Saho Jat Federation International

Call Website Contact the organization

Saho Jat Federation International Saho.Sahoo.Sahu.Sohu.Sohal.Sahi.Sehoul.Sahul. Sahura.Sahurai Saka.Sahuka.Sauka.Shaka.Sycthi.Sivi.Sibi.Siboi.Saba.Sumerian.Kushan.Yuzchi. Branches. Gakhar.

Grewal.Dhund.Dhanial.

کیا چندر گپت موریہ کا تعلق پپلاں سے تھا ؟ چندر گپت موریہ کے بارے میں ہندوستانی مورخین کا ماننا ہے کہ ان کا تعلق ساکا شاک...
04/09/2026

کیا چندر گپت موریہ کا تعلق پپلاں سے تھا ؟
چندر گپت موریہ کے بارے میں ہندوستانی مورخین کا ماننا ہے کہ ان کا تعلق ساکا شاکیہ سہو نسل کی کھشتری ذات سے تھا جس میں بدھا بھی پیدا ہوئے تھے۔

سجاد اظہر
جمعہ 24 ستمبر 2021 13:15
321 قبل مسیح سے 184 قبل مسیح ، لگ بھگ 137 سال تک برما سے کابل اور قندھار تک موریہ سلطنت کا ڈنکا بجتا تھا۔اس سے قبل ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا ۔تاریخ میں پہلی بار ہندوستان میں کسی نے اتنی بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی تو وہ چندر گپت موریہ ہی تھا۔

چندر گپت موریہ کے بارے میں ہندوستانی مورخین کا ماننا ہے کہ ان کا تعلق شاکیہ نسل کی کھشتری ذات سے تھا جس میں بدھا بھی پیدا ہوئے تھے۔

سنہالی بدھ روایات کے مطابق چندر گپت کے والد اپنے قبیلے کے سردار تھے، ابھی چندر گپت ماں کے پیٹ میں ہی تھے کہ ان کے والد ایک لڑائی میں مارے گئے ۔ان کی ماں اپنے بھائیوں کی مدد سے پاٹلی پترا آگئیں جو اس وقت ریاست مگدھ کی راج دہانی تھی۔

یہیں چندر گپت کی پیدائش ہوئی۔

ماں نے غربت کی وجہ سے انہیں ایک سردار کے ہاں بیچ دیا۔ سردار نے انہیں مویشی چرانے پر لگا دیا۔ چونکہ چندر گپت کے خون میں سرداری تھی اس لیے وہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر راجہ اور پرجا کا کھیل کھیلتا جس میں چندر گپت سردار بنتا اور باقی بچے درباری بنتے۔

ایک دن یہ بچہ دربار لگائے بیٹھا تھا کہ وہاں سے چانکیہ کا گزر ہوا۔ چانکیہ کو اس بچے کی فہم و فراست نے اتنا متاثر کیا کہ چانکیہ نے یہ بچہ سردار سے خرید لیا اور اسے اپنے ساتھ ٹیکسلا لے آیا۔ یہاں آکر اس نے چانکیہ کو فنون حرب کی تعلیم و تربیت دی۔ اس زمانے میں سکندر اعظم ٹیکسلا آیا ہوا تھا۔

سکندر جب ٹیکسلا اور شمالی ہندوستان فتح کر کے واپس ایران چلا گیا تو چندر گپت نے چانکیہ کی مدد سے ہندوستان کی راج دہانی پاٹلی پترا پر حملے کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لیے پہلے چھوٹے چھوٹے علاقوں کو فتح کیا اور جب ایک بڑی فوج بن گئی تو پاٹلی پترا پر بھی قبضہ کر لیا۔

ہندوستانی روایات کے مطابق چندر گپت موریہ کے والد کا تعلق ایودھیہ سے تھا لیکن لوک ورثہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ڈاکٹر مہر عبد الحق کی کتاب ’تھل‘ میں چندر گپت موریہ کے بارے میں قطعی ایک مختلف کہانی بیان کی گئی ہے۔

