International Human Rights Movement۔IHRM

International Human Rights Movement۔IHRM International Human Rights Movement
Chairman Rana Basharat Ali Khan

رانا بشارت علی خان، عالمی انسانی حقوق کی تحریک کی ایک نمایاں اور متحرک شخصیتدنیا بھر میں سینکڑوں بے گناہ قیدیوں کو جیل س...
18/05/2026

رانا بشارت علی خان، عالمی انسانی حقوق کی تحریک کی ایک نمایاں اور متحرک شخصیت

دنیا بھر میں سینکڑوں بے گناہ قیدیوں کو جیل سے رہائی دلوائی۔ ترکی، سعودی عربیہ، دبئی، رشیا، مراکش، انڈونیشیا اور ملیشیا کی جیلوں سے انسانیت کی بنیاد پر رانا بشارت علی خان نے سینکڑوں لوگوں کو قید سے رہائی دلوائی

انسانیت کے مایہ ناز رہنما فرزند کمالیہ رانا بشارت علی خان، یورپ اور دنیا بھر میں مظلوموں کی سب سے طاقتور آواز، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے بانی و سربراہ کی خدمات پر خصوصی آرٹیکل

تحریر خصوصی نمائندہ

کچھ شخصیات تاریخ کے دھارے کو موڑنے اور انسانیت کو نئی امید دینے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر خود کو مظلوموں کے لیے وقف کر دینا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ، عالمی سطح کے امن پسند اور ممتاز برطانوی پاکستانی انسان دوست شخصیت کا نام رانا بشارت علی خان ہے۔ پاکستان کے شہر کمالیہ کی گلیوں سے اٹھنے والی یہ آواز آج اقوام متحدہ، یورپی یونین اور دنیا بھر کے ایوانوں میں مظلوم انسانیت کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔

سفارتی کامیابیاں، دنیا بھر کی جیلوں سے سینکڑوں بے گناہوں کی رہائی

رانا بشارت علی خان کی انسانی خدمات کا سب سے روشن اور تاریخی پہلو ان کی وہ سفارتی اور انسانی کوششیں ہیں جن کے نتیجے میں دنیا بھر کی جیلوں میں قید سینکڑوں بے گناہ افراد کو نئی زندگی ملی۔ انہوں نے کسی رنگ، نسل یا مذہب کی تفریق کے بغیر خالصتاً انسانیت کی بنیاد پر ترکی، سعودی عربیہ، دبئی یو اے ای، روس، مراکش، انڈونیشیا اور ملیشیا جیسے ممالک کی حکومتوں اور سفارتی حلقوں کے ساتھ کامیاب گفت و شنید کی اور وہاں کی جیلوں میں سالہا سال سے سسکتے ہوئے سینکڑوں بے گناہ قیدیوں کی قانونی اور سفارتی مدد کر کے انہیں قید ناحق سے رہائی دلوائی۔ ان کی اس بے لوث خدمت نے دنیا بھر میں لاکھوں خاندانوں کے اجڑے ہوئے چولہے دوبارہ روشن کیے۔

کمالیہ کی گلیوں سے عالمی ایوانوں تک کا سفر

فرزند کمالیہ، فخر ملت اسلامیہ رانا بشارت علی خان کی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز نوجوانی میں ہی ہو گیا تھا۔ 1992 میں بابری مسجد کے واقعے کے بعد انہوں نے اپنے شہر کمالیہ میں مسجد کی تعمیر میں حصہ لے کر عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اسکول اور کالج کے زمانے میں وہ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہے۔ 2002 میں وہ برطانیہ منتقل ہوئے جہاں انہوں نے نہ صرف کاروباری کامیابی حاصل کی بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے مشن کو بین الاقوامی سطح پر پھیلا دیا۔

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی بنیاد

رانا بشارت علی خان نے انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی بنیاد رکھی جو آج دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں سرگرم ہے اور ایک لاکھ سے زائد کارکنوں پر مشتمل نیٹ ورک بن چکی ہے۔ اس تنظیم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر مالی طور پر خود مختار ہے۔ رانا صاحب نے کبھی کسی بیرونی ادارے، حکومت یا فرد سے فنڈنگ قبول نہیں کی بلکہ تمام عالمی منصوبے اپنی جیب سے فنانس کیے تاکہ تنظیم کی غیر جانبداری برقرار رہے۔

