نیازی پٹھان قبیلہ

نیازی پٹھان قبیلہ Niazi tribe lives in Pakistan, Afghanistan,and other parts of world.

We aim to unite and connect them by focusing on history culture and brotherhood.

ہمارا نیازی قبیلہ کااصل پیج فیسبک نےڈیلیٹ کردیاہےانشااللہ قبیلےکی خدمت کاسلسلہ یہاں سےچلےگااسےفولو کرلیں

باچا خان بابا کا میانوالی کا دورہعبدالغفار خان نے اپنے میانوالی کے دورے کا ذکر اپنی کتاب میری زندگی اور جدوجہد میں کچھ ی...
26/04/2026

باچا خان بابا کا میانوالی کا دورہ
عبدالغفار خان نے اپنے میانوالی کے دورے کا ذکر اپنی کتاب میری زندگی اور جدوجہد میں کچھ یوں کیا ہے:
"جب انگریزوں نے اعلان کیا کہ ہم اس ملک کو چھوڑ کر جا رہے ہیں تو میں میانوالی چلا گیا۔ داؤد خیل میں ایک بڑا جلسہ ہوا۔ میانوالی کے پشتون نیازی ہیں، جو بہت اچھے اور بہادر لوگ ہیں۔ ہمارے جلسے میں لوگ بڑی تعداد میں اور بڑے شوق سے آئے تھے۔
اس جلسے میں میں نے تقریر کی، جس کی چند باتیں مجھے یاد ہیں، وہ آپ لوگوں کو بتاتا ہوں۔ میں نے کہا:
اے بھائیو! آج کی دنیا قوم پرستی کی دنیا ہے۔ آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ جس قوم میں قوم پرستی اور بھائی چارہ پیدا ہوا ہے، وہ لوگ ترقی کر گئے ہیں اور آباد ہو گئے ہیں۔
ہم پشتون بھی ایک قوم ہیں، تو پھر ہم پیچھے کیوں رہ گئے؟ ہم اس لیے پیچھے رہ گئے کہ ہم میں قوم پرستی، بھائی چارہ، پیار محبت اور اتفاق نہیں ہے۔
میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں کہ آپ لوگ میری قوم ہو، لیکن آپ لوگ زبان، پشتون ولی، تمدن چھوڑ چکے ہو، حتیٰ کہ لنگ بھی باندھنا شروع کر دی ہے۔
یہ بھی سن لو کہ جو پرندہ اپنے غول سے جدا ہو جاتا ہے، وہ گم ہو جاتا ہے۔ ابھی فیصلے کی گھڑی ہے۔ یہ میری قومیت اور عزیز داری کا فرض تھا کہ آپ لوگوں سے پوچھ لوں کہ آپ کیا کریں گے؟ ہمارے ساتھ رہیں گے یا پنجاب کے ساتھ؟
ہمیں تو انگریزوں نے جدا کیا تھا، جب وہ یہاں سے جائیں گے تو آپ لوگ ہمارے ساتھ رہو گے یا پنجاب کے ساتھ؟
اس پر ایک آدمی اٹھا اور کہا: ہم پشتونوں کے بھائی ہیں اور آپ لوگوں کے ساتھ رہیں گے۔ ہم اپنے بچوں کو پشتو زبان سکھائیں گے اور خود بھی سیکھیں گے۔ لیکن باچا خان، آپ ہم سے یہ وعدہ کریں کہ ہر چھ ماہ میں کم از کم ایک بار ہمارے پاس ضرور آئیں گے۔
میرا اور ان کا وعدہ ہو گیا اور جلسہ ختم ہوا۔ پھر ملک آزاد ہوا، پاکستان بنا، لیکن میں آج تک ان لوگوں سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کر سکا۔ کیونکہ جب سے پاکستان بنا ہے، میانوالی تو چھوڑیں، اپنے صوبے میں بھی مجھے خدمت کا موقع نہیں دیا گیا۔ زیادہ تر وقت یا تو جیل میں رہا یا گھر پر نظر بند رہا۔"
دورے کی مزید تفصیل (عینی شاہد کے بیان کے مطابق):
باچا خان کے داؤد خیل کے دورے کے بارے میں ہمارے ایک معزز فالوور نے کچھ یوں بیان کیا:
جب باچا خان داؤد خیل آئے تو جلسے کا اہتمام چمن خان لمے خیل نے کیا۔ جب وہ انہیں اپنے گھر لے کر آئے تو وہ باچا خان کو ہمارے گھر بھی لے آئے تاکہ میرے والد صاحب کو جلسے میں شرکت کی دعوت دی جا سکے۔
میرے والد صاحب کے مطابق وہاں مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے نہ صرف جلسے میں شرکت کی بلکہ تقریر بھی کی۔
جلسے کے بعد وہی ہوا جو آج کل بھی پاکستان میں ہو رہا ہے۔ میانوالی میں پولیس نے کریک ڈاؤن شروع کیا اور رہنماؤں۔شرکا کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
اگلے دن، اتفاق سے والد صاحب گھر پر موجود نہ تھے، اس لیے گرفتاری سے بچ گئے، لیکن چمن خان پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔ ان کی گرفتاری کے بعد والد صاحب نے مناسب سمجھا کہ ان کی ضمانت کرائی جائے۔
خوش قسمتی سے نہ صرف ضمانت ہو گئی بلکہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال بعد مقدمہ بھی خارج ہو گیا۔ تاہم چمن خان تقریباً چھ ماہ جیل میں رہے، بعد ازاں وہ بھی ضمانت پر رہا ہو کر بری ہو گئے۔
اس گرفتاری اور مقدمے کا اثر یہ ہوا کہ یہ تحریک آگے نہ بڑھ سکی اور میانوالی کا الحاق نواب کالا باغ کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پنجاب کے ساتھ ہو گیا۔ چونکہ داؤد خیل اور اس کے گرد و نواح پر کالا باغ کا خاصا اثر تھا، اس لیے ان کے اشارے پر کئی بااثر افراد خیبرپختونخوا کے بجائے پنجاب کے ساتھ الحاق کے حامی ہو گئے۔
میانوالی کی اس پٹی میں 1977 کے بعد کالا باغ کا اثر کچھ کم ہوا، ورنہ اس سے پہلے داؤد خیل اور اس کے گرد و نواح میں نواب اور بعد ازاں نوابزادگان کا مکمل اثر و رسوخ قائم تھا۔

تحریر و ترتیب۔ نیازی پٹھان قبیلہ

ڈی ایس پی شائستہ خان کنڈی نیازی اماخیل ٹانک جو پولیس ٹریننگ سنٹر  ہنگو  میں بابا کے نام پر مشہور تھے ۔۔۔۔۔2000 میں ریٹائ...
25/04/2026

ڈی ایس پی شائستہ خان کنڈی نیازی اماخیل ٹانک جو پولیس ٹریننگ سنٹر ہنگو میں بابا کے نام پر مشہور تھے ۔۔۔۔۔
2000 میں ریٹائر ہوئے ۔۔۔

فخرئے نیازی قبیلہ...مرحوم DSP اکرام اللہ خان نیازی شہید خنکی خیل بلوخیللاہور میں ان کے نام پر نیازی چوک جب کہ میانوالی م...
25/04/2026

فخرئے نیازی قبیلہ...
مرحوم DSP اکرام اللہ خان نیازی شہید خنکی خیل بلوخیل
لاہور میں ان کے نام پر نیازی چوک جب کہ میانوالی میں اکرام شہید چوک ہے...جس کو ہم عام طور پر جہاز چوک کہتے ہیں..

