26/05/2026
لبیک اللہم لبیک…
لبیک لا شریک لک لبیک…
آج لاکھوں زبانیں ایک ہی اعلان کر رہی ہیں:
“اے اللہ! میں حاضر ہوں۔
تیرا کوئی شریک نہیں۔
تعریف تیرے لیے۔
نعمت تیرے لیے۔
بادشاہی تیرے لیے۔
حکم تیرا۔
اختیار تیرا۔”
پھر سوچو…
جب حاجی اللہ کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کرتا ہے کہ “تیرا کوئی شریک نہیں”، تو کیا ہماری دعائیں، امیدیں، خوف اور فریادیں بھی صرف اسی ایک رب کے لیے ہیں؟
جو سننے والا ہے، وہ زندہ اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔
جو مشکل کشا ہے، وہ آسمان و زمین کا مالک ہے۔
جو بےبس کی پکار سنتا ہے، وہ صرف اللہ ہے۔
توحید صرف زبان کا کلمہ نہیں،
یہ دل کا فیصلہ ہے:
امید صرف اللہ سے،
ڈر صرف اللہ سے،
سجدہ صرف اللہ کو،
فریاد صرف اللہ سے۔
لبیک…
یعنی:
“اے اللہ! میں تیرے سامنے حاضر ہوں، ہر جھوٹے سہارے سے آزاد ہو کر۔”
سوچو:
اگر “لا شریک لک” سچ ہے،
تو پھر ہماری زندگی میں اللہ کے سوا کس کو وہ مقام دیا جا رہا ہے جو صرف اللہ کا حق ہے؟
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ
“اور جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں۔” (القرآن 2:186)
اگر اللہ خود فرماتا ہے کہ “میں قریب ہوں”،
تو پھر بندہ اپنی حاجتیں لے کر درباروں پر کیوں جائے؟
کیوں غیر اللہ سے مانگے؟
کیوں ان سے امید باندھے جو خود محتاج ہیں؟
یاد رکھو:
دعا عبادت ہے،
اور عبادت صرف اللہ کا حق ہے۔
جو میلے، عرس اور ایسے اجتماعات سجائے جاتے ہیں جہاں لوگوں کی امیدیں اللہ کے بجائے مخلوق سے وابستہ ہو جائیں،
جہاں فریادیں اللہ کے بجائے دوسروں سے کی جائیں،
وہ اسلام کی اصل تعلیمِ توحید کے خلاف ہیں۔
قافلۂ حق ہمیشہ اسی بات کی دعوت دیتا ہے:
خالص توحید کی طرف لوٹو،
صرف اللہ سے مانگو،
صرف اسی پر بھروسہ کرو،
اور ہر ایسے عمل سے بچو جو اللہ کے حق میں کسی کو شریک ٹھہرائے۔
اے لوگو! باز آ جاؤ۔
اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔
وہ تم سے قریب ہے،
تمہاری پکار سنتا ہے،
اور تمہیں کسی واسطے کے بغیر جواب دینے پر قادر ہے۔
اللہ قریب ہے۔
اسے پکارنے کے لیے کسی واسطے، سفارش یا درمیانی ہستی کی ضرورت نہیں۔
وہ سنتا ہے،
وہ جانتا ہے،
اور وہی جواب دینے والا ہے۔
لبیک…
صرف زبان سے نہیں،
دل سے بھی کہو:
“اے اللہ! میں حاضر ہوں،
صرف تیرے لیے،
صرف تجھ سے امید رکھتے ہوئے،
اور صرف تجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے۔”