کہانی میں چونکہ تاریخی حوالے بھی دیے گئے ہیں اس لیے اس سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ اس کہانی کے مطابق ہندوستان کی عظیم موریہ سلطنت کے بانی کا تعلق پاٹلی پترا سے نہیں بلکہ میانوالی کی تحصیل پپلاں سے تھا۔

ڈاکٹر عبد الحق لکھتے ہیں کہ سکندر اعظم کے ساتھیوں کی یاداشتیں، ارتھ شاستر، چندر گپت موریہ کی وفات کے سات سو سال بعد لکھا جانے والا ’مدرا راکھشس‘ نامی ڈراما اور یا پھر ایک یونانی سفیر سیلوکس کی تحریروں میں ہمیں اس چندر گپت موریہ کے بارے میں تو معلومات ملتی ہیں جس نے ایک عظیم سلطنت قائم کر لی تھی لیکن اس کی زندگی کے ابتدائی حالات نہیں ملتے۔انہوں نے لکھا کہ چونکہ یہ ڈراما آریاؤں نے لکھا تھا جو ہندو تھے اور چندر گپت غیر ہندو تھا اس لیے آریاؤں کی نفرت اس ڈرامے میں جھلکتی ہے۔

آریا برہمن تھے اور ان لوگوں سے شدید نفرت کرتے تھے جو ان سے ایک ہزار سال پہلے یہاں آباد ہو کر تہذیب و تمدن کی بنیادیں رکھ چکے تھے اور برہمنی مذہب کی رسومات کی پیروی نہیں کرتے تھے۔

چندر گپت موریہ وادی سندھ کے بالائی میدانوں یعنی تھل کا شہزادہ تھا۔ اس کا باپ جو سون سکیسر کا بادشاہ تھا کسی سرحدی تنازعے کے دوران مارا گیا۔ بڑی ملکہ اس اچانک سانحے سے بے یارو مددگار ہو گئی۔ پاٹلی پترا اس وقت ایک غیر ہندو اور غیر آریائی ’شک‘ قوم کا مرکز تھا جہاں نندا خاندان حکمرانی کرتا تھا۔ سکیسر کی رانی اسی راجدھانی کی طرف چل پڑی۔ راستے میں اس کا بچہ پیدا ہوا اور قریب کے چرواہے نے زچہ و بچہ کو پناہ دی۔

ایک روز چانکیہ کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے اتفاقاً بچے کو دیکھا تو اسے کچھ ایسی نشانیاں ملیں کہ اس نے چرواہے سے ’ایک ہزار کاشا پن‘ دے کر بچے کو خرید لیا۔

چانکیہ ٹیکسلا میں ایک یونیورسٹی میں استاد تھا۔ یہ شہر اس زمانے میں دنیا بھر کے علوم و فنون کا مرکز تھا جہاں بادشاہوں، وزیروں، رئیسوں اور امیروں کے بچے پڑھتے تھے۔

سکندر کا مورخ سترابو لکھتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت زرتشتی مذہب کی پیرو کار تھی اور معاشرتی رسومات پر میسو پوٹیمیا کی چھاپ تھی۔ یہیں چندر گپت کی تعلیم و تربیت ہونے لگی۔

چندر گپت ٹیکسلا میں تعلیم و تربیت سے فارغ ہوا تو چانکیہ نے اسے مگدھ کے بادشاہ سے متعارف کروایا۔ جہاں چندر گپت کی بہادری اور چابکدستی کو دیکھتے ہوئے بادشاہ نے اسے اپنی فوج میں جرنیل کا عہدہ دے دیا۔ اس زمانے میں چھوٹی چھوٹی راج دہانیاں تھیں۔

کیا چندر گپت موریہ کا تعلق پپلاں سے تھا ؟
چندر گپت موریہ کے بارے میں ہندوستانی مورخین کا ماننا ہے کہ ان کا تعلق شاکیہ نسل کی کھشتری ذات سے تھا جس میں بدھا بھی پیدا ہوئے تھے۔