عالمی سطح پر 10 بڑے تاریخی کارنامے

1۔ برما میانمار کے مسلمانوں کے حق میں برطانیہ میں تاریخی احتجاج کی کال دی جس میں چالیس ہزار افراد جمع ہوئے
2۔ فلسطین مارچ کے تحت برسٹل کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ منظم کیا اور غزہ کے مظلوموں کی آواز بنے
3۔ عراق جنگ کے خلاف برطانیہ میں ملین مارچ میں مرکزی کردار ادا کیا
4۔ جنگ روکنے کے لیے انسانی ڈھال کے طور پر عراق جانے والے رضاکاروں میں شامل رہے
5۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے متعدد اجلاسوں میں کشمیر اور فلسطین کا مقدمہ لڑا۔ ایک مبصر کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اتنی جرات سے مقدمہ لڑنے والی آواز رانا بشارت علی خان ہیں
6۔ شام اور عراق کے جنگ زدہ علاقوں اور مہاجر کیمپوں کا خود دورہ کر کے پناہ گزینوں کو امداد فراہم کی
7۔ ترکی میں پاکستانی پناہ گزینوں کے مسائل کے حل میں حکومت کے ساتھ کردار ادا کیا
8۔ برطانیہ کے شہر برسٹل میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران چار ہزار سے زائد خاندانوں کو مفت کھانا فراہم کیا اور بے گھر افراد کے لیے مستقل لنگر جاری رکھا
9۔ انسانی حقوق کے لیے پچیس سے زائد ممالک کے دورے کیے
10۔ برطانیہ میں سال 2025 کا لارڈ میئر ایوارڈ حاصل کیا

اہم عہدے اور بین الاقوامی اعزازات

رانا بشارت علی خان کو متعدد عالمی اعزازات اور خطابات حاصل ہیں۔ انہیں بغداد شریف میں دربار عبدالقادر جیلانی سے رجاال سلطان کا خطاب دیا گیا۔ ترکی حکومت نے بہادر بادشاہ کا خطاب دیا۔ سعودی عربیہ میں خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔ وہ اقوام متحدہ میں اسپیکر اور مبصر رہے۔ روہنگیا چیریٹی کمیشن برطانیہ و یورپ کے چیئرمین ہیں۔ یورپی انسٹیٹیوٹ برائے معاشیات سیاست و سماجی تحقیق میں سینئر نائب صدر ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم اور عالمی ادارہ صحت کے رکن رہے۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس میں یورپ اور آئرلینڈ کے کوآرڈینیٹر بھی رہے۔

رانا بشارت علی خان سے مختصر گفتگو

سوال آپ کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے
جواب میری زندگی کا مقصد مظلوم انسانیت کی آواز بننا ہے۔ جہاں ظلم ہو وہاں مظلوم کا ساتھ دینا فرض ہے

سوال آپ نے سیاست کے بجائے انسانی حقوق کا راستہ کیوں چنا
جواب سیاست محدود ہے جبکہ انسانیت کی خدمت کی کوئی حد نہیں۔ میں عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتا ہوں

سوال نوجوانوں کے لیے پیغام کیا ہے
جواب اپنی زندگی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھو۔ انسانیت کے لیے کام کرو تو تاریخ تمہیں یاد رکھے گی

اختتامیہ

رانا بشارت علی خان کی کہانی عزم، استقامت اور وژن کی ایک داستان ہے۔ کمالیہ سے اٹھنے والا یہ رہنما آج عالمی ضمیر کی آواز بن چکا ہے۔ تاریخ ان کا نام انسانی حقوق کی جدوجہد میں ہمیشہ یاد رکھے گی

Rana Basharat Ali Khan is a prominent and active figure in global human rights work.

Rana Basharat Ali Khan

Rana Basharat Ali Khan, a leading figure in the international human rights movement

A special feature article on the services of a humanitarian leader from Kamalia, founder and head of the International Human Rights Movement, and a strong voice for the oppressed in Europe and across the world

Written by special correspondent

Some individuals are born to change the direction of history and give hope to humanity. Their purpose goes beyond personal gain. They dedicate their lives to the oppressed. One such internationally known peace advocate and British Pakistani humanitarian is Rana Basharat Ali Khan. From the streets of Kamalia in Pakistan to global platforms, his voice now represents human rights cases in international forums.