باہی نیازی اور مچن خیلبابا طور باہی اور بابا مچن(یہ تحریر مشہور براڈکاسٹر اور شاعر مرحوم ظفر خان نیازی کی وال سے)  پشتو ...
19/04/2026

باہی نیازی اور مچن خیل
بابا طور باہی اور بابا مچن
(یہ تحریر مشہور براڈکاسٹر اور شاعر مرحوم ظفر خان نیازی کی وال سے)

پشتو اسپیکنگ ایریاز میں نیازیوں کو درویش جانا جاتا ہے ، وہاں ایک عام خیال ہے کہ سات نیازی مل کر دعا کریں تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے - کوئٹہ ریڈیو پاکستان میں میرے سینئر ساتھی مرحوم عزت نیازی سینئر پروڈیوسر شبقدر پشاور کے تھے ، جن کے سر کے بال سفید تھے - وہ مجھے بتاتے تھے کہ جب میں نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتا ہوں تو کئی لوگ بچے لے کر میرے انتظار میں ہوتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں ، آپ نیازی ہو ، اس بچے پر پھونک مار کر جاو - یہ سات نیازیوں والی بات مجھے انہوں نے بتائی تھی - وہ خود پشتو سپیکنگ نیازی تھے -
میں نے انہیں کہا ، یہ کسی نے ہمارے ساتھ سخت مذاق کیا ہے کیونکہ ہمارے ہاں سات نیازی کسی ایک بات پر متفق ہو جائیں ، یہ ممکن ہی نہیں - میں ان دنوں میں یعنی 1974 میں کوئٹہ میں تھا اور ان دنوں میرے سر کے بال کالے تھے -
لکی مروت کے بہت پیارے دوست راز مروت بتا رہے ہیں کہ سات بندوں کی دعا والی بات ہمارے ہاں نونا مروتوں کے بارے میں کہی جاتی ہے - نونا خیل ، بابا نونا کی اولاد ہے جو بابا مروت کے چار بیٹوں میں سے ایک تھے - نونا بابا کا مزار بھی وانا میں ہی بابا مچن کے مزار کے قریب ہے - مزید یہ کہ کرک ، بنوں اور لکی مروت میں مچن خیل نیازی خاصی تعداد میں آباد ہیں اور ان کا پشتو لہجہ وہی ہے جو وہاں کے دیگر پشتونوں کا ہے - مروت بھی نیازیوں کی طرح لودھی کی اولاد ہیں -
داود خیل کے ظفر جمالی بتا رہے ہیں کہ یہاں مچن خیلوں کا بہت بڑا قبیلہ آباد ہے اور ان کی شہرت سانپوں کو دم کرنے کی ہی ہے -
نیازیوں کی درویشی کا یہ امیج غالبا" باہی نیازیوں کی وجہ سے بنا ہے - موسے خیل ، داود خیل ، روکھڑی ، میانوالی ، نمل ، لاوہ اور تلہ گنگ کے علاقے میں باہی نیازی بہت کم تعداد میں آباد ہیں اور وہی درویشی اور فقیری ہی ان کا چلن ہے - یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ باقی نیازی بھائیوں کے ساتھ ان کی جائیداد کی سانجھ کیوں نہیں - موسے خیل کے سب قبائل ان کا بہت احترام کرتے ہیں - اور ان کے بزرگ باہی درویشوں کو کچھ رقبہ نذرانہ میں دے گئے تھے - برادرم رفیق نیازی سابق ڈسٹرکٹ اٹارنی بتا رہے ہیں :---
"موسے خیل اور بوری خیل کے سنگم پر دشت میں اس درویش قبیلے کے بزرگ اعلے حضرت شیخ طور باہی نے قیام کیا تھا - وہاں اب بھی کری کے درخت ہیں جو انہی کے نام سے منسوب ہیں اور حضرت شیخ کے احترام میں ان درختوں کو کاٹا نہیں جاتا "-

