی حالت" (Original State) سے محروم ہوئے ہیں۔

جانور یہیں کے ہیں، وہ جیسے ہیں ٹھیک ہیں؛ ہم "بادشاہ" تھے جن کے "شاہی لبادے" اتروا دیے گئے، اور اب ہم زمین کے چتھڑوں (کپاس، اون) سے اس شرم کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انسان کی نفسیات کا سب سے بڑا معمہ اس کی "دائمی عدم اطمینان" ہے۔

آپ اسے دنیا کی ہر نعمت دے دیں, محل، گاڑیاں، سونا، حوریں, وہ کچھ عرصے بعد بور ہو جائے گا اور کہے گا "کچھ اور چاہیے"۔

کوئی جانور ایسا نہیں کرتا۔ شیر کا پیٹ بھر جائے تو وہ مطمئن ہے۔

انسان مطمئن کیوں نہیں ہوتا؟

کیونکہ انسان کے لاشعور (Subconscious) میں "کمال" (Perfection) کا ایک معیار موجود ہے۔

ہم نے ایک ایسی جگہ (جنت) دیکھی ہے جہاں کوئی دکھ نہیں تھا، کوئی موت نہیں تھی، کوئی بوریت نہیں تھی۔

ہم اس دنیا میں "کمال" ڈھونڈ رہے ہیں، جو یہاں موجود ہی نہیں ہے۔ ہمارا ڈپریشن، ہماری خودکشیاں، ہماری بے چینی... یہ سب "Homesickness" (گھر کی یاد) ہے۔

ہم ایک ایسے مسافر ہیں جو صحرا میں "سمندر" ڈھونڈ رہا ہے۔

روح کا ٹوٹا ہوا کنکشن:

جیسا کہ پچھلے بلاگ میں ذکر ہوا، ہماری روح عالمِ ارواح سے آئی ہے۔ یہ اس مادی دنیا میں "پردیسی" ہے۔

یہ جو ہمیں ستاروں کو دیکھ کر اداسی ہوتی ہے، یہ جو ہمیں نامعلوم کی تلاش رہتی ہے، یہ سب اس بات کی گواہی ہے کہ We don't belong here.

قرآن نے انسان کے زمین پر آنے کے لیے لفظ "اِهْبِطُوا" (نیچے اتر جاؤ) استعمال کیا۔

یہ لفظ ظاہر کرتا ہے کہ انسان زمین پر "پیدا" نہیں ہوا، بلکہ کہیں اوپر سے "اتارا" گیا ہے۔

سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور کا نظریہ ہے کہ شاید انسانوں کو کسی اور سیارے سے یہاں بطور "قیدی" لا کر پھینکا گیا کیونکہ ہم ایک پرتشدد مخلوق تھے۔

لیکن اسلام اس کی تصحیح کرتا ہے۔ ہم قیدی تو ہیں، مگر "امتحان" کے قیدی۔ زمین ہمارا "جیل خانہ" (Prison Planet) بھی ہے اور "امتحان گاہ" بھی۔

مومن کے لیے یہ دنیا "قید خانہ" ہے (الدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ)۔

یہ حدیث ڈاکٹر ایلس کی تھیوری کی سب سے بڑی تصدیق ہے۔

اگر ہم یہیں کے ہوتے، تو یہ جگہ ہمارے لیے "گھر" ہوتی، قید خانہ نہ ہوتی۔ قید خانہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں آپ کی طبیعت کے خلاف ماحول ہو۔ اور زمین کا ماحول (کشش، دھوپ، جراثیم) ہماری طبیعت کے خلاف ہے۔

تو میرے دوستو!

