Payam-e-Chitral

Call Contact the organization

Payam-e-Chitral Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Payam-e-Chitral, Abbottabad.

"چترال کی پہچان، عوام کی آواز — پیامِ چترال | یہ پلیٹ فارم چترال کے حقیقی مسائل، مقامی خبریں، سماجی صورتحال اور عوامی احساسات کو اجاگر کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، تاکہ ہر آواز بااثر انداز میں سامنے آ سکے اور حقائق تک رسائی آسان ہو سکے۔"

بے حیائی اور اس کے اسباب و تدارکتحریر: لیاقت اعظم چترالیآج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاتھ میں موبائل آ گیا ہے،...
09/08/2026

بے حیائی اور اس کے اسباب و تدارک
تحریر: لیاقت اعظم چترالی

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے ہاتھ میں موبائل آ گیا ہے، المیہ یہ ہے کہ موبائل ہمارے ہاتھ سے نکل کر ہماری آنکھوں، ہمارے ذہن، ہماری سوچ اور بالآخر ہماری زندگی پر قابض ہو گیا ہے۔ ایک ایسا آلہ جو علم، تحقیق، روزگار، تعلیم اور دنیا بھر کی معلومات تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا تھا، ہم نے اسے اپنی کمزوریوں کا دروازہ بنا دیا۔ آج ایک چھوٹے سے بچے سے لے کر ساٹھ، ستر سال کی عمر کے انسان تک، اگر چاہے تو چند لمحوں میں ایسی فحش اور غلیظ چیزیں دیکھ سکتا ہے جن کا تصور چند دہائیاں پہلے بھی ناممکن محسوس ہوتا تھا۔

اسلام نے بے حیائی کے راستے کو صرف اس وقت نہیں روکا جب انسان گناہ کر بیٹھے، بلکہ اس راستے کے ابتدائی دروازے بھی بند کرنے کا حکم دیا۔ قرآن مجید کہتا ہے: "وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا" یعنی زنا کے قریب بھی نہ جانا، بے شک یہ بڑی بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔ غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے صرف زنا سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔ کیونکہ بڑے گناہ اکثر ایک نظر، ایک خیال، ایک تصویر، ایک ویڈیو اور ایک معمولی سی لغزش سے شروع ہوتے ہیں۔

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ دشمن ہمیشہ صرف تلوار، توپ اور بندوق سے نہیں لڑتا رہا۔ انسانی کمزوریوں کو جنگی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرنے کی مثالیں مختلف ادوار میں ملتی ہیں۔ بعض جنگوں اور سیاسی کشمکشوں میں خوبصورتی، فریب، لالچ، تعلقات اور عورتوں کو مخالفین کے قریب پہنچنے یا ان کی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیے جانے کے واقعات تاریخی روایات میں بیان ہوئے ہیں۔ یعنی دشمن اگر کسی سپہ سالار کو میدانِ جنگ میں شکست نہ دے سکے تو کبھی اس کی خواہشات، غرور یا کمزوریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا تھا۔ آج منظر بدل گیا ہے؛ تلوار کی جگہ اسمارٹ فون ہے، محل کی جگہ اسکرین ہے اور جاسوس کی جگہ ایک ایسا مواد ہے جو خود انسان کے ہاتھ سے اس کے ذہن میں داخل ہو جاتا ہے۔

آج کسی نوجوان کو گمراہ کرنے کے لیے کسی جاسوس کو اس کے گھر بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ ایک موبائل فون، ایک انٹرنیٹ کنکشن اور چند لمحوں کی تنہائی کافی ہے۔ انسان جہاں بھی ہو، جس عمر میں بھی ہو، اگر اس نے اپنی نگاہ اور نفس کی حفاظت نہ کی تو فحش مواد اس کے دروازے تک نہیں بلکہ اس کی جیب تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ہماری نسل کا ایک ایسا امتحان ہے جس کی شدت کا شاید ہمیں ابھی پوری طرح اندازہ بھی نہیں۔

موبائل بذاتِ خود شیطان نہیں ہے۔ یہی موبائل قرآن سناتا ہے، حدیث پڑھاتا ہے، علم سکھاتا ہے، دنیا بھر کی جامعات کے دروازے کھولتا ہے، روزگار فراہم کرتا ہے، دور بیٹھے عزیزوں کو قریب لاتا ہے اور انسان کو چند سیکنڈ میں دنیا کے علم سے جوڑ دیتا ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں، مسئلہ اس کا غلط استعمال ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم پاکستانی اکثر کسی نعمت کے مثبت پہلو سے زیادہ اس کے منفی پہلو کو استعمال کرنے میں ماہر ثابت ہوتے ہیں۔

آج صورتحال اس حد تک تشویش ناک ہو چکی ہے کہ معاشرے میں بچوں کے تحفظ کا سوال ہر والدین کے دل میں خوف پیدا کر رہا ہے۔ کبھی کسی معصوم بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سامنے آتی ہے، کبھی کسی کم سن بچی کے ساتھ ظلم کی داستان سننے کو ملتی ہے اور کبھی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جنہیں بیان کرتے ہوئے انسان کا قلم بھی کانپنے لگتا ہے۔ بعض حالیہ واقعات میں بچوں کے ساتھ انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم کی خبریں سامنے آئیں، حتیٰ کہ جانوروں کے ساتھ بدسلوکی جیسے شرمناک واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ یہ واقعات صرف قانون شکنی نہیں، انسانی ضمیر کے زوال کی علامت ہیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس دنیا میں پروان چڑھا رہے ہیں؟ ایک طرف ہم انہیں مہنگے اسکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں، دوسری طرف ان کے ہاتھ میں ایسا موبائل دے دیتے ہیں جس کی نگرانی کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔ ہم ان کے لباس، کھانے اور تعلیم پر توجہ دیتے ہیں، مگر یہ دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ وہ رات گئے تک موبائل پر کیا دیکھ رہے ہیں، کن لوگوں سے بات کر رہے ہیں اور ان کے ذہن میں کون سی دنیا تعمیر ہو رہی ہے۔

والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کو موبائل دے دینا آزادی نہیں، ذمہ داری ہے۔ بچے کے ہاتھ میں انٹرنیٹ دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کے کمرے کی کھڑکی پوری دنیا کے لیے کھول دی ہے۔ اس لیے عمر کے مطابق نگرانی، والدین کی صحبت، دینی تربیت، اچھے دوست، کھیل، مطالعہ اور گھر میں کھلی گفتگو انتہائی ضروری ہے۔ صرف موبائل چھین لینا کافی نہیں؛ بچے کے ذہن اور دل کو مثبت مصروفیات بھی دینا ہوں گی۔

ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں کہنا کہ "یہ مت دیکھو"، بلکہ یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ "کیوں مت دیکھو"۔ انہیں نگاہ کی پاکیزگی، حیا، عزتِ نفس، اللہ کے خوف اور انسان کی حرمت کا شعور دینا ہوگا۔ قرآن نے مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اگر یہ حکم ہماری آنکھوں، ہماری اسکرینوں اور ہماری تنہائیوں تک پہنچ جائے تو معاشرے میں بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ریاست کہاں ہے؟ تعلیمی ادارے کہاں ہیں؟ میڈیا کہاں ہے؟ مذہبی قیادت کہاں ہے؟ معاشرتی تنظیمیں کہاں ہیں؟ اگر بچوں کے تحفظ، فحش مواد کی روک تھام، سائبر جرائم، جنسی تعلیمِ تحفظ، والدین کی آگاہی اور مجرموں کی فوری گرفتاری کے لیے مربوط قومی حکمتِ عملی نہیں بنائی گئی تو مسئلہ صرف چند واقعات تک محدود نہیں رہے گا۔ حکومت کا کام صرف جرم ہونے کے بعد مقدمہ درج کرنا نہیں، بلکہ جرم کے اسباب کو کم کرنا اور معاشرے کو محفوظ بنانا بھی ہے۔

مذہبی جماعتوں اور علماء کی ذمہ داری بھی صرف منبر پر چند جملے کہہ دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ مساجد، مدارس، اسکولوں اور معاشرتی پلیٹ فارموں کے ذریعے والدین اور نوجوانوں کو جدید دور کے فتنوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ آج کا فتنہ صرف گلی کے چوراہے پر نہیں، موبائل کی اسکرین پر بیٹھا ہے۔ اس کا مقابلہ بھی حکمت، علم، تربیت اور مضبوط کردار سے کرنا ہوگا۔

اور ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ صرف حکومت، پولیس یا علماء معاشرے کو نہیں بدل سکتے۔ گھر کا دروازہ، والدین کی تربیت اور ہماری اپنی نگاہ سے اصلاح کا آغاز ہوگا۔ جس دن باپ اپنے بیٹے سے دوست بن کر بات کرے گا، ماں اپنی بیٹی کو اعتماد دے گی، استاد بچے کو صرف کتاب نہیں بلکہ کردار بھی سکھائے گا اور نوجوان اپنے رب کے سامنے جواب دہی کو یاد رکھے گا، اس دن شاید معاشرے کے زخم بھرنا شروع ہوں گے۔

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں گناہ کے لیے انسان کو بازار جانے کی ضرورت نہیں؛ گناہ خود اس کی جیب میں موجود ہے۔ اس لیے آج کی سب سے بڑی جنگ شاید سرحدوں پر نہیں بلکہ ہماری آنکھوں، ہمارے موبائل فونز، ہمارے کمروں اور ہمارے دلوں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔

اے والدین! اپنے بچوں کو صرف دنیا کے مقابلے کے لیے تیار نہ کریں، انہیں زندگی کے فتنوں سے لڑنا بھی سکھائیں۔ اے نوجوانو! یاد رکھو، اسکرین پر چند سیکنڈ کی لذت کبھی کبھی انسان کے ذہن، کردار، خاندان اور مستقبل پر برسوں کا بوجھ ڈال دیتی ہے۔ اور اے معاشرے! اگر آج ہم خاموش رہے تو کل ہماری خاموشی ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ایک بہت بڑا سوال بن کر کھڑی ہوگی۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ٹیکنالوجی کے مالک بنیں گے یا ٹیکنالوجی ہمیں اپنی خواہشات کا غلام بنا لے گی۔ موبائل کو علم کا ذریعہ بنانا ہے یا بے حیائی کا دروازہ؟ آنکھ کو قرآن پڑھانا ہے یا گناہ کا منظر دکھانا ہے؟ دل کو اللہ سے جوڑنا ہے یا چند لمحوں کی مصنوعی لذت کے حوالے کرنا ہے؟

آخر میں سوال یہی ہے کہ ایک پریشان باپ جائے تو کہاں جائے؟ ایک خوف زدہ ماں کس سے فریاد کرے؟ ایک نوجوان اپنی خواہشات کے طوفان میں کس سے رہنمائی لے؟ جواب شاید کسی ایک ادارے کے پاس نہیں۔ ہمیں سب کو مل کر جواب بننا ہوگا۔ حکومت کو قانون اور حکمتِ عملی دینی ہوگی، علماء کو رہنمائی، تعلیمی اداروں کو تربیت، والدین کو وقت اور نوجوانوں کو شعور۔

کیونکہ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کے دل، ذہن اور نگاہ کی حفاظت نہ کی تو کل ہمارے پاس بڑے بڑے منصوبے، بلند و بالا عمارتیں اور جدید ٹیکنالوجی تو ہوگی، مگر شاید وہ پاکیزہ معاشرہ نہیں ہوگا جس پر ہمیں فخر ہو سکے۔

اور یاد رکھیے، معاشرہ اچانک تباہ نہیں ہوتا؛ پہلے حیا کم ہوتی ہے، پھر برائی معمول بنتی ہے، پھر ضمیر خاموش ہوتا ہے، اور آخرکار انسان برائی کو برائی سمجھنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ ہمیں اسی آخری مرحلے سے پہلے جاگنا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں، ہماری اولاد، ہماری نگاہوں، ہمارے دلوں اور ہمارے معاشرے کی حفاظت فرمائے، ہمیں حیا، پاکیزگی اور تقویٰ کی زندگی عطا فرمائے اور ہماری آنے والی نسلوں کو ہر ظاہری و پوشیدہ فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

