06/05/2026
یہ ھے ہماری اخلاقی اقدار کی گراوٹ کی آخری نشانی
موصوف اپنی ماں بیٹی کو چیک کرانے آئے
ڈاکٹرز نے چیک کیا بیڈ دیا دوائی دی
اور پھر جب طبیعت مریض کی ٹھیک ہوئی ڈاکٹرز اپنے ڈیوٹی روم آگئیں
رات کے چار سے پانچ بجے کوئی مریض نہی
ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹرز بیٹھی ہیں
دروازہ آفس کا کھلا ھے تا کہ جو نیا مریض آئے فوری اندر تشریف لائے
رات کے چار سے پانچ بجے مریض نہی آیا چونکہ لیڈی ڈاکٹرز صبح آٹھ بجے سے ایمرجنسی میں پتا نہی کھانا کھانے کا وقت بھی ملا یا نہی سارا دن ساری رات مریض دیکھتے رہے
اب ڈاکٹر ہیں انسان بھی توہیں
ایک انتہائی قابل احترام لیڈی ڈاکٹر میز پر سر رکھا تا کہ ہیڈ ریسٹ ملے کچھ دیر آنکھے بند کرکے ایک نے کرسی کی ٹیک لگا لی
مگر انسان کے روپ میں پھرتے جانور جس کے مریض کا مفت اور فوری علاج انہی ڈاکٹرز صاحبان نے کیا تھا اب وہ ٹھیک خطرے سے باہر
اب اس معاشرے کے ناسور کو سوشل میڈیا کےلئے تصویر لینے کا موقع ملا اور اپنی محسن اور محسن انسانیت مسیحاؤں کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر لگادی
اس ناسور کو یہ نہی پتا اس کی ماہ بہن بیٹی بھی موجود ھے گھر میں
ہمارے معاشرے کے دوہرے اصول
اگر پولیس مجرم کو پکڑنے گھر کی دیوار پھلانگے تو چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال
تو دوسری طرف ان محسن انسانیت کی تصویر بنا کر معاشرے میں بدنام کرنے کی کوشش
قانون قدرت ھے ایسا کروگے تو یہ آگ تمارے گھر تک ضرور پہچے گی کل کو تماری ماں بہن بیٹی کی تصویریں اور عزتیں نیلام ہونگی تب رو بھی نہی سکوگے
دیکھ لو جو کل تک سیاہ و سفید کے مالک تھے اب جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے
یہ تصویریں بہاول وکٹوریہ ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ کی رات 4-5 بجے کی لی گئیں
ھماری تحقیقاتی ٹیم تصویر بنانے کے گھر ان کی ماں اور بہن تک اور پرسنل تصویریں لینے میں کامیاب ھوگئی ھے
مگر اخلاقی اقدار کی خاطر شئیر نہی کی جارہی ہیں
میں نے خود ڈاکٹرز کو 30 30 گھنٹے کام کرتے دیکھا ہے اور اگر ہم ڈاکٹرز کو 30 30 گھنٹے کام کرنے پرعزت نہیں دے سکتے تو لعنت ہے ایسی عوام پر جو ایسی پکچرز لگاتے ہیں