Youth of Layyah

Youth of Layyah Layyah Youth is a leading platform for the youth of District Layyah. In order keep youth updated, informed to share Jobs and opportunities with them

" کتاب دوستی مہم"کونسل آف ریسرچ اینڈ لٹریچر (کورل) پاکستان کے زیر اہتمام ضلع لیہ میں تصنیف" متاعِ فقیر"  مصنف حنیف خیالی...
16/11/2025

" کتاب دوستی مہم"
کونسل آف ریسرچ اینڈ لٹریچر (کورل) پاکستان کے زیر اہتمام ضلع لیہ میں تصنیف" متاعِ فقیر" مصنف حنیف خیالی صاحب کی تقریب رونمائی مورخہ 16 نومبر 2025 بروز اتوار سپیریئر یونیورسٹی لیہ کیمپس کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی جس کی نظامت محترم جناب سید عمران علی شاہ صاحب جبکہ صدرات جناب پروفیسر ڈاکٹر سجاد حسین گٹ نے فرمائی۔ مہمان خصوصی جناب میاں امداد حسین لیکھی سرائی ، پروفیسر مہر اختر وہاب صاحب تھے، مہمان اعزازی جناب رحمت اللہ خان جعفر ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر لیہ، اور خصوصی شرکت حنیف خیال صاحب نے کی ۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، نعت رسول مقبول پڑھنے کی سعادت سید عمران علی شاہ نے حاصل کی۔ اظہار خیال کرنے والوں میں محترم شیخ اقبال حسین دانش، جمشید ساحل، مقالمہ پڑھنے والوں میں جناب پروفیسر مہر اختر وہاب اور میاں شمشاد حسین سرائی شامل تھے۔ اس کے بعد خصوصی طور پر منصف حنیف خیالی ، رحمت اللہ خان جعفر ،ڈاکٹر سید ابن الحسن شاہ بخاری اور پروفیسر ڈاکٹر سجاد حسین گٹ صاحب نے کتاب متاعِ فقیر پر سیر حاصل گفتگو کی۔۔ کونسل آف ریسرچ اینڈ لٹریچر کورل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب غلام مصطفیٰ نے کورل کے منشور "کتاب دوستی مہم" کی ترویج کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو بیان کیا جس کو حاضرین محفل نے خوب سراہا۔
رپورٹ
ایگزیکٹو باڈی کورل پاکستان ۔

       پریس کلب چوک اعظم میں صحافیوں کیلئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔صحافتی زمہ داریوں سے آگاہی اور پیکا ایکٹ سے ر...
27/10/2025


