07/05/2026
گھر بیٹھے حصول پاسپورٹ!
(اعتراف)
صلاح الدین قاضی
موجودہ حکومت نے عوام کی سہولت کیلئے ایک بڑا اور شاندار قدم اٹھاتے ہوئے حصول پاسپورٹ کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کیا ھے۔
ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ایک اہم ھونے والے اجلاس میں یہ منظورہ دی گئی ھے کہ اب پاکستانی شہریوں کو آفس کے تھکا دینے والے چکر،ایجنٹ مافیا کے لمبے چوڑے مشورے، بابو صاحبان کے نازیبا رویوں اور شدید گرمی کے باعث لمبی قطاروں میں کھڑا ہونے کی بجائے اپنے دفتر،گھر اور
حجرے میں آرام سے بیٹھ کر درخواست دے سکینگے۔
پچھلے دنوں ڈی جی پاسپورٹ اور نادرا حکام کی ٹیکنیکل ٹیم نے ایک اجلاس میں شرکت کی۔جس میں پاسپورٹ کے فرسودہ نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس
میں موجودہ حکومت کی وژن کے مطابق نئ ٹیکنالوجی متعارف کروانے اور موجودہ پالیسیوں کو ڈیجیٹلائز تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر بریفنگ دی گئ۔نئ پالیسی کے تحت شہریوں کو آن لائن پورٹل یا موبائل ایپ کے ذریعے اپنی تفصیلات جمع کرانے کی سہولت ملیگی۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس ٹکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف ایجنٹ مافیا کا خاتمہ ھوگا بلکہ بابوں صاحبان کی نازیبا رویوں اور غلطیوں کے امکانات بھی کم ھونگے۔
گزشتہ کئ سالوں سے ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں رش اور عملے کی کمی کے شکایات عام رہی ہیں۔شہریوں کو پاسپورٹ بنوانے کیلئے کئ کئ گھنٹے لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے اور ڈیٹا انٹری میں بھی اہلکار ٹال مٹول سے کام لیتا ھے اور درخواست گزاروں کا کافی وقت ضائع ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل نظام سے مذکورہ خرابیاں،کرپشن اور رشوت ستانی کے مواقع کم ھو جائینگے کیونکہ درخواست گزار اور اہلکاروں کے درمیان رابطے بہت محدود ہو جائینگے اور پاسپورٹ اہلکار بھی من مانی نہیں کر سکے گا۔دفاتر پر بوجھ بھی کم ہو جائیگا اور وہ آفراد جن کا آفس جانا ضروری ہو انکو بیشک بہتر خدمات میسر آئینگے۔
جی ہاں جب سے محمد علی رندھاوا نے بطور ڈی جی چاج سنھبالا ھے روزانہ کی بنیاد پر پاسپورٹ سائلین کی بہتری کیلئے کوئی نہ کوئی قدم اٹھاتے ہیں۔موصوف اس سے پہلے آتے ہی مختلف کیٹیگری کے پاسپورٹ دورانیے میں کافی کمی لا چکے ہیں۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ھے کہ معمولی نوعیت کے بلیک لسٹ اور دوسرے مسائل جو پاسپورٹ سائلین کو درپیش ہیں موجودہ حکومت اور ڈی جی محمد علی رندھاوا کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاھئیے۔