Gul O Gulzar Seeds Foundation.

Gul O Gulzar Seeds Foundation. *
I’m Syed Imran Ali ( Mani Shah) living in Karachi. Age 41, hometown: Maddi, Dera Ismail Khan (Khyber Pakhtunkhwa). Education: Matric (Science).

Early years spent at Agriculture Department, D.I. Khan, which inspired my love for nature and plants.

🌱 *گھر بیٹھے انناس اگائیں – صرف ایک پھل کے تاج سے!* 🌱  _پیشکش: گل و گلزار سیڈز فاؤنڈیشن، کراچی_السلام علیکم!  کیا آپ جان...
24/05/2026

🌱 *گھر بیٹھے انناس اگائیں – صرف ایک پھل کے تاج سے!* 🌱
_پیشکش: گل و گلزار سیڈز فاؤنڈیشن، کراچی_

السلام علیکم!
کیا آپ جانتے ہیں کہ بازار سے لایا ہوا ایک انناس آپ کو سال بھر بعد ایک نیا، تازہ اور کیمیکل سے پاک انناس دے سکتا ہے؟

یہ طریقہ گھر میں انناس اگانے کا سب سے آسان اور عملی طریقہ ہے 👇

*طریقہ کار:*
1️⃣ تازہ انناس لیں جس کے اوپر پتوں کا تاج ہرا بھرا ہو۔
2️⃣ اوپر کا تاج کاٹ کر نیچے کے 3-5 پتے اتار دیں تاکہ 1-2 انچ تنا ننگا ہو جائے۔
3️⃣ 2-3 دن سائے میں خشک کریں۔
4️⃣ گملے کی بھل مٹی میں لگائیں کہ تنا مٹی میں دب جائے۔
5️⃣ پہلی بار خوب پانی دیں، پھر 3-4 ہفتے تک براہِ راست دھوپ سے بچا کر رکھیں۔
6️⃣ گرمیوں میں ہر دوسرے دن، سردیوں میں 4-5 دن بعد ہلکا اسپرے کریں۔

🌿 1 سے ڈیڑھ ماہ میں نئی گروتھ نظر آئے گی – مطلب جڑیں بن گئیں!
☀️ اب دھوپ میں رکھیں اور 9-10 ماہ میں آپ کا اپنا گھریلو انناس تیار!

یہ کام نہ صرف آپ کے گھر کو سرسبز بنائے گا، بلکہ بچوں کو فطرت سے جوڑنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔

*گل و گلزار سیڈز فاؤنڈیشن* کا مقصد ہے:
کراچی کو سرسبز بنانا، کچرا کم کرنا، اور ہر گھر کو خود کفیل بنانا۔

اگر آپ بھی اپنے گھر، چھت یا بالکونی میں سبزی، پھل اور درخت لگانا چاہتے ہیں تو ہمارے ساتھ جڑیں۔

📞 *واٹس ایپ رابطہ:* 0333.3483912
📍 *مقام:* کراچی

_نوٹ: یہ پوسٹ محمد نعیم صاحب سے کاپی کی گئی ہے، عوام الناس میں انناس کو اگانے کے طریقے کا شعور عام کرنے کے لیے۔_


I accepted 3 fan badges from Mian Muhammad Iqbal, Shajar Dost vehari and Rafiq Ahmed.
24/05/2026

I accepted 3 fan badges from Mian Muhammad Iqbal, Shajar Dost vehari and Rafiq Ahmed.

With Rafiq Ahmed – I just got recognised as one of their top fans!
17/05/2026

With Rafiq Ahmed – I just got recognised as one of their top fans!

11/05/2026

ںبچپن کی سخت ترین محرومیوں سے گزرنے والا ایک لڑکا، آج لاکھوں درختوں کی امید بن چکا ہے۔
خضر ولی چشتی نے اپنے ہاتھوں سے تین لاکھ پودے لگا کر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شجرکاری کا پیغام عام کیا۔
ان کی ماحول دوستی اور مسلسل جدوجہد کے اعتراف میں آسٹریلیا میں ان کے نام سے ایک جنگل بھی قائم کیا گیا۔
وہ آج نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہیں کہ اگر نیت خدمت کی ہو تو انسان اپنی تکلیف کو بھی انسانیت کے فائدے میں بدل سکتا ہے۔”

ایڈمن
ٹیم خضر ولی چشتی

10/05/2026

1979 میں ایک سولہ سالہ لڑکا دریائے برہم پتر کے کنارے ایک ویران ریتلے ٹاپو پر کھڑا تھا۔ اردگرد سب کچھ سنسان تھا، نہ درخت، نہ سایہ، نہ زندگی۔ اسی جگہ اس نے کئی سانپ دیکھے جو تیز دھوپ برداشت نہ کر سکے اور مر چکے تھے۔ اس لڑکے کے دل میں ایک بات بیٹھ گئی کہ اگر یہاں درخت ہوتے تو شاید یہ سب نہ ہوتا۔