پریس کلب چوک اعظم میں صحافیوں کیلئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔صحافتی زمہ داریوں سے آگاہی اور پیکا ایکٹ سے روشناس کرایا گیا۔صحافیوں کو زمہ داری کیساتھ غیر جانبدارانہ صحافت کرنا ہو گی۔پیکا ایکٹ کے نفاذ کے بعد صحافیوں پر اپنے تحفظ کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ریاستی قوانین کا احترام جیسے ہر شہری پر فرض ہے ویسے ہی صحافیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔تربیتی ورکشاپ میں صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے جزویات بارے مفصل بتایا گیا۔معروف ٹرینر سید عمران علی شاہ نے مفصل طور پر پیکا ایکٹ،ذمہ دارانہ،غیر جانبدارانہ صحافت پر لیکچر دیا۔اس موقع پر سینئیر صحافی ملک صابر عطاء نے کہا زمہ دار اور محفوظ صحافی ہی ذمہ دارانہ اور محفوظ صحافت کا موجب ہے۔محفوظ صحافی ہی محفوظ صحافت کر سکتا ہے ریاستی قوانین کا احترام کیے بغیر ہم صحافت کے شعبہ میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔صدر پریس کلب چوک اعظم شہباز قریشی نے کہا کہ انسان زندگی بھر سیکھتا رہتا ہے اور سیکھنے کا عمل کبھی نئی رکنا چاہیے۔پریس کلب چوک اعظم میں۔ صحافیوں کیلئے تربیتی ورکشاپس تواتر سے جاری رہیں گی۔محمد عمر شاکر سینئیر صحافی و کوآرڈینیٹر پریس کلب نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام ہے جس کیلئے پریس کلب چوک اعظم کی موجودہ قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔یہ سیکھنے سکھانے کا عمل دور حاضر کی اشد ضرورت ہے اور یہ خوصورت سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔تربیتی ورکشاپ کے اختتام پر شہید صحافیوں کی بلندی درجات اور علیل صحافی غلام رسول اصغر کی صحتیابی کیلئے بھی خصوصی دعا کروائی گئی۔پریس کلب میں منعقدہ تربیتی ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا جسکی سعادت محمد عمر شاکر نے حاصل کی۔نعتیہ کلام کے بعد شہباز قریشی صدر پریس کلب نے ورکشاپ کی غرض و غایت بارے آگاہ کیا جبکہ ملک صابر عطاء سینئیر صحافی نے کہا کہ پیکا ایکٹ کے نفاذ کے بعد صحافتی زمہ داریوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور خود کو محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے۔محفوظ صحافی ہی محفوظ اور غیر جانبدار صحافت کا موجب ہے۔عامر شہزاد جنرل سیکرٹری پریس کلب نے مہمان ٹرینر کو ویلکم کہا۔معروف ٹرینر اور موٹیویشنل سپیکر سید عمران علی شاہ نے تربیتی ورکشاپ میں صحافتی زمہ داریوں بارے صحافیوں کو آگاہ کیا۔انھوں نے کہا پریس کلب چوک اعظم آ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔صحافتی زمہ داریوں بارے آگاہ کیا اور بتایا کہ صحافی کو اپنے سورس کے زریعے ہر خبر شائع کرنے سے پہلے اسکی تصدیق کرنا ضروری ہے۔پیکا ایکٹ بارے بھی آگاہ کیا اور اسکے نفاذ کے بعد ہم نے بطور صحافی اپنے آپ کو محفوظ کیسے بنانا ہے اور صحافتی امور جیسے سرانجام دینے ہیں اس بارے بھی تفصیل سے لیکچر دیا۔مزید کہنا تھا کہ وطن عزیز کے ہم ہمیشہ احسان مند رہیں گے کیونکہ اس نے ہمیں تحفظ،شناخت اور آزادی کی نعمت دی ہے۔ہم پر اپنی مٹی کا قرض ہے اور اسے چلانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سب اپنی زمہ داریوں کو احسن انداز میں سرانجام دیں تاکہ معاشرے میں ہماری وجہ سے بگاڑ نئی بلکہ اصلاح پیدا ہو۔محمد عمر شاکر کوآرڈینیٹر پریس کلب نے تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کو خوب سراہا اور کہا کہ پریس کلب چوک اعظم کی موجودہ قیادت کو آج کے منفرد مگر انتہائی اہم تربیتی ورکشاپ کے کامیاب ترین انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔موجودہ قیادت کے اچھے کارناموں کی فہرست میں آج کی تربیتی ورکشاپ اک خوبصورت اِضافہ ہے۔اس طرح کی ورکشاپس جاری رہنی چاہئیں تاکہ نئے صحافیوں کو ذیادہ سے ذیادہ سیکھنے کے موقع میسر آئیں۔ڈاکٹر محمد شہباز قریشی صدر پریس کلب نے کہا کہ سیکھنے سکھانے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے۔اج ہم نے اس حدیث پر عمل کیا ہے کہ جس میں آقا و مولا نے فرمایا کہ ماں کی گود سے لیکر گور تک علم حاصل کرو۔اس طرح کی تربیتی ورکشاپس جاری رکھی جائیں گی۔اختتام پر شہید صحافیوں کی بلندی درجات اور عرصہ دراز علیل صحافی غلام رسول اصغر کی صحتیابی کیلئے خصوصی دعا غلام محمد سینئیر نائب صدر پریس کلب نے کروائی۔