حضرت شیخ طور باہی کا مزار چکڑالہ میں ہے -
سانپوں والے بابا مچن جن کا مزار وانا میں ہے ، بھی نیازی تھے لیکن خاکو کی اولاد سے تھے ، سو وہ باہی نہیں تھے - ان کے مزار پر سانپوں کے دم کرنے والے زندگی میں ایک بار ضرور سلام کرنے جاتے ہیں - ایک بار میرے ساتھ ویگن میں وانا کے ایک نوجوان نے سفر کیا تھا - وہ اپنے گمشدہ بھائی کو طالبان میں ڈھونڈنے آرہا تھا جو میٹرک کی کلاس سے بھاگ کر طالبان سے جا ملا تھا - یہ وہ دن تھے جب صوفی محمد دس ہزار کم عمر نوجوانوں کا ایک لشکر لے کر کابل گیا تھا اور بہت سے بچے مارے گئے تھے - اس نے مجھے بتایا تھا کہ ان کے ہاں ایک عام روایت ہے کہ بابا مچن کے مزار سے ایک چٹکی مٹی لے کر گھر میں ڈال دی جائے تو گھر سے سانپ بھاگ جاتے ہیں - میانوالی روکھڑی میں بھی مچن خیل بہت تھوڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں - جو انتہائی غریب ہیں -
میانوالی سے وقاص محمد خان بتا رہے ہیں :---
" نیازی کے تین بیٹوں جمال، خاکُو اور باہی میں سے باہی ایک درویش صفت آدمی تھا، باقی دونوں بھائیوں کی اولادوں میں سے آج کی ساری نیازی خیلیاں وجود میں آئیں مگر باہی اب بھی اپنے آپ کو باہی ہی کہلاتے ہیں ، خیلیوں میں تقسیم نہیں کرتے۔ بابا میاں شیخ طور اور بابا مِچن کے حوالے سے ہماری دادی امی ہمیں روایتی قصہ یوں سناتی ہیں کہ بابا مچن اور بابا میاں شیخ طور غالباً ہم عصر تھے، دونوں بزرگ بہت سادہ اور جلالی طبیعت کے مالک تھے، بابا مچن کی یہ کرامت تھی کہ وہ سانپوں کی چارپائی بُن کر اُس پر سوجاتے تھے، ایک دن بابا میاں شیخ طور کو غصہ آگیا کہ میں بھی باہی ہوں تو کرامت صرف بابا مچن کے حصہ میں کیوں؟ تو وہ غصہ میں ایک دیوار پر سواری کی طرح چڑھ بیٹھے اور دیوار کو چلنے کا کہا، اور اللہ کے حکم سے وہ دیوار چل پڑھی، جس پر انہیں بابا میاں شیخ طور، کندھاں ٹور کا لقب مل گیا۔ آج بھی ان کے مزار پر یہی نام درج ہے ایک روایت ہے کہ ان کے مزار پر ایک شیر بھی حاضری دینےآتا تھا اور گاؤں کے کئی بندے یہ منظر دیکھنے کا دعوٰی کرتےہیں۔ واللہ علم -
باہی قبیلہ سب سے زیادہ موسٰی خیل میں آباد ہے جبکہ ایک بڑی تعداد ڈھک پہاڑی کے پار بھی رہتی ہے جن میں سے میجر محبوب نیازی مرحوم ساکن ترحدہ، تلہ گنگ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غالباً پاکستان کے پہلے ستارہِ جرات سے انہیں نوازا گیا تھا، ان کے بیٹے کرنل عابد بھی آرمی سے ریٹائرڈ ہیں۔ ڈاکٹر محبوب نیازی تلہ گنگ اور ن لیگ کے سینیٹر ڈاکٹر غوث بخش نیازی، خوشاب بھی باہی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں- "
بہت شکریہ وقاص محمد خان صاحب -
یہ طور ، تور ہے ، جس کا مطلب پشتو میں کالا ہے - اب معلوم نہیں حضرت کا یہ نام ہی تور تھا یا رنگت کی وجہ سے تور کہلانے لگے تھے -
دوسری بات ، ہم داود خیل ، کمر مشانی اور میانوالی شہر کے نیازی خاکو کی اولاد ہیں جبکہ عیسے خیل اور سنبل ، جمال کی -
اصغر خان کہتے ہیں :--
میاں شیخ طور صاحب کا مزار چکڑالہ کی نواحی ڈھوک نورشاہ کے قریب ھے اور وھاں پر باھی قبیلہ کے کچھ گھرانے آباد ھیں لیکن وھاں کے رھائشی اپنے آپ کو نیازی نہیں کہلواتے اور جہاں تک میجر محبوب صاحب کی بات ھے تو ان کا آبائی گھر تلہ گنگ ترحدہ سے اگے ڈھوک میل میں ھے اور نہ ھی انکے بارے میں یہ سنا کہ انہو ں نے اپنے آپ کو نیازی لکھا یا کہلوایا ھو جہاں تک میری معلومات ھے(یہاں پر ہم اصغر خان صاحب کو بتانا چاہیں گہ وہ الحمدللہ اپنے آپ کو باہی نیازی کہلواتے ہیں انکی یونٹ پر لگی تختی پر اور انکے ستارہ جرات پر واضح طور کیپٹن محبوب نیازی کنندہ ہے کیونکہ جب انھیں ملا تب وہ کیپٹن رینک پر تھے) جو میں نے بزرگوں سے سنا ھے میاں شیخ طور صاحب کا عرس ھر سال بڑی دھوم سے منایا جاتا ھے اور وھاں عرس کے دنوں میں سب سے زیادہ تعداد بوری خیل قبیلہ کی ھوتی ھے اور تمام انتظام یہی لوگ کرتے ھیں یہ لوگ عرس کے دنوں میں بمعہ ٹرانسپورٹ حاضری دیتے ھیں اور انکے بارے مشہور ھے جب یہ نیا ٹریلر لیتے ھیں تو سب سے پہلے دربار پر سلام کرتے ھیں پھر اسکے بعد کاروبار کرتے ھیں -
جہاں پر زیارت ھے وہ ایک برساتی نالہ گبھیر کے کنارے واقعہ ھے - بارش کے موسم میں اس نالے کو پار نہیں کیاجاسکتا - اسکا پانی تیز رفتاری سے بہتا ھے اگر کوئی لاش دور سے پانی اپنے ساتھ بہا لے آئے تو دربار سے آگے لاش نہیں جاتی بلکہ وھیں کسی نہ کسی جگہ سے لاش برآمد ھوجاتی ھے یہ دربار شریف کی کرامت ھے کافی عمر کے بزرگوں سے یہ بات اکثر سنی ھے
باقی واللہ اعلم ---
کوئٹہ سے ڈاکڑ منیر رئیسانی بتا رہے ہیں :---
"بابی قبیلہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موجود ھے ۔ یہ لوگ پشتو کے علاوہ براھوئ زبان بطور مادری زبان کے بولتے ھیں ۔ لیکن یہ اپنے آپ کو نیازی نہیں کہتے -
بلوچ علاقوں میں انہیں بابی کہتے ھیں اور یہ لوگ براھوئ بولتے ھیں ۔ پشتون انہیں اپنے لہجے میں بابئ کہتے ھیں جیسے کہ نیازی کو نیازئ کہتے ھیں "-
ڈاکٹر ، آپ نے انہیں بابی لکھا ہے جبکہ بات باہی کی ہو رہی ہے - لیکن ممکن ہے یہ باہی ہی ہوں - کیونکہ قیس بن رشید کا مزار جو کہ پشتونوں بشمول نیازیوں کے جد امجد ہیں ، کوہ سلیمان ، زوب میں واقع ہے - باہی نیازی کا شجرہ چند پشت اوپر قیس بن رشید سے جا ملتا ہے جو قندھار سے چلے تھے - اور یہ اس وقت بلوچستان میں ہوں گے نیازی بعد میں وانا کے راستے لکی مروت اور میانوالی میں آکر آباد ہوئے - نیازیوں کا چیف ٹانک کا کٹی خیل سردار تھا جو ڈیرہ اسماعیل خان اور وانا کے درمیان واقع ہے - مشہور ٹی وی آرٹسٹ مرینہ خان کٹی خیل قبیلے سے ہے - پرانے وقتوں میں نیازیوں کا مکمل شجرہ نسب بھی کٹی خیل قبیلے کے پاس تھا - میانوالی میں طنزا" ایک سوال پوچھا جاتا ہے ، تو کوئی ٹانک دا نواب ایں ---
میانوالی میں ایک بزرگ نانا نواز مچن خیل ہمارے محلے زادے خیل میں رہتا تھا جس کی دو بیویاں تھیں - ایک بیوی کی گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کے دائیں جانب بلو خیل روڈ پر سکول کے گیٹ کے مشرق میں باکل ساتھ ہی دانے بھوننے کی دانگی تھی - اب وہاں شاید دکان ہے - اور اس کے ساتھ والی گلی مصباح الحق کے گھر کو جاتی ہے - نانا نواز ، فتح محمد سٹریٹ کے آغاز پر بائیں ہاتھ پر ایک کمرے کے مکان میں رہتا تھا جو مرحوم محمد اکبر خان خنکی خیل نے انہیں عاریتا" دے رکھا تھا - اب وہاں بھی دکانیں ہیں - نانا نواز بہت بوڑھا ہونے کے باوجود کھوتے پر محلے کے گھروں میں آٹے کی بوریاں ڈھوتا تھا اور انتہائی پرہیز گار انسان تھا - میری عمر کے سارے کم عمر نواز کو نانا کہتے تھے اور سخت پردے کے ماحول کے باوجود اس محلے کی کوئی بھی خاتون اس سے پردہ نہیں کرتی تھی - وہ سب گھروں میں اندر جاکر آٹا پہنچاتا تھا - موقع پاکر ہم اس کے مسکین سے گدھے پر سواری کا صحن میں ہی ایک آدھ پھیرا بھی لگا لیتے تھے - وہ روکھڑی کا مچن خیل تھا اور بتاتا تھا کہ ان کے خاندان کو سانپ نہیں کاٹتے - اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو عین جوانی میں فوت ہوگیا تھا - نواز بہت ضعیف ہونے کے باوجود مزدوری سے گھر چلاتا تھا - اسے ہر وقت با وضو اور مطمئن دیکھا - کبھی کبھار اس کے گھر میں کھانا دینے جاتا تھا تو بعض اوقات معلوم ہوتا تھا کہ نانا نواز کل سے بیمار تھا اور آج دن بھر میاں بیوی فاقے سے تھے - اس کے باوجود ان کے لب پر الحمد لللہ ہوتا تھا --
اللہ اکبر ، کیسے کیسے لوگ چھوٹے روپ میں عظیم درشن والے نظر آئے ----

