Khayal Welfare society

Khayal Welfare society Helping the poor

25/02/2025

ہیں لوگ وہیں جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔
اسلام علیکم تمام بھائیوں کے ریکوسٹ کرتے ہیں کہ ماہ رمضان آرہا ہے ۔ جو حضرات کسی کی مدد کرتے ہیں ۔ یا کسی کو زکوٰۃ دیتے ہیں۔ خدارا انکی پیکچرز نہ لیں۔ (چہرے) اج سے سارے صاحب استطاعت لوگ یہ عہد کریں کہ ماہ رمضان میں غریبوں ناداروں مسکینوں یتیموں بیواؤں کا ہر طرح سے خیال رکھیں گے۔ انشاء اللہ مجھے امید ہے کہ اس سے اللّٰہ تعالیٰ ہمارے مال میں برکت عطا فرمائیں گے۔ اللّٰہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

17/05/2024
19/03/2024

#اپنے #حصے #کی #کوئی #شمع #جلاتے #جاتے
www.how.org.pk

04/03/2024

Admission open

اعلان گمشدگیحسن خان ولد اسلم جان سکنہ مسلم باغ کل مورخہ 22 نومبر  سے گھر سے گھریلو ناچاکی کی وجہ سے غائب ہےتصویر میں نظر...
24/11/2023

اعلان گمشدگی
حسن خان ولد اسلم جان سکنہ مسلم باغ کل مورخہ 22 نومبر سے گھر سے گھریلو ناچاکی کی وجہ سے غائب ہے
تصویر میں نظر آنے والے کپڑوں ،واسکٹ اور کالے چپلیاں پہنے گھر سے چلا گیا ہے
برائے مہربانی جس کو بھی نظر آئے تو مندرجہ ذیل نمبر پہ رابطہ کرے
0319-8580419
شکریہ

27/09/2023

کہتے ہیں کہ اس دفعہ الیکشن میں قبضہ مافیا مولوی فیملی لوگ حصہ لے رہے ہیں. یہ لوگ اب اسمبلیوں میں ہماری نمائندگی کریں گے۔ ناپ تول میں کمی کرنے میں پہلے نمبر پر
مولوی عبد الحمید مولوی خلیل الرحمٰن عرف گڑے مالاگان سرائے نورنگ

Everyone

دا دوا  #قبضہ  #مافیااگر کوئی واقعی  کسی کو اپنا حق دلانے میں دلچسپی رکھتا ہیں تو  #خلیل الرحمٰن اور  #عبد  #الحمید عرف ...
30/04/2023

دا دوا #قبضہ #مافیا
اگر کوئی واقعی کسی کو اپنا حق دلانے میں دلچسپی رکھتا ہیں تو #خلیل الرحمٰن اور #عبد #الحمید عرف گڑے ملاگان کو کیوں نہیں کہتا کہ ناجائز قبضہ کرنے سے باز آجاؤ۔ اس کے خلاف آواز اٹھاؤ. یہ قبضہ مافیا ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ دے پہ دے دنیا تباہ و برباد کی خلق یہ ڈیر تنگ کڑی دی۔
(2000 رجوع)

Address

Lakki Marwat
SARAINAURANG

Telephone

+923316725841

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khayal Welfare society posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Khayal Welfare society:

Share