16/06/2026
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے تعلیمی نظام کی تاریخ میں ایک ایسا گرینڈ ٹائم ٹیبل متعارف کروا دیا ہے جس نے پچھلے تمام نوٹیفکیشنز، سرکلرز اور روایتی احکامات کو بیک جنبشِ قلم ماضی کا حصہ بنا دیا ہے۔ نئے نوٹیفکیشن کے مطابق اب صوبے کے تمام پرائمری، مڈل, ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں موسمِ گرما اور سرما کے لیے ایک ایسا فول پروف اور معیاری نظام الاوقات نافذ کر دیا گیا ہے جس سے انحراف کی گنجائش کسی بھی سطح پر موجود نہیں ہے۔ اس مربوط دستاویزی ڈھانچے کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ صرف اوقات کار کا تعین نہیں کرتا بلکہ تدریسی عمل میں چھپی اس ابدی سستی کا مستقل علاج بھی پیش کرتا ہے جو اکثر گرمی کے آغاز میں کلاس رومز پر محیط ہو جایا کرتی تھی۔
اس نئے نظام کے تحت پہلی سے تیسری جماعت کے معصوم اور نٹ کھٹ بچوں کے لیے موسمِ گرما کے اوقات صبح ساڑھے سات سے بارہ بج کر پانچ منٹ تک ہوں گے، جبکہ چہارم اور پنجم کے کچھ زیادہ سمجھدار طلبہ کے لیے یہ دورانیہ بارہ بج کر چالیس منٹ تک طویل رہے گا۔ ہائی اسکول کے اساتذہ اور طلبہ کے لیے، جو اکثر طویل ترین پیریڈز کے دوران گھڑی کی سوئیوں کو دیمک لگنے کے انتظار میں پائے جاتے تھے، اب چھ گھنٹے اور دس منٹ کا سخت مگر سائنسی اعتبار سے متوازن شیڈول ترتیب دیا گیا ہے، جس میں ہر پیریڈ چالیس منٹ کا ہوگا اور ساتھ ہی اسمبلی و ناظرہ کے لازمی اوقات بھی شامل ہوں گے۔ موسمِ سرما کی آمد پر اسی دورانیے کو صبح سوا آٹھ سے دوپہر دو بج کر چالیس منٹ میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اساتذہ کے لیے جو سب سے بڑی منطقی خوشخبری ہے، وہ یہ کہ اب ہر استاد کو اس کے مقررہ ورک لوڈ اور ڈگری کی نوعیت کے مطابق کلاسیں الاٹ کی جائیں گی، جس کے بعد وہ روایتی بہانہ بالکل ختم ہو جائے گا کہ سر میں تو کیمسٹری کا ماہر ہوں، مجھے پرائمری کے بچوں کو اردو سکھانے پر کیوں مامور کر دیا گیا۔
اس نوٹیفکیشن کا سب سے دلچسپ، تخلیقی اور شاہکار حصہ وہ آٹھواں پیریڈ ہے جو فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کے طلبہ کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پیریڈ کا مقصد آرٹیفیشل انٹیلیجنس، روبوٹکس، مباحثوں اور کھیلوں کے ذریعے بچوں کی شخصیت کو نکھارنا ہے، تاکہ وہ صرف رٹہ لگانے والی مشینیں نہ بنیں بلکہ معاشرے کے متحرک شہری بن سکیں۔ اس کے لیے اسکولوں میں پانچ خصوصی سوسائٹیز تشکیل دینے کا حکم جاری ہوا ہے۔ اب ذرا منظر نامے کا تصور کیجیے کہ ادبی اور مباحثہ سوسائٹی کے تحت پشتو، اردو اور انگریزی کے اساتذہ ان طلبہ سے سنجیدہ گفتگو اور تقریریں کروائیں گے جو عام طور پر پچھلی نشستوں پر بیٹھ کر صرف ایک دوسرے پر جملے کسنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اسی طرح سائنس اور ٹیکنالوجی سوسائٹی فزکس اور کیمسٹری کے ماہرین کی زیرِ نگرانی ایسے تجربات کرے گی جہاں طلبہ کو یہ سیکھنے کا موقع ملے گا کہ کیمیکلز کو بغیر دھماکے اور بغیر اسکول کی لیب کو نقصان پہنچائے کیسے مکس کیا جاتا ہے۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، آرٹ اور ڈراما سوسائٹی کے تحت اسٹیج ڈراموں اور کہانیوں کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں ممکنہ طور پر وہ طلبہ اپنی اداکاری کے جوہر دکھا سکیں گے جو اب تک ہوم ورک نہ لانے پر پیٹ درد کے ایسے بہانے بناتے تھے کہ بڑے بڑے اداکار بھی شرما جائیں۔ سیرت سوسائٹی طلبہ کی اخلاقی اور اسلامی اقدار کے مطابق تربیت کرے گی، جبکہ کمیونٹی سروس سوسائٹی کے تحت اسکولوں میں شجرکاری اور صفائی کی مہم چلائی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب گراؤنڈ میں کاغذ پھینکنے والے ہاتھ ہی اس کاغذ کو اٹھانے کے پابند ہوں گے۔ ان تمام سرگرمیوں کے لیے سب سے سخت شرط یہ ہے کہ طلبہ کی پچھتر فیصد حاضری کے بغیر کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ملے گا اور ہر ٹرم میں ایک عملی کارکردگی دکھانا لازم ہوگی، جبکہ اساتذہ کو ایک باقاعدہ لاگ بک اور حاضری رجسٹر برقرار رکھنا ہوگا۔ تمام ضلعی تعلیمی افسران کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس ٹائم ٹیبل پر حرف بہ حرف عمل درآمد کروانا ان کی ذاتی اور قانونی ذمہ داری ہوگی۔ تمام اسکولز اب سوشل میڈیا اور فیس بک پیجز کے ذریعے اپنی ان تمام سرگرمیوں کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ لہٰذا اب تعلیمی میدان میں صرف نظم و ضبط، سخت محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کا راج ہوگا اور روایتی کاہلی کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