MANGAT ONLINE

MANGAT ONLINE Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from MANGAT ONLINE, Community Center, Mangat.

15/10/2023
05/10/2023

لنگڑی

پرانی بات ہے مجھے دور کے رشتے داروں میں حافظ آباد سے ایک لڑکے کی منگنی پر بطور فوٹو گرافر شیخوپورہ جانے کا اتفاق ہوا۔ یاشیکا کا ریل والا کیمرہ میرے پاس تھا۔ جو ابو سعودیہ سے لائے تھے۔ ہم کوئی سات آٹھ لوگ تھے بولان کیری ڈبہ پر گئے تھے۔ لڑکی والوں نے ساری گلی نہ صرف صاف کر رکھی تھی بلکہ دونوں کناروں پر رنگ برنگا چونا بھی بکھیر رکھا تھا۔ ہم گھر میں داخل ہوئے تو ہمارے اوپر پھول پھینکے گئے۔ ایسا اہتمام عموماً بارات والے دن کیا جاتا ہے۔ لڑکی والوں نے بھی اپنے کافی رشتہ دار بلا رکھے تھے۔ وہ سب بہت خوش تھے۔ پہلے کھانا کھایا پھر لڑکی کو کرسی پر بٹھایا انگوٹھی پہنائی اور سب لڑکی کو پیسے دینے لگے۔

اسی اثناء میں لڑکے کی ماں رونے لگ گئی۔ اور اپنے ساتھ گئے لوگوں کے کانوں میں کچھ کہنے لگی۔ سب کے رنگ اڑنے لگے اور یہ بات لڑکی والوں نے بھی بھانپ لی۔ ابھی لڑکی کے کپڑے میک اپ وغیرہ کھولنا باقی تھا کہ ہم لوگ ان کے گھر سے بھری محفل چھوڑ کر نکل آئے۔ لڑکی کے باپ نے سو منت کی اپنے سر کی چادر لڑکے کی ماں کے قدموں میں رکھی کہ بات تو بتائیں ہوا کیا ہے۔ مگر وہ چپ چاپ منہ پھولائے غصے سے پھنکارتی ہوئی باہر نکل آئی اور سب اسکے پیچھے۔ لڑکے کی ماں نے دو منٹ پہلے پہنائی گئی انگوٹھی بھی خود ہی لڑکی کے ہاتھ سے اتار لی۔

کیری ڈبے میں بیٹھ کر مجھے معلوم ہوا کہ جس لڑکی کی منگنی ہو رہی تھی وہ چند دن قبل اپنے ایک آشنا کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ اسے چند دن بعد کہیں سے برآمد کر کے لائے ہیں۔ سب لڑکی اور اسکے گھر والوں اور رشتہ کرانے والے کو گالیاں اور بد دعائیں دینے لگے۔ لڑکے کی ماں نے بتایا کہ اسے یہ بات وہیں موجود ایک عورت نے بتائی ہے۔ اس عورت نے کہا کہ وہ یہ تو نہیں بتائے گی کہ وہ رشتے میں کیا لگتی ہے۔ مگر اس بات کو آپ لوگ پورے محلے سے کنفرم کر سکتے ہیں۔ کہ یہ گھر سے بھاگی تھی۔ اور ایک ٹانگ سے لنگڑی بھی ہے۔ غور کرنے پر ہی معلوم ہوتا ہے۔

ہم لوگ گھر پہنچے ہی ہونگے کہ لڑکی کا باپ اور لڑکی کے دو چچا ہمارے پیچھے ہی آگئے۔ انہوں نے اللہ کا واسطہ دیا کہ ہمیں بات تو بتائیں ہوا کیا ہے۔ لڑکے کے والد نے بتایا کہ آپ کی بیٹی لنگڑی ہے اور گھر سے بھاگی بھی ہوئی ہے۔ آپ نے ہم سے اتنا بڑا فراڈ کیا۔ لڑکی کے باپ نے کہا کہ میری بیٹی کا پیدائشی ایک پاؤں ٹیڑھا تھا۔ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہوں کسی کی کار کمیشن پر چلاتا ہوں۔ میں نے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کے پاؤں کے پانچ آپریشن کرائے کہ جب اسکا رشتہ ہوگا تو مشکل پیش آئے گی۔ اب اسکے پاؤں کا خم تو سو فیصد ٹھیک ہو چکا ہے مگر وہ والا پاؤں تھوڑا سا دبا کر رکھتی ہے۔ آپ لوگ تین بار آئے ہیں کوئی بتائے ناں تو معلوم ہی نہیں ہوتا۔ اگر آپکی بیٹی کا بھی خدا نخواستہ ایسا پاؤں ہوتا تو آپ اسکی شادی نہ کرتے؟