یہ تمام سائنسی، حیاتیاتی اور نفسیاتی شواہد ایک ہی تصویر پیش کرتے ہیں:

ہم خلائی مخلوق (Aliens) ہیں۔

ہم اس زمین کے نہیں ہیں۔ ہم یہاں "پناہ گزین" ہیں۔ ہماری کمر کا درد، ہماری جلد کا جلنا، ہماری نیند کا خراب ہونا، اور ہمارے دل کا خالی پن... یہ سب گواہیاں ہیں کہ ہم ایک "کھوئی ہوئی جنت" کی اولاد ہیں۔

یہ مان لینا کہ ہم زمین سے نہیں ہیں، مایوسی کی بات نہیں بلکہ "امید" کی بات ہے۔

کیونکہ اگر ہم یہاں کے نہیں ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا "اصل گھر" کہیں اور موجود ہے، جہاں نہ کمر دکھے گی، نہ دھوپ جلائے گی، اور نہ دل اداس ہوگا۔

سائنس اب گھٹنوں کے بل چلتے چلتے اسی حقیقت تک پہنچ رہی ہے جسے وحی نے صدیوں پہلے بیان کر دیا تھا۔

ہمیں زمین کو سنوارنا ہے، لیکن دل اس سے نہیں لگانا۔ کیونکہ مسافر سرائے کو سجاتے نہیں، وہاں رات گزار کر اگلی منزل (واپسی) کی تیاری کرتے ہیں۔

نوٹ: بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل کی وجہ سے ویڈیو کے سلسلے میں تاخیر ہورہی ہے, اگر آج گیارہ بجے تک ویڈیو نا اپلوڈ ہوسکی تو ان شاء اللہ کل رات 8 بجے سیریز کی پہلی ویڈیو "قسط زیرو" اپلوڈ ہوجائے گی۔ احباب سے اس تکلیف کے لیے معذرت کا طلبگار ہوں۔



#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

ازل کی یادداشت، کوانٹم اینٹینگلمنٹ اور ’پہلی نظر کا پیار‘: آدمؑ سے آج تک ہمارے ڈی این اے میں چھپا ’کائنات کوڈ‘! -کبھی آپ...
12/12/2025

ازل کی یادداشت، کوانٹم اینٹینگلمنٹ اور ’پہلی نظر کا پیار‘: آدمؑ سے آج تک ہمارے ڈی این اے میں چھپا ’کائنات کوڈ‘! -

کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی بھیڑ میں کھڑے ہوں، ہزاروں چہرے آپ کے پاس سے گزر رہے ہوں، اور اچانک آپ کی نظر ایک اجنبی چہرے پر ٹھہر جائ

آپ نے اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا، آپ اس کا نام نہیں جانتے، مگر آپ کا دل ایک عجیب سی ’دھک‘ (Frequency Skip) کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ

"میں اسے جانتا ہوں!"

یہ کیا ہے؟

سائنس اسے Déjà vu کہتی ہے،
شاعر اسے "پہلی نظر کا پیار" کہتے ہیں،
اور نفسیات اسے "لا شعوری کشش" کہتی ہے۔

مگر میں، آج آپ کو بتانے جا رہا ہوں کہ یہ نہ شاعری ہے اور نہ اتفاق۔

یہ "کوانٹم فزکس" ہے۔
یہ "ریاضی کی ایک مساوات" (Equation) ہے جو حل ہو گئی ہے۔
اور یہ آپ کے خون میں دوڑتے ہوئے خلیات کی "ایپی جینیٹک یادداشت" ہے جو چیخ کر کہہ رہی ہے کہ یہ ملاقات پہلی بار نہیں ہو رہی۔

ہم سب سمجھتے ہیں کہ ہماری کہانی ماں کے پیٹ سے شروع ہوئی، مگر جدید سائنس (کوانٹم میکانکس) اور قدیم اسلام (عالمِ ارواح) دونوں متفق ہیں کہ ہماری کہانی کا آغاز زمان و مکان (Space-Time) کی پیدائش سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔

آج ہم اس "ٹوٹے ہوئے کنکشن" (Broken Connection) کو جوڑیں گے اور ثابت کریں گے کہ آپ کا کسی کو دیکھ کر اچھا یا برا محسوس کرنا (Vibes) دراصل ایک "کائناتی ڈیٹا ٹرانسفر" ہے۔

سب سے پہلے ہمیں "روح" کی سائنسی تعریف سمجھنی ہوگی۔

کوانٹم فزکس کے مطابق، کائنات کی ہر چیز "توانائی" (Energy) ہے۔ اور توانائی کبھی فنا نہیں ہوتی۔

کوانٹم فزکس کا ایک بنیادی اور سب سے حیران کن اصول ہے:
"Quantum Entanglement"