اس لڑکے کا نام جادھو پائینگ تھا۔ وہ مجولی جزیرے کا رہنے والا ایک سادہ سا نوجوان تھا۔ نہ اس کے پاس کوئی خاص وسائل تھے، نہ تعلیم، نہ کوئی ادارہ اس کے ساتھ تھا۔ مگر اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس جگہ کو بدلنے کی کوشش کرے گا۔

وہ محکمہ جنگلات کے پاس گیا، مگر اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ بات وہیں ختم ہو سکتی تھی، مگر اس نے خود ہی کام شروع کر دیا۔ ابتدا اس نے چند بانس کے پودوں سے کی۔ وہ روزانہ دریا سے پانی بھر کر لاتا، ان پودوں کو دیتا، گرمی ہو یا تھکن، وہ واپس آتا رہا۔

آہستہ آہستہ بانس نے جڑ پکڑ لی۔ اس نے مزید درخت لگانے شروع کیے، مختلف بیج جمع کیے، اور ان کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ یہ کام دنوں یا مہینوں کا نہیں تھا، بلکہ لگاتار 30 سے 40 سال کی محنت کا نتیجہ تھا۔ وہ اکیلا تھا، مگر اپنے کام پر قائم رہا۔

وقت کے ساتھ وہ زمین بدلنے لگی۔ جہاں پہلے صرف ریت تھی، وہاں سبزہ دکھائی دینے لگا۔ درخت بڑے ہوئے تو پرندے آئے، پھر جانور بھی آنے لگے۔ آہستہ آہستہ وہ جگہ ایک مکمل جنگل میں بدل گئی۔

آج اس جنگل میں 100 سے زیادہ ہاتھی آتے ہیں، اس کے علاوہ ہرن، بھارتی گینڈے، جنگلی سور، اور بے شمار پرندے اور چھوٹی مخلوقات وہاں بس چکی ہیں۔ بعض رپورٹس میں بنگال ٹائیگر کی موجودگی کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسی جگہ جہاں کچھ بھی نہیں تھا، وہاں آج ایک مکمل زندہ نظام قائم ہے۔

کئی سال بعد لوگوں کو احساس ہوا کہ یہاں کچھ غیر معمولی ہو چکا ہے۔ ایک ایسا جنگل تیار ہو چکا تھا جس کا رقبہ تقریباً 1,300 ایکڑ تک پہنچ گیا۔

پھر دنیا کو اس کے بارے میں پتا چلا۔ لوگ آئے، حیران ہوئے، اور جادھو پائینگ کو پہچان ملی۔ اسے 2015 میں بھارت کا بڑا سول اعزاز “پدم شری” دیا گیا، اور دنیا اسے “فاریسٹ مین آف انڈیا” کے نام سے جاننے لگی۔

وہ آج بھی وہی کام کرتا ہے، درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا۔
انسان کے ارادے مضبوط ہوں تو کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ اور یہاں ایک بات صاف نظر آتی ہے کہ درختوں کی اہمیت کیا ہے، انہی درختوں کی وجہ سے وہاں زندگی واپس آئی، جانور آئے، پرندے آئے، اور ایک ویران زمین ایک زندہ دنیا میں بدل گئی۔

پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔

دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن

Shahi CoCO BroomGul O Gulzar Seeds Foundation, Karachi100% ناریل کے پتوں سے بنیایکو فرینڈلی، 1 سال گارنٹی2.5 ft - Small ...
10/05/2026

Shahi CoCO Broom
Gul O Gulzar Seeds Foundation, Karachi

100% ناریل کے پتوں سے بنی
ایکو فرینڈلی، 1 سال گارنٹی

2.5 ft - Small - 250 روپے
باتھ روم، گاڑی، میز کے لیے

3.5 ft - Medium - 350 روپے
کمرے، برآمدہ، روزانہ استعمال

4 ft - Large - 450 روپے
چھت، ہال، مسجد، دکان کے لیے

Family Pack Offer: تینوں صرف 950 میں - 100 روپے بچاؤ

"صفائی نصف ایمان ہے"
"ایک جھاڑو = ایک دن کی حلال دیہاڑی"

آرڈر کے لیے رابطہ: 0308-2273353
Gul O Gulzar Seeds Foundation, Karachi

Shahi CoCO Broom
Gul O Gulzar Seeds Foundation, Karachi
100% Coconut Leaf Broom - Handmade, Eco-Friendly, 1 Year Guarantee

Small - 2.5 ft - 250 PKR
For: Bathroom, Car, Table

Medium - 3.5 ft - 350 PKR
For: Rooms, Daily Use

Large - 4 ft - 450 PKR
For: Ceiling, Hall, Mosque

Family Pack Offer:
All 3 for 950 PKR - Save 100 PKR

Cleanliness is Half of Faith
1 Broom = 1 Day Halal Earning

Strong | Washable | Lightweight

Order Now: 0308-2273353
Gul O Gulzar Seeds Foundation, Karachi

Address

Arab Phanhwer Goth Near Sindh Asociated (Ayan Public School
Malir
75120

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gul O Gulzar Seeds Foundation. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share