25/10/2025




السلام علیکم
اس نیچے دیے گئے نمبر نے مجھ کال کی کہ میں پوسٹ آفس سے بات کر رہا ہوں اور اس کے بعد
سے میرا واٹس ایپ ہیک ہو گیا تھا

     *PERA Force Punjab*  *نظم و ضبط اور قانونی عملداری کی نئی جہت* *تحریر: سید عمران علی شاہ*ملک پاکستان کو دنیا کے نقش...
11/10/2025



*PERA Force Punjab*
*نظم و ضبط اور قانونی عملداری کی نئی جہت*

*تحریر: سید عمران علی شاہ*
ملک پاکستان کو دنیا کے نقشے پر بحیثیت ایک ملک کے ابھرے معرض وجود میں آئے ہوئے تقریباً 10 دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں، پاک وطن کی ترقی رفتار بہت سست روی کا شکار رہی ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کی منازل طے کرنے کا سفر جاری و ساری ہے، 2024 کے جنرل الیکشن کے بعد محترمہ مریم نواز نے بطور پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری سنبھال کر صوبہ پنجاب سیاسی و پارلیمانی تاریخ میں ایک منفرد اعزاز حاصل کیا، اپنے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب کے باسیوں کی فلاح و بہبود کے لیے اعلیٰ پائے کے پنجاب دھی رانی پروگرام ، سکول نیوٹریشن پروگرام ، صاف ستھرا پنجاب جیسے بے مثال منصوبوں کا اجراء کیا، پنجاب حکومت کی حالیہ انتظامی اصلاحات کے سلسلے میں ایک نیا ادارہ منظرِ عام پر آیا ہے،
Punjab
Enforcement & Regulatory Authority (PERA)
جس کے تحت ایک خصوصی نفاذی فورس، یعنی PERA Force Punjab، تشکیل دی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق، اس فورس کا مقصد صوبے بھر میں قانون کی یکساں عملداری، عوامی شکایات کا فوری ازالہ، ناجائز تجاوزات کا خاتمہ، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، اور مارکیٹ ریگولیشن کو مؤثر بنانا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ — کیا یہ ادارہ پنجاب کے انتظامی ڈھانچے میں بہتری لائے گا، یا ایک نیا متوازی نظام جنم لے رہا ہے؟
پس منظر اور قیام کی وجوہات
گزشتہ دہائی میں پنجاب میں انتظامی چیلنجز بڑھتے چلے گئے،
ریونیو، بلدیات، پولیس اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے درمیان اختیارات کے تداخل نے عوامی شکایات کے حل میں رکاوٹیں پیدا کیں۔
مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں عدم استحکام، ذخیرہ اندوزی، اور تجاوزات کے خلاف کمزور کارروائیاں عوامی ناراضگی کا باعث بنیں۔
انہی حالات میں حکومت نے "Punjab Enforcement & Regulation Act 2024" منظور کر کے PERA کو ایک مرکزی نافذ کنندہ ادارہ کے طور پر متعارف کروایا۔
اس ادارے کے تحت PERA Force وہ عملدرآمدی بازو ہے جو صوبے بھر میں ضوابط اور قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے گا۔
ادارہ جاتی ڈھانچہ
PERA