یہ اصول کہتا ہے کہ "اگر دو ذرات (Particles) کبھی ایک بار آپس میں جڑ جائیں یا ایک ہی منبع (Source) سے پیدا ہوں، تو وہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں (Entangled)۔

اگر آپ ان دونوں کو کائنات کے دو الگ الگ کونوں میں بھی پھینک دیں، تو ایک ذرے میں ہونے والی تبدیلی فوری طور پر دوسرے ذرے میں بھی ہوگی، چاہے ان کے درمیان کروڑوں نوری سال کا فاصلہ کیوں نہ ہو۔"

حدیثِ نبویﷺ ہے:

اسلامی کنکشن:

"الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ..."

(روحیں اکٹھے کیے ہوئے لشکر ہیں، جو وہاں (عالمِ ارواح میں) ایک دوسرے کو پہچانتے تھے، وہ یہاں (دنیا میں) بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتے ہیں، اور جو وہاں اجنبی تھے، وہ یہاں بھی اجنبی رہتے ہیں)۔ [صحیح مسلم]

یہ حدیث دراصل "کوانٹم اینٹینگلمنٹ" کا بیان ہے۔

جب اللہ نے تمام روحوں کو پیدا کیا (عالمِ ارواح)، تو ہم سب ایک ہی "منبع" سے نکلے تھے۔

وہاں جو روحیں ایک دوسرے کے قریب تھیں، جن کی "فریکوئنسی" (Frequency) میچ کر گئی تھی، وہ آپس میں "اینٹنگلڈ" (Entangled) ہو گئیں۔

آج دنیا میں، جب آپ کسی سے ملتے ہیں اور آپ کو فوراً اپنائیت محسوس ہوتی ہے، تو یہ کوئی جادو نہیں ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جب آپ کے "کوانٹم پارٹیکلز" اپنے پرانے ساتھی کو پہچان لیتے ہیں۔

آپ کا جسم (ہارڈ ویئر) نیا ہے، لیکن آپ کے اندر کی انرجی (سافٹ ویئر) اسی پرانے سرور (Server) سے کنیکٹڈ ہے۔

(Genetic Singularity) اور فریکٹل جیومیٹری
ریاضی میں ایک تصور ہے "Fractals" کا۔

فریکٹل ایک ایسی شکل ہے جس کا ہر چھوٹا حصہ، مکمل شکل کی ہو بہ ہو نقل ہوتا ہے۔

حضرت آدمؑ اور اماں حواؑ انسانیت کی "Singularity" (وحدانیت) ہیں۔ ہم سب انہی کے "فریکٹلز" ہیں۔

سائنس کہتی ہے کہ تمام انسانوں کا ڈی این اے 99.9% ایک جیسا ہے۔ یہ 0.1% کا فرق محض ظاہری ہے۔

Mitochondrial Eve اور Y-Chromosomal Adam کے سائنسی نظریات ثابت کرتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت کی اولاد ہیں۔

ایپی جینیٹکس اور جنت کی یادداشت:

ایپی جینیٹکس کہتی ہے کہ ماحول اور تجربات جینز پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

آدمؑ اور حواؑ نے جنت میں وقت گزارا۔ ان کے ڈی این اے نے "جنت کے ماحول"، "سکون"، اور "اللہ کے قرب" کو ریکارڈ کیا۔

جب انہیں زمین پر بھیجا گیا، تو ان کے ڈی این اے نے "جدائی" (Separation) اور "فراق" کے صدمے کو بھی ریکارڈ کیا۔

آج، ہزاروں سال بعد، ہمارے ڈی این اے میں دو متضاد یادداشتیں موجود ہیں:

جنت کی یاد (Cellular Nostalgia): اسی لیے ہمیں خوبصورت باغات، ندیاں اور سکون اچھا لگتا ہے۔ یہ ہماری "جینیاتی گھر کی یاد" ہے۔

جدائی کا غم: ہر انسان کے اندر ایک نامعلوم اداسی ہے، ایک خالی پن ہے۔ صوفیاء اسے "نیستاں سے بچھڑنے کا غم" کہتے ہیں۔