08/08/2026

کراچی پولیس کی تاریخی ’’موک ایکسرسائز‘‘ 😂😂
کراچی میں آج کل ایک نئی قسم کی موک ایکسرسائز جاری ہے۔ دنیا میں موک ایکسرسائز اس لیے کی جاتی ہے کہ کسی ہنگامی صورتحال میں عوام کو کیسے بچایا جائے، اور کراچی میں شاید یہ مشق اس لیے کی جا رہی ہے کہ عوام کو ہنگامی صورتحال میں کیسے ڈالا جائے! 😂
طریقہ کار بھی بڑا سادہ ہے: شہری سڑک پر نظر آیا؟ ڈنڈا اٹھاؤ! 😂 شہری نے پوچھا ’’میرا قصور کیا ہے؟‘‘ ایک اور ڈنڈا مارو! 😂 شہری نے احتجاج کیا؟ اسے سرکاری گاڑی میں بٹھاؤ! اور پھر رپورٹ لکھ دو: ’’موک ایکسرسائز کامیابی سے مکمل کر لی گئی۔‘‘ 🤣
لگتا ہے حکومت نے پولیس کو یہ نیا سبق پڑھایا ہے: ’’عوام کو قانون سمجھانے سے پہلے ڈنڈے کی زبان میں ابتدائی تربیت دی جائے۔‘‘
بس فرق اتنا ہے کہ دنیا میں موک ایکسرسائز چند منٹ کی ہوتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں غریب شہری کے لیے یہ روزانہ کی عملی مشق بن چکی ہے۔ 😂
ویڈیو ضرور دیکھیں، شاید آپ کو بھی اس جدید ’’تربیتی پروگرام‘‘ سے کچھ سیکھنے کو مل جائے۔ 😜
پاکستان زندہ باد، عوام محتاط رہیں… موک ایکسرسائز کہیں بھی شروع ہو سکتی ہے! 😂
#عوام #کراچی #پولیس

😢 ایک باپ کی جھوٹی تسلی... اور میری آنکھوں کے سچے آنسو!✍️ تحریر: لیاقت اعظم چترالیآج نمازِ عصر کے وقت East Cantt پشاور م...
07/08/2026

😢 ایک باپ کی جھوٹی تسلی... اور میری آنکھوں کے سچے آنسو!

✍️ تحریر: لیاقت اعظم چترالی

آج نمازِ عصر کے وقت East Cantt پشاور میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے دل کو اندر تک زخمی کر دیا۔ سڑک کنارے ایک کچا گھر مسمار کیا جا چکا تھا۔ گھر کا سارا سامان ایک طرف رکھا تھا اور ایک ٹرک کے انتظار میں ایک افغان باپ اپنے دو معصوم بیٹوں کے ساتھ خاموش بیٹھا تھا۔ بچوں کی عمریں شاید دس اور بارہ سال سے زیادہ نہ تھیں۔
میں وہاں سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک بچے کی آواز کانوں میں پڑی:
"بابا... افغانستان جا کر ہم کہاں رہیں گے؟ کیا وہاں ہمارا اپنا گھر ہے یا کرائے پر رہنا ہوگا؟"
دوسرے نے معصومیت سے پوچھا:
"بابا... کیا وہاں بھی ہمارے دوست ہوں گے؟"
یہ سوال سنتے ہی میرا دل جیسے رک سا گیا۔
باپ نے بچوں کی آنکھوں میں خوف دیکھا تو اپنے دل کے سارے طوفان چھپا کر مسکرا دیا اور بولا:
"بیٹا! وہاں ہمارے رشتہ دار ہیں، اپنا گھر بھی ہے، سب کچھ ہے۔ ان شاء اللہ تم یہاں سے بھی زیادہ خوش رہو گے۔"
شاید وہ جانتا تھا کہ حقیقت اتنی آسان نہیں، مگر ایک باپ اپنے بچوں کے خواب کبھی نہیں ٹوٹنے دیتا۔ وہ اپنے آنسو نگل لیتا ہے، اپنے دکھ چھپا لیتا ہے، مگر اولاد کو امید دینا نہیں چھوڑتا۔
میں آگے تو بڑھ گیا، لیکن میرے دل میں ایک عجیب سی خاموشی اتر آئی۔ آنکھیں نم ہو گئیں۔ احساس ہوا کہ ہجرت صرف سرحد پار کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے بچپن، اپنے دوستوں، اپنی گلیوں، اپنی یادوں اور اپنی پوری زندگی کو پیچھے چھوڑ دینے کا نام ہے۔
ہم سیاسی بحثیں کر سکتے ہیں، قانونی مؤقف رکھ سکتے ہیں، لیکن ایک بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ درد کی کوئی قومیت نہیں ہوتی، آنسوؤں کا کوئی پاسپورٹ نہیں ہوتا، اور باپ کی محبت کسی سرحد کی محتاج نہیں ہوتی۔
آئیے، اپنے افغان مسلمان بھائیوں کے لیے دل سے دعا کریں۔
اے اللہ! ہمارے افغان بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت فرما، ان کے سفر کو آسان بنا، انہیں امن، عزت، روزگار اور سکون والی زندگی عطا فرما، ان کے بچوں کے چہروں سے خوف مٹا کر دوبارہ مسکراہٹ عطا فرما، اور ہر بے گھر انسان کو باعزت چھت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ پیغام انسانیت، ہمدردی اور اخوتِ اسلامی کی عکاسی کرتا ہے تو براہِ کرم اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، شاید یہ کسی دل میں محبت، رحم اور احساس جگا دے۔

معصوم کلیوں کا تحفظ، اخلاقی زوال اور اسلامی اقدار کی ناگزیر ضرورتتحریر: لیاقت اعظم چترالیآج پاکستان ایک ایسے نازک موڑ پر...
04/07/2026

معصوم کلیوں کا تحفظ، اخلاقی زوال اور اسلامی اقدار کی ناگزیر ضرورت

تحریر: لیاقت اعظم چترالی

آج پاکستان ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب سے زیادہ تشویش ناک مسئلہ ہمارے معصوم بچوں اور بچیوں کا تحفظ بنتا جا رہا ہے۔ آئے روز ملک کے مختلف حصوں، کراچی سے لے کر چترال تک، معصوم کلیوں کے ساتھ جنسی استحصال، زیادتی، اغواء اور تشدد جیسے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔ جب ایک معصوم بچہ یا بچی درندگی کا شکار ہوتی ہے تو درحقیقت پوری انسانیت زخمی ہوتی ہے۔

