09/08/2026
بے حیائی اور اس کے اسباب و تدارک
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاتھ میں موبائل آ گیا ہے، المیہ یہ ہے کہ موبائل ہمارے ہاتھ سے نکل کر ہماری آنکھوں، ہمارے ذہن، ہماری سوچ اور بالآخر ہماری زندگی پر قابض ہو گیا ہے۔ ایک ایسا آلہ جو علم، تحقیق، روزگار، تعلیم اور دنیا بھر کی معلومات تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا تھا، ہم نے اسے اپنی کمزوریوں کا دروازہ بنا دیا۔ آج ایک چھوٹے سے بچے سے لے کر ساٹھ، ستر سال کی عمر کے انسان تک، اگر چاہے تو چند لمحوں میں ایسی فحش اور غلیظ چیزیں دیکھ سکتا ہے جن کا تصور چند دہائیاں پہلے بھی ناممکن محسوس ہوتا تھا۔
اسلام نے بے حیائی کے راستے کو صرف اس وقت نہیں روکا جب انسان گناہ کر بیٹھے، بلکہ اس راستے کے ابتدائی دروازے بھی بند کرنے کا حکم دیا۔ قرآن مجید کہتا ہے: "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا" یعنی زنا کے قریب بھی نہ جانا، بے شک یہ بڑی بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔ غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے صرف زنا سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ کیونکہ بڑے گناہ اکثر ایک نظر، ایک خیال، ایک تصویر، ایک ویڈیو اور ایک معمولی سی لغزش سے شروع ہوتے ہیں۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ دشمن ہمیشہ صرف تلوار، توپ اور بندوق سے نہیں لڑتا رہا۔ انسانی کمزوریوں کو جنگی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرنے کی مثالیں مختلف ادوار میں ملتی ہیں۔ بعض جنگوں اور سیاسی کشمکشوں میں خوبصورتی، فریب، لالچ، تعلقات اور عورتوں کو مخالفین کے قریب پہنچنے یا ان کی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیے جانے کے واقعات تاریخی روایات میں بیان ہوئے ہیں۔ یعنی دشمن اگر کسی سپہ سالار کو میدانِ جنگ میں شکست نہ دے سکے تو کبھی اس کی خواہشات، غرور یا کمزوریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا تھا۔ آج منظر بدل گیا ہے؛ تلوار کی جگہ اسمارٹ فون ہے، محل کی جگہ اسکرین ہے اور جاسوس کی جگہ ایک ایسا مواد ہے جو خود انسان کے ہاتھ سے اس کے ذہن میں داخل ہو جاتا ہے۔
آج کسی نوجوان کو گمراہ کرنے کے لیے کسی جاسوس کو اس کے گھر بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ ایک موبائل فون، ایک انٹرنیٹ کنکشن اور چند لمحوں کی تنہائی کافی ہے۔ انسان جہاں بھی ہو، جس عمر میں بھی ہو، اگر اس نے اپنی نگاہ اور نفس کی حفاظت نہ کی تو فحش مواد اس کے دروازے تک نہیں بلکہ اس کی جیب تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ہماری نسل کا ایک ایسا امتحان ہے جس کی شدت کا شاید ہمیں ابھی پوری طرح اندازہ بھی نہیں۔
موبائل بذاتِ خود شیطان نہیں ہے۔ یہی موبائل قرآن سناتا ہے، حدیث پڑھاتا ہے، علم سکھاتا ہے، دنیا بھر کی جامعات کے دروازے کھولتا ہے، روزگار فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے عزیزوں کو قریب لاتا ہے اور انسان کو چند سیکنڈ میں دنیا کے علم سے جوڑ دیتا ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں، مسئلہ اس کا غلط استعمال ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم پاکستانی اکثر کسی نعمت کے مثبت پہلو سے زیادہ اس کے منفی پہلو کو استعمال کرنے میں ماہر ثابت ہوتے ہیں۔