سائنس اسے "جینیاتی میموری" کہتی ہے۔ ہم اس "کامل کنکشن" کو ڈھونڈ رہے ہیں جو جنت میں ٹوٹ گیا تھا۔

آپ کسی کو دیکھتے ہیں اور آپ کو "منفی وائبز" (Negative Vibes) آتی ہیں، حالانکہ اس نے کچھ کہا بھی نہیں ہوتا۔

کیوں؟

اس کا جواب "Quantum Field Theory" اور "Resonance" میں ہے۔

انسان صرف گوشت کا لوتھڑا نہیں ہے؛ انسان ایک "Bio-Electromagnetic Field" (حیاتیاتی مقناطیسی میدان) ہے۔

ہمارا دل جسم کا سب سے بڑا جنریٹر ہے جو 5 فٹ کے دائرے تک اپنا الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ پھیلاتا ہے۔

جب دو انسان قریب آتے ہیں، تو ان کے یہ فیلڈز آپس میں ٹکراتے ہیں۔

مثبت ٹکراؤ (Constructive Interference): اگر دونوں کی فریکوئنسی (سوچ اور روح کا معیار) ایک جیسی ہو، تو لہریں مل کر ایک بڑی لہر بناتی ہیں۔ آپ کو "انرجی" محسوس ہوتی ہے۔ یہ دوستی اور محبت ہے۔

* منفی ٹکراؤ (Destructive Interference): اگر ایک شخص کی فریکوئنسی "حسد/غصے" (Low Vibration) کی ہے اور دوسرے کی "سکون" (High Vibration) کی، تو لہریں ایک دوسرے کو کینسل کرتی ہیں۔ آپ کو گھٹن، بے چینی اور نفرت محسوس ہوتی ہے۔

حدیث کا سائنسی ثبوت:

حدیث ہے: "مومن، مومن کا آئینہ ہے۔"

سائنس میں اسے "Mirror Neurons" اور "Sympathetic Resonance" کہتے ہیں۔ ایک نیک روح (ہائی فریکوئنسی) دوسری نیک روح کو فوراً "ڈی کوڈ" کر لیتی ہے۔

اسی لیے اولیاء اللہ و صدیقین اور علماء حق کے پاس بیٹھ کر سکون ملتا ہے، کیونکہ ان کا "فیلڈ" اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہ آپ کے بکھرے ہوئے الیکٹرانز کو "الائن" (Align) کر دیتا ہے۔

ہم خوبصورتی کی طرف کیوں کھنچتے ہیں؟
ہم کسی کو دیکھ کر کیوں کہتے ہیں کہ یہ "پرفیکٹ" ہے؟

یہ ریاضی (Mathematics) ہے۔

کائنات کی ہر چیز، کہکشاؤں سے لے کر ڈی این اے کے اسٹرکچر تک، اور پھولوں کی پتیوں سے لے کر انسانی چہرے تک، ایک خاص تناسب پر بنی ہے جسے "Golden Ratio" (1.618 / Phi) کہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے کائنات کو "حساب" (Math) سے بنایا ہے۔

جب ہم کسی ایسے چہرے یا انسان کو دیکھتے ہیں جو اس "فطری تناسب" (Divine Proportion) کے قریب ہوتا ہے، تو ہمارا دماغ اسے فوراً "خوبصورت" تسلیم کرتا ہے کیونکہ وہ ہمارے ڈی این اے میں موجود "کائناتی نقشے" سے میچ کر رہا ہوتا ہے۔

محبت اندھی نہیں ہوتی؛ محبت دراصل "Subconscious Mathematical Calculation" (لاشعوری حسابی عمل) ہے۔

آپ کا دماغ ملی سیکنڈز میں سامنے والے کے جینز، اس کی صحت، اور اس کی روحانیت کو کیلکولیٹ کر کے فیصلہ کرتا ہے کہ

"یہ وہی ہے!"