کی سربراہی چیف منسٹر پنجاب کے پاس ہے، جب کہ چیف سیکرٹری پنجاب بطور نائب چیئرمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔
روزمرہ کی کارروائیوں کی قیادت ڈائریکٹر جنرل PERA کے سپرد ہے، جنہیں تحصیل اور ضلع سطح پر Enforcement Stations اور District Enforcement & Regulatory Boards (DERBs) کے ذریعے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
یہ ماڈل دراصل ایک نیم عسکری و انتظامی نظام ہے، جس میں افسران کو "سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسرز" (SDEOs) کی حیثیت سے مقرر کیا گیا ہے۔
یہ افسران ذخیرہ اندوزوں، غیر قانونی تجاوزات، یا خلافِ قانون کاروباری سرگرمیوں کے خلاف فوری کارروائی کے مجاز ہیں۔
اختیارات اور قانونی دائرہ کار
"PERA Force" کو وہ اختیارات حاصل ہیں جو ماضی میں صرف ضلعی انتظامیہ یا پولیس کے پاس تھے
ضبطی اور معائنہ
جرمانے عائد کرنا
کاروباری اجازت ناموں کی منسوخی
قیمتوں کی چیکنگ
فوری کارروائی کے لیے سماعت
تاہم، ماہرین کے مطابق یہ فورس پولیس کے متوازی ایک انتظامی قانون نافذ کرنے والی اتھارٹی بن سکتی ہے، جس کے اختیارات کی حدود اگر واضح نہ کی گئیں تو اداروں کے مابین تصادم کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
حکومت پنجاب کا مؤقف واضح ہے کہ:
> “PERA عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد عوامی شکایات کا فوری ازالہ، قیمتوں میں استحکام، اور قانون شکن عناصر کے خلاف تیز اور شفاف کارروائی ہے۔”
(— حکومتی ترجمان، لاہور لانچ ایونٹ 2025)
وزیراعلیٰ پنجاب نے افتتاحی تقریب میں کہا تھا کہ:
> “اب پنجاب میں کوئی ذخیرہ اندوز، ناجائز قابض یا عوامی مفاد کے خلاف کاروبار کرنے والا شخص قانون سے بالا تر نہیں ہوگا۔ PERA فورس اس وعدے کو عملی جامہ پہنائے گی۔”
عوامی ردعمل اور زمینی حقیقت،
PERA فورس کے ابتدائی آپریشنز لاہور، راولپنڈی، اور فیصل آباد میں دیکھے گئے، جہاں ٹیموں نے مارکیٹوں، گوداموں، اور غیر قانونی تعمیرات پر کارروائیاں کی
عوامی سطح پر دو طرح کے ردعمل سامنے آئے:
1. مثبت تاثر:
کئی شہریوں نے کہا کہ "بالآخر حکومت نے فوری اور نظر آنے والا ایکشن شروع کیا ہے"، اور قانون شکن عناصر کو جواب دہ بنایا جا رہا ہے۔
2. تنقیدی نقطہ نظر:
کچھ تاجروں نے شکایت کی کہ کارروائیوں میں شفافیت کا فقدان ہے اور چھوٹے دکانداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ بڑے مگرمچھ بدستور محفوظ ہیں۔
مؤثر صحافتی ذرائع کے مطابق، ابتدائی چھ ماہ میں تقریباً 8,000 کارروائیاں کی گئیں، جن میں سے 60 فیصد ذخیرہ اندوزی اور 25 فیصد ناجائز تجاوزات سے متعلق تھیں۔
ماہرین کی آراء
پالیسی تجزیہ نگار ڈاکٹر فرحت قریشی کے مطابق:
> “PERA کا قیام ایک اچھا قدم ہے، مگر اگر اسے احتسابی میکانزم کے بغیر چھوڑ دیا گیا تو یہ عوامی مفاد سے زیادہ سیاسی ہتھیار بن سکتا ہے۔”