لڑکے کے باپ نے جارہانہ انداز میں کہا کہ وہ بات ٹھیک ہے مگر گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کا پہلے بتانا تو تھا ۔ کوئی بغیرت ہی اسے قبول کرتا۔ لڑکی کے باپ نے کہا ہم بیغیرت نہیں ہیں۔ چھ سال سے کوئی ساٹھ کے قریب رشتے آئے۔ لڑکی بی اے بی ایڈ ہے۔ خوبصورت ہے دراز قد ہے گھر کا کام کاج جانتی ہے۔ بس اسکے پاؤں کے نقص کی وجہ سے سب لوگ رد کر جاتے۔ ہم سب کو پہلے ہی سچ بتا دیتے تھے تو کوئی کہتا بچے بھی معذور ہونگے کوئی کہتا لوگ کیا کہیں گے لنگڑی بہو لے آئے۔ ایک اور دو ٹانگوں سے معذور لڑکوں کے رشتے بھی ہم نے دیکھے مگر وہ کچھ کمانے والے ہی نہیں تھے۔ ہم نے بہت گئے گزرے رشتے بھی قبول کرنا چاہے مگر وہ کچھ کماتے تو ہوتے۔ ہماری بیٹی مان لیں معذور ہی سہی مگر وہ مانگنے والوں سے نفرت کرتی ہے۔ بڑی خودار اور اوپر والے ہاتھ کا پسند کرنے والی بچی ہے۔ کہتی ہے سوکھی روٹی کھا لو، پھٹے کپڑے پہن لو، بھوک پیاس سہہ لو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔ ایک بار مانگ لیا تو دوسری بار مانگنا مشکل نہیں لگے۔ تیسری بار جھجک ختم ہو جائے گی اور چوتھی بار مانگنا اپنا حق لگے گا۔ اور پھر کچھ کرنے کو دل نہیں مانے گا کہ مانگنا ہی پیشہ بن چکا ہوگا۔ آپ لوگ اس بچی سے چند منٹ بات تو کرکے دیکھیں۔

اب دوسری بات کی طرف آتے ہیں۔ ہماری بیٹی جس پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی تھی اسی سکول کے پرنسپل نے اسے کہا کہ تم یہ کیا کر رہی ہو۔ کوئی اتنی بار بھی خود کو رد کرواتا ہے ؟ شادی سے خود انکار کر دو۔ کہ تمہیں شادی کرنی ہی نہیں ہے۔ پاکدامن رہو اور زندگی میں کوئی بڑا کام کرو۔ جہاں جاؤ گی وہاں بھی باتیں ہی سننے کو ملیں گی۔ کوئی قبول کر بھی لے تو گھر میں موجود خواتین سے ملنے والے طعنوں سے کبھی جان نہیں چھوٹے گی۔ اس نے آکر ہمیں صاف بتا دیا کہ ابو مجھے ذلیل نہ کریں۔ میں روز روز لوگوں کے سامنے نہیں آسکتی۔

