MRA Almari refrigeration & electric pvt

MRA Almari refrigeration & electric pvt repair and maintenance refrigeration and air conditioning all seeds canola wheat and mustard available and pesticides product available

all seead canola and wheat

21/07/2025
MRA Almari refrigeration electric &pvtContact 📞us for 😌summer 03057234219Mmansoor Islam
02/04/2025

MRA Almari refrigeration electric &pvt
Contact 📞us for 😌summer
03057234219
Mmansoor Islam

MRA Almari refrigeration & electric pvt Contact us for comfort summer03057234219 M Mansoor Islam
02/04/2025

MRA Almari refrigeration & electric pvt
Contact us for comfort summer
03057234219
M Mansoor Islam

06/05/2024

کچھ دن پہلے مجھے پڑوسی ملک کے مشہور شو کپل شرما کا شو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں مہمان خصوصی بہترین ایکٹر اور مسٹر پرفیکٹ عامر خان تھے۔ یہ شو میں نے خاص طور پر اس لیے دیکھا کہ میں نے یوٹیوب پر عامر خان کی تعلیم و تربیت پر کچھ ویڈیوز دیکھ رکھی تھیں اور مزید ان کے بارے میں جاننے کی خواہش رکھتا تھا۔

مجھے عامر خان کی باتوں میں سے دو اہم نکات ملے۔ ایک تو ان کا یہ کہنا کہ میں ڈپریشن کے دور میں کپل شرما کا شو دیکھا کرتا تھا۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اتنی کامیاب شخصیت پر بھی ایسا وقت آتا ہے کہ وہ مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہوتا ہے۔ اتنی شہرت دولت اور نام ہونے کے باوجود مسٹر پرفیکٹ کو یہ سب سہنا پڑا۔ تو میں اور آپ جیسے عام آدمی کو بھی یہ مسئلہ سہنا پڑتا ہے۔ ہم ان لوگوں کا بالکل خیال نہیں کرتے جو کسی ایسے دور سے گزر رہے ہوتے ہیں اور ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں اور کتنے ہی لوگ اس سے لڑتے لڑتے آخر کو زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ اس وقت کے دوران پوری توجہ اور خلوص سے دوسرے کو سننا چاہیے اور اس کا سہارا بننا چاہیے ۔

دوسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ جب عامر خان سے سوال کیا گیا کہ وہ ایوارڈ شوز یا دوسری تقریبات میں بہت کم دکھائی دیتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں وہ وقت ضائع کرنے کی بجائے کتابیں پڑھنا پسند کرتا ہوں ۔ اب یہ وہ چیز ہے جو ہر کامیاب آدمی کہیں نہ کہیں ضرور کہتا ہے آپ یوٹیوب دیکھ لیں جتنے بھی بڑے بڑے نام ہیں وہ اس کتابیں ضرور پڑھتے ہیں یعنی کتابوں میں کچھ نہ کچھ ایسا تو ضرور ہے جو انہیں باندھے رکھتا ہے۔ اور ہمارے ہاں یہ جب ایسی بات کریں تو لوگ آگے سے جواب دیتے ہیں "ہن کون کتاباں پڑھدا اے ،ہن تے موبیلاں وچ سارا کش ہوندا اے" لیکن پھر بھی کامیاب لوگ ان کتابوں کے دیوانے آخر کیوں ہیں؟؟
آپ کا ان دو باتوں کے بارے میں کیا خیال ہے میں جاننا چاہوں گا میرے ساتھ جڑے ہوئے احباب کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟؟

31/03/2024

مرنے کے بعد اگر پتہ چلا کہ اللّہ کا وجود نہیں ہے؟

ہریش کمار۔ فزکس میں PhD کے بعد بھارت کی ایک اہم یونیورسٹی میں لیکچرار پوسٹ ہوا۔ ہندو دھرم سے پہلے ہی متنفر تھا۔ 1986 لندن میں دوران تعلیم اسٹیفین ہاکنگز کے لیکچرز اور کتب سے ایسا متعارف ہوا کہ خدا کا ہی منکر ہو گیا۔ اور ایسا منکر کہ بڑے بڑے مسلم، عیسائی اور یہودی علماء سے بھرپور مباحثہ کرتا۔
یہاں تک کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی مجھے قائل نہ کر سکے۔