حضرت نوری ناگ سلطان(رح)آ پ ایک انتہائی بلند پایا بزرگ ہستی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام آ پکا نہیں ہے بلکہ یہ آ پکاک...
18/04/2026

حضرت نوری ناگ سلطان(رح)

آ پ ایک انتہائی بلند پایا بزرگ ہستی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام آ پکا نہیں ہے بلکہ یہ آ پکاکوی المعروف نام ہے۔
آ پکی آ مد ،رہائش اور زندگی سے متعلق تمام باتیں نامعلوم ہیں۔لگتا ہے آ پ کی زندگی موسی خیل کے نیازی پٹھانوں میں نہیں گزری ہے ورنہ آپ کی زندگی اور خاندان کے متعلق بھی معلومات میسر ھو تیں۔کیونکہ نیازی پٹھان یہاں عرصہ 400 سال سے مقیم ہیں۔تو یوں سمجیے کہ آ پ کا عرصہ حیات 400 سال سے بھی پہلے کاہے۔یہ وہ وقت تھا جب یہاں کافر قومیں آ باد تہیں۔اور مسلمان یہاں تبلیغ دین کی خاطر آتے تھے۔اور اپنی زندگی یہاں کافروں میں گزار کر اس سے پردہ فرما جاتے تھے۔قربان جائیے ان نفوس قدسیہ پر جنہوں نے صرف اور صرف دین اسلام کی تبلیغ کو اپنا مقصد حیات بنایا اور اپنی ساری زندگی وہیں گزار دی۔اس لیے ان کے مقابر آج بھی روشن ہیں اور لوگ آج بھی وہاں سے فیض پاتے ہیں۔
حضرت نوری ناگ سلطان کے بارے میں 2 روایات ہیں کہ جس جگہ آپ کا مزار واقع ہے وہاں ایک بلند مٹی کا ٹیلہ تہا اور کھدائی کے بعد آپ کی قبر مبارک دریافت ہوئ۔
دوسری روایت کہ مظابق پرانے وقتوں میں باہی خاندان کے بزرگوں کو خواب میں حضرت نوری ناگ سلطان صاحب کے مزار کی نشاندہی کرائی گئی۔بزرگ وہاں پہنچے تو قبر کے سر اور پاؤں والی جگہ پر نشانات لگے ہوئے تھے اس بزرگ نےدو نشانات کے درمیان قبر بنا دی۔
میانوالی اور اردگرد کے مشائخ عظام اور اولیاء کرام یہاں اکثر تشریف لاتے اور فیض پاتے۔ان اولیاء کرام میں
حضرت مولانا نورالزمان شاہ کاظمی(کوٹ چاندنہ)
حضرت پیر اکبر شاہ قادری گہنڈوالے
حضرت نورالحسن شاہ(مواز والہ)
حضرت محمد شریف شاہ(موچھ)
حضرت شیخ محمود باہی۔اور بھی بہت سے علماء یہاں تشریف لاتے اور فیض پاتے۔
موسی خیل کا قبر ستان آپ ہی کے نام سے مشہور ہے۔آپ کی قبر مبارک پر پہلے تو نہایت قدیم اور گھنی جال کے درخت تھے۔اب ان درختوں کو کاٹ کر خوبصورت روضہ بنا دیا گیا ہے
غلطی کوتاہی ہو سکتی ہے۔معاف کیجئے گا۔
اگر کسی کے پاس مزید معلومات ہے تو علم میں بھی ضرور اضافہ کیجئے گا۔
تحریر۔ اصغر نیازی

سلطان خیل کلی پشتو ۔یوں تو ھر علاقے کی پشتو دوسرے علاقے کی پشتو سے مختلف ھے لیکن سب سے بڑی تفریق وہ دو لہجے ھیں جسے نرم ...
16/04/2026