ہمارے رشتہ نہ کرنے سے باز نہ آنے پر اسی پرنسپل نے ہماری بیٹی کو پرپوز کر دیا۔ وہ شادی شدہ تھا۔ ہم نے اسکی پہلی بیوی کا اعتراض کیا کہ ہم رشتہ نہیں کریں گے۔ یہ ہماری جہالت تھی۔ ہمیں کر دینا چاہیے تھا۔ بیٹی نے بھی بہت سمجھایا کہ ابو امی وہ اچھا بندہ ہے۔ میں تین سال سے اسی سکول میں ہوں۔ وہ عزت سے بیاہنا چاہ رہا ہے۔ آپ لوگ کیوں فضول ضد کر رہے ہیں۔ مگر ہم نہ مانے کہ پہلی کو طلاق دے تو ہم رشتہ دیں گے۔ بیٹی نے سمجھایا کہ آپ کیسے ظالم لوگ ہیں۔ اپنی بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر کسی کی بیٹی کا گھر اجاڑ رہے ہیں۔ وہ نہ مانے۔ تو بیٹی نے خود ہی کورٹ میرج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کسی طرح ہمارے پاس بھی یہ خبر آگئی۔ وہ لوگ سکول سے ابھی عدالت پہنچے ہی ہونگے کہ ہم بھی چار پانچ لوگ وہاں چلے گئے۔ اور بیٹی کو زبردستی وہاں سے واپس گھر لے آئے۔

ایسی باتیں چھپائے نہیں چھپتی۔ محلے کا ہی سکول تھا۔ سکول سٹاف نے بات بچوں کو بتائی اور یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ یہ سکول کا نام ہے یہ پرنسپل کا نام ہے۔ آپ جب مرضی جا کر حقیقت معلوم کر لیں۔ ہماری غلطی کی سزا ہماری بیٹی کو تو نہ دیں۔ اور ہمیں بتائیں آپ کو یہ بات کس نے بتائی۔ سوٹ کا رنگ اور حلیہ وغیرہ بتایا تو وہ لڑکی کی ممانی نکلی۔ لڑکی کی تائی اور ممانی نے مل کر یہ فساد برپا کرایا تھا۔ وہ لوگ ابھی ہمارے پاس ہی تھے۔ اور کچھ امید نظر آنے لگی تھی کہ رشتہ دوبارہ جڑ جاتا۔ کہ ان کو گھر سے فون آیا لڑکی نے لیٹرین صاف کرنے والا تیزاب پی لیا ہے۔ رشتہ کرانے والے آدمی نے بتایا کہ چار دن ہسپتال رہ کر وہ وفات پا گئی ہے۔
تحریر:خطیب احمد

15/09/2023

"معصومیت کا استحصال

چند دن پہلے کی بات ہے، میں نے اپنے بچوں کی آیا (یولیا واسیلیونا) کو اپنے دفتر میں مدعو کیا تاکہ اس کی تنخواہ کی ادائیگی کی جا سکے۔

میں نے یولیا واسیلیونا کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا:
بیٹھو .. تمھیں تنخواہ دینے سے پہلے تمھارے سامنے کچھ حساب رکھنا چاہتا ہوں .. تمھیں شاید پیسوں کی ضرورت ہے، لیکن دو ماہ کی میرے ذمہ واجب الادا تنخواہ تم خود مانگتے ہوئے شرماتی کیوں ہو.. سنو تمھیں یاد ہے نا کہ، تمھیں ملازمت دینے سے پہلے ہم نے اتفاق کیا تھا کہ میں تمھیں ماہانہ تیس روبل ادا کروں گا۔

یولیا واسیلیونا نے منمناتے ہوئے کہا چالیس روبل..

نہیں، تیس.. یہ دیکھو میرے پاس معاہدے کی تمام دستاویزات موجود ہیں جن پر تم نے انگوٹھا ثبت کر رکھا ہے..
چالیس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ،کیونکہ میں نے خادموں کو ہمیشہ بطور ماہانہ اجرت تیس روبل ہی دئیے ہیں .. ٹھیک ہے، تم نے ہمارے لئے دو مہینے کام کیا ہے..