ڈاکٹر بتاتے ہے۔کہ 2005 کی چھٹی کے دن کی ایک صبح مسلم سبزی فروش نے بیل کی۔ ہم گزشتہ 20 سال سے سبزی اسی سے خرید رہے تھے۔ اس دن میں نے اسے چائے کی آفر کی تو اس نے قبول کر لی۔ حسب معمول خدا یا اللّہ کے وجود پر اس سے بحث شروع کر دی۔ 30 منٹ کی گفتگو سے معلوم ہوا وہ سیدھا سادہ مسلمان ہے۔ جو 5 وقت نماز پڑھتا ہے۔ ہاں وہ سودے میں بہت ہی صاف گو اور ایماندار تھا۔ مناسب دام میں بیچتا تھا۔ آخر چلتے ہوئے اس نے ایک ایسی بات کی جس نے میری زندگی ہی بدل دی۔ وہ کیا تھی:-
ڈاکٹر جی! تم نے خود بولا کہ تقریبا 6000 سے 10000 سال سے انسانی تاریخ میں پیغمبروں کی کہانیاں چل رہی ہیں اور سب کے سب ایک اللّہ، اور جنت دوزخ کی بات کرتے ہیں۔ اور سائنس مرنے کے بعد کے حالات کا جواب ہی نہیں دے سکتی۔ تو اب 2 ہی امکانات ہیں؛
1۔۔۔ اللّہ کا وجود نہیں ہے
2۔۔۔ اللّہ ہے
*اگر تو اللّہ کا وجود نہ ہوا* تو مرنے کے بعد ہم دونوں برابر ہونگے۔
لیکن *اگر آگے جا کر اللّہ موجود ہوا* آپ تو پھر پکڑے جائیں گے۔
دونوں صورتوں میں فائدے میں کون ہوا۔ آپ خود ہی فیصلہ کر لینا۔
اس لئے بہتر یہ ہے اللّہ کو مان لیں اور اس کے کہنے پر چلیں۔ اس کا قرآن تو انسان کا سیدھی راہ پہ چلنے کا کہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ساری زندگی (امکان)Probability کے لیکچرز دیئے۔ لیکن اس کے جانے کے بعد سوچا کہ اس Probability کی طرف تو کبھی میرا دھیان ہی نہیں گیا۔ کہ دونوں صورتوں میں *اللّہ کو ماننے والا فائدہ میں ہے* ۔
قصہ مختصر اس سوچ کے بعد خیال آیا کونسا آسمانی مذہب بہتر ہے۔ مذاہب کا علم تو مجھے پہلے ہی کافی تھا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ایک لیکچر میں 1400 سال سے پورا قرآن مجید کا حرف بحرف ایک ہونے کا سنا تو انگلینڈ میں کرسچن مشنری ادارے سے اس کی حقیقت دریافت کی۔ تو سب نے اس بات کی تصدیق کی۔
الحمداللہ آج مجھے اور میرے سارے گھر کو مسلمان ہوئے 15 سال ہو گئے۔ ۔ میں اسلامی تعلیمات کے لئے کیرالہ شفٹ ہو گیا۔
میری 3 بیٹیاں حافظ قرآن ہیں۔ اور اللّہ کریم نے میری زندگی ہی بدل دی۔ لیکن اس سبزی والے عبد الاحد سے دوبارہ میری ملاقات نہ ہو سکی۔ لیکن میں نے قبول اسلام کے بعد اپنا نام بھی عبد الاحد رکھا۔کیونکہ وہ ایک سچا مسلمان تھا-

31/03/2024

آپ کی توجہ کے لئے
پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اورسنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !

اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی ، قدرت کے قانون میں کسی قوم کے لئے اپالوجیز اور کسی کے لئے الاؤنسز نہیں ہوتے ، اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا
کلائیو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائ ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا
بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کا محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتارہا یا سجدے میں پڑا رہا تھا !
حیرت ہے ان دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خداداد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی او کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟ کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اورکوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے ، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،، کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے جہاں شادی کے دعوت ناموں پر آٹھ بجے کا وقت لکھا جاتا ہے اور کھانا رات کے بارہ اور ڈیڑھ بجے پیش کیا جاتا ہے اور مہمانوں کی پیشانیوں پر شکن پڑتی ہے نہ میزبانوں کے چہروں پر شرم کی جھلک نظر آتی ہے
پلیز قوم اور ملک کو بدلنا ہے تو مذاق کو بدلنے کی کوشش کرو جو ابھی تک کوئ خاص نظر نہیں آتی۔
کیا کو ئی امید ہے کہ ہم سیدھے راستے پر آجائیں گے؟آپ کی توجہ کے لئے
پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے پورے یورپ امریکہ جاپان آسٹریلیا اورسنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ، ادارہ، ہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں !

اللہ کی سنت کسی کیلئے نہیں بدلتی ، قدرت کے قانون میں کسی قوم کے لئے اپالوجیز اور کسی کے لئے الاؤنسز نہیں ہوتے ، اسکا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا
کلائیو محنت کریگا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائ ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائیگا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا، بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہو' ناکام رہے گا
بدر میں فرشتے نصرت کیلئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کا محبوبؐ رات بھر یا تو پالیسی بناتارہا یا سجدے میں پڑا رہا تھا !
حیرت ہے ان دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اسکا بال بیکا نہیں کرسکتا کیا سلطنتِ خداداد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا نیم سرکاری ادارے،، ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے،، کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈی سی او کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟ کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، اورکوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے ، جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں،، کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے جہاں شادی کے دعوت ناموں پر آٹھ بجے کا وقت لکھا جاتا ہے اور کھانا رات کے بارہ اور ڈیڑھ بجے پیش کیا جاتا ہے اور مہمانوں کی پیشانیوں پر شکن پڑتی ہے نہ میزبانوں کے چہروں پر شرم کی جھلک نظر آتی ہے
پلیز قوم اور ملک کو بدلنا ہے تو مذاق کو بدلنے کی کوشش کرو جو ابھی تک کوئ خاص نظر نہیں آتی۔
کیا کو ئی امید ہے کہ ہم سیدھے راستے پر آجائیں گے؟