سلطان خیل کلی پشتو ۔

یوں تو ھر علاقے کی پشتو دوسرے علاقے کی پشتو سے مختلف ھے لیکن سب سے بڑی تفریق وہ دو لہجے ھیں جسے نرم اور سخت لہجہ کہا جاتا ھے یعنی( قندھارتا کوئٹہ) درانی پشتو نرم لہجہ کہلاتا ھے اور
( کابل تا پشاور ) یوسف زئی پشتو سخت لہجہ کہلاتا ھے ۔
نیازی بطور قبیلہ مکمل پشتون ھیں اور ان کی زبان بھی پشتو تھی، نرم لہجے والی پشتو نیازیوں کی زبان تھی جو بدقسمتی سے اب نہیں رھی ۔
نیازیوں کے سلطان خیل قبیلے کو یہ اعزاز حاصل ھے کہ وہ ابھی تک پشتو زبان اور پشتون روایات سے جڑے ھوئے ھیں ۔
میانوالی کے نیازیوں سے جب کوئی پٹھان اور پنجابی یہ سوال کرتا ھے کہ اگر تم نیازی پٹھان ھو تو پشتو کیوں نہیں بولتے؟
اس سوال پر پشتو بولنے والوں کو عموما خٹکی کہنے والے یہ نیازی پہلے تو بغلیں جھانکتے ھیں اس کے بعد
" سلطان خیل " کا حوالہ دیتے ھیں کہ ھمارے قبیلہ سلطان خیل میں ابھی بھی پشتو بولی جاتی ھے ۔
بات کہیں اور چلی گئی آج میں آپ سے سلطان خیل کلی کی پشتو میں رائج ان الفاظ سے تعارف کراؤں گا جو دنیا کے کسی اور پشتو میں نہیں ھیں ۔
ان الفاظ سے روشناس کرانے کا مقصد یہ ھے کہ اگر آپ کو کبھی کسی پٹھان سے پشتو میں بات کرنے کا اتفاق ھو تو ان الفاظ سے گریز کریں ورنہ وہ بے چارہ سر سے پاؤں تک آپ کو حیرت سے دیکھے گا کہ یہ مخلوق کس سیارے کی پشتون ھے۔
یہ الفاظ ہماری پشتو میں دیگر زبانوں سے آئے ھیں
ملاحظہ فرمائیں ۔
1۔ کروا
کروا پوٹھواری زبان کا لفظ ھے پشتو اوراردو میں لوٹا ۔
2۔ لاون ۔
پوٹھواری زبان کا لفظ ھے پشتو اور اردو میں سالن ۔
3۔ بالن ۔
سرائیکی اور سنسکرت زبان کا لفظ ھے اردو میں ایندھن
4۔غربینہ ۔
انگریزی زبان کے لفظ carbine کی بگڑی ھوئی شکل جس کے معنی چھوٹی بندوق کے ھیں پشتو میں تمانچہ اور اردو میں پستول
5۔ اڑانگ ۔
پتا نہیں یہ لفظ کس زبان سے آیا ھے شاید لفظ اڑان کی بگڑی حالت ھے کشمیر میں ایک اونچے مقام پر واقع ایک گاؤں کا نام ھے
پشتو میں وریز اور اردو میں بادل
6۔ مزدک
عربی لفظ مسجد کی بگڑی ھوئی شکل
پشتو میں جوماعت اور اردو میں مسجد
7۔ سِیاں
شاید سرائیکی کی چھاں سے سیاں بنا ھے
پشتو میں سورے اور اردو میں سایہ
8۔ بانڈے
سرائیکی زبان سے آیا ھے
پشتو میں لوخے اور اردو میں برتن
9۔ ماراکہ ۔
یہ شاید عربی کے معرکہ کی بگڑی شکل ھے
پشتو میں جرگہ اور اردو میں پنچائت
10۔ سرہانہ
یہ بھی پنجابی زبان کا لفظ ھے جس کو پشتو میں بالش اور اردو میں تکیہ کہتے ھیں
آپ کے ذہن میں ایسے الفاظ ھوں تو کمنٹس میں بتائیں ۔

عیسٰی خیل.عیسٰی خیل تاريخى ورثہ ..میڈم نور جہاں نے پنجابی زبان کا گانا "چل چلیےعیسیٰ خیل، جتھے چلدی اے چھوٹی ریل" گا کرع...
15/04/2026

عیسٰی خیل.

عیسٰی خیل تاريخى ورثہ ..

