02/11/2023
بورے والا(تحصیل رپورٹر) بعدالت جناب رانا خلیل احمد خاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بورے والا نے مقدمہ نمبر 733/23 بجرم 9 سی کا فیصلہ سناتے ہوے محمد اقبال کو جرم ثابت نہ ہونے پر باعزت بری کر دیا۔ تفصیل کے مطابق تھانہ ماڈل ٹاون پولیس بورے والا ہمراہ ایس ڈی پی او عمر فاروق نے رشوت لینے کے بعد مورخہ 21-06-2023 بوقت تقریبا پانچ بجے چونگی نمبر پانچ شارع عام پر واقع گودام دی نیچر سپرٹ پر فیک کارواءی کرتے ہوءےمحمد اقبال اور اس کے بیٹے احسان علی کو گرفتار کیا تھا۔ دی نیچر سپرٹ جس کی بنیاد الکوحل ہے۔جو محکمہ ایکسایز کی پرمشن سے خرید کیا ہوا تھا۔ تو اس کے آٹھ ڈرم بھر کر بجرم 3-4-4-79 احسان علی پر مقدمہ درج رجسٹر کیا۔ جبکہ احسان علی بی اے کا سٹودنٹ ہے۔اور اس کا والد محمد اقبال محکمہ ایکسایز کا لاءسنس ہولڈر ہے۔جبکہ محمد اقبال سے کوءی نارکوٹکس برآمد نہ ہوءی تھی۔ اس کو من گھڑت مقدمہ733/23 بجرم ۹۔سی چالان کر دیا۔ یہ مقدمہ بعدالت جناب رانا خلیل احمد خاں ایڈیشنل اینڈ سیشن جج زیر سماعت تھا۔ ملزم محمد اقبال کی طرف سے محمد رمضان خان سینیر وکیل ہاءی کورٹ عدالت میں پیش ہوءے۔گواہان استغاثہ کے ساتھ بحث کرتے ہوءے انہیں غلط ثابت کیا اور معزز عدالت نے پولیس کی چھوٹی کاروائی پر سرزنش کی اور کارواءی کو جعلی اور مشکوک کرار دیا۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ کارواءی سپرٹ کے گودام پر ہوءی ۔ معزز عدالت جناب خلیل احمد صاحب نے جرم ثابت نہ ہونے اور مقدمہ کا فیصلہ میرٹ پر کرتے ہوءے محمد اقبال کو باعزت بری کر دیا۔محمد اقبال نے معزز عدالت کو بیان دیا کہ میرا نارکوٹکس کے کاروبار سے کوءی واسطہ نہ ہے۔ اور میں سپرٹ کا کاروبار کرتا ہوں۔ معروف بلیک میلر اور اس کے ساتھیوں نے پولیس کے ساتھ ساز باز ہوکریہ ناحق کارواءی کرواءی۔ حق اور سچ کی فتح ہوءی۔ میں بورے والا کی صحافی برادری کا بھی شکر گزار ہوں ۔ کہ انہوں نے پولیس کی فیک کارواءی کی کوریج سے انکار کیا۔ اور حق اورسچ کا ساتھ دیا۔
محمد ریاض قادری
تحصیل رپورٹر بورے والا
روزنامہ خبریں لاہور