یولیا واسیلیونا نے کمزور سے لہجے میں کہا دو مہینے پانچ دن۔

نہیں ٹھیک دو مہینے.. یہ دیکھو تمھارا حاضری کارڈ ،میرے پاس ہر چیز ریکارڈ میں موجود ہے.. اس طرح طے شدہ تنخواہ کے حساب سے تو تم ساٹھ روبل کی مستحق ہو.
ہم اس میں سے نو اتوار کی چھٹیاں کاٹ لیتے ہیں.. کیونکہ اتوار کو کولیا میری بیٹی کی چھٹی ہوتی تھی تو تم اس دن اسے لکھانے پڑھانے کی بجائے صرف اس کے ساتھ صبح اور شام کی سیر کے لیے جاتی تھی۔ ..پھر تم نے ذاتی کام کاج کے لیے تین دن کی چھٹیاں کی تھیں ۔

یولیا واسیلیونا کا چہرہ بے بسی کے مارے زرد ہوچکا تھا، اور وہ اپنی انگلیوں سے قمیص کے کناروں کو لپیٹ رہی تھی، لیکن... اس نے ایک لفظ بھی نہیں کہا!

نو اتوار کی چھٹیاں اور تمھاری اپنی تین چھٹیاں کاٹ لیں، تو بارہ ایام کے کل بارہ روبل بنتے ہیں... کولیا چار دن سے بیمار تھی اور اس دوران اسے کوئی سبق نہیں پڑھایا گیا.. تم نے صرف وریا کو پڑھایا تھا... اور تین دن تمہارے دانتوں میں درد تھا، اس لیے میری بیوی نے تمہیں اجازت دی کہ دوپہر کے کھانے کے بعد پڑھانے کی بجائے آرام کرو...
تو بارہ جمع سات - انیس... کو منہا کیا ، بقیہ... اکتالیس ۔۔۔ روبل.. ٹھیک ہے؟

یولیا واسیلیوینا کی بائیں آنکھ سرخ ہو گئی اور آنسوؤں سے بھر گئی، اور اس کے چہرے کے عضلات سکڑ گئے۔
وہ اچانک زور سے کھانسی اور الٹے ہاتھ کی پشت سے ناک کو پونچھا، لیکن... اس نے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکالا!

نئے سال کی شام سے پہلے، تم نے ایک کپ اور ایک پلیٹ توڑ دی۔ اس کے لیے زیادہ نہیں میں صرف دو روبل کاٹ رہا ہوں ... حالانکہ کپ اس سے کہیں زیادہ مہنگا تھا، یہ وراثت میں ملا تھا ، لیکن خیر خدا تمھیں معاف کرے! ہمیں ہر چیز کا معاوضہ تو دینا پڑتا ہے.. ہاں، اور تمھاری لاپرواہی کی وجہ سے، کولیا درخت پر چڑھ گئی اور اس کی جیکٹ پھٹ گئی۔
قیمتی جیکٹ کے بدلے دس روبل کاٹ رہا ہوں.. تمھاری غفلت کی وجہ سے نوکرانی نے وریا کا ایک جوتا چرا لیا، حالانکہ بچوں کے سامان کی حفاظت کرنا تمھارا فرض ہے جس سے تم نے کوتاہی برتی، اور تم اپنا فرض نبھانے کی ہی تنخواہ لیتی ہو۔

اور اس طرح میں نے جوتوں کے بھی پانچ روبل کاٹ لیے... 10 جنوری کو تم نے مجھ سے دس روبل ادھار لیے۔

یولیا واسیلیونا نے سرگوشی کے انداز میں کمزور سا احتجاج کیا: نہیں میں نے نہیں لیے !

- لیکن یہ دیکھو اس تاریخ کو میرے حساب میں لکھا ہوا ہے ، تم جانتی ہو حساب کتاب میں میں کتنا اصول پسند ہوں!

- اچھا ٹھیک ہے، لیے ہوں گے ،اب ؟...

- اکتالیس میں سے، ستائیس کاٹے تو... باقی چودہ بچ گئے ہیں...
اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں... اور اس کی لمبی، خوبصورت ناک پر پسینے کے قطروں سے موتیوں کی مالا بن گئی تھی۔

میں غریب لڑکی ہوں!
اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا:
میں نے فقط ایک بار ادھار لیا... وہ بھی میں نے آپ کی بیوی سے تین روبل لیے... اس کے علاوہ میں نے اور کچھ نہیں لیا...