میڈم نور جہاں نے پنجابی زبان کا گانا "چل چلیےعیسیٰ خیل، جتھے چلدی اے چھوٹی ریل" گا کرعیسیٰ خیل کے شہر کو پاکستان بھر میں شہرت بخشی تھی اور پھرعیسٰی خیل ہی کا ایک بیٹا عطاءاللہ خان عیسٰی خیلوی نے اردو پنجابی سرائیکی کے سینکڑوں مقبول ترین گانے گا کر اپنی دھرتی کا قرض ادا کردیا۔ رہی بات چھوٹی گڈی والی ریل کی جو انگریز دور میں ماڑی انڈس ریلوے جنکشن سے چل کر کمرمشانی، خدو زئی، تاجہ زئی ،پیزو عیسیٰ خیل، سرائے نورنگ، لکی مروت سے بنوں جا پہنچتی تھی۔ ریلوے کا یہ نظام اسٹریٹجک ریلوے لائن کہلاتا تھا جو اب باقی نہیں رہا۔ ریلوے لائن وغیرہ سب اکھیڑ دی گئی ہے۔ علاوہ رفاہ ِ عامہ کے اس انتظام کا مقصد اسقدر فوجی تھا کہ بنوں کے وزیری اور محسودی قبائل جو انگریزی سلطنت کی حدود میں گھس کر کاروائیاں کرتے تھے ان کا انسداد کرنا بھی مقصود تھا۔ آج ہم قبائلیوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے جو جتن کر رہے ہیں اگر یہ ریل کا نظام اپنی جگہ پر رہتا تو بڑی خوش اسلوبی سے سرحد و پنجاب کی سرحد پر امن و امان اور تجارت کو فروغ ملتا۔ اب یہ قصہ ء ماضی ہے۔ وہ ہمارا بچپن کا حسین خواب تھا جو چکنا چور ہوا۔ ماڑی تا بنوں یہ علاقہ مختلف اقوام کا گھر تھا جب چھوٹی ریل اس کے میدانی علاقوں سے گزرتی تو لوگ حیرت سے اسے دیکھا کرتے تھے۔ محنت کش وام کے لیے ریل گاڑی کی کُوک سے ان کے دلوں میں ہجر و وچھوڑے کی ایک ہوک اٹھا کرتی تھی۔ انگریز نے اپنے دور کے ہندوستان کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک اسے یکجان و یک قالب کر دیا تھا ۔ اوپر سے پنجاب کا نہری نظام جو پیداوار دیتا تھا ایک اناج گھر تھا۔ اب جیسا فضائی آلودگی کا ماحول نہ تھا اور بے محابا ٹریفک بھی نہ تھی۔درہ گومل اور درہ ء بولان کی راہ پر میانوالی عیسیٰ خیل کا وجود تجارت کے لیے سنہری مواقع کا علاقہ تھا۔ ساری برسوں پہلی کاروانی تجارت انہی علاقوں سے ہو کر پنجاب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہوا کرتی تھی۔عیسیٰ خیل نیازی پٹھانوں کا ایک بنیادی معزز قبیلہ ہے۔ میانوالی کے سارے نیازی اسی قبیلے سے نکلے ہوئے ہیں جو بعد میں اٹھارویں نصف صدی میں دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر موجودہ جگہوں پر آباد چلے آتےہیں۔ جب فرنٹیئر صوبہ ۱۹۰۱ میں صوبہ قرار پایا تو میانوالی ضلع بھی اسی سال ۱۹۰۱ میں پنجاب کا ضلع قرار پایا ۔ عیسٰی خیل اسی ضلع کی ایک تحصیل ہے۔عیسٰی خیل نیازیوں نے چودھویں پندرھویں صدی میں آن کر پہلے پہل تیتا من پہاڑی کے دامن میں پڑاؤ ڈالاپھر ترنا کا شہر بسایا۔ ترنا کا لفظ 'ترن' یعنی تیرنے کا مفہوم رکھتا ہے یعنی ترنا کا علاقہ کلیتاً ایک ریوَر کنٹری تھاجس کی جگہ پر پھر عیسٰی خیلوں کے مؤرث اعلی عیسٰی خان نیازی کے نام پر عیسٰی خیل کا نیا شہر بسایا گیا۔یہاں کے پٹھان قبائل نے ضلع بنوں کے انگریز پولیٹکل ایجنٹ یعنی ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں ملتان کی بغاوت فروع کرنے میں حصہ لیا۔ بعد میں ۱۸۵۷ میں اسی انگریز قوم کے ہیرو جان ایڈورڈزکی قیادت میں دہلی کے تاریخٰ غدر میں باغیوں کے سر اڑائے تھے۔ انگریز سے قبل سکھ پنجابی بنوں پر قابض رہے۔ ادھر منکیرہ کے نواب حافظ رحمت خان بھی عیسٰی خیل بنوں میں مسلسل مداخلت کرتا رہا اور بنوں کے پٹھانوں میں کالوں گوروں کے درمیان لڑائیاں انہی کا ایک وزیر کرواتا رہا تھا ۔ کچھی میانوالی کی زمینات میں بھی سکھی راج نے ایک مقدس جنگ 'گھلوگھارا' کے نام سےلڑی تھی۔درحقیقت یہ ہندوستان کے علاقہ بہار کے ایک مشہور صوفی بزرگ عبداللہ نیازی کے پیروکاروں کے درمیان اجتماعی کاشت کرنے کا اشتراکی نظام چلانے کی وجہ سے ہوئی تھی۔سکھوں نے اس جنگ میں فقیروں کی بہت بڑی تعداد کو قتل کر دیا تھا اسی وجہ سے اس زمین کا نام 'گھلوگھارا' یعنی خون سے تر زمین پڑ گیا۔ عیسیٰ خیل کے نیازی رزم و بزم اور محاربات کے شوقین لوگ چلے آتے ہیں۔ نیازی پٹھان ہندوستان کی پٹھان افواج کا بھی حصہ رہے تھےجن میں ہیبت خان نیازی اور عیسیٰ خان نیازی کا ذکر بھی آتا تھا۔ یہ شیر شاہ سوری کا دور تھاجب شیر شاہ سوری کی اولاد میں تخت نشینی پر جھگڑے اٹھ کھڑے ہوئے، جو ۱۵۳۵کا دور تھا۔ اسلام شاہ سوری بادشاہ نیازی قوت سے ٹکرا گیا۔ کالا باغ دھنکوٹ کے مقام پر پے در پے دو جنگیں ہوئیں ۔ آخری جنگ میں ہیبت خان کے مقابلے میں انہی کے رشتہ دار قبیلے مروت کا نوحانی جرنیل مقابلے پر تھا۔نیازیوں کو شکست ہوئی اور وہ کشمیر کی جانب ہجرت کر گئے اور وہاں کی گھریلو خانہ جنگیوں میں ملوث ہو کر ہیبت خان بھی مارا گیا۔ ہیبت خان کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے اس کی بیگم ذکیہ خانم بھی شدید زخمی ہوئی تھی اور سارا خاندان اسلام شاہ سوری کا قیدی بن گیا۔ عیسٰی خیلوں کو اپنی اصل نسل پر بڑا فخر ہے۔ ایک مرتبہ ایک انگریز کرنل کو نیازی عیسٰی خیل نے ایک جڑاؤ دار خنجر دکھایا جیسے پدرم سلطان بود میں ہوتا ہےمگر انگریز کرنل خانصاب کے اس مظاہرے پر زیادہ خوش نہ ہوا اور بولا "اے مین ! تم بڑا کھان ہے، اپنا کوئی کارنامہ بتاؤ، صرف بزرگوں کے کارناموں پر نہ اتراتےرہو"۔ اب خان چپ تھا۔ کچھی میانوالی کی ساری زمینات کے علاوہ دریائے جہلم کے کنارے خوشاب کے نزدیک بھی انگریز دور میں انہیں مربعے الاٹ کیے تھے۔ ۱۹۴۰ کی انگریزوں کی کالونائزیشن پالیسی کی وجہ سے عیسٰی خیلوں کو کافی زمین خانیوال ملتان رحیم یار خان تک الاٹ ہوئی۔ گویا عیسیٰ خیل بڑے جاگیر دار اور خوانین تھے جن کی زمینات میں ہزاروں کسان محنت کش شب و روز خوانین کی محنت کر کےبمشکل اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے نان ِ شبینہ کا کوئی بندوبست کر پاتے تھے۔ پرانے زمانے میں عیسٰی خیل میں بھی ہندوؤں کی تعداد کافی تھی۔ علاوہ خوانین کی ساری جائیدادوں کے عیسٰی خیل کا ایک نامور استاد منشی تلوک چند محروم عیسٰی خیل سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے دریائے سندھ کے کنارے بیٹھ کر اپنی مشہور نظم " سندھ دریا " رقم کی تھی۔ خوشاب کے مقام پر جب شیر شاہ سوری نے ہمایوں مغل بادشاہ کو نیازی افواج کی طاقت سے شکست دی تھی تو تب افغان قوم میں نیازی قوم کے ایک بزرگ و محترم ہستی الشیخ علی شاہباز جو الشیخ جوانمرد کی اولا دسے تھے جنکا ساری افغان قوم میں ازحد احترام کیا جاتا تھا اور جو نیازی شیوخ کہلاتے تھے، شیر شاہ سوری بادشاہ ِ ہند کو فتح کی مبارک دینے کے لیے خوشاب پہنچے۔ جب شیر شاہ کو اس کی آمد کی خبر ہوئی تووہ اپنی مسند سے اٹھ کر بہت دور تک شیخ کی پیشوائی کے لیے چل کر آیا ۔ پٹھانوں کے رواج دستور کے مطابق شیخ نے سلام کر کے اپنا ہاتھ بادشاہ کی طرف بڑھایا ۔ تب شیر شاہ بولا " اے شیخ ایسے نہیں آؤ ایک دوسرے سے چھاتی ملا کر ملتے ہیں اور دونوں نے معانقہ کیا "۔ ان دنوں نیازیوں کی زمینات پر بلوچوں نے قبضہ کر رکھا تھا ۔ وہ زمینات بھی شیر شاہ بادشاہ نے بلوچوں سے واپس لے کر الشیخ علی شاہباز نیازی عطا کر دیں جو دریائے جہلم کے کنارے خوشاب کے قریب تھیں۔ بات تو عیسٰی خیل کی ہےمیں نجانے کہاں نکل گیا۔جہان میں شاہ و گدا، غریب و امیر کی کب دوستی رہی ہے۔ ظالم جاگیرداری کا دور بھی اٹھ گیا۔ چہار جانب اب سرمایہ داری کا ڈنکا بج رہا ہے۔ قصہ ء ماضی تو محض یادگاری کے لیےلکھے جاتے ہیں ۔ جو داستانیں ہوتی ہیں مستقبل پر ان کی پرچھائیوں تک کا سایہ بھی نہیں پڑتا ۔ خوانین عیسیٰ خیل اب سب بڑے شہروں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ آج کے عیسٰی خیل میں دھول اڑتی ہے ۔ اس کی خوشحالی کی طرح پسماندگی بھی مثالی ہے۔آج کا عیسیٰ خیل پرانے عیسٰی خیل سے بہت مختلف ہے گو خوانین کے بنگلے اب بھوت بنگلے کا نقشہ پیش کرتے ہیں مگر عام عیسیٰ خیلی بہت ذہین اور شریف الفنس لوگ ہیں۔ پردیسیوں سے ان کا خلوص مشہور ہے۔ آج کی تجارت نئے خطوط پر مرتب ہو چکی ہے۔ سارے ہی بازار بھر کر چلتے ہیں۔ نئے انداز میں مزین شاپس بنی ہیں۔ ویڈیوز کی دکانیں بھرپور ہیں مگر نجانے کیوں سارا عیسٰی خیل باوجود اس سارے بھاگ دوڑ کے کسی بڑے شہر کی رونق کا تاثر نہیں دے پایا ہے اگرچہ میں نے یہاں ایسی کئی پرانی عمارات بھی دیکھی ہیں جن پر پرانی چوبکاری کے اعلی نمونے کے گیٹ نصب ہیں۔ عیسیٰ خیل کا ماحول بیک وقت پہاڑی بھی ہے اور میدانی بھی۔ دریائے سندھ اسکے بہت قریب سے گزرتا ہے اور درحقیقت عیسیٰ خیل ایک گنگا جمنی سنگمکا شہر ہے کہ دریائے کُرم کوہ سلیمان سے نکل کر عیسیٰ خیل میں دریائے سندھ میں آن کر ملتا ہے۔ یہی درہ ء تنگ نیازی پٹھانوں کی پرانی باہمی خانہ جنگی کی رزم گاہ کا میدان بھی بنا تھا جہاں پر مروت پٹھان قبیلے سے نیازیوں کی مدّی کے مقام پر بڑی قبائلی جنگ ہوئی تھی جس میں سرہنگ نیازیوں کا سردار سرہنگ خان مارا گیا تھا یہی مچن خیل اور سرہنگ نیازی شاخیں بعد میں عیسیٰ خیلوں سے جدا ہو کر لکی مروت کے تھل میں جا کر آباد ہو گئیں اور پھر سو سال بعد پھر میانوالی کی موجود جگہوں پر آئیں۔ عیسیٰ خیل ایک سر سبز و شاداب قدیم شہر ہے جس کی آب و ہوا بڑی خوشگوار ہے۔ فراہمی آب کی وجہ سے ساری فصلات اگتی ہیں۔ عیسیٰ خیل میں خوانین اب کم جو بڑے شہروں میں منتقل ہو چکے ہیں اور دیگر غیر نیازی ذاتوں برادریوں کے لوگ جیسے قریشی ، کلو،لیرے،کنیرے،گارے خیل، آہیر، پوڑے،چھینے نجانے کتنے قدیم نسلوں کے لوگ ملتے ہیں۔ خدا کرے ہمارے دیس کے سارے مزدور، کسان، محنت کش، تجار، ملازم سب خوشحال و آباد رہیں۔

