17/05/2026
“جھوٹ کے سائے میں زخمی ہوتا سچ”
تحریر: لیاقت اعظم چترالی
اسلام آباد جیسے حساس اور باوقار دارالحکومت میں جب اغواء کی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو صرف ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ خوف، بے یقینی اور اضطراب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لوگ اپنے بچوں، بھائیوں اور عزیزوں کی سلامتی کیلئے پریشان ہو جاتے ہیں، ریاستی ادارے حرکت میں آتے ہیں، پولیس اور تحقیقاتی ٹیمیں دن رات ایک کرکے مغوی کی بازیابی کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتی ہیں۔
کسی ماں کی آنکھوں سے نیند چھن جاتی ہے، کسی بہن کے لبوں پر دعائیں آ جاتی ہیں، کسی باپ کے چہرے پر فکر کی لکیریں نمایاں ہو جاتی ہیں، جبکہ پورا معاشرہ ایک انجانے خوف کے سائے میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایسے واقعات صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں ہوتے بلکہ پورے ملک کی فضا کو متاثر کرتے ہیں۔
مگر افسوس اُس وقت کئی گنا بڑھ جاتا ہے جب بعد میں یہ حقیقت سامنے آئے کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا…
ایک جھوٹ…
ایک سازش…
اور ذاتی مفادات کیلئے رچایا گیا ایسا کھیل جس میں ریاستی اداروں، عوامی جذبات، سوشل میڈیا اور پورے معاشرے کو استعمال کیا گیا۔
اسلام آباد کے مبینہ اغواء کیس میں سامنے آنے والی تفصیلات نے قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نورالدین زنگی نامی شخص نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جعلی اغواء کا ڈرامہ رچایا، سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل کیں، مخالفین کو پھنسانے کی کوشش کی اور خود پر واجب الادا رقوم سے بچنے کیلئے ایک ایسا جھوٹا بیانیہ تخلیق کیا جس نے پورے ملک میں بے چینی پیدا کر دی۔
یہ محض ایک شخص کا فراڈ نہیں…
یہ ریاست کے اعتماد پر حملہ ہے۔
یہ عوامی جذبات کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔
یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محنت، وقت اور وسائل کا بے رحمانہ ضیاع ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس فراڈی ڈرامے کے دوران چترال جیسے پُرامن، باوقار اور مہذب معاشرے کا نام بھی ایسے انداز میں استعمال کیا گیا گویا ایک پُرامن خطے کی عزت اور ساکھ کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانا کوئی معمولی بات ہو۔
چترال ہمیشہ امن، اخوت، شرافت، تعلیم، رواداری اور حب الوطنی کی علامت رہا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ پاکستان کی عزت، قانون کی پاسداری اور قومی وحدت کو ترجیح دی۔ ایسے میں اگر کوئی شخص اپنے ذاتی مفاد کیلئے چترال جیسے پُرامن معاشرے کو بدنام کرنے کی کوشش کرے تو یہ صرف ایک علاقے نہیں بلکہ پوری قوم کی توہین ہے۔
یہ سوال آج ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ:
کیا نورالدین زنگی اکیلا تھا؟
یا اس کے پیچھے سوشل میڈیا پر سرگرم وہ تمام کردار بھی موجود تھے جنہوں نے اس جھوٹ کو پھیلایا، لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور ایک منظم بیانیہ بنانے کی کوشش کی؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کیس کے تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔ صرف مرکزی ملزم کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ ان تمام سہولت کاروں، سوشل میڈیا کے نام نہاد حمایتیوں اور خاموش کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے اس جھوٹے ڈرامے کو پروان چڑھانے میں کسی بھی شکل میں کردار ادا کیا۔
کیونکہ ایسے جھوٹے ڈرامے صرف وقتی سنسنی پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔
یہ حقیقی اغواء کے واقعات پر عوامی اعتماد ختم کرتے ہیں۔
یہ اصل مظلوموں کی آواز کو کمزور کرتے ہیں۔
یہ معاشرے میں سچ اور جھوٹ کے درمیان حدیں دھندلا دیتے ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر، یہ نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ شہرت، ہمدردی اور ذاتی فائدے کیلئے جھوٹ بھی ایک ہتھیار بن سکتا ہے۔
آج اگر ایسے عناصر کو سخت انجام تک نہ پہنچایا گیا تو کل ہر دوسرا فراڈی شخص سوشل میڈیا کا سہارا لے کر ریاست، عوام اور پُرامن معاشروں کی عزت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرے گا۔
لہٰذا حکومتِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تحقیقاتی ایجنسیوں اور سائبر کرائم ونگ سے پُرزور مطالبہ ہے کہ اس کیس کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، تمام خفیہ کرداروں کو سامنے لایا جائے اور اس ڈرامے میں شریک ہر فرد کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ وہ دوسروں کیلئے نشانِ عبرت بن سکے۔
کیونکہ زندہ قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ سچ، انصاف، قانون اور اجتماعی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور جب جھوٹ بولنے والے معاشرے میں ہیرو بننے لگیں تو پھر خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