اب آتے ہیں سوال کے اس حصے پر کہ یہ کنکشن ٹوٹا کیسے اور جڑ کیسے سکتا ہے؟

جب انسان گناہ کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، یا حرام کھاتا ہے، تو وہ اپنی "Vibrational Frequency" کو گرا دیتا ہے۔

کوانٹم کیمسٹری کہتی ہے کہ الیکٹرانز نیوکلیئس کے گرد مخصوص مداروں (Orbits) میں گھومتے ہیں۔

جب انہیں انرجی (نور) ملتی ہے، تو وہ "اوپر والے مدار" (Higher State) میں چلے جاتے ہیں۔

جب وہ انرجی کھوتے ہیں، تو نیچے گر جاتے ہیں۔
گناہ اور غفلت ہمارے "روحانی الیکٹرانز" کو نچلے مدار میں گرا دیتی ہے۔

ہمارا "عالمِ ارواح" والا اینٹینا سگنل پکڑنا بند کر دیتا ہے۔ ہم "ڈسکنیکٹڈ" (Disconnected) ہو جاتے ہیں۔ ہم ڈپریشن، تنہائی اور بے مقصدیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بحالی کا طریقہ (Reconnection Protocol):

جیسا کہ پچھلی تحاریر میں ذکر ہوا، عبادت اور ریاضت۔

جب ایک انسان ذکر (Vibration) کرتا ہے، تو وہ مخصوص صوتی لہریں (Sound Waves) پیدا کرتا ہے۔ یہ لہریں اس کے خلیات میں پانی کے مالیکیولز کو ترتیب دیتی ہیں (Cymatics)۔

جب وہ دو سے سات سال تک مسلسل یہ عمل کرتا ہے، تو وہ اپنی فریکوئنسی کو واپس اسی "عالمِ ارواح" والی سطح پر ٹیون (Tune) کر لیتا ہے۔

اس کا ڈی این اے "اوپن" ہو جاتا ہے۔
اس کا "پینیل گلینڈ" (Pineal Gland / Third Eye) ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے۔
اسے "سچے خواب" (True Dreams) آنے لگتے ہیں (جو کہ کوانٹم نان لوکیلٹی کا ثبوت ہے)۔
وہ وقت اور مکان (Time and Space) کی قید سے آزاد ہو کر چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے (کشف)۔

کیا ہم سب ایک ہی ’نور‘ کی بکھری ہوئی کرنیں ہیں؟

اس طویل سائنسی اور روحانی سفر کا نچوڑ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی تنہا نہیں ہے۔

کوانٹم فزکس کہتی ہے کہ ہم سب ایک "یونیفائیڈ فیلڈ" (Unified Field) کا حصہ ہیں۔

ایپی جینیٹکس کہتی ہے کہ ہم سب آدمؑ کی یادداشت کے امین ہیں۔

اسلام کہتا ہے کہ ہم سب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

وہ جو آپ کو پہلی نظر میں پیارا لگا تھا، وہ اتفاق نہیں تھا؛ وہ آپ کی روح کی قدیم یادداشت تھی جس نے ہزاروں سال بعد اپنے ساتھی کو پہچان لیا تھا۔ وہ جو آپ کو کسی سے مل کر گھٹن ہوئی تھی، وہ آپ کے "نور" کا "ظلمت" سے ٹکراؤ تھا۔

یہ کائنات ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس ہے، اور ہمارا دل اس کا "ریسیور"۔ اگر ہم اپنے ریسیور کو گناہوں کے "شور" (Noise) سے پاک کر لیں، اور اسے عبادت کی "فریکوئنسی" پر سیٹ کر لیں، تو ہم آج بھی اسی "عالمِ ارواح" کی لائیو ٹرانسمیشن سن سکتے ہیں جہاں سے ہم آئے تھے۔

آدمؑ سے لے کر آج تک، کہانی صرف ایک ہی ہے:

بلال شوکت آ زاد
"بچھڑنا، تڑپنا، اور پھر سے جڑ جانا۔"

21/03/2025
Eid Holidays Mon-Wed 31-2 Apil 2025,          #2025
19/03/2025

Eid Holidays Mon-Wed 31-2 Apil 2025, #2025

Eid Holidays (Monday to Wednesday) 31st March till 2nd April. Inshallah
19/03/2025

Eid Holidays (Monday to Wednesday) 31st March till 2nd April. Inshallah

16/03/2025

اللّٰہ تعالیٰ اس رمضان کی برکت سے ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں ہدایت یافتہ حکمران نصیب کرے
آمین