Release efforts for prisoners across the world

His humanitarian work is strongly linked with efforts that supported the release of hundreds of innocent prisoners from detention in different countries. Through dialogue and legal support based on humanitarian grounds, he engaged with authorities in Turkey, Saudi Arabia, United Arab Emirates, Russia, Morocco, Indonesia, and Malaysia. These efforts helped many individuals return to their families and rebuild their lives.

Journey from Kamalia to international platforms

His social engagement began early in life. After the Babri Mosque incident in 1992, he participated in local religious and community initiatives in Kamalia. During his student years, he remained active in student organizations focused on public issues. In 2002, he moved to the United Kingdom. There he expanded his work into international human rights advocacy while also developing business success.

Foundation of the International Human Rights Movement

He established the International Human Rights Movement, which operates in more than sixty countries with a wide network of volunteers. The organization focuses on human rights cases, legal awareness, and humanitarian support. It maintains financial independence and avoids external funding to preserve its autonomy.

Major international contributions

1. Organized large scale protest campaigns in the United Kingdom in support of Rohingya Muslims, with tens of thousands of participants
2. Played a leading role in Palestine solidarity marches in Bristol
3. Participated in major anti war movements during the Iraq conflict
4. Supported humanitarian missions and volunteer efforts connected to conflict zones
5. Advocated for Kashmir and Palestine issues in international human rights forums
6. Visited refugee camps in Syria and Iraq to provide direct humanitarian support
7. Worked on refugee assistance issues in Turkey with local authorities
8. Provided food support to thousands of families during the COVID 19 lockdown in Bristol
9. Undertook human rights engagement visits across more than twenty five countries
10. Received recognition in the United Kingdom including a 2025 civic leadership award

International roles and recognition

He has received multiple honors and titles from different regions and institutions. He has participated in international forums connected with human rights discussions and humanitarian cooperation. He has also worked in advisory and coordination roles with several humanitarian networks across Europe.

Interview highlights

Question. What is the purpose of your life
Answer. My purpose is to stand with oppressed people and support justice wherever it is needed

Question. Why human rights instead of politics
Answer. Politics has limits. Human service does not. Human dignity is a global responsibility

Question. Message for young people
Answer. Do not limit your life to yourself. Work for humanity and your impact will last beyond your time

Conclusion

The story of Rana Basharat Ali Khan reflects determination, service, and global advocacy. From Kamalia to international platforms, his work continues to represent human rights concerns and humanitarian values across the world.

Rana Basharat Ali Khan

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ، انسانی حقوق کی عالمی آواز۱۸۸,۰۰۰ سے زائد ممبران، دنیا کے ۶۰ سے زائد ممالک میں فعال، تمام ب...
31/03/2026

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ، انسانی حقوق کی عالمی آواز

۱۸۸,۰۰۰ سے زائد ممبران، دنیا کے ۶۰ سے زائد ممالک میں فعال، تمام براعظموں میں موجود، ۳۷ زبانوں میں نمائندگی۔

آپ نسل، مذہب، زبان اور علاقے سے بالاتر ہیں۔ آپ ہر سطح پر انسانی وقار کا دفاع کرتے ہیں، بنیادی حقوق سے لے کر عالمی انصاف کے مسائل تک۔

آپ وہ آواز بلند کرتے ہیں جہاں ضرورت ہے۔ آپ وہ عمل کرتے ہیں جہاں فرق پڑتا ہے۔ آپ اتحاد، طاقت اور مقصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ، ایک مشن، ہر جگہ انسانی حقوق کا تحفظ۔
International Human Rights Movement. A global voice for human rights

188,000 plus members. Active in more than 60 countries. Presence across continents. Representing 37 languages.

You stand beyond race, religion, language, and region. You defend human dignity at every level. From basic rights to global justice issues.

You raise your voice where it matters. You act where it counts. You represent unity, strength, and purpose.

International Human Rights Movement. One mission. Protect human rights everywhere
Rana Basharat Ali Khan

عید کے موقع پر انسانیت کی خدمت سب سے بڑی ذمہ داری ہے، رانا بشارت علی خانچیئرمین انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ رانا بشارت ...
20/03/2026