یہ سانحات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ایک گہرے اخلاقی بحران سے گزر رہا ہے۔ بے حیائی، فحاشی، جنسی اشتعال انگیزی اور اخلاقی بے راہ روی کو مختلف ذرائع سے عام کیا جا رہا ہے۔ فلموں، بعض ڈراموں، شوبز کی منفی جہتوں، انٹرنیٹ پر موجود فحش مواد، سوشل میڈیا کے گندے شارٹس اور دیگر غیر اخلاقی ذرائع نے معاشرے کے ایک بڑے حصے کو شہوانی خواہشات کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جب معاشرے میں حیا کمزور اور نفس کی پیروی غالب ہو جائے تو جرائم کی شرح میں اضافہ ایک فطری نتیجہ بن جاتا ہے۔

اسلام انسان کو صرف عبادات کا نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی، معاشرتی اور قانونی نظام عطا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ حیا، پاکدامنی، عدل، ذمہ داری اور انسانی عزت و حرمت کے تحفظ کو بنیادی اصول قرار دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک پاکیزہ اور محفوظ معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔

آج والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بچوں کو صرف تعلیم دینا کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت، نگرانی اور اخلاقی تربیت بھی ناگزیر ہے۔ انہیں اچھے اور برے لمس، ذاتی حدود، اور کسی بھی مشکوک صورتحال میں فوری طور پر والدین یا قابلِ اعتماد فرد کو آگاہ کرنے کی تربیت دی جائے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مجرم کسی بھی طبقے، پیشے یا رشتے سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کے تحفظ کے معاملے میں صرف رشتوں یا ظاہری دینداری پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے احتیاط، نگرانی اور آگاہی کو اختیار کرنا چاہیے۔ احتیاط کا مطلب بدگمانی کو فروغ دینا نہیں بلکہ بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دینا ہے۔

اسلامی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ معاشرے میں جرائم کے خاتمے کے لیے صرف اخلاقی نصیحت کافی نہیں بلکہ انصاف، احتساب، قانون کی مؤثر عملداری، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا احساس بھی ضروری ہے۔ بہت سے اہلِ علم کی رائے ہے کہ اسلامی قانون میں مذکور سزاؤں کی مکمل اور منصفانہ عملداری، جب اسلامی عدالتی اصولوں، سخت شہادت کے معیار، انصاف اور ریاستی ذمہ داریوں کے ساتھ نافذ کی جائے، تو سنگین جرائم کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت، تعلیم، خاندانی نظام کی مضبوطی اور معاشرتی اصلاح بھی ناگزیر ہیں۔

لہٰذا تمام مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادت سے گزارش ہے کہ بچوں کے تحفظ، اخلاقی تربیت، خاندانی نظام کے استحکام، غیر اخلاقی مواد کی روک تھام اور انصاف پر مبنی مؤثر قانون سازی و قانون کے یکساں نفاذ کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ اس مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی، انسانی اور دینی ذمہ داری سمجھا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور باوقار معاشرے میں پروان چڑھ سکیں۔

آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی معصوم کلیوں کی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری بنائیں گے، انہیں دینی و اخلاقی تربیت دیں گے، ان کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں گے اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں ہر بچہ خوف کے بغیر زندگی گزار سکے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں، بچیوں، خواتین اور تمام انسانوں کی جان، عزت اور آبرو کی حفاظت فرمائے، ہمارے معاشرے کو ہر قسم کے فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے اور ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق عدل، انصاف، حیا اور تقویٰ پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین ثم آمین یا رب العالمین

23/06/2026

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا" (القرآن) اور اپنے رب کے حکم پر صبر کرو، یقیناً تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہو۔ جب انسان خود کو اکیلا محسوس کرے، تو یہ آیت دل کو سکون دیتی ہے۔ اللّٰہ آپ کی ہر تکلیف اور صبر کے ایک ایک سیکنڈ کو دیکھ رہا ہے اور وہ بہترین جزا دے گا۔

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ" (القرآن) بیشک اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ آزمائش میں سب سے بڑی طاقت صبر ہے۔ جب آپ مشکل وقت میں شکوہ کرنے کے بجائے صبر کا راستہ چنتے ہیں، تو کائنات کے مالک کی معیت اور مدد آپ کے ساتھ ہو جاتی ہے۔

وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا" (القرآن) اور اللّٰہ پر توکل کرو، اور اللّٰہ ہی کارساز کافی ہے۔ اپنے تمام معاملات اللّٰہ کے سپرد کر کے بے فکر ہو جائیں۔ انسان عاجز ہے اور راستے بنانے کی طاقت صرف اللّٰہ کے پاس ہے، جو آپ کے حق میں بہترین ثابت ہو گا۔

وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ" (القرآن) اور اللّٰہ جانتا ہے جبکہ تم نہیں جانتے۔ کبھی کبھی ہم کسی چیز کے چھن جانے پر بہت روتے ہیں، مگر اللّٰہ ہمارے مستقبل سے واقف ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیں شر سے بچا کر خیر کی طرف لے جاتا ہے۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ" (القرآن) پس ہم نے اس کی دعا قبول کر لی اور اسے غم سے نجات دی۔ آزمائش کا بہترین حل دعا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کی پکار کو کبھی رد نہیں کرتا اور ہر غم کو خوشی میں بدلنے پر قادر ہے۔

لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا" (القرآن) غم نہ کرو، بیشک اللّٰہ ہمارے ساتھ ہے۔ زندگی کے اندھیروں اور خوف کے لمحات میں یہ آیت ایک روشن امید ہے۔ جب اللّٰہ ساتھ ہو، تو دنیا کی کوئی بھی طاقت یا پریشانی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔

وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ" (القرآن) اور یہ اللّٰہ پر کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ آپ کی جو بھی حاجت یا پریشانی ہے، وہ اللّٰہ کے لیے بہت معمولی ہے۔ اپنے دل میں یقین رکھیں کہ اللّٰہ ایک "کُن" سے آپ کے حالات بدل سکتا ہے۔