14/04/2026

الحمداللہ ۔ ہمارے نیازی پٹھان قبیلہ پیج پر ایک بار پھر سے 25 ہزار فولورذ مکمل ہو گئے۔ آپ سب کا ساتھ رہنے کا شکریہ

لودھی پشتون ...لودھی پشتون تحصیل توی خلہ ( وزیرستان ) سے لیکر ٹانک  ، درابن ڈیرہ اسماعیل خان ، لکی مروت ، تحصیل پنیالہ ،...
14/04/2026

لودھی پشتون ...
لودھی پشتون تحصیل توی خلہ ( وزیرستان ) سے لیکر ٹانک ، درابن ڈیرہ اسماعیل خان ، لکی مروت ، تحصیل پنیالہ ، پہاڑپور ، ضلع میانوالی ، تک آباد ہیں ۔

محمد خان نیازی کا مقبرہ اشٹی، ضلع وردھا، مہاراشٹر، بھارت محمد خان نیازی ایک پشتون فوجی کمانڈر اور مغل بادشاہ اکبر کے درب...
12/04/2026

محمد خان نیازی کا مقبرہ اشٹی، ضلع وردھا، مہاراشٹر، بھارت

محمد خان نیازی ایک پشتون فوجی کمانڈر اور مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں خاص لوگوں میں سےتھے۔ انہوں نے سندھ اور دکن کی مہمات میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کی شاندار خدمات پر، شہنشاہ جہانگیر نے انہیں ایک جاگیر کے طور پر الاٹ کیا۔ جہاں ان کا مقبرہ واقع ہے۔ مغل دور کے مؤرخ کے مطابق وہ بہت پرہیزگار اور مہربان انسان تھے۔ ان کا انتقال 1627ء میں ہوا۔