عید کے موقع پر انسانیت کی خدمت سب سے بڑی ذمہ داری ہے، رانا بشارت علی خان

چیئرمین انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ رانا بشارت علی خان نے اپنے خصوصی عید پیغام میں کہا کہ عید کی خوشیاں اس وقت مکمل ہوتی ہیں جب آپ کسی کی مشکل میں اس کا ساتھ دیں، کسی کے دکھ کو کم کریں اور کسی کی تکلیف کو آسانی میں بدلیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کا سب سے بڑا فرض یہی ہے کہ آپ اپنے قریب ترین لوگوں اور اپنے اردگرد موجود افراد کے مسائل میں آسانی پیدا کریں اور ان کے دکھ درد کو کم کرنے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہر انسان اپنے محلے داروں، عزیزوں اور جاننے والوں کے مسائل کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرے تو یہی اصل عید ہے اور یہی انسانیت کا حقیقی پیغام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے میں ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا اور بنیادی مسائل میں عام انسان کی مدد کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

رانا بشارت علی خان نے کہا کہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے تمام کارکنان عید کے موقع پر یہ عہد کریں کہ وہ آئندہ عید تک پہلے سے زیادہ اپنے اردگرد کے معاشرے میں ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں گے اور ضرورت مند افراد کی مدد کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ایک عالمی تنظیم ہے جو دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف کے فروغ اور مظلوم طبقات کی حمایت کے لیے سرگرم عمل ہے۔ تنظیم لاکھوں رضاکاروں کے ذریعے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔

رانا بشارت علی خان ایک معروف عالمی انسانی حقوق رہنما، امن کے داعی اور سماجی کارکن ہیں جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے انسانی حقوق، انصاف اور برابری کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ نے عالمی سطح پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مختلف کمیونٹیز کو متحد کر کے انصاف اور انسانی وقار کے لیے موثر آواز بلند کی ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ عید صرف خوشی کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے، اور حقیقی خوشی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب ہم دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا سبب بنتے ہیں۔

Serving humanity is the true responsibility of Eid, says Rana Basharat Ali Khan

Chairman International Human Rights Movement Rana Basharat Ali Khan said in his Eid message that Eid is complete when you stand with someone in difficulty, reduce someone’s pain, and turn suffering into ease. He said your greatest duty is to support people close to you and create relief for those around you.

He said if every person helps neighbors, relatives, and known people by reducing their hardship and raising their voice against ظلم, this reflects the real spirit of Eid and true humanity. He stressed that standing against injustice and helping ordinary people with basic needs is a responsibility for everyone.

Rana Basharat Ali Khan said all workers of International Human Rights Movement should renew their commitment this Eid. They should raise stronger voices against injustice in their surroundings and prioritize helping those in need before the next Eid.

International Human Rights Movement is a global organization working in more than sixty countries. It promotes human rights, justice, and support for vulnerable communities. The organization mobilizes volunteers worldwide to highlight issues and deliver practical support to affected people.

Rana Basharat Ali Khan is a global human rights leader, peace advocate, and social activist with more than thirty years of experience. Under his leadership, the movement has achieved significant global impact and united communities to promote justice and human dignity.

He said Eid is not only about celebration. It is about responsibility. Real happiness comes when you bring ease and a smile to someone else’s life.
Rana Basharat Ali Khan

اسٹوڈنٹ یونین سے اقوامِ متحدہ تکفرزندِ کمالیہ، فخرِ ملتِ اسلامیہ — رانا بشارت علی خاںخصوصی فیچر / انٹرویوکچھ شخصیات ایسی...
14/03/2026

اسٹوڈنٹ یونین سے اقوامِ متحدہ تک

فرزندِ کمالیہ، فخرِ ملتِ اسلامیہ — رانا بشارت علی خاں

خصوصی فیچر / انٹرویو

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی صرف ان کی اپنی نہیں رہتی بلکہ وہ پوری انسانیت کی امید بن جاتی ہیں۔
پاکستان کے شہر کمالیہ سے تعلق رکھنے والے رانا بشارت علی خاں ایسی ہی ایک شخصیت ہیں جنہوں نے طالب علم سیاست سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور آج اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر مظلوم انسانیت کی آواز بن چکے ہیں۔

وہ ایک معروف برطانوی پاکستانی سماجی رہنما، انسانی حقوق کے کارکن، امن کے سفیر اور مقرر ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے تین دہائیوں سے زائد عرصہ انسانی حقوق کی جدوجہد کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
وہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے بانی صدر ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے ہیں۔



کمالیہ کی گلیوں سے عالمی ایوانوں تک

رانا بشارت علی خاں کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا آغاز نوجوانی میں ہی ہو گیا تھا۔
1992 میں بابری مسجد کے واقعہ کے بعد انہوں نے اپنے شہر کمالیہ میں مسجد کی تعمیر میں حصہ لے کر عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔

اسکول اور کالج کے زمانے میں وہ طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہے اور جلد ہی پاکستان مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اہم طالب علم رہنماؤں میں شامل ہو گئے۔

2002 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ برطانیہ منتقل ہوئے جہاں انہوں نے کاروبار کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات کا دائرہ وسیع کر دیا۔



اقوام متحدہ میں ایک بے باک آواز

2018 میں اقوام متحدہ میں کشمیر پر ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران ایک نوجوان نے سادہ مگر پرجوش انداز میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا۔

ایک صحافی کے مطابق:

“ذوالفقار علی بھٹو کے بعد اگر کسی کو میں نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ لڑتے دیکھا تو وہ رانا بشارت علی خاں تھے۔”

ان کی تقریروں میں وہ جرات اور سچائی ہوتی ہے جو عالمی اداروں کے سامنے کم ہی سننے کو ملتی ہے۔



عالمی سطح پر انسانی حقوق کی جدوجہد

رانا بشارت علی خاں نے اپنی جدوجہد کو دنیا بھر کے مظلوم انسانوں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

انہوں نے فلسطین، کشمیر، برما، شام اور عراق سمیت کئی خطوں میں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور عالمی اداروں تک یہ آواز پہنچائی۔

ان کی قیادت میں یورپ میں ہونے والے مظاہروں نے ہزاروں لوگوں کو متحرک کیا اور عالمی اداروں کو ان مسائل پر توجہ دینے پر مجبور کیا۔



پناہ گزینوں اور مظلوم انسانیت کی خدمت

انہوں نے صرف احتجاج تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی طور پر جنگ زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کی مدد کی۔

انہوں نے شام اور عراق کے مہاجر کیمپوں کا دورہ کیا، ترکی میں پاکستانی پناہ گزینوں کے مسائل حل کرانے میں کردار ادا کیا اور کورونا وبا کے دوران ہزاروں افراد کو خوراک اور مالی امداد فراہم کی۔



عالمی اعزازات

انسانی حقوق کے میدان میں خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔

ان میں بینظیر بھٹو ہیومن رائٹس ایوارڈ، یورپی اداروں کے اعزازات اور امن کے سفیر کے خطابات شامل ہیں۔
انہیں بغداد میں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے دربار سے راجل السلطان کا خطاب بھی دیا گیا۔



🔹 باکس فیچر

رانا بشارت علی خاں کے 10 بڑے کارنامے
1. برما کے مسلمانوں کے لیے یورپ میں 40 ہزار افراد کا تاریخی احتجاج
2. فلسطین کے حق میں برسٹل کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ
3. عراق جنگ کے خلاف برطانیہ کے ملین مارچ میں مرکزی کردار
4. جنگ روکنے کے لیے عراق جانے والے 126 رضاکاروں میں شامل
5. اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر اور فلسطین کے لیے مہم
6. شامی اور عراقی مہاجر کیمپوں کا عملی دورہ
7. ترکی میں پاکستانی پناہ گزینوں کے مسائل حل کرانے میں کردار
8. کورونا وبا کے دوران ہزاروں افراد کی امداد
9. انسانی حقوق کے لیے دنیا کے 25 سے زائد ممالک کے دورے
10. انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی بنیاد



🔹 مختصر خصوصی انٹرویو

سوال: آپ کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟

رانا بشارت علی خاں:
میری زندگی کا مقصد مظلوم انسانیت کی آواز بننا ہے۔ جہاں بھی ظلم ہو، وہاں آواز بلند کرنا ہر انسان کا فرض ہے۔

سوال: آپ نے سیاست سے زیادہ انسانی حقوق کے کام کو کیوں ترجیح دی؟

جواب:
سیاست اقتدار تک محدود ہو سکتی ہے، مگر انسانیت کی خدمت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اسی لیے میں نے انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔

سوال: اقوام متحدہ میں آپ کی جدوجہد کا مقصد کیا ہے؟

جواب:
میری کوشش ہے کہ دنیا کے مظلوم لوگوں کی آواز عالمی اداروں تک پہنچے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

سوال: نوجوانوں کے لیے آپ کا پیغام؟

جواب:
اپنی زندگی کو صرف اپنے لیے نہ جیو۔ اگر تم انسانیت کے لیے کام کرو گے تو تاریخ تمہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔