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ" (القرآن) اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ یہ آیت دل ٹوٹے ہوئے انسان کے لیے مرہم ہے۔

15/06/2026
شندور پولو فیسٹیول 2026تحریر: لیاقت اعظم چترالیکبھی آپ نے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پربادلوں کو زمین کے قریب اترتے دیکھا ہے؟...
10/06/2026

شندور پولو فیسٹیول 2026
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
کبھی آپ نے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر
بادلوں کو زمین کے قریب اترتے دیکھا ہے؟
کبھی آپ نے ایسی ہوا محسوس کی ہے
جو صرف سرد نہ ہو بلکہ رگوں میں اتر کر
خون کو گرم کر دے؟
اگر نہیں—
تو پھر آپ نے شندور نہیں دیکھا۔
شندور صرف ایک میدان نہیں،
یہ پہاڑوں کے سینے پر دھڑکتا ہوا دل ہے۔
یہ وہ جگہ ہے
جہاں فطرت، غیرت، روایت اور جنون
ایک ہی منظر میں جمع ہو جاتے ہیں۔
دنیا اسے “دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ” کہتی ہے،
مگر اہلِ چترال اور گلگت کیلئے
یہ صرف کھیل کا میدان نہیں—
یہ شناخت ہے۔
یہ وقار ہے۔
یہ صدیوں پرانی روایت کا جیتا جاگتا استعارہ ہے۔
جون کی صبح جب شندور کے سبز میدان پر
سورج کی پہلی کرن پڑتی ہے،
تو یوں لگتا ہے
جیسے قدرت نے خود اس وادی پر
سنہری چادر بچھا دی ہو۔
چاروں طرف برف پوش پہاڑ،
ہوا میں گھاس کی خوشبو،
دور بہتے چشموں کی آواز،
اور پھر اچانک—
گھوڑوں کے سموں کی گونج۔
یہ وہ آواز ہے
جو شندور کی خاموشی کو توڑتی نہیں،
بلکہ اسے معنی دیتی ہے۔
پولو یہاں صرف کھیلا نہیں جاتا،
یہ جیا جاتا ہے۔
جب چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیمیں
اپنے اپنے رنگوں میں میدان میں اترتی ہیں،
تو صرف کھلاڑی نہیں آتے،
اپنی اپنی دھرتی کی عزت ساتھ لاتے ہیں۔
گھوڑے بے قرار ہوتے ہیں۔
سواروں کی آنکھوں میں چمک ہوتی ہے۔
تماشائیوں کے نعروں میں
پہاڑوں جیسی گونج ہوتی ہے۔
اور پھر
ایک لمحے میں کھیل شروع ہو جاتا ہے۔
گھوڑے ہوا کو چیرتے ہوئے دوڑتے ہیں۔
لکڑیوں کی ٹکر سنائی دیتی ہے۔
گرد کا بادل اٹھتا ہے۔
اور میدانِ شندور
ایک جنگی منظر اختیار کر لیتا ہے۔
یہاں رفتار صرف رفتار نہیں،
یہ اعلان ہوتی ہے۔
ہر سوار جانتا ہے
کہ اس کے پیچھے صرف ایک ٹیم نہیں،
پورا علاقہ کھڑا ہے۔
شندور کا پولو
دنیا کے مہذب اور قانونوں میں جکڑے ہوئے کھیلوں جیسا نہیں۔
یہ “فری اسٹائل پولو” ہے۔
یہاں جذبہ قانون سے بڑا نظر آتا ہے۔
یہاں طاقت، مہارت اور حوصلہ
ایک ساتھ امتحان دیتے ہیں۔
گھوڑے تھکتے ہیں،
مگر رکتے نہیں۔
سوار زخمی ہوتے ہیں،
مگر میدان نہیں چھوڑتے۔
کیونکہ شندور میں
جیت صرف اسکور بورڈ پر نہیں لکھی جاتی،
دلوں میں لکھی جاتی ہے۔
شندور کا اصل حسن
صرف دن کے میچوں میں نہیں،
اس کی راتوں میں بھی چھپا ہے۔
جب شام ڈھلتی ہے،
سرد ہوا خیموں کے درمیان چلتی ہے،
اور دور کہیں رباب بجتا ہے،
تو یوں محسوس ہوتا ہے
جیسے پہاڑ خود کوئی قدیم داستان سنا رہے ہوں۔
سیاح آگ کے گرد بیٹھے ہوتے ہیں۔
کوئی چترالی ٹوپی پہنے مسکرا رہا ہوتا ہے۔
کوئی قہوہ ہاتھ میں لیے
ستاروں بھرے آسمان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اور پھر اچانک
کوئی بزرگ شندور کی پرانی کہانیاں چھیڑ دیتا ہے—
وہ قصے
جب پولو صرف کھیل نہیں
جنگی تربیت ہوا کرتا تھا۔
یہی وجہ ہے
کہ شندور کا ہر میچ
صرف تفریح نہیں،
تاریخ کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔
یہ فیسٹیول ہمیں یاد دلاتا ہے
کہ پہاڑوں کے لوگ آج بھی
اپنی روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔
آج جب دنیا مصنوعی روشنیوں،
مصنوعی مسکراہٹوں
اور مصنوعی تعلقات میں کھو رہی ہے،
شندور اب بھی خالص ہے۔
یہاں جذبات اصلی ہیں۔
نعروں میں سچائی ہے۔
مہمان نوازی میں محبت ہے۔
یہاں آنے والا ہر شخص
صرف ایک میلہ نہیں دیکھتا،
بلکہ ایک تہذیب کو محسوس کرتا ہے۔
شندور ہمیں سکھاتا ہے
کہ زندگی صرف آرام طلبی کا نام نہیں۔
اصل زندگی وہ ہے
جہاں انسان اپنے مقصد کیلئے
ہانپتا بھی ہے،
گرتا بھی ہے،
مگر دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
اور جب فیسٹیول کا آخری دن آتا ہے،
تو میدان آہستہ آہستہ خالی ہونے لگتا ہے۔
خیمے اکھڑتے ہیں۔
گھوڑے واپس لوٹتے ہیں۔
نعروں کی گونج مدھم پڑ جاتی ہے۔
مگر شندور ختم نہیں ہوتا۔
وہ ہر آنے والے کے دل میں
ایک زندہ یاد بن کر رہ جاتا ہے۔
کیونکہ شندور صرف ایک پولو فیسٹیول نہیں—
یہ پہاڑوں کی روح ہے۔
یہ غیرت کی آواز ہے۔
یہ وفاداری کی دوڑ ہے۔
اور جب تک
شندور کے میدان میں گھوڑوں کی ٹاپ گونجتی رہے گی،
تب تک چترال اور گلگت کی روایت بھی زندہ رہے گی۔
تب تک پہاڑوں کا وقار بھی زندہ رہے گا۔
اور تب تک
شندور دنیا کو یہ پیغام دیتا رہے گا
کہ جن قوموں کے پاس اپنی ثقافت،
اپنی غیرت
اور اپنی روایت زندہ ہو—
وہ کبھی نہیں مرتیں۔