نیازی قبیلہ کی تاریخ ۔۔۔قسط دوم۔14ویں صدی تک افغانوں کا کردار ہندوستان میں فوجی لیول سے بڑھ کر امور سلطنت سنبھالنے تک او...
11/04/2026

نیازی قبیلہ کی تاریخ ۔۔۔
قسط دوم۔
14ویں صدی تک افغانوں کا کردار ہندوستان میں فوجی لیول سے بڑھ کر امور سلطنت سنبھالنے تک اور اعلی فوجی قیادت تک جا پہنچا ۔اور افغان ہندوستان کی پرتعئیش زندگی کے دلدہ دہ بھی ہوگئے۔۔باقی قبیلوں کی طرح نیازیوں نے بھی لوگر،شلغر اور غزنی کو خیر آباد کہا اور لودھی حکومت کے اواخر تک وزیرستان سھیلی ندی، ٹانک،لکیمروت اور درہ تنگ تک آبسے ۔
جب بادشاہ بابر نے 1505 میں ہندوستان پر حملہ کیا تو افغان ایک بار پھر انتشار کا شکار تھے۔بابر اپنی کتاب "تزک بابری" میں نیازی قبیلہ کی مزاحمتی جھڑپوں کے بارے میں لکھتا ہے۔
بعدازاں مغلوں اور افغانوں میں تخت دہلی کو لیکر چپقلش پیدا ہوگئی کیونکہ بابر نے سکندر لودھی کو شکست دے کر تخت دہلی پر قبضہ کر لیا تھا۔۔
بابر کی وفات کے بعد تخت دہلی کا وارث بابر کا بیٹا ہمایوں ہوا۔ ہمایوں کے دور حکومت میں بنگال میں موجود افغانوں میں سے سوری قبیلہ کے شخص نے مغل حکومت کے خلاف سر اٹھنا شروع کر دیا۔۔اس کا نام فرید خان المعروف شیرشاہ سوری تھا۔جب اس نے پانی پت کے میدان میں ہمایوں کو شکست دی تو تمام افغانوں نے اس کی کھل کر حمایت کی۔نیازی خانوادہ جمال خیل جو کے نیازی قبیلہ کا سردار بھی تھا اس میں سے عیسی خان نیازی، ہیبت خان نیازی اور ان کے باقی بھائیوں نے سوری کا ساتھ دیا۔۔یہ تمام بھائی سوری سلطنت میں نہایت قلیدی عہدوں پر فائز تھے۔
ہیبت خان نیازی سوری فوج کا سپہ سالار تھا اس نے ہمایوں کا سندھ تک تعاقب کیا اور ہندوستان کی سرحد سے باہر دھکیل دیا۔ہیبت خان نے ملتان میں اور ڈیرہ جات میں بلوچوں کی بغاوت کو بڑی بیدردی سے کچلا۔عیسی خان سوری دربار میں وزیراعظم تھا۔
سوری دور حکومت میں نیازیوں کے ایک قبیلہ سنبل کی سوری سلطنت کے ساتھ چپقلش ہو گئی اس کی سرکوبی کیلئے ہیبت خان نیازی خود میدان میں اترے اور اپنے ہی قبیلہ کے 900 لوگوں کو دھوکہ سے قتل کر دیا۔۔جس پر شیر شاہ سوری کے ہیبت خان کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری آگئی۔
کالنجر کے قلعہ کے محاصرے میں جب ایک حادثہ میں شیرشاہ سوری جانبحق ہوگئے تو اقتدار کی ایک جنگ شیر شاہ سوری کے بیٹوں عادل شاہ اور اسلام شاہ کے درمیان چھڑ گئی۔شیر شاہ سوری کے ایک اہم جنرل خواص خان اور ہیبت خان نیازی نے عادل شاہ کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے اسلام شاہ نے ہیبت خان نیازی کے ایک بھائی کو گرفتار کر کے ہاتھیوں کے نیچے کچل دیا۔
بھیرہ کے مقام اسلام شاہ نے عادل شاہ کے حمایتی اور شیر شاہ سوری کے پرانے رفقاء جنرلز کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کا ارادہ کیا۔جبکہ اس وقت عادل شاہ آگراہ کی طرف سے دہلی پر حملہ کیا تیاری کر رہا تھا۔
بھیرہ میں جب رات کو خواص خان ،ہیبت خان اور دوسرے سرداروں کا اجلاس ہوا تو جنگ کی تیاری پر بات ہوئی اس وقت ان کی حالت اسلام شاہ کی فوجوں سے بہت بہتر تھی اور اسلام شاہ کی شکست یقینی تھی جس پر رفقاء نے سوال اٹھایا کہ کل اگر فتح ہوئی تو سلطنت کا تاج کس کے سر ہوگا۔۔۔اس بات پر ہیبت خان نے کہا جس کے ہاتھ میں طاقت ہو وہی سلطنت کے تاج کا حقدار ہے۔جس پر خواص خان کو ہیبت خان نیازی کے عزائم میں خطرہ محسوس ہوگیا ۔۔جب صبح جنگ چھڑی تو عین میدان جنگ میں خواص خان ہیبت خان نیازی کو تنہا چھوڑ کر الگ ہو گیا یوں ہیبت خان کو شکست فاش ہوئی اور اسکی فوج جنگ میں ماری گئی یا پھر قیدی بنا لی گئی جبکہ ہیبت خان کشمیر کی طرف فرار ہو گیا ۔۔وہاں کا راجہ مغل تھا جس نے دھوکہ کی مہمان نوازی کے دوران ہیبت خان نیازی سے مغل حکومت کے خلاف کی گئی کاروائیوں کا بدلہ لیتے ہوئے رات کی تاریکی میں رفقاء سمت قتل کر دیا۔
یوں نیازیوں کا کردار سوری سلطنت میں اپنے انجام کو پہنچا۔
سوری سلطنت کی بنیاد 1545ء میں رکھی گئی تھی۔ ہیبت خان نیازی کے قتل کے چند سال بعد ہمایوں نے ایرانیوں کی آشیرباد حاصل کر کے دہلی میں سوریوں کی کمزور حکومت کا خاتمہ کیا اور یوں مغل سلطنت کی 1556ء میں پھر سے داغ بیل ڈالی جو 1857ء پر اختتام ہوئی۔

تحریر ۔ نیازی پٹھان قبیلہ
(یہ سلسلہ چند سال قبل شروع کیا گیا تھا۔ معلومات کے لئے تحریر دوبارہ شایع کی جا رہی ہے)

Address

Mianwali

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نیازی پٹھان قبیلہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share