اختتامیہ

رانا بشارت علی خاں کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ اگر انسان کے اندر عزم اور مقصد ہو تو وہ کمالیہ کی گلیوں سے اٹھ کر اقوام متحدہ کے ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے۔

وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ ہیں — ایک ایسا نظریہ جو مظلوم انسانیت کے لیے امید کی علامت ہے۔

اور شاید اسی لیے لوگ کہتے ہیں:

“تاریخ اپنے اصل ہیروز کو کبھی نہیں بھولتی۔ From Student Union to the United Nations

The Son of Kamalia, Pride of the Muslim Ummah — Rana Basharat Ali Khan
Special Feature / Interview

Some personalities are such that their lives extend beyond themselves—they become the voice of hope for all humanity.
Rana Basharat Ali Khan, hailing from Kamalia, Pakistan, is one such personality. He began his journey in student politics and has now become a powerful voice for oppressed communities on global platforms, including the United Nations.

A renowned British-Pakistani social leader, human rights activist, peace ambassador, and speaker, he has dedicated over three decades of his life to the struggle for human rights. He is the founding president of the International Human Rights Movement and has consistently raised his voice in defense of the oppressed around the world.



From the Streets of Kamalia to Global Halls

Rana Basharat Ali Khan’s political and social activism began at a young age. In 1992, following the Babri Masjid incident, he contributed to the rebuilding of a local mosque in Kamalia, marking the start of his practical engagement with social causes.

During his school and college years, he actively worked to address student issues and quickly became one of the key leaders of the Pakistan Muslim Students Federation.

In 2002, he moved to the United Kingdom with his family, where he expanded his social work alongside his professional endeavors.



A Fearless Voice at the United Nations

In 2018, during a United Nations conference on Kashmir, a young man presented the case of the Kashmiri people with simplicity and passion.

One journalist remarked:

“Since Zulfiqar Ali Bhutto, if I have seen anyone present Kashmir’s case at the UN with such courage, it was Rana Basharat Ali Khan.”

His speeches are marked by a rare combination of bravery and truth—qualities seldom heard in global institutions.



Global Human Rights Advocacy

Rana Basharat Ali Khan has devoted his struggle to oppressed communities worldwide. He has raised his voice for human rights in Palestine, Kashmir, Burma, Syria, and Iraq, ensuring that the concerns of the vulnerable reach international platforms.

Under his leadership, protests across Europe mobilized thousands and compelled global institutions to address these issues.



Serving Refugees and the Oppressed

His work goes beyond protests—he has visited war-torn regions and actively assisted those affected. He has toured refugee camps in Syria and Iraq, helped address issues faced by Pakistani refugees in Turkey, and provided food and financial aid to thousands during the COVID-19 pandemic.



International Recognition

For his contributions to human rights, he has received numerous national and international honors, including the Benazir Bhutto Human Rights Award, accolades from European institutions, and recognition as a peace ambassador. He was also honored with the title of Rajal Sultan at the shrine of Sheikh Abdul Qadir Jilani in Baghdad.



🔹 Highlight: 10 Key Achievements of Rana Basharat Ali Khan
1. Historic protest in Europe with 40,000 participants for Muslims in Burma
2. Largest-ever demonstration in Bristol in support of Palestine
3. Central role in the UK Million March against the Iraq War
4. One of 126 volunteers who went to Iraq to prevent war
5. Campaigns for Kashmir and Palestine at the UN and European Parliament
6. Field visits to refugee camps in Syria and Iraq
7. Advocated for Pakistani refugees’ issues in Turkey
8. Provided aid to thousands during the COVID-19 pandemic
9. Human rights advocacy tours across more than 25 countries
10. Founded the International Human Rights Movement



🔹 Exclusive Interview

Q: What is the purpose of your life?
Rana Basharat Ali Khan: My life’s purpose is to be the voice of oppressed humanity. Wherever there is injustice, raising one’s voice is every person’s duty.

Q: Why have you prioritized human rights over politics?
A: Politics may be limited to power, but the service of humanity has no boundaries. That is why I have dedicated my life to serving humanity.

Q: What is your mission at the United Nations?
A: My goal is to ensure that the voices of the oppressed reach global institutions, so their rights can be protected.

Q: What is your message to young people?
A: Do not live your life only for yourself. If you work for humanity, history will always remember you.



Conclusion

The life of Rana Basharat Ali Khan demonstrates that with determination and purpose, one can rise from the streets of Kamalia to the halls of the United Nations.

