26/07/2026
احمد دین طالب جوټه لعلونه نۀ ږدی
د اصیلو ملغلرو پۀ قطار کښې
تقریباً دو برس نو ماہ بعد ایسا موقع میسر آیا کہ الفرقان پشاور کی مجلسِ عاملہ کے رفقاء کے ساتھ چند ساعتیں شہر کے ہنگاموں سے دور، باہم نشست و برخاست اور سیر و تفریح میں گزریں۔
اپنے ان رفیق کار احباب کے ساتھ وقت گزار کر ایک بار پھر یہ احساس تازہ ہوا کہ بعض ادارے عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ الفرقان کی مجلسِ عاملہ کا ہر فرد اپنی ذات میں ایک انجمن و درس گاہ ہے اور بلاشبہ میرا سرمایہ افتخار بھی ہے۔ جس نے بھی کسی درجے میں ان نوجوان فضلاء کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیا ہو، وہ ان کے اخلاص، سنجیدگی، وسعتِ نظر اور ذمہ داری کا معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے ابتدا ہی سے یہ کوشش کی ہے کہ الفرقان پشاور کو محض سرگرمیوں کا مرکز نہیں، بلکہ فکری منہج اور عملی تربیت کا ایک زندہ مکتب بنایا جائے۔ اس لئے کہ محض معلومات انسان نہیں بناتیں بلکہ صحیح فکر و مسلسل تربیت ہی انسانی شخصیت کو وہ استحکام عطا کرتا ہے، جو زمانے کے نشیب و فراز میں بھی باقی رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔میں تقریباً ہر جگہ یہ تذکرہ کرتا ہوں کہ آج معاشرے کو عمارتوں سے زیادہ تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے، یہی وہ سرمایہ ہے جس پر قوموں کی آئندہ نسلیں اپنا مستقبل استوار کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اس قافلے کو اخلاص، اتحاد، باہمی اعتماد اور خیرخواہی کی دولت سے ہمیشہ مالا مال رکھے، اور ہمیں اپنی فکری و عملی ذمہ داریوں کو حسنِ انجام تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
پس نوشت: مہمان نوازی کرنے پر برادرم مدثر شاہ عثمانی کا ممنون رہوں گا۔
آمین یا رب العالمین۔
✍️