AlQaim Centr "امید غرباء"

Website

AlQaim Centr "امید غرباء" مستحق افراد کے ساتھ تعاون کی ایک امید
القائم سنٹر شیعہ میانی ملتان

 #التماس سورہ فاتحہ برائے عالم بزرگوار
01/09/2026

#التماس سورہ فاتحہ برائے عالم بزرگوار

التماس سورہ فاتحہ
30/08/2026

التماس سورہ فاتحہ

مکتب اہل بیت علیہم السلام کا روشن باب حضرت علامہ سید سکندر علی شمسیؒزندگی، علمی و تبلیغی خدماتحضرت علامہ سید سکندر علی ش...
28/08/2026

مکتب اہل بیت علیہم السلام کا روشن باب حضرت علامہ سید سکندر علی شمسیؒ

زندگی، علمی و تبلیغی خدمات

حضرت علامہ سید سکندر علی شمسیؒ شیعہ میانی، ملتان کے معروف عالمِ دین، مدرّس، خطیب، مبلّغ اور دینی شخصیت تھے۔ آپ کو علاقے بھر میں اب بھی محبت و عقیدت سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ 05 جون 1940ء کو ملتان کے علاقے شیعہ میانی میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق شمسی سادات سے ہے۔

خاندانی پس منظر

آپ کے والد محترم سید فیاض حسین شاہ شمسی ایک مدرّس، کاتب اور ذاکر تھے۔ انہوں نے کچھ عرصہ اخبارات میں بھی کام کیا۔ آپ کے دادا بزرگوار حاجی سید جندو شاہ شمسی اپنے زمانے کے معروف ذاکر اور قرآنِ مجید کے معلّم تھے۔ شیعہ میانی کے تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی ایسا فرد موجود تھا جس نے ان سے قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کی تھی۔

علامہ سید سکندر علی شمسیؒ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے دادا حاجی سید جندو شاہ شمسی سے حاصل کی۔ بعد ازاں اپنے والد محترم سے بھی علمی و دینی فیض حاصل کیا۔

حکمت سے دینی تعلیم کی طرف

ابتدائی تعلیم کے بعد آپ کچھ عرصے کے لیے بہاولپور کے ایک معروف حکیم کے پاس علمِ حکمت حاصل کرنے تشریف لے گئے۔ اس حکیم کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ سونا بنانے کا نسخہ بھی جانتے ہیں۔ تاہم علامہ صاحب دنیا داری سے بے رغبت تھے اور دنیاوی مال و دولت کی طرف زیادہ توجہ نہیں رکھتے تھے، چنانچہ کچھ عرصے بعد حکمت کا سلسلہ ترک کر دیا۔

آپ کو ابتدا ہی سے دینی علوم سے گہری محبت تھی۔ اسی جذبے کے تحت آپ نے جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ، شیعہ میانی، ملتان میں داخلہ لیا اور وہاں تعلیم حاصل کی۔

حصولِ علم

جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ میں آپ نے استاذ الاساتذہ حضرت علامہ سید گلاب علی نقوی شاہؒ صاحب، مولانا محمد حسین صاحب سدھوپورہ، فیصل آباد اور دیگر جید اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔

اس زمانے میں آپ مدرسے سے کسی قسم کا وظیفہ بھی نہیں لیتے تھے بلکہ اپنا کھانا وغیرہ گھر سے لے کر آتے تھے۔ علمی سفر جاری رکھتے ہوئے آپ نے فاضلِ عربی کی تعلیم مکمل کی اور اسی مادرِ علمی میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔

تدریسی خدمات

علامہ سید سکندر علی شمسیؒ نے تقریباً 1960ء سے 1970ء تک جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ، شیعہ میانی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ تدریس کو محض پیشہ نہیں بلکہ علومِ محمد و آلِ محمدؑ کی خدمت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔

حوزۂ علمیہ نجف اشرف کا سفر

علمی تشنگی نے آپ کو مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے حوزۂ علمیہ نجف اشرف، عراق پہنچایا۔ آپ 1970ء میں نجف اشرف تشریف لے گئے، جہاں اس دور کی عظیم علمی شخصیات اور مراجعِ عظام سے استفادہ کیا۔

