26/04/2026
باچا خان بابا کا میانوالی کا دورہ
عبدالغفار خان نے اپنے میانوالی کے دورے کا ذکر اپنی کتاب میری زندگی اور جدوجہد میں کچھ یوں کیا ہے:
"جب انگریزوں نے اعلان کیا کہ ہم اس ملک کو چھوڑ کر جا رہے ہیں تو میں میانوالی چلا گیا۔ داؤد خیل میں ایک بڑا جلسہ ہوا۔ میانوالی کے پشتون نیازی ہیں، جو بہت اچھے اور بہادر لوگ ہیں۔ ہمارے جلسے میں لوگ بڑی تعداد میں اور بڑے شوق سے آئے تھے۔
اس جلسے میں میں نے تقریر کی، جس کی چند باتیں مجھے یاد ہیں، وہ آپ لوگوں کو بتاتا ہوں۔ میں نے کہا:
اے بھائیو! آج کی دنیا قوم پرستی کی دنیا ہے۔ آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ جس قوم میں قوم پرستی اور بھائی چارہ پیدا ہوا ہے، وہ لوگ ترقی کر گئے ہیں اور آباد ہو گئے ہیں۔
ہم پشتون بھی ایک قوم ہیں، تو پھر ہم پیچھے کیوں رہ گئے؟ ہم اس لیے پیچھے رہ گئے کہ ہم میں قوم پرستی، بھائی چارہ، پیار محبت اور اتفاق نہیں ہے۔
میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ آپ لوگ میری قوم ہو، لیکن آپ لوگ زبان، پشتون ولی، تمدن چھوڑ چکے ہو، حتیٰ کہ لنگ بھی باندھنا شروع کر دی ہے۔
یہ بھی سن لو کہ جو پرندہ اپنے غول سے جدا ہو جاتا ہے، وہ گم ہو جاتا ہے۔ ابھی فیصلے کی گھڑی ہے۔ یہ میری قومیت اور عزیز داری کا فرض تھا کہ آپ لوگوں سے پوچھ لوں کہ آپ کیا کریں گے؟ ہمارے ساتھ رہیں گے یا پنجاب کے ساتھ؟
ہمیں تو انگریزوں نے جدا کیا تھا، جب وہ یہاں سے جائیں گے تو آپ لوگ ہمارے ساتھ رہو گے یا پنجاب کے ساتھ؟
اس پر ایک آدمی اٹھا اور کہا: ہم پشتونوں کے بھائی ہیں اور آپ لوگوں کے ساتھ رہیں گے۔ ہم اپنے بچوں کو پشتو زبان سکھائیں گے اور خود بھی سیکھیں گے۔ لیکن باچا خان، آپ ہم سے یہ وعدہ کریں کہ ہر چھ ماہ میں کم از کم ایک بار ہمارے پاس ضرور آئیں گے۔
میرا اور ان کا وعدہ ہو گیا اور جلسہ ختم ہوا۔ پھر ملک آزاد ہوا، پاکستان بنا، لیکن میں آج تک ان لوگوں سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کر سکا۔ کیونکہ جب سے پاکستان بنا ہے، میانوالی تو چھوڑیں، اپنے صوبے میں بھی مجھے خدمت کا موقع نہیں دیا گیا۔ زیادہ تر وقت یا تو جیل میں رہا یا گھر پر نظر بند رہا۔"
دورے کی مزید تفصیل (عینی شاہد کے بیان کے مطابق):
باچا خان کے داؤد خیل کے دورے کے بارے میں ہمارے ایک معزز فالوور نے کچھ یوں بیان کیا:
جب باچا خان داؤد خیل آئے تو جلسے کا اہتمام چمن خان لمے خیل نے کیا۔ جب وہ انہیں اپنے گھر لے کر آئے تو وہ باچا خان کو ہمارے گھر بھی لے آئے تاکہ میرے والد صاحب کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی جا سکے۔
میرے والد صاحب کے مطابق وہاں مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے نہ صرف جلسے میں شرکت کی بلکہ تقریر بھی کی۔
جلسے کے بعد وہی ہوا جو آج کل بھی پاکستان میں ہو رہا ہے۔ میانوالی میں پولیس نے کریک ڈاؤن شروع کیا اور رہنماؤں۔شرکا کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
اگلے دن، اتفاق سے والد صاحب گھر پر موجود نہ تھے، اس لیے گرفتاری سے بچ گئے، لیکن چمن خان پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔ ان کی گرفتاری کے بعد والد صاحب نے مناسب سمجھا کہ ان کی ضمانت کرائی جائے۔
خوش قسمتی سے نہ صرف ضمانت ہو گئی بلکہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال بعد مقدمہ بھی خارج ہو گیا۔ تاہم چمن خان تقریباً چھ ماہ جیل میں رہے، بعد ازاں وہ بھی ضمانت پر رہا ہو کر بری ہو گئے۔
اس گرفتاری اور مقدمے کا اثر یہ ہوا کہ یہ تحریک آگے نہ بڑھ سکی اور میانوالی کا الحاق نواب کالا باغ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پنجاب کے ساتھ ہو گیا۔ چونکہ داؤد خیل اور اس کے گرد و نواح پر کالا باغ کا خاصا اثر تھا، اس لیے ان کے اشارے پر کئی بااثر افراد خیبرپختونخوا کے بجائے پنجاب کے ساتھ الحاق کے حامی ہو گئے۔
میانوالی کی اس پٹی میں 1977 کے بعد کالا باغ کا اثر کچھ کم ہوا، ورنہ اس سے پہلے داؤد خیل اور اس کے گرد و نواح میں نواب اور بعد ازاں نوابزادگان کا مکمل اثر و رسوخ قائم تھا۔
تحریر و ترتیب۔ نیازی پٹھان قبیلہ
゚