کیا واقعی؟ دیکھو، مجھے تو ان تین روبل کا علم ہی نہیں تھا، نہ ہی حساب کتاب کے گوشواروں میں ان کا ذکر ہے۔۔ چودہ میں سے تین کاٹتے ہیں، اور باقی بچتے ہیں گیارہ روبل... یہ رہی تمھاری تنخواہ!
تین.. تین.. تین.. ایک.. ایک.. آؤ آگے بڑھو، اور انہیں وصول کرکے تصدیقی انگوٹھا ثبت کر دو۔

اور میں نے گیارہ روبل اس کی طرف بڑھائے.. تو اس نے انہیں لے کر کانپتی انگلیوں سے اپنی جیب میں ڈالا.. اور سرگوشی کی:
شکریہ جناب!

تو میں اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا، اور غصے نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
میں نے اس سے پوچھا:
کس چیز کے لیے تم شکریہ ادا کر رہی ہو؟

یولیا واسیلیونا نے جواب دیا: تنخواہ کی ادائیگی پر...

لیکن میں نے تمھیں لوٹ لیا، تمھارا حق جو بنتا تھا اس سے میں نے اپنی مرضی سے کٹوتی کر لی ! اس واضح نا انصافی پر بھی تم ،میرا شکریہ ادا کر رہی ہو؟

یولیا واسیلیونا گویا ہوئی: دراصل اس سے پہلے جس کے پاس میں ملازمہ تھی، اس نے تو مجھے کچھ بھی نہیں دیا تھا۔

کیا کہا؟ اس نے تمھیں کسی قسم کی کوئی ادائیگی نہیں کی؟ یہ تو عجیب بات نہیں ہے ؟
یولیا واسیلیونا سنو! میں نے تمھارے ساتھ مذاق کیا ہے، میں دراصل تمھیں مشکل سبق سکھانا چاہ رہا تھا..
میں تمھیں تمھاری مکمل تنخواہ ادا کروں گا، پورے اسی روبل!
وہ دیکھو تمھارے لیے، تنخواہ کی رقم لفافے میں موجود ہے! لیکن کیا تم اتنی ناانصافی کے بعد بھی اپنا حق مانگنے سے قاصر ہو؟
احتجاج کیوں نہیں کرتی؟ ظلم پر خاموشی کیوں ؟ کیا اس دنیا میں یہ ممکن ہے کہ کوئی اپنے اوپر ہونے والے ظلم سے لاتعلق رہے ، اور جوابی وار نہ کرے؟ کیا اس حد تک سادہ لوح ہونا ممکن ہے؟

وہ بے بسی سے مسکرائی اور اس کے چہرے پر واضح لکھا تھا: شاید!

میں نے اسے سخت سبق سکھانے کے لیے اس سے معذرت کی اور پورے اسّی روبل اس کے حوالے کر دیے۔
اس نے بے یقینی اور حیرت کے ساتھ شرماتے ہوئے میرا شکریہ ادا کیا اور چلی گئی...
اس کو جاتے ہوئے دیکھ کر میں نے سوچا:
واقعی، اس دنیا میں کمزوروں کو کچلنا کتنا آسان ہے!

12/09/2023

📢 *تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے روپ میں بیٹھے بلیک میلرز سے لڑکیوں کو بلیک میل نہیں ہونا چاہیئے بلکہ بلا خوف فوراً آواز اٹھائیں* 📢
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ! آپ بریک ٹائم میرے آفس میں آئیں
سر امتیاز نے لیکچر ختم ہونے پر آمنہ سے کہا

“پاکستان کے اِک مشہور مذہبی گھرانے کی بیٹی آمنہ حبیب (فرضی نام) لاہور کی اک مشہور اور مہنگی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے آئی لائق تھی پڑھنے کا شوق تھا تو بہت کوششوں اور منتوں سے اِسکے باپ نے اِسے یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا تھا آمنہ اپنے خاندان میں وہ پہلی لڑکی تھی جو یونیورسٹی پہنچی تھی
اپنی اماں کی تربیت اور باپ کی نیک نامی کا خیال اور اُسکے ساتھ اپنی عزت و تکریم کا احساس بھی تھا اسلئے آمنہ یونیورسٹی میں بھی عبایہ پہنتی یونیورسٹی کے آزاد ماحول کے باوجود وہ لڑکوں کے میل جول سے دُور رہتی تھی”