آج صورتحال اس حد تک تشویش ناک ہو چکی ہے کہ معاشرے میں بچوں کے تحفظ کا سوال ہر والدین کے دل میں خوف پیدا کر رہا ہے۔ کبھی کسی معصوم بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سامنے آتی ہے، کبھی کسی کم سن بچی کے ساتھ ظلم کی داستان سننے کو ملتی ہے اور کبھی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جنہیں بیان کرتے ہوئے انسان کا قلم بھی کانپنے لگتا ہے۔ بعض حالیہ واقعات میں بچوں کے ساتھ انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم کی خبریں سامنے آئیں، حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ بدسلوکی جیسے شرمناک واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ یہ واقعات صرف قانون شکنی نہیں، انسانی ضمیر کے زوال کی علامت ہیں۔
سوچنے کی بات ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس دنیا میں پروان چڑھا رہے ہیں؟ ایک طرف ہم انہیں مہنگے اسکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں، دوسری طرف ان کے ہاتھ میں ایسا موبائل دے دیتے ہیں جس کی نگرانی کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔ ہم ان کے لباس، کھانے اور تعلیم پر توجہ دیتے ہیں، مگر یہ دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ وہ رات گئے تک موبائل پر کیا دیکھ رہے ہیں، کن لوگوں سے بات کر رہے ہیں اور ان کے ذہن میں کون سی دنیا تعمیر ہو رہی ہے۔
والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کو موبائل دے دینا آزادی نہیں، ذمہ داری ہے۔ بچے کے ہاتھ میں انٹرنیٹ دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کے کمرے کی کھڑکی پوری دنیا کے لیے کھول دی ہے۔ اس لیے عمر کے مطابق نگرانی، والدین کی صحبت، دینی تربیت، اچھے دوست، کھیل، مطالعہ اور گھر میں کھلی گفتگو انتہائی ضروری ہے۔ صرف موبائل چھین لینا کافی نہیں؛ بچے کے ذہن اور دل کو مثبت مصروفیات بھی دینا ہوں گی۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں کہنا کہ "یہ مت دیکھو"، بلکہ یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ "کیوں مت دیکھو"۔ انہیں نگاہ کی پاکیزگی، حیا، عزتِ نفس، اللہ کے خوف اور انسان کی حرمت کا شعور دینا ہوگا۔ قرآن نے مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اگر یہ حکم ہماری آنکھوں، ہماری اسکرینوں اور ہماری تنہائیوں تک پہنچ جائے تو معاشرے میں بہت کچھ بدل سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ریاست کہاں ہے؟ تعلیمی ادارے کہاں ہیں؟ میڈیا کہاں ہے؟ مذہبی قیادت کہاں ہے؟ معاشرتی تنظیمیں کہاں ہیں؟ اگر بچوں کے تحفظ، فحش مواد کی روک تھام، سائبر جرائم، جنسی تعلیمِ تحفظ، والدین کی آگاہی اور مجرموں کی فوری گرفتاری کے لیے مربوط قومی حکمتِ عملی نہیں بنائی گئی تو مسئلہ صرف چند واقعات تک محدود نہیں رہے گا۔ حکومت کا کام صرف جرم ہونے کے بعد مقدمہ درج کرنا نہیں، بلکہ جرم کے اسباب کو کم کرنا اور معاشرے کو محفوظ بنانا بھی ہے۔