23/01/2025

قرآن کے ایک تو الفاظ ہیں۔ ترجمہ اور معنی ہیں۔ پھر ان معنی کے معنی ہیں۔ اسی طرح تہ در تہ سات معنی تک یہ سلسلہ ہے۔ اُن معانی کے کچھ مرتبوں تک فہم و فراست کے تفاوت کے اعتبار سے مجہتدین اور علماء کی پہنچ ہے اور کچھ مراتب سے صرف اہل اللّٰه کا تعلق ہے۔ یہ واضح رہے کہ اسرار کے بیان میں وہی معنی معتبر ہوں گے جو الفاظ قرآنی اور ظاہر کے خلاف نہ ہوں۔ حضرت علی کرم اللّٰه وجہہ الکریم علیہ السلام ایسے اسرار تک پہنچ جاتے تھے کہ دوسرے صحابہ اُن میں حیران ہو جاتے تھے۔ معنی کی اس تہ میں سب کی عقلیں گم ہو جاتی تھیں۔ قرآن کی چوتھی منزل کے آگے کا باطن سوائے خدائے لا شریک کے کسی نے نہیں دیکھا۔ اے دوستو ! صرف قرآن کے الفاظ ہی کو نہ دیکھو بلکہ اُس کے تہ در تہ معانی کی طرف اپنی توجہ کرو۔ محض ظاہر پر نظر کرنا شیطانی کام ہے جیسا کہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کے صرف ظاہری جسم کو دیکھا۔
قرآن کے الفاظ کی مثال اور اُن میں پوشیدہ معنی کی مثال انسان کی صورت اور اُس کے باطنی اور روحانی اوصاف کی سی سمجھو۔ ایک انسان خواہ کتنا بھی قریبی عزیز ہو تم اُس کے باطنی اوصاف سے غافل رہتے ہو۔ باوجود قرب کے انسان کے باطنی احوال عوام سے پوشیدہ رہتے ہیں تو یہ نہ سمجھو کہ اولیاءاللّٰه اپنے آپ کو چھپانے کے لئے جنگلوں اور پہاڑوں میں چلے جاتے ہیں۔ بزرگوں کی خلوت نشینی اپنے آپ کو چھپانے کے لئے نہیں ہے۔ اُن کے اوصاف تو بہر حال عوام سے چھپے رہتے ہیں بلکہ یہ لوگوں کو ترک دنیا کی تعلیم دینے کے لئے ہوتے ہیں۔ اولیاءاللّٰه عوام میں رہتے ہوئے بھی اُن سے سو پہاڑوں کی بلندی پر ہیں۔ اُن کے اوصاف تک لوگوں کی پہنچ کہاں ہے۔ اُن کو چھپنے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ باطنی طور پر عوام سے بہت دور ہوتے ہیں۔ اگر عام آدمیوں کے اوصاف تک پہنچنا دشوار ہے تو حضرت آدم علیہ السلام کے اوصاف تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے۔
اولیاءاللّٰه اور اُن کے کلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پھونک مارنا سمجھو جو بظاہر تو معمولی چیزیں تھیں لیکن اُن کے باطنی کمال و اوصاف حیرت انگیز تھے۔ حدیث شریف میں ہے کہ تمام بنی آدم کے قلوب ایک قلب کی طرح اللّٰه تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ ان کو جس طرح چاہتا ہے پلٹتا ہے "۔ یعنی جس طرح عصاء موسیٰ علیہ السلام اور دَم عیسٰی علیہ السلام میں حضرت حق تعالیٰ کے خاص تصرفات ہیں۔ اُسی طرح مومن کے دل پر بھی حضرت حق تعالی کے خصوصی تصرفات ہوتے ہیں۔ اُن کے باطنی اوصاف ایسے ہیں کہ اُن کی گرد بھی آنکھوں کو روشن کر دیتی ہے اور اُن کی ہمت مردانہ پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قدموں سے کوہ طور رقص کرنے لگا۔ حضرت داؤد کے بارے میں پہاڑوں اور پرندوں کو حکم ہوا تھا کہ وہ اُن کے ہم نغمہ بن جائیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور پہاڑ اللّٰه کے عشق میں ہم نغمہ بن گئے تھے۔
اللّٰه تعالی نے حضرت داؤد علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ تو میرے فراق میں مبتلا ہے اور دوستوں سے جدا ہے۔ فراق کا غم فرو کرنے کے لئے محفل اور قوالوں کی ضرورت ہوتی ہے لہذا میں پہاڑوں میں یہ کیفیت پیدا کر دیتا ہوں تاکہ تو سمجھ لے کہ جب پہاڑ کا نالہ بغیر ہونٹ اور منہ کے ہو سکتا ہے تو ولی کے نالے بھی بغیر لب و دنداں ہو سکتے ہیں۔ اولیاءاللّٰه کے دل کے نالوں کو ان کے کان سنتے ہیں تم نہیں سن سکتے لیکن اگر اُن کی اس کیفیت پر یقین کر لو تو تمہاری سعادت ہے۔ اولیاءاللّٰه کے روحانی مکالمات جاری رہتے ہیں اور پاس بیٹھنے والے اُن سے بے خبر رہتے ہیں۔ روحانی مکالمہ حِسّی کانوں سے نہیں سنا جا سکتا۔ عوام روحانی مکالموں سے بہرے ہیں۔ اولیاءاللّٰه سے اعتقاد اچھا رکھنے سے ہو سکتا ہے کبھی سننے کے قابل ہو جائیں۔