26/03/2024

‏مسلم سائنس دانوں کا جو حشر مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا وہ عوام کو نہیں بتایا جاتا۔ آج بڑے فخر سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہمارے مسلم سائنس دان تھے اگرچہ علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ان میں سے چھ سائنسدانوں کا مختصر احوال پیش خدمت ہے جنکو زیادہ تر مرتد کہے کر مار دیا گیا یا ان پر زندگی تنگ کر دی گئی

یعقوب الکندی
فلسفے، طبیعات، ریاضی، طب، موسیقی، کیمیا اور فلکیات کا ماہر تھا۔ الکندی کی فکر کے مخالف خلیفہ کو اقتدار ملا تو مُلّا کو خوش کرنے کی خاطر الکندی کا کتب خانہ ضبط کر کے اس کو ساٹھ برس کی عمر میں سرعام کوڑے مارے گئے۔ ہر کوڑے پر الکندی تکلیف سے چیخ مارتا تھا اورتماش بین عوام قہقہہ لگاتے تھے۔🤐

ابن رشد
یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اندلس کے مشہورعالم ابن رشد کو بے دین قراردے کراس کی کتابیں نذرآتش کر دی گئیں۔ ایک روایت کے مطابق اسے جامع مسجد کے ستون سے باندھا گیا اورنمازیوں نے اس کے منہ پر تھوکا۔ اس عظیم عالم نے زندگی کے آخری دن ذلت اور گمنامی کی حالت میں بسر کیے۔🤐
ابن سینا
جدید طب کے بانی ابن سینا کو بھی گمراہی کا مرتکب اورمرتد قراردیا گیا۔ مختلف حکمران اس کے تعاقب میں رہے اوروہ جان بچا کر چھپتا پھرتا رہا۔ اس نے اپنی وہ کتاب جو چھ سو سال تک مشرق اورمغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی، یعنی القانون فی الطب، حالت روپوشی میں لکھی۔🤐

ذکریا الرازی
عظیم فلسفی، کیمیا دان، فلکیات دان اور طبیب زکریا الرازی کوجھوٹا، ملحد اورکافر قرار دیا گیا۔ حاکم وقت نے حکم سنایا کہ رازی کی کتاب اس وقت تک اس کے سر پر ماری جائے جب تک یا تو کتاب نہیں پھٹ جاتی یا رازی کا سر۔ اس طرح باربارکتابیں سرپہ مارے جانے کی وجہ سے رازی اندھا ہو گیا اوراس کے بعد موت تک کبھی نہ دیکھ سکا۔🤐

جابر ابن حیان
جسے مغربی دنیا انہیں جدید کیمیاء کا فادر کہتے ہیں جس نے کیماء ، طب ، فلسفہ اور فلکیات پر کام کیا۔ جس کی کتاب الکینیاء اور کتاب السابعین صرف مظرب کی لائبریریوں میں ملتی ہے ۔ جابر بن حیان کا سے انتقامی سلوک : حکومت وقت کو جابر کی بڑھتی ہوئی شہرتکھٹکنے لگی۔ جابر کا خراسان میں رہنا مشکل ہو گیا۔ اس کی والدہ کو کوڑے مار مار کر شہید کر دیا گیا۔ جابر اپنی کتابوں اور لیبارٹری کا مختصر سامان سمیٹ کر عراق کے شہر بصرہ چلا گیا۔ بصرہ کے لوگ جابر کے علم کے گرویدہ ہو گئے۔ جابر جیسی کیمیا گری اور علمی گفتگو انہوں نے اس سے قبل کبھی نہیں سنی تھی۔ 🤐

جابر نے انہیں زمین سے آسمان اور زمین سے اس کی تہوں تک کا سفر کروا دیا۔ حاکم بصرہ کو بھی اس کی شہرت برداشت نہ ہوئی ۔ حاکم کے درباری جابر کی بڑھتی ہوئی علمی شہرت اور مسلکی اختلاف کو حکومت کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ ایک دن جابر کو الزامات کی زد میں لا کر قاضی بصرہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ قاضی نے حاکم کی ایما پر جابر کو سزائے موت سنا دی۔ اور یوں جس جابر بن حیان کو آج مغرب بابائے کیمیا ”Father of Chemistry“ کہتی ہے، اس کی کیمیا گری، علم اور سائنسی ایجادات کو اس کے اپنے ہم مذہبوں نے جادوگری، کذب اور کفر قرار دے دیا۔۔

Address

Mochh

Telephone

+923057234219

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MRA Almari refrigeration & electric pvt posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to MRA Almari refrigeration & electric pvt:

Share