جب کہ سابق کمشنر لاہور، محمد علی ناصر کا کہنا ہے:
> “یہ فورس اگر انتظامیہ کے ساتھ مربوط رہی تو مؤثر ثابت ہوگی، لیکن اگر ادارہ جاتی تداخل بڑھا، تو یہ بھی سابقہ کمیٹیوں کی طرح محض رسمی حیثیت اختیار کر لے گی۔”
عوامی خدمت فوری کارروائی، بہتر نظم و ضبط زیادتی یا غیر شفاف کارروائیاں
قانونی اثر ایکٹ کے تحت واضح ضابطہ اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ،
بین الادارہ ہم آہنگی ضلعی سطح پر مربوط نظام پولیس و انتظامیہ کے اختیارات میں تصادم،
استحکامِ قیمتیں ذخیرہ اندوزی کی روک تھام چھوٹے کاروباروں پر دباؤ
سماجی انصاف کمزور طبقے کو ریلیف طاقتور افراد کے لیے رعایت کا احتمال خدشہ اپنی جگہ موجود رہے گا,
تحقیقی تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ PERA Force Punjab ایک جرات مندانہ مگر پیچیدہ تجربہ ہے۔یہ فورس اگر شفافیت، احتساب، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرے تو عوامی فلاح کے نئے باب رقم کر سکتی ہے۔لیکن اگر اختیارات کے استعمال میں شفافیت نہ رہی، یا سیاسی اثرات غالب آگئے، تو یہ ادارہ عوامی اعتماد کھو سکتا ہے۔
سفارشات:
1. قانونی احتسابی نظام فورس کی کارروائیوں کا سالانہ آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی لازمی ہو۔
2. ڈیجیٹل شفافیت ہر آپریشن کی تفصیل ویب پورٹل پر دستیاب ہو۔
3. تربیت یافتہ عملہ , افسران کے لیے ریگولیٹری، انسانی حقوق اور کمیونٹی انگیجمنٹ کی تربیت لازمی ہو۔
4. شہری شمولیت , عوامی شکایات کے لیے PERA Complaint App فعال کی جائے۔
5. بین الادارہ ہم آہنگی پولیس، بلدیات اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ واضح ورکنگ فریم بنایا جائے۔
جنوبی پنجاب کے علاقے میں اس فورس کی آمد کسی نعمت سے کم نہیں ہے، کیونکہ جنوبی پنجاب کے تقریباً ہر ایک شہر میں تجاوزات کا جن بوتل سے باہر تھا، بازاروں اور مارکیٹوں ناجائز قابضین کی اجارہ داری تھی، مگر جس دن سے
PERA Force Punjab,
نے تجاوزات کے خلاف مربوط آپریغ شروع کیا اور ناجائز قابضین سے سرکاری املاک کا قبضہ واگزار کروانا شروع کیا ہے ،اس دن سے جنوبی پنجاب کے مکینوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، ضلع لیہ ڈپٹی کمشنر امیرا بیدار ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شبیر ڈوگر کی زیر قیادت ، فہد نور بلوچ نے بطور SDEO جب سے چارج سنبھالا ہے، انکی ٹیم انکی سربراہی میں اطلاقی قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے بھرپور انداز اپنی فرائض منصبی ادا کرنا شروع کیے ہوئے ہیں، ضلع لیہ کے تمام شہروں لیہ، کروڑ ،چوبارہ، کوٹ سلطان ، چوک اعظم ،کروڑ ،فتح پور، لدھانہ، پیر جگی اور جمن شاہ میں بلا تخصیص خاص و عام کے تجاوزات کے خلاف مثالی آپریشن کر کے سرکار اور مرکزی شاہراہوں کی اصلی شکل میں بحال کر دیا، عوام الناس ، سے فورس کی جانب سے کی جانے والی تمام کاروائیوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، بلاشبہ
PERA Force Punjab ،
ایک انتظامی انقلاب کی علامت ہے، مگر انقلاب تبھی پائیدار ہوتا ہے جب وہ انصاف، شفافیت اور عوامی اعتماد پر مبنی ہو۔ اس فورس کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جانا چاہیے، غیر قانونی کالونیاں ،ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا، سود پر رقوم دینے والوں ،ذخیرہ ذندوزی کرنے والوں ، اور قبضہ گروپوں کو اپنے شکنجے میں جکڑنے کے لیے یہ فورس نہایت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے، یہ فورس اس امر کی متقاضی ہے کہ ،اسے اس کے فرائض منصبی بغیر کسی بھی سیاسی و سماجی دباؤ کے اداء کرنے دیے جائیں، تاکہ یہ فورس اپنی پوری توانائی مفاد عامہ اور حکومتی اہداف کے حصول میں صرف کرے،
یہ فورس ایک آزمائش سے گزر رہی ہے یا تو یہ پنجاب کی نظم و نسق کا نیا ماڈل بنے گی، یا ایک اور سرکاری تجربہ بن کر رہ جائے گی۔