سجاد اظہر
جمعہ 24 ستمبر 2021 13:15
sharethis sharing button

کہا جاتا ہے کہ چندرا گری نامی پہاڑی پر یہ پیروں کے نشان چندر گپت موریہ کے ہیں(وکیپیڈیا)

321 قبل مسیح سے 184 قبل مسیح ، لگ بھگ 137 سال تک برما سے کابل اور قندھار تک موریہ سلطنت کا ڈنکا بجتا تھا۔اس سے قبل ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا ۔تاریخ میں پہلی بار ہندوستان میں کسی نے اتنی بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی تو وہ چندر گپت موریہ ہی تھا۔

چندر گپت موریہ کے بارے میں ہندوستانی مورخین کا ماننا ہے کہ ان کا تعلق شاکیہ نسل کی کھشتری ذات سے تھا جس میں بدھا بھی پیدا ہوئے تھے۔

سنہالی بدھ روایات کے مطابق چندر گپت کے والد اپنے قبیلے کے سردار تھے، ابھی چندر گپت ماں کے پیٹ میں ہی تھے کہ ان کے والد ایک لڑائی میں مارے گئے ۔ان کی ماں اپنے بھائیوں کی مدد سے پاٹلی پترا آگئیں جو اس وقت ریاست مگدھ کی راج دہانی تھی۔

یہیں چندر گپت کی پیدائش ہوئی۔

ماں نے غربت کی وجہ سے انہیں ایک سردار کے ہاں بیچ دیا۔ سردار نے انہیں مویشی چرانے پر لگا دیا۔ چونکہ چندر گپت کے خون میں سرداری تھی اس لیے وہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر راجہ اور پرجا کا کھیل کھیلتا جس میں چندر گپت سردار بنتا اور باقی بچے درباری بنتے۔

ایک دن یہ بچہ دربار لگائے بیٹھا تھا کہ وہاں سے چانکیہ کا گزر ہوا۔ چانکیہ کو اس بچے کی فہم و فراست نے اتنا متاثر کیا کہ چانکیہ نے یہ بچہ سردار سے خرید لیا اور اسے اپنے ساتھ ٹیکسلا لے آیا۔ یہاں آکر اس نے چانکیہ کو فنون حرب کی تعلیم و تربیت دی۔ اس زمانے میں سکندر اعظم ٹیکسلا آیا ہوا تھا۔

سکندر جب ٹیکسلا اور شمالی ہندوستان فتح کر کے واپس ایران چلا گیا تو چندر گپت نے چانکیہ کی مدد سے ہندوستان کی راج دہانی پاٹلی پترا پر حملے کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لیے پہلے چھوٹے چھوٹے علاقوں کو فتح کیا اور جب ایک بڑی فوج بن گئی تو پاٹلی پترا پر بھی قبضہ کر لیا۔

ہندوستانی روایات کے مطابق چندر گپت موریہ کے والد کا تعلق ایودھیہ سے تھا لیکن لوک ورثہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ڈاکٹر مہر عبد الحق کی کتاب ’تھل‘ میں چندر گپت موریہ کے بارے میں قطعی ایک مختلف کہانی بیان کی گئی ہے۔

کہانی میں چونکہ تاریخی حوالے بھی دیے گئے ہیں اس لیے اس سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ اس کہانی کے مطابق ہندوستان کی عظیم موریہ سلطنت کے بانی کا تعلق پاٹلی پترا سے نہیں بلکہ میانوالی کی تحصیل پپلاں سے تھا۔

ڈاکٹر عبد الحق لکھتے ہیں کہ سکندر اعظم کے ساتھیوں کی یاداشتیں، ارتھ شاستر، چندر گپت موریہ کی وفات کے سات سو سال بعد لکھا جانے والا ’مدرا راکھشس‘ نامی ڈراما اور یا پھر ایک یونانی سفیر سیلوکس کی تحریروں میں ہمیں اس چندر گپت موریہ کے بارے میں تو معلومات ملتی ہیں جس نے ایک عظیم سلطنت قائم کر لی تھی لیکن اس کی زندگی کے ابتدائی حالات نہیں ملتے۔