ابھی کل ہی سر امتیاز کے سبجیکٹ کا پیپر تھا تو آمنہ سوچنے لگی شاید پیپر میں کوئی گڑبڑ ہوئی ہے اسلئے سر بُلا رہے
دروازے پر دستک دیکر اُس نے اجازت مانگی
سر میں اندر آ جاؤں؟
آ جاؤ
وہ اندر داخل ہُوئی تو سر امتیاز لیپ ٹاپ پر کُچھ دیکھ رہے تھے
سر آپ نے مُجھے بُلایا
ہاں آپ کی توجہ کدھر ہوتی ہے؟
آپکو کچھ پتہ ٹیسٹ کیسے دیتے ہیں؟

سر کِیا ہُوا؟ وہ گھبرائی
اس طرح ٹیسٹ لینا چاہتا ہُوں میں ایسی پرفارمنس کیساتھ
سر نے لیپ ٹاپ کی سکرین اُسکی طرف موڑتے ہُوئے کہا
آمنہ نے یُونہی سکرین دیکھی تو لرز گئی
لیپ ٹاپ پر فحش ویڈیو آن تھی جس میں مرد و عورت آپس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ دروازہ کھول کر باہر بھاگی اور پھر کلاس رُوم میں جا کر رونے لگ گئی
سارا دن ساری رات یہ سب کُچھ اُسکی نظروں میں ذہن میں گُھومتا رہا اور وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوتی رہی
اگلے دن لیکچر کیبعد کلاس رُوم میں ہی بیٹھی تھی جب اُسے سر امتیاز کا میسج ملا
کیا سوچا ہے آمنہ؟
ٹیسٹ کب دو گی آپ؟؟
میسج سِین کر تے ہی وہ پسینے سے شرابور
کانپتے ہاتھوں سے اُس نے میسج ڈیلیٹ کیا اور پھر باقی لیکچرر چھوڑ کر ہاسٹل چلی آئی
کیا کروں؟ کس کو بتاؤں؟
امّی کو بتاتی ہوں
موبائل نکالا ماں کو کال کر دی
پھر سوچا امی کیا کریں گی؟ ابو کو بتائیں گی تو پڑھائی ختم اور گھر بُلا لیں گے
وہ یہ سب سوچ کر پھر ماں سے بات نہ کر سکی
اُس کی روم میٹ جب ہاسٹل آئی تو انہوں نے بھی پوچھا
کیا ہُوا تُم یونیورسٹی سےبھی جلدی آ گئی
کُچھ نہیں بس طبیعت نہیں ٹھیک
ٹیسٹ کا رزلٹ آیا تو آمنہ اپنے یونیورسٹی کیرئیر میں پہلی بار ٹیسٹ میں فیل تھی

جب تک آپ اچھی طرح یہ ٹیسٹ نہیں دیں گی سبجیکٹ پاس نہیں ہوگا
یہ دوسرا میسج تھا سرامتیاز کا
پھر وُہی ہُوا فائنل پیپرز میں سرامتیاز کے سبجیکٹ میں آمنہ فیل تھی اور بہت بُرے نمبرز سے فیل تھی
اُس نے ہمت کرکے اپنی اک کلاس فیلو کو سب بتایا اور کہا کہ اگر مُمکن ہے تو میرا پیپر چیک کروا دو مُجھے یقین ہے میں پاس ہوں لیکن سرامتیاز کی بات نہ ماننے کی وجہ سے فیل قرار دیا گیا ہے
خدیجہ نے سرامتیاز سے بات کی
سر! آمنہ کا پیپر چیک دکھا دیں گے وہ ری چیکنگ کروانا چاہتی

