12/06/2026
عدالتِ عظمیٰ نے ملازمین کی تنخواہوں میں تفاوت ختم کرنے کے حوالے سے جن اہم قانونی اور انتظامی پہلوؤں پر زور دیا ہے، وہ درج ذیل ہیں:
1. آئین کے آرٹیکل 25 (برابری کا حق) کی خلاف ورزی:
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ ایک ہی گریڈ (BPS) میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں دگنا یا تگنا فرق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 (ملازمین کے یکساں حقوق) اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ عدالت کے مطابق، جب گریڈ اور تعلیمی قابلیت ایک جیسی ہو، تو الاؤنسز کے نام پر اتنا بڑا فرق برقرار رکھنا امتیازی سلوک ہے۔
2. سیکریٹریٹ اور فیلڈ محکموں کا فرق
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے مشاہدات میں یہ بات بھی سامنے لائی کہ سیکریٹریٹ (سیکرٹریز اور ان کے اسٹاف) کے ملازمین کو خصوصی الاؤنسز (جیسے سیکریٹریٹ الاؤنس) دیے جاتے ہیں، جبکہ اٹیچڈ ڈپارٹمنٹس، فیلڈ دفاتر اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے ملازمین کو ان سے محروم رکھا جاتا ہے۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ اس خلیج کو پُر کیا جائے کیونکہ فیلڈ کے ملازمین بھی اسی ریاست کے لیے کام کرتے ہیں۔
3. یکساں پالیسی (Uniform Policy) وضع کرنے کی ہدایت
اگرچہ عدالت مالیاتی بجٹ بنانا حکومت کا کام سمجھتی ہے، لیکن تنخواہوں میں شدید تفاوت کے کیسز پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باقاعدہ ہدایات جاری کیں کہ:
تمام محکموں کے ملازمین کے لیے ایک جیسے رولز اور الاؤنسز کا فریم ورک تیار کیا جائے۔
الاؤنسز کی تقسیم میں موجود تفریق کو دور کرنے کے لیے "انوملی کمیٹیوں" (Anomaly Committees) کو متحرک کیا جائے تاکہ کسی بھی گریڈ کے ملازم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
نوٹ: سپریم کورٹ کے اسی سخت موقف، عدالتی احکامات اور ملازمین کی تنظیموں کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں حکومت نے ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) متعارف کروایا تھا تاکہ جن محکموں کو پہلے کوئی اضافی الاؤنس نہیں مل رہا تھا، ان کی تنخواہوں کا فرق کسی حد تک کم کیا جا سکے۔