05/01/2025

‏کلاس روم میں بھری ہوئی نشستوں کے درمیان، ڈاکٹر نے ایک چیلنجنگ سوال پیش کیا، اور مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
- "کیا اللہ نے وہ سب کچھ پیدا کیا ہے جو موجود ہے؟"
- ایک طالب علم نے اعتماد سے جواب دیا: "ہاں، اُس نے کیا۔"
- "کیا ہر چیز؟"
- "ہاں، ہر چیز۔"
ڈاکٹر نے خوشی کے ساتھ کہا: "تو پھر، اللہ نے شر بھی پیدا کیا ہے، کیا نہیں؟ کیونکہ شیطان بھی موجود ہے!"
کلاس میں ایک لمحے کی خاموشی چھا گئی، کیونکہ وہ طالب علم جس نے جواب دیا تھا، اُس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
لیکن اچانک، ایک اور طالب علم نے اعتماد کے ساتھ ہاتھ اٹھایا اور کہا:
- "کیا میں سوال پوچھ سکتا ہوں، ڈاکٹر؟"
- "بالکل، پوچھیں۔"
- "کیا سردی موجود ہے؟"
- "یقیناً، آپ نے کبھی سردی محسوس نہیں کی؟"
طالب علم مسکراتے ہوئے کہا: "در حقیقت، سردی موجود نہیں ہے۔ فزکس کے مطابق، سردی دراصل حرارت کا نہ ہونا ہے۔ ہم نے سردی کا لفظ اس لیے ایجاد کیا ہے تاکہ ہم حرارت کی کمی کو بیان کر سکیں۔"
پھر طالب علم نے سوال کیا:
- "اور تاریکی؟"
ڈاکٹر نے تھوڑا سا بے چین ہو کر جواب دیا: "یہ موجود ہے۔"
طالب علم پھر مسکرا کر کہا: "دوبارہ، آپ غلط ہیں۔ تاریکی بھی موجود نہیں ہے۔ تاریکی دراصل روشنی کا نہ ہونا ہے۔ ہم نے تاریکی کا لفظ اس لیے استعمال کیا تاکہ روشنی کی کمی کو بیان کیا جا سکے۔"
پھر طالب علم نے اپنا آخری سوال کیا:
- "اور شر، ڈاکٹر؟ کیا وہ موجود ہے؟"
ڈاکٹر کو جواب دینے میں مشکل پیش آئی۔
طالب علم نے سنجیدگی سے کہا: "اللہ نے شر پیدا نہیں کیا۔ شر دراصل اللہ کا دلوں سے غائب ہونا ہے، محبت، انسانیت اور ایمان کا فقدان ہے۔ محبت اور ایمان بالکل حرارت اور روشنی کی طرح ہیں، جب یہ موجود ہوں تو زندگی روشن ہوتی ہے، اور جب یہ غائب ہو جائیں تو زندگی تاریک ہو جاتی ہے۔"
کلاس روم میں ایک گہری خاموشی چھا گئی، اور ڈاکٹر نے اس مشکل سوال کے سامنے ہار مانتے ہوئے معذرت کا اختتام کیا، اپنے اندر ایک شکست کا احساس رکھتے ہوئے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ شر دراصل اچھائی کا نہ ہونا ہے، اور ایمان وہ روشنی ہے جو ہماری زندگی کو روشن کرتی ہے۔