سورہ العادیاتکیا  آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ اوپر نیچے ...
09/06/2026

سورہ العادیات
کیا آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟
سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ اوپر نیچے ہوتا ہوا—
لیکن قدم رک نہیں رہے۔

یہ محض ایک جانور کی دوڑ نہیں،
یہ وفاداری کی فزکس ہے۔

قرآن کی مختصر مگر دھماکہ خیز سورت، سورۂ العادیات، اسی منظر سے شروع ہوتی ہے۔
یہ کوئی نرم تمہید نہیں، کوئی تدریجی تعارف نہیں—
یہ براہِ راست ایک “ہائی اسپیڈ سین” ہے۔

جنگ کا شور… اور اخلاق کا کورٹ روم

اللہ فرماتا ہے:

وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا
قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔

لفظ “ضبحًا” صرف سانس لینے کی آواز نہیں—
یہ سینے کی گہرائی سے نکلنے والی وہ بھاری، دباؤ والی دھمک ہے
جو اس وقت پیدا ہوتی ہے
جب جسم اپنی حد سے آگے جا چکا ہو۔

یہ “Full Capacity Output” ہے۔

گھوڑا جانتا ہے کہ سامنے نیزے ہیں، تلواریں ہیں، موت ہے—
مگر وہ رک نہیں رہا۔

کیوں؟

کیونکہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا مالک
اسے ایڑ لگا رہا ہے۔

یہ ہے Loyalty Protocol:
حکم ملے تو جان بھی حاضر۔

توانائی کی ٹکر… اور چنگاریوں کا علم

پھر قرآن منظر کو اور تیز کرتا ہے:

فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا
پھر وہ جو (سموں سے) چنگاریاں نکالتے ہیں۔

یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں۔
یہ کائنیٹک انرجی کا تھرمل انرجی میں بدلنا ہے۔
رفتار، رگڑ، ٹکراؤ—
اور زمین سے آگ نکلتی ہے۔

گھوڑا صرف دوڑ نہیں رہا،
وہ اپنی طاقت کو نچوڑ رہا ہے۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ
وفاداری آدھی رفتار سے نہیں ہوتی۔
یا تو پوری شدت سے،
یا پھر نہیں۔

سرپرائز اٹیک… اور اطاعت کی انتہا

فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا

صبح کے دھندلکے میں چھاپہ۔

رات بھر سفر کے بعد،
جب جسم آرام مانگ رہا ہو،
اسی وقت حملہ۔

یہ ہے Obedience Beyond Comfort Zone۔

گھوڑا یہ نہیں کہتا:
“میں تھک گیا ہوں”
“کل کر لیں گے”
“آج موسم ٹھیک نہیں”

وہ بس دوڑتا ہے۔

ل

گرد و غبار… اور نفسیاتی دباؤ

فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا

گرد کا بادل۔
دشمن کے حواس باختہ۔

Modern Warfare میں اسے کہتے ہیں:
Disorientation Strategy

گھوڑے صرف جسمانی طاقت نہیں دکھاتے،
وہ ماحول بدل دیتے ہیں۔

وفاداری جب حرکت میں آتی ہے
تو فضا کا رنگ بدل جاتا ہے۔

اور پھر دل میں گھس جانا…

فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا

لشکر کے بیچ میں داخل ہونا۔

یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔
چاروں طرف دشمن۔
واپسی کا راستہ بند۔

پھر بھی وہ گھوڑا پیچھے نہیں ہٹتا۔

کیوں؟

کیونکہ مالک کا حکم آگے ہے،
اور موت پیچھے رہ گئی۔

اب کیمرہ گھوڑے سے ہٹتا ہے… اور انسان پر آ جاتا ہے

یہ پانچ آیات محض جانوروں کی تعریف نہیں تھیں۔
یہ ایک اخلاقی مقدمہ تھا۔

اب فیصلہ سنایا جاتا ہے:

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ

بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔

لفظ “کنود”
یہ عربی کا نفسیاتی شاہکار لفظ ہے۔

کنود وہ ہے جو:
• ایک تکلیف کو یاد رکھے
• ہزار نعمتیں بھول جائے

یہ Cognitive Bias ہے—
Negativity Bias۔

انسان کہتا ہے:
“میرے پاس کیا نہیں ہے”
وہ یہ نہیں گنتا:
“میرے پاس کیا کچھ ہے”

گھوڑا تھوڑی سی گھاس کے بدلے جان دے رہا ہے،
اور انسان بے شمار نعمتوں کے بدلے شکایت کر رہا ہے۔

یہ ہے اخلاقی تضاد۔

انسان خود گواہ ہے

وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ

وہ خود جانتا ہے۔

ضمیر ایک خاموش عدالت ہے۔
لاشعور سب کچھ ریکارڈ کرتا ہے۔

Self Awareness موجود ہے—
مگر Self Reform نہیں۔

اصل بیماری: مال کی محبت

وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ

“خیر” یہاں مال ہے۔
انسان نے دولت کو ہی “Ultimate Good” بنا لیا۔

وہ بھی ہانپ رہا ہے—
لیکن اللہ کے لیے نہیں،
مال کے لیے۔

گھوڑا مالک کے لیے دوڑتا ہے،
انسان مارکیٹ کے لیے۔

گھوڑا وفادار ہے،
انسان سرمایہ پرست۔

پھر آتا ہے قیامت کا فرانزک آڈٹ

إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ

دو مرحلے:
1. جسم باہر نکالے جائیں گے۔
2. دل کے راز بھی نکالے جائیں گے۔

یہ صرف Resurrection نہیں—
یہ Forensic Exposure ہے۔

Hidden Intentions Recovery.

