26/05/2026
ضلع مری میں نئی یونین کونسلز کی تشکیل اور موضعات (دیہاتوں) کی حالیہ تقسیم پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ نئی حد بندیاں زمینی حقائق، جغرافیائی مشکلات اور عوامی سہولیات کو نظر انداز کر کے کی گئی ہیں، جس کے باعث عوام کو شدید سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مری جیسے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں سڑکوں کا ناقص نظام پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نئی تقسیم میں ایسے موضعات کو ایک ہی یونین کونسل میں شامل کر دیا گیا ہے جن کے درمیان براہِ راست سڑک رابطہ تک موجود نہیں۔ نتیجتاً شہریوں کو معمولی دفتری امور کے لیے بھی کئی کئی میل اضافی سفر، طویل چکر اور بھاری کرایوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
عوامی و سماجی حلقوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی مسائل کے دور میں اس قسم کی غیر عملی حد بندیاں عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنیں گی۔ مقامی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتظامی فیصلے زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر صرف کاغذی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ہیں۔
اہلیانِ کوہٹی، کاکڑائی اور باڈھیار نے حکامِ بالا اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اے سی رومز میں بیٹھ کر نقشوں پر لکیریں کھینچنے کے بجائے زمینی حقائق کا خود جائزہ لیں اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مضحکہ خیز اور غیر منطقی تقسیم کو فوری طور پر درست کریں۔
منجانب:
اہلیانِ کوہٹی، کاکڑائی، باڈھیار