10/09/2025


قانونی فریم ورک موجود ہے؛
اب ضرورت اختیارات، وسائل، وارننگ، اور ڈیٹا کو DDMA سے TDMA ، سے UCDMAیونین کونسل کی سطح تک نیچے لانے کی ہے ، جیسا کہ
CBDRM (Community based Disaster Management
Approach)
کے تحت پوری دنیا میں کامیاب ماڈلز پر عملدرآمد کی مثالیں موجود ہیں جس میں تمام متعلقہ ادارے مقامی انتظامیہ اور عوام الناس باہم مل کر آفات کا بھرپور مقابلہ کرتے ہیں ، اس توسیع اور قابل عمل حکمت عملی کے بغیر ہم ہر چند برس بعد ایسے ہی بڑے جانی و مالی نقصان کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔ملک پاکستان کے نامور ماہرین ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ، ہمہ قسمی آفات سے قبل بھرپور پر لگایا جانے والا ایک روپے ،آفت کے دوران اور بعد میں لگائے جانے والے 100 روپے سے بچا سکتا ہے، اس سے مراد یہ کہ آفت سے پیشگی تیاری بعد میں ہونے نقصانات سے کافی حد تک محفوظ رکھ سکتی ہے

     *موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج*تحریر: سید عمران علی شاہ  دنیا میں موسمیاتی تبدیلی...
24/07/2025


*موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات پاکستان
کے لیے سب سے بڑا چیلنج*
تحریر: سید عمران علی شاہ
دنیا میں موسمیاتی تبدیلیاں انسانی نظام زندگی کو بہت زبردست انداز میں متاثر کر رہی ہیں ، پاکستان دنیا کے ان چند اولین ممالک میں شامل ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات سے دوچار ہیں، آج پانی کی قلت اور تباہ کن سیلاب جیسے متضاد مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف بارشوں کے موسم میں پانی کی بھرمار اور سیلاب، تو دوسری جانب سال کے بیشتر حصے میں پانی کی شدید قلت۔ اس تضاد نے زرعی پیداوار، معیشت اور روزمرہ زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بارشوں اور سیلابی پانی کو ضائع ہونے سے بچا کر طویل عرصے تک محفوظ اور قابل استعمال بنائیں۔گزشتہ چند برسوں پاکستان پر عالمی سطح پر رونماء ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں بہت منفی اثرات مرتب کیے ہیں، یہ معاملات آنے والے سالوں میں مزید گھمبیر ہوتے دکھائی دیتے ہیں،
حالیہ مون سون کی بارشوں کے دوران (کلاؤڈ برسٹ) بادلوں کے پھٹنے سے روالپنڈی ،اسلام آباد، چکوال اور سیاحتی مقام ناران کے علاقے بابو سر ٹاپ میں زبردست جانی و مالی نقصان دیکھنے میں آیا، ایک طرف بھارت نے جنگی جنون کی وجہ سے دریائے سندھ کا پانی روکا ہوا ہے، اگر خدا نخواستہ اس نے پانی چھوڑ دیا تو، حالات پر قابو پانا نہ ممکن ہو جائے گا، پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونا سب سے بڑا چیلنج ہے، اور ہمیں جنگی بنیادوں پر ایسے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے تاکہ مستقبل میں قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے محفوظ رہا جا سکے ، دنیا میں آفات سے نبرد آزماء ہونے کے لیے کچھ قابل عمل حکمت عملیاں اپنائی گئی ہیں، جن کو بروئے کار لا کر، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے،
*چھوٹے اور درمیانے ڈیمز کی تعمیر:*
ایک وقت کی ضرورت
پاکستان میں سالانہ تقریباً 145 ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے، مگر اس میں سے صرف 14 ملین ایکڑ فٹ محفوظ کیا جا سکتا ہے، جبکہ باقی پانی سیلاب کی صورت میں ضائع ہو جاتا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے ڈیمز کی تعمیر سے نہ صرف پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے بلکہ دیہی علاقوں میں آبپاشی اور بجلی کی فراہمی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بننے والے چھوٹے ڈیم اس کی کامیاب مثال ہیں، جہاں مقامی زراعت اور پینے کے پانی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے۔
*رین واٹر ہارویسٹنگ: شہروں کے لیے نجات کا راستہ*
پاکستان کے شہری علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں چھتوں پر رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم نصب کر کے لاکھوں گیلن بارش کا پانی سالانہ محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد میں کچھ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اس نظام کو لازمی قرار دیا ہے، جس کے مثبت اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
*زیرِ زمین پانی کا تحفظ: ریچارج ویلز اور قدرتی جھیلیں*
زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے ریچارج ویلز اور قدرتی جھیلوں و تالابوں کی بحالی نہایت ضروری ہے۔ لاہور جیسے شہروں میں اگر پارکوں، کھلے میدانوں اور کھیل کے میدانوں میں ریچارج ویلز بنائے جائیں، تو بارش کا پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قدرتی ویٹ لینڈز کو تحفظ دے کر بھی سیلابی پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
*جدید آبپاشی کے طریقے: پانی کی بچت کی کنجی*
پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے، جو کل پانی کے استعمال کا تقریباً 90 فیصد حصہ لیتی ہے۔ ڈرِپ اور اسپرِنکلر سسٹم جیسے جدید طریقے متعارف کر کے پانی کی بچت ممکن ہے۔ پنجاب کے کچھ علاقوں میں حکومت کی مدد سے ان سسٹمز کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے پانی کی کھپت میں 30 سے 50 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
*قدرتی آبی گزرگاہوں اور ویٹ لینڈز کا تحفظ*
قدرتی ویٹ لینڈز جیسے کہ سندھ کے علاقے میں موجود کینجھر جھیل اور بلوچستان میں ہامونِ ماشکیل سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے قدرتی ذخائر ہیں۔ ان کا تحفظ اور بحالی بارش کے پانی کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ان تمام اقدامات کی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ مقامی لوگوں کو اس عمل میں شامل کیا جائے۔ دیہات اور قصبات میں پانی کے ذخیرہ اور معقول استعمال کے بارے میں آگاہی مہمات چلائی جائیں، تاکہ مقامی افراد خود بھی ان منصوبوں کی دیکھ بھال کریں۔
پانی کے مؤثر استعمال اور ذخیرہ کے لیے مضبوط قومی پالیسیز اور قانون سازی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ نئے تعمیر ہونے والے رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ کو لازمی قرار دے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کرے۔
پاکستان میں اگر ہم بارشوں اور سیلابی پانی کو دانشمندی سے محفوظ کریں تو اس سے نہ صرف موجودہ آبی بحران کم ہو گا بلکہ مستقبل کی نسلوں کو بھی پینے اور زرعی مقاصد کے لیے وافر پانی میسر آ سکے گا۔ یہ اقدامات وقت کی ضرورت ہی نہیں، قومی بقا کی ضمانت بھی ہیں,
یہ بات طے ہے کہ، قدرتی آفات سے لڑا نہیں جا سکتا مگر مؤثر حکمت عملی اور جامع اقدامات کرکے آفات کے نقصانات کو ممکنہ حد تک کم کیا جا سکتا ہے، پاکستان کو محفوظ بنانے کے لیے، حکومت پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق منظم اور قابل عمل قانون سازی بھی کرنا پڑے گی، تاکہ عوام الناس میں مجموعی طور پر اس اہم ترین مسئلے کی بابت احساس ذمہ داری کو اجاگر کیا جاسکے۔

Address

Layyah
31200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Youth of Layyah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Youth of Layyah:

Share