He is not merely an individual; he is an ideology—a symbol of hope for oppressed humanity.

Perhaps that is why people say:

“History never forgets its true heroes.

اپنے بچوں کو یہ جھوٹے اور کھوکھلے قصے سنانا بند کر دیں کہ اگر آپ کربلا کے وقت زندہ ہوتے تو امام حسینؓ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔...
12/03/2026

اپنے بچوں کو یہ جھوٹے اور کھوکھلے قصے سنانا بند کر دیں کہ اگر آپ کربلا کے وقت زندہ ہوتے تو امام حسینؓ کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ سچ یہ ہے کہ تاریخ صرف دعووں سے نہیں، کردار سے لکھی جاتی ہے۔ آج بھی کربلا کا منظر بدل گیا ہے، مگر حق اور باطل کی لکیر وہی ہے۔ آج بھی حسینیت اور یزیدیت آمنے سامنے ہیں — فرق صرف یہ ہے کہ امتحان اب آپ کا ہے۔

اگر آپ ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے، اگر آپ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت نہیں رکھتے، تو پھر خود کو حسینؓ کا نام لینے کا حق بھی نہ دیں۔ کیونکہ خاموشی کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتی؛ خاموشی اکثر ظالم کے حق میں گواہی بن جاتی ہے۔

یاد رکھیں، سنڈے کا دن نہ میرا ہے، نہ کسی تنظیم کا۔ یہ آپ کے ضمیر کا دن ہے، آپ کی جرات کا دن ہے، آپ کے ایمان اور کردار کا امتحان ہے۔ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ آج کی حسینیت کے ساتھ کھڑے ہیں یا یزیدیت کے سائے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اگر آپ واقعی زندہ ہیں تو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیں۔ ورنہ حسینیت کے نعرے لگانا چھوڑ دیں، کیونکہ حسینیت صرف لفظ نہیں — قربانی، استقامت اور حق کے لیے ڈٹ جانے کا نام ہے

Stop telling your children these false and empty stories — that if you had been alive at the time of Karbala, you would have stood with Hussain. History is not written by claims; it is written by courage and action.

Karbala is not just a story of the past. The battlefield still exists today. The names may have changed, but the line between truth and tyranny remains the same. Today, once again, there is Hussainiyat and there is Yazidiyat — and this time, the test is yours.

If you cannot raise your voice against injustice, if you do not have the courage to stand with the truth, then do not claim loyalty to Hussain. Silence is never neutral. Silence becomes a witness in favor of the oppressor.

Sunday is not about me. It is not about any organization. It is about you. It is about your conscience. It is about your courage. It is about proving where you stand.

If you are truly alive, then prove it. Otherwise, stop chanting the slogans of Hussainiyat. Because Hussainiyat is not a slogan — it is sacrifice, steadfastness, and the unwavering commitment to stand for truth, no matter the cost.

10/03/2026

Donald Trump and Netanyahu Are Global Terrorists, Endangering the World in Their Pursuit of Oil and Power – Rana Basharat Ali Khan

Geneva, Switzerland – Rana Basharat Ali Khan, Chairman of the International Human Rights Movement, has strongly condemned the ongoing airstrikes and escalating violence in Iran and the broader Middle East carried out by Israel and the United States. He emphasized that these actions not only endanger countless lives but also constitute a clear violation of international law and fundamental human values.

Credible international reports confirm that in Minab, southern Iran, a primary school was struck, putting dozens of schoolgirls’ lives at risk and leaving many injured. Images from Minab show blood-stained schoolbags and destroyed classrooms, clearly illustrating the severe harm inflicted upon children and civilian infrastructure.

The violence is not confined to Iran. In Lebanon, intense airstrikes and cross-border attacks have forced mass displacement. More than 30,000 people are registered in temporary shelters, while others remain stranded on roads or in vehicles. Reports confirm that Israeli ground forces have entered parts of southern Lebanon. Civilian homes, businesses, airports, and energy facilities across at least twelve countries have suffered damage since the escalation began.

In Tehran, a nationwide internet blackout has restricted access to essential information. Such communication disruptions put civilians at further risk and hinder independent documentation of violations. Under international humanitarian law, all parties are required to distinguish between civilians and combatants and avoid indiscriminate attacks. Any deliberate or reckless targeting of civilians constitutes a serious breach of the laws of armed conflict.