انہوں نے لکھا کہ چونکہ یہ ڈراما آریاؤں نے لکھا تھا جو ہندو تھے اور چندر گپت غیر ہندو تھا اس لیے آریاؤں کی نفرت اس ڈرامے میں جھلکتی ہے۔

آریا برہمن تھے اور ان لوگوں سے شدید نفرت کرتے تھے جو ان سے ایک ہزار سال پہلے یہاں آباد ہو کر تہذیب و تمدن کی بنیادیں رکھ چکے تھے اور برہمنی مذہب کی رسومات کی پیروی نہیں کرتے تھے۔

چندر گپت موریہ وادی سندھ کے بالائی میدانوں یعنی تھل کا شہزادہ تھا۔ اس کا باپ جو سون سکیسر کا بادشاہ تھا کسی سرحدی تنازعے کے دوران مارا گیا۔ بڑی ملکہ اس اچانک سانحے سے بے یارو مددگار ہو گئی۔ پاٹلی پترا اس وقت ایک غیر ہندو اور غیر آریائی ’شک‘ قوم کا مرکز تھا جہاں نندا خاندان حکمرانی کرتا تھا۔ سکیسر کی رانی اسی راجدھانی کی طرف چل پڑی۔ راستے میں اس کا بچہ پیدا ہوا اور قریب کے چرواہے نے زچہ و بچہ کو پناہ دی۔

ایک روز چانکیہ کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے اتفاقاً بچے کو دیکھا تو اسے کچھ ایسی نشانیاں ملیں کہ اس نے چرواہے سے ’ایک ہزار کاشا پن‘ دے کر بچے کو خرید لیا۔

چانکیہ ٹیکسلا میں ایک یونیورسٹی میں استاد تھا۔ یہ شہر اس زمانے میں دنیا بھر کے علوم و فنون کا مرکز تھا جہاں بادشاہوں، وزیروں، رئیسوں اور امیروں کے بچے پڑھتے تھے۔

سکندر کا مورخ سترابو لکھتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت زرتشتی مذہب کی پیرو کار تھی اور معاشرتی رسومات پر میسو پوٹیمیا کی چھاپ تھی۔ یہیں چندر گپت کی تعلیم و تربیت ہونے لگی۔

چندر گپت ٹیکسلا میں تعلیم و تربیت سے فارغ ہوا تو چانکیہ نے اسے مگدھ کے بادشاہ سے متعارف کروایا۔ جہاں چندر گپت کی بہادری اور چابکدستی کو دیکھتے ہوئے بادشاہ نے اسے اپنی فوج میں جرنیل کا عہدہ دے دیا۔ اس زمانے میں چھوٹی چھوٹی راج دہانیاں تھیں۔

مزید پڑھیے

قائد اعظم اپنی وصیت کی رو سے کھرب پتی تھے

مغلوں نے لاہور کے علاوہ بھی ایک شالامار باغ بنوایا تھا

انسان نے لباس کب پہننا شروع کیا؟ ضرورت سے فیشن تک کا سفر
چندر گپت نے بادشاہ کو کہا کہ تمام راجدہانیاں متحد ہو کر یونانیوں کا مقابلہ کریں اور انہیں اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں۔ بادشاہ، چندرگپت سے خائف ہو گیا کہ یہ ایک دن اسے بھی تخت سے اتار سکتا ہے اس خدشے کے پیش نظر اسے فوج سے برخواست کر دیا گیا اور یوں چندر گپت کو پاٹلی پترا چھوڑنا پڑا۔

کہتے ہیں کہ چندر گپت کی 325 قبل مسیح میں ٹیکسلا میں سکندر اعظم سے ملاقات ہوئی جس میں سکندر نے اس بہادر نوجوان کو کسی عہدے کی پیشکش کی جسے اس نے ٹھکرا دیا کیونکہ وہ سکندر کو اپنی سرزمین پر قابض سمجھتا تھا۔

اس انکار پر سکندر نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا لیکن چندر گپت چونکہ مگدھ کے راجہ نندا کا سپاہی رہ چکا تھا اس لیے وہ سکندری فوج کے گھیرے کو توڑتا ہوا تیزی سے غائب ہو گیا۔

