23/08/2026
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دنیا بھر میں شہری اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لیے احتجاج کرتے ہیں، لیکن ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ احتجاج کے دوران امن و امان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔
پاکستان ہمارا ملک ہے، سندھ ہمارا صوبہ اور کراچی ہمارا شہر ہے۔ فوج، رینجرز، پولیس اور دیگر ادارے بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، جبکہ نجی املاک بھی ہمارے ہی کسی بھائی، بہن، تاجر یا شہری کی ملکیت ہیں۔
اس لیے کسی بھی احتجاج کے دوران ہماری ذمہ داری صرف اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کرنا نہیں بلکہ امن و امان کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ احتجاج میں شامل شرپسند عناصر پر نظر رکھیں اور جو شخص سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے، توڑ پھوڑ کرنے یا کسی غیر قانونی اقدام کی کوشش کرے، اسے فوری طور پر ایسا کرنے سے روکیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔
یاد رکھیں، احتجاج ہمارا حق ہے، لیکن دوسروں کے جان و مال کو نقصان پہنچانا کسی صورت ہمارا حق نہیں۔
ہمیں اپنے شہر، اپنے اداروں، اپنی املاک اور اپنے ملک کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود محسوس کرنا ہوگی۔ اختلافِ رائے ضرور کریں، اپنے مطالبات ضرور منوائیں، لیکن امن، قانون اور اخلاق کی حدود میں رہ کر۔
یہ وطن ہمارا ہے، یہ شہر ہمارا ہے، اس کی حفاظت اور بہتری بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
منگھوپیر میں بجلی کی بندش سے جن صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ بھی قابل مذمت ہے اور کسی بھی ادارے کی اولین ترجیح صارفین کو بہتر سہولت فراہم کرنا ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے بجلی کی فراہمی کے حوالے سے کے الیکٹرک سے کراچی کے اکثر شہری مایوس رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود کسی بھی صورت میں اس مایوسی کے سبب ہمیں کسی کے لیئے باعث زحمت یا باعث تکلیف نہیں بننا چاہیئے اور اگر اپنے جائز مطالبات کے لیئے پُرامن احتجاج کرنا بھی ہو تو علاقائی سطح پر معززین کی سربراہی میں احتجاج کیا جائے اور امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیئے باقاعدہ کمیٹی بنائی جائے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیئے آواز اٹھائیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہیں ہوسکے۔
ایڈمن وائس آف منگھوپیر
نوراسلام