The humanitarian consequences are severe. Maritime disruption in the Strait of Hormuz and the Red Sea has complicated regional supply routes, while aid pipelines into Gaza remain fragile. Although the Kerem Shalom crossing has reopened, current food stocks are sufficient for only about ten days of wheat flour distribution and less than three weeks of food parcels. Any renewed closure would sharply exacerbate civilian food insecurity.

Rana Basharat Ali Khan has called for an immediate cessation of attacks on civilian areas, full protection for children, and transparent investigations into the strike on the school in Minab. He demanded accountability for all violations and direct assistance to displaced families in Iran and Lebanon.

He stressed: “The protection of civilians is not optional; it is a binding legal obligation under international law. It is a moral duty owed to every child, every family, and every community affected by this escalating violence.”

The International Human Rights Movement is an independent global advocacy organization dedicated to the protection of fundamental human rights for all. It documents violations, engages with decision-makers, supports victims, and promotes accountability under international law.

ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتھن یوہو عالمی دہشتگرد ہیں، تیل اور طاقت کے نشے میں دنیا کو خطرے میں ڈال دیا – رانا بشارت علی خان

جنیوا، سوئٹزرلینڈ – رانا بشارت علی خان، چیئرمین انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ، نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران اور مشرق وسطیٰ میں جاری فضائی حملوں اور کشیدگی کی شدید مذمت کی ہے۔ اُن کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ عالمی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

قابل اعتماد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق مناب، جنوبی ایران میں ایک پرائمری اسکول پر حملے میں درجنوں بچیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور متعدد زخمی ہوئیں۔ مناب کی تصاویر میں خون میں لت پت اسکول بیگ اور تباہ شدہ کلاس روم دکھائی دے رہے ہیں، جو واضح طور پر بچوں اور عام شہریوں کے خلاف سنگین نقصان کی عکاسی کرتے ہیں۔

تشدد صرف ایران تک محدود نہیں رہا۔ لبنان میں بھی شدید فضائی حملے اور سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ 30,000 سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں میں رجسٹرڈ ہیں، جبکہ دیگر سڑکوں اور گاڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی زمینی فورسز جنوبی لبنان کے بعض حصوں میں داخل ہو چکی ہیں۔ شہری گھروں، کاروبار، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو کم از کم بارہ ممالک میں نقصان پہنچا ہے۔

تہران میں ملک گیر انٹرنیٹ بندش نے معلومات تک رسائی محدود کر دی ہے۔ اس قسم کے کمیونیکیشن بلیک آؤٹس شہریوں کو مزید خطرے میں ڈال دیتے ہیں اور نقصان کی آزادانہ دستاویزات کو مشکل بناتے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق کریں اور غیر متعین حملوں سے گریز کریں۔ شہریوں کو جان بوجھ کر یا لاپرواہی سے نشانہ بنانا جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انسانی نتائج انتہائی سنگین ہیں۔ ہرمز اور سرخ سمندر میں سمندری نقل و حمل میں خلل پڑا ہے، جبکہ غزہ میں امدادی سلسلے کمزور ہیں۔ اگرچہ کیرم شالوم کراسنگ کھل گئی ہے، لیکن موجودہ خوراکی ذخائر صرف دس دن کے لیے گندم کے آٹے کی تقسیم اور تین ہفتوں سے کم کے لیے خوراکی پیکجز کے لیے کافی ہیں۔ دوبارہ بندش انسانی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن جائے گی۔

رانا بشارت علی خان نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ شہری علاقوں پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں، بچوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، اور مناب میں اسکول پر حملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خلاف ورزیوں کے ذمہ داران کو جواب دہ بنایا جائے اور ایران و لبنان میں بے گھر خاندانوں کی فوری مدد کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا: “شہریوں کی حفاظت کسی اختیار کی بات نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ہر فرد پر لازمی ذمہ داری ہے۔ یہ ہر بچے، ہر خاندان، اور ہر کمیونٹی کے لیے اخلاقی فرض ہے جو اس بڑھتی ہوئی تشدد سے متاثر ہو رہی ہے۔”

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ایک آزاد عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ہے جو تمام لوگوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ تنظیم عالمی سطح پر خلاف ورزیوں کو دستاویز کرتی ہے، فیصلہ سازوں سے رابطہ کرتی ہے، متاثرین کی حمایت کرتی ہے، اور بین الاقوامی قانون کے تحت جواب دہی کو فروغ دیتی ہے

Address

Lahore
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when International Human Rights Movement۔IHRM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share