گپت کے لغوی معنی ہیں ’چھپا ہوا‘۔ جس دن سے سکندر نے ٹیکسلا اور سندھ کو چھوڑا تھا اس دن سے چندر گپت موریہ یونانیوں حکمرانوں کے لیے درد سر بن گیا۔ وہ مسلسل ان پر گوریلا حملے کرتا رہا۔

چندر گپت موریہ تھل کا رہنے ولا تھا۔ بدھ مت کی مقدس کتابوں کی روایات کی رو سے یہ عظیم شخص ’پپھلی وان‘ کے موریہ بادشاہ کی بڑی ملکہ کے ہاں پیدا ہوا۔ یہ وہی قصبہ ہے جسے آج پپلاں کہا جاتا ہے۔ چندر گپت کا باپ ہمالیہ پہاڑیوں والی ریاست کا ایک بادشاہ تھا۔ جس کی سرحدیں سکیسر سے جلال آباد تک پھیلی ہوئی تھیں۔

مشہور کتاب ’ٹریڈ روٹس ان انشینٹ انڈیا‘ کا مصنف موتی چندر لکھتا ہے کہ یہ علاقہ سکندر نے موریا بادشاہ سے چھینا تھا۔ اس کی تصدیق یوں ہوتی ہے کہ جب سلیوکس نے چندر گپت کے آگے ہتھیار ڈال دیے تو اس نے پہلا تحفہ یہی پیش کیا کہ اس کے باپ کی ریاست اسے واپس کر دی۔

چندر گپت مور خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس کے بارے میں مورخین کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کناروں پر اس کا تسلط تھا کیونکہ اس خاندان کا پیشہ جہاز رانی تھا۔ تھل، بہاولپور کا چولستان، راجپوتانہ کا مغربہ صحرا اور سندھ کے تھر کا علاقہ انہی کی تحویل میں تھا۔

آریا چونکہ سمندروں سے ڈرتے تھے اور دریا تک کو عبور نہیں کرتے تھے اس لیے موریہ قوم سے نفرت کرتے تھے۔ اوپر پہاڑی علاقوں میں آریاؤں کے جتھے آباد تھے جو زیریں علاقے کے لوگوں کو ملیچھ اور شودر جیسے برے ناموں سے پکارتے تھے۔

کرنل ناڈ جنہوں نے سندھ کی وسطی اور صحرائی قوموں پر تحقیق کی ہے۔ ان کے مطابق موروں کا تعلق تکشک نسل سے ہے۔ مور اور سومرا دونوں شاہی نسل سے ہیں جو وادی سندھ کے سمیرئیبن بادشاہ ’ارواش‘ کے براہ راست جانشین ہیں۔

موروں نے دریا سنبھال لیے اور سمراؤں نے صحراؤں اور میدانی علاقوں پر جھنڈے گاڑ دیے۔ مور کے لفظ اور اس کے مشتقات سے بھی بہت سے تاریخی حقائق سامنے آئے ہیں۔ مور جھنگی، کشمور، موری، مورو وغیرہ سب اسی نسبت سے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ملتان کا پہلا نام مور استھان تھا جو بعد میں ملتان بن گیا۔ اسی طرح دریائے سواں کے کنارے راولپنڈی میں مورگاہ نامی قدیمی بستی کا تعلق بھی اسی مور خاندان سے ہو سکتا ہے جو دریا میں کشتی رانی کرتے تھے۔

سکندر 323 قبل مسیح میں بابل پہنچ کر مر گیا۔ سکندر نے اپنی فتوحات کو مستحکم بنانے والا کوئی قابل وارث اپنے پیچھے نہیں چھوڑا تھا۔ اس کے تمام مفتوحہ علاقے اس کے فوجی جرنیلوں نے آپس میں بانٹ لیے تھے۔چندر گپت موریہ نے ٹیکسلا سے لے کر وادی سندھ تک سکندر کے چھوڑے ہوئے گورنروں پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری رکھیں اور بہت مختصر وقت میں ان علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ سلیوکس یہ قبضہ چھڑوانے کے لیے بابل سے سندھ آیا مگر305 قبل مسیح میں چندرگپت سے شکست کھا گیا۔