آپ ڈیپارٹمنٹ کلرک عباس سے پتہ کریں
وہ دونوں اُدھر گئیں تو کلرک کا جواب تھا ابھی میٹنگ ہے تو آپ کل آکر پیپر دیکھ لینا
اگلے دن گئیں تو کلرک عباس نے صاف کہہ دیا
سرامتیاز کے کُچھ ٹیسٹ آپ نے چھوڑے ہیں اسلئے اُنہوں نے آپکا سبجیکٹ فیل کردیا ہے اور پیپرز بھی اُنہی کے پاس ہیں آپ اُن سے مل لیں

خدیجہ! یہ بندہ مُجھے ہراساں کر رہا اور ۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ تُم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟
لیکن دونوں کی لاکھ کوششوں کے باوجود نا تو آمنہ کا سبجیکٹ کلئیر ہُوا نا ہی امتیاز سے چُھٹکارا ملا بلکہ اُلٹا یہ ہُوا کہ خدیجہ کا بھی رزلٹ روک لیا گیا
اک سیمسٹر میں آمنہ اُس سبجیکٹ میں فیل ہو چکی تھی یعنی اب اگر پیپرز چیک نہ ہوتے تو چھ ماہ اُسے مزید یونیورسٹی رہنا تھا
اور کلرک عباس کے ذریعے آمنہ کو دوبارہ میسج ملا کہ جب تک ٹیسٹ نہیں دو گی تُم پاس نہیں ہوگی۔ ۔
آخر تنگ آکر اور مجبور ہوکر خدیجہ نے یہ سب کُچھ اپنے اک کزن عِمران جو کہ حساس ادارے میں مُلازم تھا کو بتایا اور اُسے کچھ کرنے کو کہا

عِمران خُود پروفیسر امتیاز سے ملنے آیا اور اُسے آگاہ کیا کہ یہ میری کزن کی دوست ہے اُستاد باپ کی جگہ ہوتا ہے آپ براہ مہربانی سبجیکٹ کلئیر کریں اور بچی کو ہراساں مت کیجئے

تُم کون ہو؟ یہ کس طرح کے گھٹیا الزام لگا رہے ہو ؟ اور اسٹوڈنٹ کے گارڈین کے علاوہ کوئی شخص ہم سے سوال نہیں کرسکتا میں ابھی ڈین سے بات کرتا اُنکے گارڈین کو بُلواتا ہوں
اچھا سر آپ غصہ نہ ہوں میں معزرت خواہ ہوں مجھے یونیورسٹی رُولز کا پتہ نہیں تھا
چلے جاؤ یہاں سے ورنہ میں سیکیورٹی بُلا کر تُمہیں دھکے دیکر بھجواؤں گا پتہ ہوتا نہیں مُونہہ اُٹھا کر آجاتے
عمران اُٹھ کر آ گیا
اور پھر اُسی رات پروفیسر امتیاز اُن کا مہمان تھا
بہت اچھی میزبانی کی گئی پروفیسر صاحب کی اچھی خاصی خاطرمدارت کیبعد اُنہیں باعزت طریقے سے اُنکی رہائش گاہ کے باہر چھوڑ دیا گیا
صُبح اُنہوں نے خُود آمنہ اور خدیجہ کو بُلاکر معافی مانگی اور اُنکے سبجیکٹ رزلٹ کلئیر کروائے۔!!

نوٹ! یہ اک سچی داستان ہے جہاں اک لڑکی کی عِزت اُسکے اپنے پُختہ کردار اور ہماری بروقت مدد سے بچ گئی اور وہ اس گھناؤنے مافیا سے محفوظ رہی لیکن ہزاروں بچیاں ایسی ہیں جو ڈر خوف تربیت میں کمی یا شوق سے اس مافیا کے ہاتھوں اپنی عزت و آبرُو لُٹا چُکی ہیں خُدارا اپنی بیٹیوں کو کبھی کسی غیرمحفوظ اور نامناسب جگہ پر نہ بھیجا کریں۔!!