مذہبی جماعتوں اور علماء کی ذمہ داری بھی صرف منبر پر چند جملے کہہ دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ مساجد، مدارس، اسکولوں اور معاشرتی پلیٹ فارموں کے ذریعے والدین اور نوجوانوں کو جدید دور کے فتنوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ آج کا فتنہ صرف گلی کے چوراہے پر نہیں، موبائل کی اسکرین پر بیٹھا ہے۔ اس کا مقابلہ بھی حکمت، علم، تربیت اور مضبوط کردار سے کرنا ہوگا۔
اور ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ صرف حکومت، پولیس یا علماء معاشرے کو نہیں بدل سکتے۔ گھر کا دروازہ، والدین کی تربیت اور ہماری اپنی نگاہ سے اصلاح کا آغاز ہوگا۔ جس دن باپ اپنے بیٹے سے دوست بن کر بات کرے گا، ماں اپنی بیٹی کو اعتماد دے گی، استاد بچے کو صرف کتاب نہیں بلکہ کردار بھی سکھائے گا اور نوجوان اپنے رب کے سامنے جواب دہی کو یاد رکھے گا، اس دن شاید معاشرے کے زخم بھرنا شروع ہوں گے۔
ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں گناہ کے لیے انسان کو بازار جانے کی ضرورت نہیں؛ گناہ خود اس کی جیب میں موجود ہے۔ اس لیے آج کی سب سے بڑی جنگ شاید سرحدوں پر نہیں بلکہ ہماری آنکھوں، ہمارے موبائل فونز، ہمارے کمروں اور ہمارے دلوں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔
اے والدین! اپنے بچوں کو صرف دنیا کے مقابلے کے لیے تیار نہ کریں، انہیں زندگی کے فتنوں سے لڑنا بھی سکھائیں۔ اے نوجوانو! یاد رکھو، اسکرین پر چند سیکنڈ کی لذت کبھی کبھی انسان کے ذہن، کردار، خاندان اور مستقبل پر برسوں کا بوجھ ڈال دیتی ہے۔ اور اے معاشرے! اگر آج ہم خاموش رہے تو کل ہماری خاموشی ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ایک بہت بڑا سوال بن کر کھڑی ہوگی۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ٹیکنالوجی کے مالک بنیں گے یا ٹیکنالوجی ہمیں اپنی خواہشات کا غلام بنا لے گی۔ موبائل کو علم کا ذریعہ بنانا ہے یا بے حیائی کا دروازہ؟ آنکھ کو قرآن پڑھانا ہے یا گناہ کا منظر دکھانا ہے؟ دل کو اللہ سے جوڑنا ہے یا چند لمحوں کی مصنوعی لذت کے حوالے کرنا ہے؟
آخر میں سوال یہی ہے کہ ایک پریشان باپ جائے تو کہاں جائے؟ ایک خوف زدہ ماں کس سے فریاد کرے؟ ایک نوجوان اپنی خواہشات کے طوفان میں کس سے رہنمائی لے؟ جواب شاید کسی ایک ادارے کے پاس نہیں۔ ہمیں سب کو مل کر جواب بننا ہوگا۔ حکومت کو قانون اور حکمتِ عملی دینی ہوگی، علماء کو رہنمائی، تعلیمی اداروں کو تربیت، والدین کو وقت اور نوجوانوں کو شعور۔
کیونکہ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کے دل، ذہن اور نگاہ کی حفاظت نہ کی تو کل ہمارے پاس بڑے بڑے منصوبے، بلند و بالا عمارتیں اور جدید ٹیکنالوجی تو ہوگی، مگر شاید وہ پاکیزہ معاشرہ نہیں ہوگا جس پر ہمیں فخر ہو سکے۔
اور یاد رکھیے، معاشرہ اچانک تباہ نہیں ہوتا؛ پہلے حیا کم ہوتی ہے، پھر برائی معمول بنتی ہے، پھر ضمیر خاموش ہوتا ہے، اور آخرکار انسان برائی کو برائی سمجھنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ ہمیں اسی آخری مرحلے سے پہلے جاگنا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں، ہماری اولاد، ہماری نگاہوں، ہمارے دلوں اور ہمارے معاشرے کی حفاظت فرمائے، ہمیں حیا، پاکیزگی اور تقویٰ کی زندگی عطا فرمائے اور ہماری آنے والی نسلوں کو ہر ظاہری و پوشیدہ فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