اس کے بعد جلد ہی چندر گپت نے اپنے اتالیق کوٹلیہ چانکیہ کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے مگدھ پر حملہ کر کے اسے بھی زیر کر لیا۔ یوں322 قبل مسیح میں اس عظیم موریہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔

چندر گپت موریہ جین مت کا پیروکار تھا اس کے بعد اس کا بیٹا بندو سار اور پھر اس کا بیٹا اشوک حکمران بنا جسے تاریخ نے اعظم کا خطاب دیا۔

اشوک نے بدھ مت قبول کر کے اس ریاستی دھرم کی حیثیت دی۔ اس کے دور میں پاٹلی پترا کے بعد ٹیکسلا کو دوسری راجدھانی کی حیثیت ملی جس میں گندھارا ریجن کو بہت ترقی ملی۔

🏹🔥 راؤ بیکا جی راٹھور ساہو — بیکانیر کے بانی 🔥🏹راجستھان کی تاریخ میں راؤ بیکا جی راٹھور ساہو کا نام ایک ایسے فرمانروا کے...
03/09/2026

🏹🔥 راؤ بیکا جی راٹھور ساہو — بیکانیر کے بانی 🔥🏹

راجستھان کی تاریخ میں راؤ بیکا جی راٹھور ساہو کا نام ایک ایسے فرمانروا کے طور پر زندہ ہے جس نے صحرائی خطے جنگل دیش میں ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھ کر تاریخ کا رخ بدل دیا۔

👑 راؤ جودھا کے فرزند
راؤ بیکا جی، راؤ جودھا کے صاحبزادے تھے، جنہوں نے 1459ء میں جودھپور کی بنیاد رکھی۔ اسی عظیم راٹھور خاندان سے راؤ بیکا جی نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔

⚔️ 1485ء کے بعد — جنگل دیش کی جانب پیش قدمی
روایات کے مطابق راؤ بیکا جی نے مارواڑ سے شمال کی جانب سفر کیا اور جنگل دیش کے علاقے میں اپنی سیاسی قوت قائم کرنے کا آغاز کیا۔ اس خطے میں پہلے سے مختلف مقامی قبائل اور طاقتیں موجود تھیں۔

🏰 1488ء — بیکانیر ریاست کا قیام
تقریباً 1488ء میں راؤ بیکا جی نے ایک نئے مرکز کی بنیاد رکھی، جو بعد میں بیکانیر کے نام سے مشہور ہوا۔ اسی واقعے کو بیکانیر ریاست کے قیام کا بنیادی نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

⚔️ مقامی طاقتوں کے ساتھ کشمکش
ریاست کے قیام کے ابتدائی دور میں راؤ بیکا جی کو مقامی حکمرانوں اور قبائلی طاقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگی قوت، سفارت کاری اور مقامی اتحادوں کے ذریعے راٹھور اقتدار مضبوط ہوتا گیا۔

👑 16ویں صدی — ریاست کی توسیع
راؤ بیکا جی کے جانشینوں نے ریاست کو مزید منظم اور وسیع کیا۔ بیکانیر شمالی راجستھان کی ایک اہم ریاست بن گیا اور اس کے تجارتی راستوں کی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔

🏰 1589ء–1594ء — جوناگڑھ قلعہ
بیکانیر کے حکمران رائے سنگھ نے مغل بادشاہ اکبر کے دور میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اسی دور میں بیکانیر کا عظیم جوناگڑھ قلعہ تعمیر کیا گیا، جو آج بھی راٹھور حکمرانی کی شاندار یادگار ہے۔

🤝 مغل سلطنت سے تعلق
بیکانیر کے راٹھور حکمرانوں نے مغل سلطنت کے ساتھ سیاسی اور فوجی تعلقات قائم کیے۔ اس تعلق نے بیکانیر کو خطے میں مزید استحکام اور سیاسی اہمیت فراہم کی۔