آپ نے آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئیؒ، آیت اللہ امام خمینیؒ اور شہید آیت اللہ سید محمد باقر الصدرؒ جیسی عظیم علمی شخصیات کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور تقریباً پانچ سال ان سے علمی فیض حاصل کیا۔

1975ء میں ناگزیر حالات کے باعث آپ کو عراق سے واپس پاکستان آنا پڑا۔

پاکستان واپسی اور تدریسی خدمات

پاکستان واپس آنے کے بعد آپ نے دوبارہ تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ کچھ عرصہ راولپنڈی کے مدرسہ آیت اللہ الحکیم میں بطور پرنسپل خدمات انجام دیں۔ تاہم صحت کی ناسازی کے باعث زیادہ عرصہ وہاں قیام نہ کر سکے اور واپس ملتان تشریف لے آئے۔

ملتان میں آپ نے مدرسہ باب العلوم، نواں شہر میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعد ازاں آپ کے استاد محترم علامہ سید گلاب علی شاہؒ کی جانب سے مادرِ علمی واپس آنے کی ہدایت ہوئی۔ چنانچہ آپ دوبارہ جامعہ مخزن العلوم الجعفریہ، شیعہ میانی، ملتان تشریف لائے اور اپنی زندگی کے آخری ایام تک علومِ محمد و آلِ محمدؑ کی تدریس و ترویج میں مصروف رہے۔

علمی و تبلیغی خدمات

علامہ سید سکندر علی شمسیؒ فقہی مسائل پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ انہیں نہج البلاغہ سے بھی خصوصی لگاؤ تھا اور اس کے مضامین و معارف پر انہیں عبور حاصل تھا۔ ان کے شاگرد بڑی عقیدت اور شوق کے ساتھ آپ سے نہج البلاغہ پڑھنے آتے اور آپ کے علمی فیض سے مستفید ہوتے تھے۔

آپ ایک مؤثر اور صاحبِ مطالعہ خطیب تھے۔ شرک و نفاق اور دینی اقدار سے انحراف کو سخت ناپسند کرتے تھے اور اپنے خطابات میں اصلاحِ معاشرہ پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔

مجالسِ امام حسینؑ اور خلوص

علامہ صاحب مجلسِ امام حسینؑ کے لیے نذر و نیاز مقرر کرنے کے سخت مخالف تھے۔ آپ اپنے شاگردوں کو خاص طور پر نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ مجلسِ امام حسینؑ کو نذر و نیاز کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے۔ آپ کی تاکید ہوتی تھی کہ جو مومن اپنی خوشی سے جتنی نیاز پیش کرے، اسے قبول کر لیا جائے اور کسی مومن کو اس سلسلے میں زحمت یا پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے۔

مصائبِ محمد و آلِ محمدؑ بیان کرتے ہوئے آپ خود بھی انتہائی رقت و گریہ کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ جب مومنین آپ کو ذکرِ امام حسینؑ میں گریہ کرتے دیکھتے تو مومنین کا گریہ مزید بلند ہو جاتا۔ ذکرِ مصائبِ اہلِ بیتؑ سے آپ کی قلبی وابستگی بہت گہری تھی۔

مسجد میں امامت

علامہ سید سکندر علی شمسیؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک جامع مسجد دربار حضرت سخی سلطان علی اکبرؑ، شیعہ میانی میں بلا معاوضہ امامت کے فرائض انجام دیے۔ آپ نے امامت کو خدمتِ دین اور خدمتِ مومنین کا ذریعہ سمجھا اور کسی مالی معاوضے کی خواہش نہیں کی۔

قرآنِ مجید سے محبت

آپ کو تلاوتِ قرآنِ مجید سے بے حد محبت تھی۔ جب بھی فرصت ملتی، قرآنِ کریم کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ فقہی مسائل اور احادیث کے مطالعے سے بھی آپ کو خاص لگاؤ تھا۔ آپ فارغ بیٹھنے کے بجائے ہمیشہ مطالعہ، تدریس، تلاوت یا دینی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔

شاگردان

علامہ سید سکندر علی شمسیؒ نے ایک طویل عرصے تک تدریس کے ذریعے متعدد علماء و طلبہ کی علمی تربیت کی۔ آپ کے شاگردوں میں متعدد معروف علماء شامل ہیں، جن میں:

- علامہ الحاج السید محمد تقی نقوی شاہ صاحب
- مولانا منور حسین نقوی شاہ صاحب
- مولانا سید ظہور الحسن صاحب
- مولانا بختیار الحسن صاحب
- مولانا اختر حسین نسیم صاحب
- مولانا سید امیر حسین شاہ صاحب
- مولانا محمد عسکری مقدسی صاحب
- مولانا حسنین عسکری صاحب
- مولانا کاظم علی حیدری صاحب
- مولانا اقبال حسین قمی صاحب
- مولانا اعجاز حسین شاکری صاحب
- مولانا غلام شبیر حیدری صاحب
- مولانا سبطین خان صاحب
- مولانا سید تنویر الحسن گیلانی صاحب
مولانا اختر عباس شمسی صاحب
مولانا سید علی جعفر شمسی صاحب شامل ہیں۔

سادگی، خودداری اور بے نیازی

زندگی کے آخری دور میں علامہ صاحب مختلف بیماریوں میں مبتلا رہے، لیکن بیماری، غربت اور مشکلات کے باوجود آپ نے اپنی خودداری اور قناعت کو ہمیشہ برقرار رکھا۔ آپ نے کبھی کسی دنیا دار کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کیا اور نہ ہی کسی امیر یا نواب کے دروازے پر جانا پسند کیا۔

آپ کی زندگی علم، عمل، سادگی، خودداری، قناعت، تبلیغِ دین اور خدمتِ مکتبِ اہلِ بیتؑ کا عملی نمونہ تھی۔

وفات

بالآخر 17 ذوالحجہ 1438ھ، بمطابق 09 ستمبر 2017ء کو علامہ سید سکندر علی شمسیؒ اس دارِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے خالقِ حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔

آپ کی وفات سے شیعہ میانی، ملتان کی علمی و مذہبی فضا ایک مخلص عالم، مدرّس، خطیب اور بے لوث خادمِ دین سے محروم ہوگئی۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علومِ محمد و آلِ محمدؑ کی تدریس، تبلیغ اور خدمت میں گزاری اور اپنے پیچھے علمی و تربیتی خدمات کی ایک روشن یادگار چھوڑی۔

بارگاہِ رب العزت میں دعا ہے کہ وہ علامہ سید سکندر علی شمسیؒ کی علمی، تدریسی، تبلیغی اور دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں محمد و آلِ محمدؑ کے جوار میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے علمی فیض کو ان کے شاگردوں اور آنے والی نسلوں کے لیے صدقۂ جاریہ قرار فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

القائم تعلیمی و تربیتی سنٹر کی طرف سے بچیوں کے لئے باقاعدہ سنڈے کلاسز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
15/08/2026

القائم تعلیمی و تربیتی سنٹر کی طرف سے بچیوں کے لئے باقاعدہ سنڈے کلاسز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 #التماس‌دعا  برای صحت و عافیت
07/08/2026

#التماس‌دعا برای صحت و عافیت

 #التماس‌دعا برای صحت و عافیت علامہ قبلہ اختر عباس نسیم صاحب
07/08/2026

#التماس‌دعا برای صحت و عافیت علامہ قبلہ اختر عباس نسیم صاحب

05/08/2026

القائم سنٹر کے ذمہ دار ذاکر اہلبیت علیہم السلام جناب سید ذیشان حیدر شمسی صاحب ذکر مصائب کرتے ہوئے۔۔۔۔۔
اربعین امام حسین علیہ السلام شیعہ میانی ملتان

04/08/2026

زیارت اربعین کی تلاوت کے دوران مولانا سید علی جعفر شمسی صاحب کا خطاب۔۔۔۔۔۔
کربلا شیعہ میانی ملتان

 #التماس‌دعا
06/07/2026

#التماس‌دعا

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AlQaim Centr "امید غرباء" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share