18/11/2024

تمھارا یقین تمھیں کہاں سے کہاں تک لے جا سکتا ہے

اگر تمھیں اس بات کا زرا سا بھی علم ہو جائے تو تم کبھی بھی مایوس نہ ہو۔ تم کبھی اپنے سے پچھلی کہانیوں کو پڑھ کر دیکھنا کہ جتنی بھی کہانیاں مکمل ہوئی ہیں وہ یقین رکھنے والوں کی ہی ہیں ۔ صبر کرنے والوں کے یقین پختہ ہوتے ہیں.

یقین وہ ہوتا ہے جب تم خود کو یہ سمجھا لیتے ہو کہ اللہ جو بھی فیصلہ کرے گا وہ بہترین ہوگا ۔ گھبرانا نہیں ہے تم نے تمہارے لیے جلد ہی تمھارے صبر کے بدلے میں معجزے ہونگے اور جلد ہی اتنا دے دیا جائے گا کہ تمہارا دل مطمئن ہو جائے گا ۔

یقین رکھو جو ابھی تک سنبھالتا آیا ہے وہ آگے بھی سنبھال لے گا
جو اب تک نواز تا آیا ہے وہ آگے بھی یقینا نوازے گا ۔

بس ڈرو نہیں تم تک وہی لایا جاتا ہے جس کا ہونا بہتر ہوتا ہے ۔ اس وقت تم جان نہیں پاتے لیکن آہستہ آہستہ وقت سب سمجھا دیتا ہے

تو بس اپنے حوصلے بلند رکھو اور اپنی امیدیں عرش والے سے وابستہ کرلو۔

بیشک اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے۔

17/11/2024

شمس تبریزی فرماتے ہیں
حق اور سچ کے قریب جانے کے لیے
ہمیں ایک خوبصورت اور نرم دل کی ضرورت ہے۔
ہر انسان ایک نہ ایک دن نرم ہونا سیکھتا ہے کچھ حادثاتی طور پر، کچھ بیماری کی وجہ سے،
کچھ انسانی نقصان کا شکار ہوتے ہیں،
کچھ مادی نقصان سے...
ہم سب ان حالات کا سامنا کرتے ہیں،
صحیح دروازے تک پہنچنے سے پہلے، آپ کو بہت سے غلط دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں، غلطیاں بُری نہیں ہوتیں یہ پختگی کی طرف لے جاتی ہیں۔
آپ کے ساتھ جو بھی ہو جائے، مایوس مت ہونا، چاہے سارے دروازے بند ہی کیوں نہ ہوں..
وہ تمہیں ایک ایسا خفیہ راستہ دکھائے گا جو کوئی نہیں جانتا۔ ♥️✨

عراقی ماہر عمرانیات، پروفیسر علی الوردی، اپنی کتاب "انسانی دماغ کا فریب" میں کہتے ہیں: "جو شخص اپنے  ماحول کو نہیں چھوڑت...
14/11/2024

عراقی ماہر عمرانیات، پروفیسر علی الوردی، اپنی کتاب "انسانی دماغ کا فریب" میں کہتے ہیں: "
جو شخص اپنے ماحول کو نہیں چھوڑتا، جس میں وہ پلا بڑھا ہے، اور صرف ایسی کتابیں پڑھتا ہے، جو اس کے موروثی عقائد کی حمایت کرتی ہیں، صرف اپنے ملک کی ثقافت پر توجہ مرکوز کرتی ہیں،
ہم ایسے شخص سے معاملات میں غیر جانبدار رہنے کی توقع نہیں رکھتے، بلکہ انتہائی نسل پرستی کی توقع رکھتے ہیں۔ جو اپنے ملک اور اس کے نظریے کے لیے عدم برداشت ھے"

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علم و دانش posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share