🐪 تجارتی راستوں کا اہم مرکز
بیکانیر کا محلِ وقوع اسے صحرائی تجارت اور اونٹوں کے قافلوں کے لیے اہم بناتا گیا۔ پنجاب، سندھ، دہلی اور راجستھان کے درمیان گزرنے والے راستوں نے اس کی معاشی اہمیت میں اضافہ کیا۔

🇬🇧 1818ء — برطانوی معاہدہ
بیکانیر ریاست نے 1818ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا اور برطانوی دور میں ایک باقاعدہ Princely State کے طور پر برقرار رہی۔

🇮🇳 1947ء کے بعد
برصغیر کی آزادی کے بعد بیکانیر کی شاہی ریاست کا دور ختم ہوا اور بالآخر یہ جدید ریاست راجستھان کا حصہ بن گئی۔

🏹 راؤ بیکا جی راٹھور ساہو کی تاریخی میراث

1488ء میں قائم ہونے والی وہ ریاست، جو ایک صحرائی خطے میں ایک عزم سے وجود میں آئی، صدیوں تک قائم رہی۔

راؤ بیکا جی راٹھور ساہو کی داستان صرف ایک شہر کے قیام کی داستان نہیں؛ یہ عزم، جنگی حکمتِ عملی، سفارت کاری، ریاست سازی اور راٹھور ورثے کی داستان ہے۔

🔥 جنگل دیش سے بیکانیر تک — ایک نام، ایک عزم، ایک تاریخ۔

🏹 راؤ بیکا جی راٹھور ساہو — بیکانیر کے عظیم بانی۔



#بیکانیر


30/08/2026

پنجابی اور سرائیکی زبان

27/08/2026

ملتان وہاڑی چوک ماں بیٹی پر داماد کا قاتلانہ حملہ بیوی قتل جبکہ ساس زخمی نشتر ہسپتال منتقل 🥺🚨

بائیکاٹ بائیکاٹ بائیکاٹ حنا نیازی دے پروگرام اچ مجاہد بھنگی نے سرائیکی زبان دی توہیں کیتی ھے ایندی مزمت کریندے ھیں تے مج...
20/08/2026

بائیکاٹ بائیکاٹ بائیکاٹ
حنا نیازی دے پروگرام اچ مجاہد بھنگی نے سرائیکی زبان دی توہیں کیتی ھے ایندی مزمت کریندے ھیں تے مجاہد بھنگی دا مکمل بائیکاٹ کریندے ھیں ڄیڑے پروگرام اچ مجاہد بھنگی کوں سݙا ویسی اس پروگرام دا وی بائیکاٹ کیتا ویسی ۔
منصور ملنگی سئیں سرائیکی وسیب دا فخر ھائ انہاں اپݨی لاجواب آواز تے انداز نال سرائیکی زبان کوں امر کیتا انہاں دے ناں تے مارکیٹ اچ جعلی پراڈکٹ آ گۓ ھن نکلاں کول ہوشیار راؤ مجاہد بھنگی انہاں دا نا استعمال کریندے ھوۓ منصور ملنگی سئیں کوں بدنام کریندے پۓ ھن ۔
سلطان باھو رح تے منصور ملنگی سئیں دا جھنگ سرائیکی وطن دا حصہ ھے تے حصہ راسی صوبہ سرائیکستان جھنگ دے بغیر نامکمل ھے ۔

14/08/2026
🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک 🇵🇰سہو جٹ فیڈریشن انٹرنیشنل کی جانب سے پوری پاکستانی قوم کو یومِ آزادی 14 اگست کی دلی مبارکباد۔آئیں ا...
13/08/2026

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک 🇵🇰

سہو جٹ فیڈریشن انٹرنیشنل کی جانب سے پوری پاکستانی قوم کو یومِ آزادی 14 اگست کی دلی مبارکباد۔

آئیں اس آزادی کی قدر کرتے ہوئے پاکستان کی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ہم عہد کرتے ہیں کہ وطنِ عزیز کی سربلندی، قومی یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔

پاکستان زندہ باد 🇵🇰
سہو جٹ فیڈریشن انٹرنیشنل پائندہ باد

تعزیتی پیغامنہایت افسوس کے ساتھ سردار گرجیت سنگھ سہو، سب انسپکٹر پنجاب پولیس، ضلع مانسا (انڈیا) کے انتقال کی خبر ملی۔ان ...
10/08/2026

تعزیتی پیغام
نہایت افسوس کے ساتھ سردار گرجیت سنگھ سہو، سب انسپکٹر پنجاب پولیس، ضلع مانسا (انڈیا) کے انتقال کی خبر ملی۔
ان کی وفات پر سہو جٹ فیڈریشن انٹرنیشنل اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور ساتھیوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔
Rest in Peace, Sardar Gurjit Singh Saho.
Saho Jat Federation International

کنگ راجا جے دَرَتھ سہوراجا جے دَرَتھ سہو قدیم برصغیر کی معروف شاہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ قدیم روایات میں ان کا تعلق ...
09/08/2026

کنگ راجا جے دَرَتھ سہو
راجا جے دَرَتھ سہو قدیم برصغیر کی معروف شاہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ قدیم روایات میں ان کا تعلق سندھو اور سَؤِیر کے خطے سے بیان کیا گیا ہے۔ انہیں ایک بااثر اور بہادر فرمانروا کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی حکمرانی کا مرکز قدیم سندھ، دریائے سندھ کے زیریں علاقے اور سَؤِیر سے منسوب کیے جاتے ہیں، جبکہ شِوی (Sivi)، سندھُو (Sindhu) اور سَؤِیر (Sauvira) کے علاقوں کے جنگجوؤں کا بھی ان کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔
راجا جے دَرَتھ سہو کا زمانہ مہابھارت کے روایتی دور سے وابستہ ہے۔ ان کی حکومت کے آغاز یا اختتام کا کوئی متفقہ تاریخی سال موجود نہیں، تاہم روایتی ہندوستانی تاریخ میں اس دور کو تقریباً 3100 قبل مسیح کے آس پاس رکھا جاتا ہے۔ یہ تاریخ روایتی ہے، قطعی تاریخی سنہ نہیں۔
سندھو اور سَؤِیر کی قدیم سرزمین میں راجا جے دَرَتھ سہو کا نام ایک نمایاں شاہی روایت کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
راجا جے دَرَتھ سہو
King Jayadrath Saho
Saho Jat Federation International

تُبَّع ابو کَرِب اسعد حِمیری سہوتُبَّع ابو کَرِب اسعد حِمیری سہو قدیم یمن کے عظیم اور بااثر بادشاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ...
09/08/2026

تُبَّع ابو کَرِب اسعد حِمیری سہو

تُبَّع ابو کَرِب اسعد حِمیری سہو قدیم یمن کے عظیم اور بااثر بادشاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق قدیم حِمیری سہو سلطنتِ یمن سے تھا اور وہ اپنے دور کے طاقتور فرمانرواؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

ان کے دور میں حِمیری سہو سلطنت نے جنوبی عرب میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ وسیع کیا۔ ابو کَرِب اسعد حِمیری سہو کا نام قدیم یمن، سبا اور ذُو رَیدان کی تاریخ کے ساتھ منسلک ملتا ہے۔

اسلامی تاریخی روایات میں ان کے سفر، مدینہ (یثرب) آمد اور وہاں کے اہلِ علم سے ملاقات سمیت کئی واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں تاریخی روایات میں مختلف تفصیلات ملتی ہیں، اس لیے ہر روایت کو مستند تاریخی حقیقت سمجھنا ضروری نہیں۔

تُبَّع ابو کَرِب اسعد حِمیری سہو — قدیم یمن کی تاریخ کا ایک نمایاں نام

سہو جٹ فیڈریشن انٹرنیشنل
Sahu Jat Federation International

Address

Orient Mall
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saho Jat Federation International posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Saho Jat Federation International:

Shortcuts

Share