تم نے نماز کیوں پڑھی؟
صدقہ کیوں دیا؟
خاموش کیوں رہے؟
غصہ کیوں کیا؟

فائلیں ڈیلیٹ نہیں ہوں گی—
Recover ہوں گی۔

آخری ضرب

إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ

“خبیر” — اندر کی خبر رکھنے والا۔

وہ صرف عمل نہیں دیکھے گا،
نیت بھی دیکھے گا۔

Surface نہیں،
Core۔

العادیات ہمیں ایک سادہ مگر لرزا دینے والا سوال دیتی ہے:

اگر ایک گھوڑا معمولی مالک کے لیے
اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے—

تو کیا انسان اپنے رب کے لیے
اپنا غرور نہیں چھوڑ سکتا؟

کیا ہم اتنی وفاداری بھی نہیں دکھا سکتے
جتنی ایک جانور دکھاتا ہے؟

آخری جھنجھوڑ

ہم سب دوڑ رہے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم ہانپ رہے ہیں یا نہیں۔

سوال یہ ہے:
ہم کس کے لیے ہانپ رہے ہیں؟

اگر ہماری دوڑ مال کے لیے ہے،
تو ہم کنود ہیں۔

اگر ہماری دوڑ مالک کے لیے ہے،
تو ہم وفادار ہیں۔

اور جس دن سینوں کے راز کھل گئے—
وہاں کوئی بہانہ قبول نہیں ہوگا۔

پس گھوڑے سے سبق سیکھو۔
مالک کو پہچانو۔
اور وفاداری کی دوڑ شروع کرو
اس سے پہلے کہ
قبروں کا دروازہ کھل جائے۔

31/05/2026

بجٹ 2026-27 — مہنگائی، امید اور سفید پوش طبقے کی خاموش چیخ
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
پاکستان میں بجٹ صرف حکومتی آمدن و اخراجات کی تفصیل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسی معاشی دستاویز ہوتی ہے جو قوم کی سمت، حکمرانوں کی ترجیحات اور عام آدمی کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔ ہر سال جب بجٹ پیش ہونے کا وقت قریب آتا ہے تو سرکاری ملازمین، مزدور، کسان، تاجر، صنعتکار اور غریب عوام کی نظریں پارلیمنٹ کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔ ہر شخص یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ آنے والا بجٹ اس کے لیے آسانیاں لائے گا یا نئی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
پاکستان کا بجٹ 2026-27 ایک ایسے نازک وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب ملک شدید معاشی دباؤ، بڑھتے قرضوں، مہنگائی، بے روزگاری، توانائی بحران اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے درمیان کھڑا ہے۔ حکومت ایک طرف معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال کا بجٹ محض مالی منصوبہ بندی نہیں بلکہ حکومتی بصیرت اور عوامی احساس کا امتحان بھی بن چکا ہے۔
بجٹ دراصل ریاست کی سالانہ معاشی حکمت عملی کا نام ہے۔ اس میں حکومت یہ طے کرتی ہے کہ ایک سال کے دوران کتنی آمدنی حاصل کی جائے گی اور وہ رقم کن شعبوں پر خرچ ہوگی۔ لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بجٹ اکثر قرضوں کی ادائیگی، مالی خسارے اور بیرونی دباؤ کے گرد گھومتا ہے۔ نتیجتاً عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی شعبے ہمیشہ نظر انداز ہوتے رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال کے لیے بھاری ٹیکس ہدف مقرر کرنے جا رہی ہے جبکہ مالی خسارہ کم رکھنے کے لیے اخراجات محدود کیے جائیں گے۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ سرکاری ملازمین، خصوصاً گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تنخواہوں میں اضافے اور مختلف الاؤنسز کی تجاویز زیر غور ہیں۔ بظاہر یہ اقدام خوش آئند محسوس ہوتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافہ بڑھتی مہنگائی کے طوفان کے سامنے واقعی کوئی معنی رکھتا ہے؟
آج پاکستان کا نچلا اور متوسط طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ ایک خاکروب، نائب قاصد، کانسٹیبل، کلرک یا کم گریڈ ملازم اپنی محدود تنخواہ میں گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، بجلی و گیس کے بل، ادویات اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ مہنگائی نے ان کی قوت خرید کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ تنخواہ ملنے کے چند دن بعد ہی جیب خالی محسوس ہونے لگتی ہے۔
حکومت اگر 5 یا 10 فیصد تنخواہ بڑھا بھی دے تو اس کا فائدہ اسی وقت ممکن ہوگا جب مہنگائی کی رفتار کم ہو۔ کیونکہ معاشی اصول یہی کہتے ہیں کہ اگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی رہیں تو معمولی تنخواہی اضافہ محض کاغذی ریلیف بن کر رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عوام کو وقتی اعلان نہیں بلکہ مستقل معاشی استحکام درکار ہے۔
پاکستانی بجٹ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ قومی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کے سود اور سرکاری اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بجٹ میں ترقی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر عام آدمی کی زندگی میں خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔
ایک اور افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ بڑے سرمایہ دار، جاگیردار اور طاقتور طبقات اکثر ٹیکس نیٹ سے باہر رہتے ہیں۔ یہ معاشی ناانصافی ملک میں احساس محرومی کو جنم دیتی ہے۔ اگر حکومت واقعی معیشت کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو اسے ٹیکس نظام کو منصفانہ بنانا ہوگا تاکہ ہر شخص اپنی آمدنی کے مطابق قومی خزانے میں حصہ ڈالے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی پائیدار ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب حکومت:
زراعت اور صنعت کو مضبوط کرے
نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے
چھوٹے کاروبار کو سہارا دے
غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کرے
اور کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کو یقینی بنائے۔
بجٹ اگر صرف امیروں کو فائدہ پہنچانے اور غریب پر مزید بوجھ ڈالنے کا ذریعہ بن جائے تو معاشرے میں بے چینی، غربت اور محرومی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ لیکن اگر بجٹ کا محور عام آدمی ہو، اگر مزدور، ملازم، کسان اور نوجوان کو ریلیف دیا جائے، اگر مہنگائی پر قابو پایا جائے اور اگر وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے تو یہی بجٹ پاکستان کی معاشی بحالی کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
پاکستان کا سفید پوش طبقہ آج صرف تنخواہ میں اضافے کا نہیں بلکہ عزت کے ساتھ جینے کے حق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچوں کو بہتر تعلیم ملے، اس کے گھر میں سکون ہو اور اس کی محنت کا صلہ اسے باوقار زندگی کی صورت میں ملے۔ اگر حکومت اس درد کو سمجھ لے تو بجٹ 2026-27 محض ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ قوم کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
ورنہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جہاں بجٹ کے اعداد و شمار تو بڑھتے رہیں مگر عوام کی زندگیوں سے سکون، خوشحالی اور اعتماد ختم ہو جائے۔







