22/04/2026
: میرٹ کا قتل اور چور دروازے کی سیاست
آزاد کشمیر میں ایک عجیب بحث نے جنم لے لیا ہے۔ ایک طرف وہ نوجوان ہیں جو برسوں سے محنت، تیاری اور امتحانات کے مراحل سے گزر کر اپنے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دوسری طرف وہ آوازیں ہیں جو ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی ہو کر اب مستقل ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ مسئلہ صرف روزگار کا نہیں، بلکہ انصاف اور میرٹ کے اصولوں کا ہے۔
ایڈہاک ملازمین کی منطق بھی نرالی ہے: ہمیں چور دروازے سے مستقل کر دیا جائے، اور آئندہ کے لیے این ٹی ایس اور پی ایس سی کے ذریعے شفاف بھرتی کا نظام قائم رکھا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قانون اور اصول صرف آنے والوں کے لیے ہیں؟ کیا پہلے سے موجود افراد کو اس سے استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے؟
اگر آج اس مطالبے کو تسلیم کر لیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک گروہ کو فائدہ دینے کی بات نہیں ہوگی، بلکہ یہ ایک ایسی روایت کو جنم دے گا جو آنے والے وقتوں میں مزید ناانصافیوں کی بنیاد بنے گی۔ کل ہر کوئی یہی راستہ اختیار کرے گا، اور یوں میرٹ محض ایک کتابی لفظ بن کر رہ جائے گا۔
یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ان افراد کو ماضی میں کتنے مواقع ملے، اور انہوں نے ان مواقع سے کس حد تک فائدہ اٹھایا۔ میرٹ کا تقاضا یہی ہے کہ ہر امیدوار کو برابر کا موقع دیا جائے، نہ کہ کسی کو خصوصی رعایت دی جائے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو نظام کو کمزور کریں۔
حقیقی ہمدردی یہی ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں ہر نوجوان کو اس کی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ اگر فیصلے دباؤ یا وقتی مصلحت کے تحت کیے جائیں گے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑے گا۔
آخر میں سوال یہی ہے: کیا ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں کامیابی کا راستہ محنت اور میرٹ ہو، یا وہ جہاں چور دروازے ہمیشہ کھلے رہیں؟ فیصلہ آج ہوگا، مگر اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک جائیں گے۔