(اللہ سب کی بیٹیوں کی عزت و آبرُو کی حفاظت رکھے آمین )

آج مانگٹ  کی ایک عظیم شخصیت کا انتقال ہو گیا، وہ ایک عظیم انسان تھے جن کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی، وہ بابا عینکیا کے نا...
10/09/2023

آج مانگٹ کی ایک عظیم شخصیت کا انتقال ہو گیا، وہ ایک عظیم انسان تھے جن کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی، وہ بابا عینکیا کے نام سے مشہور تھے، وہ ہمیشہ لوگوں کو ہیلتھ ٹپس اور میڈیسن کے بارے میں بہترین مشورے دیتے تھے، ہمیشہ بچوں کو ٹافیاں تقسیم کرتے تھے، انہوں نے اپنی زندگی ایک محبت کرنے والے انسان کے طور پر گزاری،.
انہوں نے 1947 میں تقسیم برصغیر کے وقت ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی اور مانگٹ میں سکونت اختیار کی اور وہیں پہ اپنا جنرل سٹور کا کاروبار شروع کیا، وہ اپنے پیار بھرے رویے کی وجہ سے بہت جلد مانگٹ کے مقامی لوگوں میں مقبول ہو گئے اور لوگوں کے دلوں میں عزت اور وقار حاصل کیا اور اپنے کاروبار میں کامیاب ہوئے ۔ اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

11/08/2023

آپ واپس (ماضی میں) جا کر شروعات کو تبدیل نہیں کر سکتے لیکن جہاں آپ ہیں وہیں سے آغاز کر کے انجام کو ضرور تبدیل کر سکتے ہیں

10/08/2023

بھروسہ جس پہ جتنا ہو وہ اتنا توڑ دیتا ہے
کہ دریا بھی کناروں کو اکیلا چھوڑ دیتا ہے
جو بھی صحرانوردی کی حقیقت جان لیتا ہے
وہ محفل چھوڑ دیتا ہے وہ میلا چھوڑ دیتا ہے
ستم پر وقت جب آئے ستم ایسے بھی کرتا ہے
مناسب نا مناسب کو اکٹھے جوڑ دیتا ہے
اُسے انداز آیا ہے محبت سے مکرنے کا
ذرا سی بات ہوتی ہے نشانی موڑ دیتا ہے
وہ پہلے میرے دریا کو بدل دیتا ہے صحرا میں
مگر برسات کے موسم میں پانی چھوڑ دیتا ہے
سنا ہے عشق میں ایسی بھی کچھ تاثیر ہوتی ہے
بڑھاپے میں اگر ہو تو جوانی موڑ دیتا ہے
بتا اس وقت تیرے پاس کیا بچتا ہے کہنے کو
ترا ہی رازداں جب تیرا بھانڈا پھوڑ دیتا ہے
کلام: ڈاکٹر مظہر اقبال مانگٹ

ہمارے پنڈ (گاؤں) ایک پیر صاحب کے پاس پہلے ایک گھر کی بہو آئی اور اپنی....
04/08/2023

ہمارے پنڈ (گاؤں) ایک پیر صاحب کے پاس پہلے ایک گھر کی بہو آئی اور اپنی....

Urdu News Website of MANGAT Pakistan

1997 میں کھیلے گئے آزادی کپ کے دوران سعید انور نے 194 رنز کی ریکارڈ اننگ کھیلی جو اس وقت کا بہترین اور شاندار اسکور تھا....
02/08/2023

1997 میں کھیلے گئے آزادی کپ کے دوران سعید انور نے 194 رنز کی ریکارڈ اننگ کھیلی جو اس وقت کا بہترین اور شاندار اسکور تھا.
سعید انور سے جب اس ریکارڈ پر بات چیت ہوئی تو کہنے لگے، مجھ سے زیادہ رن نہیں بن پا رہے تھے تو...

Urdu News Website of MANGAT Pakistan

دس محرم: کربلا و بعد از کربلا
29/07/2023

دس محرم: کربلا و بعد از کربلا

Urdu News Website of MANGAT Pakistan

Address

Mangat
50410

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MANGAT ONLINE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share