“جھوٹ کے سائے میں زخمی ہوتا سچ”تحریر: لیاقت اعظم چترالیاسلام آباد جیسے حساس اور باوقار دارالحکومت میں جب اغواء کی کوئی خ...
17/05/2026

“جھوٹ کے سائے میں زخمی ہوتا سچ”
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
اسلام آباد جیسے حساس اور باوقار دارالحکومت میں جب اغواء کی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ خوف، بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لوگ اپنے بچوں، بھائیوں اور عزیزوں کی سلامتی کیلئے پریشان ہو جاتے ہیں، ریاستی ادارے حرکت میں آتے ہیں، پولیس اور تحقیقاتی ٹیمیں دن رات ایک کرکے مغوی کی بازیابی کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتی ہیں۔
کسی ماں کی آنکھوں سے نیند چھن جاتی ہے، کسی بہن کے لبوں پر دعائیں آ جاتی ہیں، کسی باپ کے چہرے پر فکر کی لکیریں نمایاں ہو جاتی ہیں، جبکہ پورا معاشرہ ایک انجانے خوف کے سائے میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایسے واقعات صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں ہوتے بلکہ پورے ملک کی فضا کو متاثر کرتے ہیں۔
مگر افسوس اُس وقت کئی گنا بڑھ جاتا ہے جب بعد میں یہ حقیقت سامنے آئے کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا…
ایک جھوٹ…
ایک سازش…
اور ذاتی مفادات کیلئے رچایا گیا ایسا کھیل جس میں ریاستی اداروں، عوامی جذبات، سوشل میڈیا اور پورے معاشرے کو استعمال کیا گیا۔
اسلام آباد کے مبینہ اغواء کیس میں سامنے آنے والی تفصیلات نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نورالدین زنگی نامی شخص نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جعلی اغواء کا ڈرامہ رچایا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل کیں، مخالفین کو پھنسانے کی کوشش کی اور خود پر واجب الادا رقوم سے بچنے کیلئے ایک ایسا جھوٹا بیانیہ تخلیق کیا جس نے پورے ملک میں بے چینی پیدا کر دی۔
یہ محض ایک شخص کا فراڈ نہیں…
یہ ریاست کے اعتماد پر حملہ ہے۔
یہ عوامی جذبات کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت، وقت اور وسائل کا بے رحمانہ ضیاع ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس فراڈی ڈرامے کے دوران چترال جیسے پُرامن، باوقار اور مہذب معاشرے کا نام بھی ایسے انداز میں استعمال کیا گیا گویا ایک پُرامن خطے کی عزت اور ساکھ کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانا کوئی معمولی بات ہو۔
چترال ہمیشہ امن، اخوت، شرافت، تعلیم، رواداری اور حب الوطنی کی علامت رہا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کی عزت، قانون کی پاسداری اور قومی وحدت کو ترجیح دی۔ ایسے میں اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مفاد کیلئے چترال جیسے پُرامن معاشرے کو بدنام کرنے کی کوشش کرے تو یہ صرف ایک علاقے نہیں بلکہ پوری قوم کی توہین ہے۔
یہ سوال آج ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ:
کیا نورالدین زنگی اکیلا تھا؟
یا اس کے پیچھے سوشل میڈیا پر سرگرم وہ تمام کردار بھی موجود تھے جنہوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا، لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور ایک منظم بیانیہ بنانے کی کوشش کی؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کیس کے تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔ صرف مرکزی ملزم کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ ان تمام سہولت کاروں، سوشل میڈیا کے نام نہاد حمایتیوں اور خاموش کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے اس جھوٹے ڈرامے کو پروان چڑھانے میں کسی بھی شکل میں کردار ادا کیا۔
کیونکہ ایسے جھوٹے ڈرامے صرف وقتی سنسنی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
یہ حقیقی اغواء کے واقعات پر عوامی اعتماد ختم کرتے ہیں۔
یہ اصل مظلوموں کی آواز کو کمزور کرتے ہیں۔
یہ معاشرے میں سچ اور جھوٹ کے درمیان حدیں دھندلا دیتے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، یہ نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ شہرت، ہمدردی اور ذاتی فائدے کیلئے جھوٹ بھی ایک ہتھیار بن سکتا ہے۔
آج اگر ایسے عناصر کو سخت انجام تک نہ پہنچایا گیا تو کل ہر دوسرا فراڈی شخص سوشل میڈیا کا سہارا لے کر ریاست، عوام اور پُرامن معاشروں کی عزت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرے گا۔
لہٰذا حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تحقیقاتی ایجنسیوں اور سائبر کرائم ونگ سے پُرزور مطالبہ ہے کہ اس کیس کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام خفیہ کرداروں کو سامنے لایا جائے اور اس ڈرامے میں شریک ہر فرد کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ وہ دوسروں کیلئے نشانِ عبرت بن سکے۔
کیونکہ زندہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ سچ، انصاف، قانون اور اجتماعی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور جب جھوٹ بولنے والے معاشرے میں ہیرو بننے لگیں تو پھر خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔






















Address

Abbottabad
25000

Telephone

+923159855245

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Payam-e-Chitral posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Payam-e-Chitral:

Shortcuts

Share